ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

                                تقریب پزیرائی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر محمد امجد ثاقب   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اخوت کا سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ....................  Akhuat ka Safer  

  

اخوت کا سفر  ۔۔۔۔ مدینہ منورہ سے  ۔۔۔۔۔۔  راجن پور

جڈاں عشق فریدؒ اُستاد تھیا ۔۔۔  سب علم عمل برباد تھیا ۔۔۔  پر حضرت دل آباد تھیا

تحریر  ۔۔۔ کمال فرید ملک ۔۔۔ خادم شہر فریدؒ

معزز قارئین کرام! اس حقیقت سے شاہد آپ سب واقف ہوں لیکن پھر بھی اس کو بیان کرنا اسوقت اس لئے بھی ضروری ہے کہ جناب امجد ثاقب صاحب کا فلسفہ جو درحقیقت ایک دیوانے کا خواب تھا اس خواب کی تکمیل اور تعبیر کے لئے  دیوانہ وار جدوجہد اور حیرت انگیز کامیابی نےاہل علم و دانش کے لئے کئی ایسے سوالوں کو جنم دیا  جن کے جواب کہ  وہ آج بھی متلاشی ہیں ۔  ایک ایسا شخص جو ڈاکٹر بنا لیکن اس پیشہ کے استعمال کو مقصد حیات نہ بنا سکا اور نہ ہی اس پیشہ کے ذریعے وہ مقام حاصل کرنے کی اُس نے کوشیش کی جس کی بدولت وہ معاشرہ میں اعلیٰ ترین مقام پا سکتا تھا۔ چنانچہ اُس نے مقابلے کا امتحان پاس کیا اور ڈی ایم جی گروپ میں شمولیت کا وہ خواب پورا کرنے میں کامیاب ہو گیا جو آج بھی اس ملک کے اہم ترین اور قابل ترین طبقہ کا خواب ہے ۔ صرف یہی نہیں ڈاکٹر صاحب اے سی ، ڈی سی، اور پھر اس سے بھی زیادہ اہم عہدوں پر فائز رہے اور  پھران سب کو چھوڑ کر در بدر کی خاک چھاننے کا کام شروع کر دیا اور آج ایک درویش ، ایک صوفی کی صورت میں اور کچھ لوگوں کی نظر میں ایک دیوانہ ، مجنوں ،اور جنونی کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا کہنا ہے کہ تمام عمر جو علماُنہوں نے حاصل کیا وہ سب اُنہوں نے برباد کر دیا اگر یہی کرنا تھا تو پھر زندگی کا طویل ترین گولڈن حصہ کیوں ضائع کیا۔ سوال اپنی جگہ یہ بھی درست ہے جواب کو تلاش کرتے کرتے مجھے تاریخ کے جھرکوں میں سے امام غزالیؒ کی  پرچھائیاں دیکھائی دیں ۔ قارئین کرام ! امام غزالی چونتیس سال کی عمر میں نظامیہ یونیورسٹی  بغدادکے وائیس چانسلر بن چکے تھےاُس دور میں نظامیہ یونیورسٹی کے وائیس چانسلر( مہتمم مدرسہ) کی عزت اور پروٹوکول وقت کے امیر المومنین سے زیادہ تھا۔ یہ یونیورسٹی دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی تھی جو کہ نظام الملک نے بنوائی تھی لیکن صرف چار سال بعد ہی امام غزالیؒ اس منصب کو چھوڑ کر دس سال تک در بدر کی خاک چھانتے رہے ۔ اور پھر امام غزالی کی صورت میں منظر عام پر آئے ۔ایک روز کسی نے یہی سوال کسی نے امام غزالیؒ سے کسی نے پوچھا کہ حضرت اس قدر اہم اور اعلیٰ ترین عہدہ چھوڑ کر در بدر کی خاک چھاننے کا عمل ہماری سمجھ سے بالا تر ہے آپ نے اس سے بڑھ کر کیا حاصل کرنا تھا ۔ اس پر امام غزالیؒ نے جواب دیا کہ میں نے لیلیٰ اور سودا کی محبت کو چھوڑ کر اپنے محبوب کی تلاش کو بہتر جانا اور اسی کے لئے در بدر کی خاک چھاننا ہی بہتر جانا اور اس طویل ترین سفر میں سب کچھ چھوڑ کر میں تلاش محبوب میں سرکرداں رہا اور قریب تھا کہ میں تھک کر نڈھال ہو کر گرنے کو تھا کہ میرے محبوب نے آواز دی کہ اُٹھ ہمت کر منزل قریب ہے اور بلکل سامنے ہے اور بلاآخر میں نے اُسے پا لیا۔  اور آج امام غزالیؒ سے اس جوابکا کوئی متلاشی نہیں ، بس ڈاکٹر صاحب نے بھی اپنے محبوب کی رضا کو حاصل کرنے اور اپنے محبوب کی عشق میں سب حاصل کردہ علم برباد کیا اور عمل کی اُس بدبودار چولی کو بھی اُتار پھینکا جو مخلوق خدا کی دعاوں کے بجائے بد دعاوں سے داغدار تھی اور عشق کو اپنا اُستاد بنا نتے ہوئے اپنے دل کی دنیا کو آباد کیا اورکئی دوسروں کو بھی اس لذت سے آشنا کیا اور روز بروز مخلوق خدا کو اس لذت سےسرشار کروانا مقصد حیات بنا ڈالا ۔۔۔۔۔اور آج در بدر کی خاک چھاننے کے بعد اخوت کا سفر اور ہم سب اکھٹے ہیں۔ حضرات محترم !  ۔

اخوت کا سفر ایک ایسی کتاب  ، ایک ایسی رو داد،  ایسی سوچ ، ایک ایسی پوری ہوتی ہوئی تمنا ،آرزو ، یا پھر کھلی آنکھوں کا خواب  اور اُسکی تعبیرجس کا مصنف کہنے کو تو درویش منش صوفی اور دور حاضرکا درد دل رکھنے والا انسان دوست ڈاکٹر امجد ثاقب ہے ۔ لیکن اس کے مطالعہ کرتے وقت یہ احساس شدت اختیار کر جاتا ہے،کہ اسے لکھنے والاکوئی اور ہے شاید اس دنیا کاکوئی ایساانسان جس کی نظریں آسمانوں سے پار اور زمین کی تمام سطعوں کے نیچےتک دیکھ پاتی ہیں ،یا شاید کوئی ایسا شخص جس کے دل کی ہر ہر دھڑکن دوسروں کے درد اور تکالیف کو اس انداز سے محسوس کرتی ہے،جیسےکسی ایسی ماں کی ممتا جو اپنے بیگھے بچےکو چادر میں لپیٹنے سے قبل اپنی نرم گرم گود کی آغوش میں اس طرح دبھوچ لیتی ہے کہ دنیا جہان کی نعمتیں اس آغوش پر نچاور کر دینے کو جی چاہتا ہے۔ یا شاید کوئی ایسی آفاقی تحریر جسے پڑھ کر سمجھنے سے قبل عمل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن جاتی ہے۔جو بھی سمجھا جائے سب ٹھیک لیکن اس حقیقت کو کوئی فراموش نہیں کر سکتا کہ چودہ سو سال بعد اپنی حقیقت کو پانے کا جو بھولا بسرا راز اور انسانیت کو اُسکی محراج تک پہنچانے کا  آسان ترین راستہ سب کو چند لمحوں میں بتا دینا اور اس پر کامیابی پر چلنے کی تدابیر متعین کر دینا بہر حال صرف کسی ایسے درویش کا ہی ملکہ ہے جو یقیناً اللہ تبارک تعالیٰ کی جانب سے اُس کے لئے وہ انعام ہے جو اس شخص کے حصہ میں آیا جو آج ہم سب کے لئے وقف ہو چکا ہے ۔اور جس کی ہر بات دل کی گہرایوں میں بند آنکھوں کے باوجود اتر جاتی ہے۔جسے مغرب کے پڑھے لکھے سکالر، دانشور،معیشت دان، اوروقت کی لگاموں کو ڈالر اور پاونڈز کی کشش سے کنٹرول کرنے والے پاگل ، دیوانہ اور جنونی کا نام دیتے ہیں اور اس کے ذریعے فلاح کا راستہ پا جانے والے اس پاگل پن کا روُپ دھارنے کی آرزو کرتے ہیں اور اس دیوانگی کی لذت سے آشنائی کے لئے ہمہ وقت دُعا گو رہتے ہیں۔                                                                                                                                                                                                                                                                 قارئین محترم! اس صوفی ، درویش کو سمجھنے کے لیئے سات سو سال پیچھے چلتے ہیں جب اُسوقت کا ایک عالم ،منطقی ، فلاسفر اور مولویٰ اپنی درس گاہ میں نہایت تمکنت ، اور تکبر کے ساتھ درس دے رہا تھا اور حسب دستور اُس کے بلکل ساتھ پانی کہ حوص کے کنارےاُس کی  لکھی گئیں علم ودانست اور فلسفہ پر ڈھیروں کتب رکھی گئی تھیں ۔اسی دوران ایک مفلوک الحال  درویش ننگے پاوں الجھی زلفوں اور تار تار بدبودار لباس میں وہاں آیا اور کافی دیر خاموشی سے تمام صورت حال کا جائیزہ لینے کے بعد اُس نے کتابوں کی جانب اشارہ کیا اور مولوی صاحب سے دریافت کیا ۔۔۔ این چیست ( یہ کیا ہے) مولوی صاحب نے اپنے روایتی غرور ، تکبر  سے      جواب دیا۔۔۔۔ آن چیست کہ تو نمی داند ( یہ وہ ہے ۔۔ جو تم نہیں جانتے) یہ جواب سنتے ہی درویش مسکرایا اور اُس نے دھکا دیکر تمام کتب پانی  کےحوس میں گرا دیں ۔۔۔ اور بس  پھر کیا برس ہا برس کی محنت تباہ  ہونے پر مولوی صاحب کے حوش و ہواس خطا ہو گئے اور اُنہوں نے درویش کو نہایت سخت الفاظ میں بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا ۔ درویش مسکرایا اور پانی کے حوص میں اترا اور تمام کتابیں خشک حالت میں نکال کر دوبارہ ہاہر رکھ دیں۔۔۔۔ مولوی صاحب ہکے بکے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اُسے دیکھنے لگے اور بے ساختگی سے درویش سے پوچھا۔   ایں چیست (یہ کیا ہے) تو درویش نے فوراً جواب دیا ۔۔ آں چیست ۔ کہ تو نمی داند ( یہ وہ ہے ، جو تم نہیں جانتے)  قارئیں محترم ! یہی وہ لمحہ تھا جب مولوی صاحب نے علم ، فلسفہ اور منطق کو چھوڑا اور اور اُس درویش (شاہ شمس تبریز) کی غلامی اختیار کی اور آج ہم سب اُن مولوی صاحب کو مولائے روم کے نام سے جانتے ہیں۔ اور یہ طے پایا  کہ کوئی بھی مولوی اُس وقت تک   مولائے روم نہیں بنتا جب تلک وہ غلام شمس تبریز نہ بنے  ۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں کونسے درویش نےشاہ شمس تبریز کا کردار نبھایالیکن مجھے یہ اچھی طرح سے معلوم ہےکہ ڈاکٹر صاحب ہم سب کے لئے یہ کردار ضرور نبھا رہےہیں۔اسی لئے تو اُنہیں جاننے والے صوفی کہتے ہیں اور      ایسے شخص کی پزیرائی یا اس درویش کی تصنیف کی نقاب کشائی بھلا ہم جیسے کے حصہ میں کیسے ، یہ اعزاز تو بس خواجہ فریدؒ کی اس سرزمیں کو حاصل ہونا تھا اور ہوا ، وہی اس درویش کی میزبانی کا شرف حاصل کرسکتے تھے اور اُنہوں نے یہ سب کچھ اپنی دھرتی کے مظلوم لوگوں سے محبت کرنے والے درویش کے لئے کیا اور   ہمیں اس سلسلہ میں   منتخب کیا کہ داتا کی نگری سے آنے والے دور حاضر کےسب سے بڑے انسان دوست کی میزبانی اس صدی کے سب سے بڑے انسان دوست صوفی بزرگ حضرت خواجہ غلامفریدؒ  کی جانب سے حاصل کر پائیں ۔ اور ایکبار پھر خواجہ سائیں اس درویش کی صورت میں اپنے آپ کو اپنی دھرتی کے مایوس ، ضروت مند لوگوں سے جوڑ پائیں۔ اور حسرت   و یاس اور مفلسی ،اور آفات میں گھرے لوگ نااُمیدی کے زہر قاتل کا شکار ہونے سے بچیں اور ایک دوسرے کی تکالیف اور دردوں کا مداوا بن پائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس  حقیقت کو تسلیم کریں                                     

خوس تھی فریدآ شاد ول   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈکھڑیں کوں نہ کر یاد ول  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   جھوکاں تھیسن آباد ول 

کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

تقریب پذیرائی ، ڈاکٹر محمد امجد ثاقب صاحب ، تصنیف ۔۔۔ اخوت کا سفر۔۔۔ تحریر و ترتیب کمال فرید ملک خادم شہر فرید کوٹ مٹھن
مورخہ ۱۵ فروری ۲۰۱۴
بے شک ڈاکٹر محمد امجد ثاقب جیسے انسان دوست اور مواخات کے عمل کو ۱۴ سو سال بعددوبارہ سے ہماری زندگیوں کا حصہ بنانے کے لئے عملی اقدامات کرنے والے عظیم شخص ڈاکٹر محمد امجد ثاقب صاحب جیسی ہستی کا شرف میزبانی تو کسی ایسی ذات کے حصے میں آتا ہے جو خود کسی کے لئے قابل پیروی ہو لیکن شاید یہ خواجہ غلام فریدؒ کا کشف تھا کہ اُن کی دھرتی میں آنے والے سر زمین داتا کے سفیر کی تقریب پذیرائی ہم لوگوں کے حصہ میں آئی اور خاندان فریدؒ کے چشم وچراغ خواجہ کلیم الدین کوریجہ (چیف ایگزیکٹو خواجہ فریدؒ فاونڈیشن) ،  خادم شہر فریدؒ  کمال فرید ملک     ( صدر امن ڈویلپمنٹ آرگنائیزیشن) اور ضلع راجن پور کے پریس کلب کے صدر ،جنرل سکریرٹری انجینئر امجد فاروق اور ندیم قریشی اس تقریب کے میزبان ٹھہرے۔سٹیج پر ان کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب اور اُن کے قریبی ساتھی اور ہم سفر جناب شاہد حسن شیخ صاحب(لاہور کارپٹ مینوفیکچرینگ کمپنی کے مالک) اور جناب راو سعادت صاحب (جہانیاں) کے ہمراہ مہمان خصوصی جناب محمد امان اللہ صاحب غازی (ڈی سی او ، راجن پور) اے ڈی سی راجن پور ، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن جناب محمد رفیع پچار صاحب ، سید آغا حسین شاہ صاحب ،(ڈی او سی،محسن شہر فریدؒ ۔جنہوں نے گزشتہ سیلابی آفت میں پورے ضلع اور خاص طور پر شہر فریدؒ میں دن رات عوام الناس کی بھرپور خدمت کی) اور سید منور حسین شاہ صاحب (سابق ناظم مرغائی) شیخ ولی محمد ساجد ایڈووکیٹ (ضلعی صدر مسلم لیگ ن ) اور شہر فرید ؒ کے پُر عظم اور اثاثہ ڈاکٹر پروفیسر شکیل پتافی (پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج راجن پور) جلوافروز ہوئے۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج راجن پور کے مخدوم راجن شاہ ہال کی پُر رونق فضا اور سج دھج نے اس تاریخی تقریب کو اپنی زینت اور افادیت کے طور پر اخوت کے پیغام کو مستقل اپنے ماتھے کا جھومربنا دیا۔ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب کی آمد پر گلاب کے پھُولوں کے ہار ، اورگلاب کی پتیوں نے بھی اپنا فرض نبھانے میں کوئی کمی روا ، نہ رکھی ۔شاندار اور فقید المثال استقبال کو بے شک بیان کرنا نا ممکن ہے لیکن اس کی یادوں کی کرنیں کسطرح دلوں کو منور رکھتی ہیں اس کا اندازہ تو ہر لمحہ لوگوں کے کردار اور عمل میں رونما ہونے والی مثبت تبدلی ہے جو قوموں کی تقدیر بدلبے کا سبب بنتی ہے اور یہی عمل اس استقبال کو ہر ہر لمحہ خود بیان کرتا رہے گا ، جسے آج ہم تحریر کے آئینے کی گرفت سے بالا تر سمجھتے ہیں،
قارئین محترم! اس تقریب کے ابتدائی مرحلہ میں نقیب ممبر کے فرائض پروفیسر محمد کلیم قریشیٰ صاحب نے ادا کرتے ہوئے راجن پور کالج کی جانب سے مہمان نوازی کی تاریخ رقم کی جبکہ دوسرے مرحلہ میں یہ فرائض کمال فرید ملک نے ادا کئے۔ اس پُر وقار تقریب کا آغاز تلات کلام پاک سے کرتے ہوئے رب العزت کی عظمت کے آگے سروں کو جھکایا گیا جس نے اپنے محوبﷺ کے ذریعے مواخات کے ایسے عمل کو رہتی دنیا تک ہمارے دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ ل بنایا جس کی وجہ سے آج ہم ایک مرتبہ پھر کامیابی و کامرانی کی جانب رواں دواں ہیں ۔ کلام خداوندی کے بعد محبوب خدا کی عظمت کا بیان ہوا جن کے طفیل آج ہم مساوات ، رواداری، محبت ، اُنس اور اخوت کے لازوال ریشتوں کو اپنی اثاث بنا پائے ہیں اور عبادات کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کے درس نے رہتی دنیا تک انسان دوستی کا لازوال ر شتہ قائیم کر کے ہم سب کو ایک دوسرے کے لئے زندہ رہنے کا انمول گُر سکھایا اور انسانیت کو اُس کی محراج تک پہنچانے کے سفر کو آسان کر دیا۔بعد ازاں اس صدی کے سب سے بڑے انسان دوست اور مشہور صوفی ہفت زبان شاعر حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا کلام بلبل شہر فریدؒ جناب محمد بلال نازکی صاحب نے پیش کیا اس موقعہ پر اُنہوں نے خواجہ صاحب کی مشہور کافی ، میڈا عشق وی توں ایمان وی توں ، کا انتخاب کیاجس نے حاضرین پر وجد کی کیفیت طاری کر دی
۔ خوجہ صاحب کے اس کلام کو ڈاکٹر صاحب نے اخوت کے سفر میں مکمل تحریر بھی کیا ہے۔

  خطبہ استقبالیہ 

خواجہ کلیم الدین کوریجہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کو ایک ایسا درویش قرار دیا جس کی زندگی کی خوبصورت راہیں استوار کرنے میں ہجرت اور ہجرت کے بعد مواخات مدینہ نے کیں اور جس کی زندگی کا مقصد دکھی انسانیت کی خدمت ، اُن کی عزت نفس کی باوقار طریقہ سے بحالی ،اور سب کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے قربانی کے جذبات کو پیدا کرنا ہے۔ راجن پور کی سر زمیں پر بسنے والے (۲۰) بیس ہزار خاندانوں کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے اور لینے والے ہاتھوں کو دینے والا بنانے کے لئے مواقعوں کو فراہم کرنے پر اُنہوں نے ڈاکٹر صاحب کی خصوصی کاویشوں کو سراہا، ڈاکٹر صاحب کی کتاب اخوت کا سفر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اس کو پڑھنے کے بعد ایک جانب جہاں ڈاکٹر صاحب کی زندگی کے چھپے ہوئے بے شمار گوشے ہم پر عیاں ہوئے وہاں دوسری جانب مخلوق خدا کی خدمت میں اُنہوں نے کیا کیا قربانیاں دی اس حقیقت سے ہم آشکار ہوئے ،کس طرح اُنہوں نے اپنے سہانے خوابوں کو دوسروں کے خوابوں کی تابیر کے لئے قربان کیا اور دوسروں کے خوابوں کی تکمیل کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا ۔ خواجہ صاحب نے اس موقعہ پر ڈاکٹر صاحب کی پوری ٹیم کو مواخات مدینہ کے عمل کو دنیا بھر کے انسانوں کا مقصد حیات بنانے کے لئے کاوشوں کو سراہا ، اورراجن پور میں سیلابی آفت میں لوگوں کی بے لوث

خدمت میں اخوت کی جانب سے کی گئی کاویشوں پر اُن کا شکریہ ادا کیا اس موقعہ پر خواجہ صاحب نے شرکاء محفل کا شکریہ بھی ادا کیا جو اس تقریب سعید میں دلی جذبات کے ساتھ شریک ہوئے اور اخوت کی ٹیم بنے۔  

اخوت کا سفر   ۔۔۔۔  دس ہزار کے پہلے قرض حسنہ سے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آٹھ ارب روپے تک  ۔۔۔  درد دل رکھنے والے ہزاروں ، لاکھوں خاندانوں نے لاکھوں ضرورت مند خاندانون کو گلے لگایا

ڈاکٹر محمد امجد ثاقب 

      

اس با وقار مگر سادہ تقریب میں جناب ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اخوت ایک ایسا اداراہ ہے جس نے ایک جانب مواخات مدینہ کے فلسفہ کی اصل روح کو اپنا یا اور قرض حسنہ کے ذریعہ اپنے بھائیوں کو ہاتھ پھیلانے کے مکروو عمل سے روکا اور دوسری جانب سود کی لعنت سے معاشرہ کو آزاد کرانے کے لئے عملی اقدامات کئے۔اس سلسلہ میں ادارہ اخوت نے جب اپنے کام کا آغاز کیا تو پہلا قرض حسن دس ہزار روپے کا دیا گیا ۔ جو ایک بیوہ خاتون نے حاصل کیا اور اس کے ذریعے اُس حوصلہ مند خاتون نے نہ صرف اپنا کاروبار کیا اور اور اپنے پورے کنبے کو سنبھالا بلکہ بر وقت قرض کو واپس کر کے اس ادارے کی مضبوط بنیاد رکھی ۔اس خاتون نے اُمید اور وفا کے رشتہ کو قائیم کرنے کا جو عمل اختیار کیا اُسی کی بدولت ادارہ اخوت کے ابتدائی ساتھیوں کے حوصلے بلند ہوئے،اور اخوت نے بھر پور انداز میں اپنا کام شروع کیا اور آج الحمداللہ دس ہزار سے شروع ہونے والا یہ ادارہ آٹھ ارب روپے کی  خطیر رقم سے لاکھوں خاندانوں کی عزت نفس کو بحال اور قائیم رکھنے کا اعزاز رکھتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ دراصل اخوت صرف اُن بھائیوں کا ہی ادارہ نہیں جو اس کے لئے بر سر پیکار ہیں بلکے اخوت تو اُن کا بھی ہے جو اس سے مستفید ہورہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ لینے والوں کی صف سے نکل کر دینے والے ساتھیوں میں شامل ہوتے جا رہے ہیں ۔ اُنہوں نے بتایا کہ اسوقت اخوت کی جانب سے جاری قرضہ جات کی واپسی کی شرع سو فی صد ہے اور اس واپسی کی شرع سے اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ  اخوت پر لوگوں کا اعتماد حقیقت میں معاشرہ کی سوچ میں پیدا ہونے والی وہ مثبت تبدیلی ہے جس کی بدولت لوگوں میں خود غرضی کا خاتمہ ہوا اور دوسروں کی ضروریات کا احساس ہے۔ ڈاکٹر صاحب  نے کہا کہ اسوقت لاکھوں خاندانوں نے مواخات مدینہ کی پیروی کرتے ہوئے لاکھوں ضرورت مند خاندانوں کو اپنایا ہے اور اس تعداد میں روز بروز تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور حوصلہ مند بات یہ ہے کہادارہ اخوت سے مستفید ہونے والے ساتھی بھی اس دوڑ میں پیچھے نہ رہے اور اُن کی جانب سے بھی مواخات کہ اس عمل میں بھرپور شمولیت نے اس ادرہ کی ترقی کے لئے اہم کردار اد اکر رہے ہیں۔علاوہ ازیں قدرتی آفات میں ہونے والی تباہی کے دوران ادارہ اخوت کی جانب سے بھر پو جدوجہد اور بروقت اس کے سساتھیوں کی جانب سے اقدامات نے اس ادارے کے لئے مزید ترقی کی راہیں استوار کی  ہیں۔  اسی سلسلہ کی کڑی کی بدولت ضلع راجن پور کے  بیس ہزار خاندانوں  کو اپنایا گیا جو اب مکل طور پر بر سر روزگار ہین جبکہ ہر روز اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اخوت اس وقت مُلک بھر میں  سرگرم عمل ہے اور عنقریب گلگت بلدستان میں بھی اپنے دفاتر کھولنے جا رہی ہے۔ 

 

اخوت کا سفر   ۔۔۔    مدینہ سے راجن پو ر تک
پروفیسرڈاکٹر رب نو ازمو نس


پرنسپل گورنمنٹ بو ائز ڈگری کا لج روجھان

،،اخوت کاسفر ،، آنے والے زما نہ کا خو اب ہے۔ ایک نئی رسم ۔ایک نئی وضع ۔خا ک ہو جا نے کی آرزو۔مر مٹنے کا سو دا ۔ضد ۔دیوانگی ۔جنو ن یا پا گل پن۔ ڈا کٹرامجد ثا قب کے سفر نا مے اخو ت کا سفر کا آغا ز روحا نی ،روما ن پروراور طلسما تی الفا ظ سے ہو تا ہے ۔ میرے نزدیک اس میں کو ئی افسانہ طرازی نہیں اور نہ ہی تخیل کی جو لا نیاں ہیں ۔بس عمل کی ایک داستا ن ۔کردار کا ایک معجزہ ایثا ر کا مجسم رو پ ۔رضا کا ریت کی مستی اور مد ہو شی کاایک ایسا دھما ل کہ پا ؤ ں پتھر پہ بھی پڑجا ئے تو دھو ل اٹھتی ہے۔ایک ایسی جست جس نے مواخا ت مدینہ سے پا کستان کے دور افتادہ ضلع راجن پو ر کی مسجدوں میں پہنچا دیا ۔شنا سائی اور ایک ایسا عشق جس نے طے کر دیا قصہ تما م ۔ یو ں اہل وطن زما ں ومکا ن سے ماورا ہو گئے اور پھر خو اجہ    غلا م فرید ؒ کی زبا ن میں الوہی ترا نہ مستانہ گا نے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔    تھل مارودا پینڈا سارا ۔۔۔۔ تھیسم ہک بلہا نگھ ..... اب یہ آنے والے کا خوا ب نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ خو اب با ر آور ہو چکا ہے ۔آرزو ۔تکمیل آرزو کا روپ دھا ر چکی ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی ضد۔اب قا بل تقلید ہے۔تمام اہل جنو ں کو دردکا درماں مل چکا ہے۔اہل خرد کے ہو ش اُڑ چکے ہیں اور وہ یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ  ۔۔۔۔۔۔  ؂ میرے مو لا !مجھے صاحب جنو ں کر میں اس سفر نا مے کے رو حانی پہلو کے حو الہ سے بس اتنا عرض کر نے کی جسارت چا ہتا ہو ں ۔ میں اسے پڑھتا گیا اور اس کتا ب کے اوراق پر حضرت ابو ذر غفاری کی تصویر بنتی گئی۔ ہو ش اُڑتے گئے ۔عقل عا جز ہو تی گئی ۔تاریخ سمٹتی گئی ۔زما نے مختصر ہو تے گئے۔ جب ہو ش آیا تو لبوں پر حضرت فرید ؒ کا یہ شعر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔    گرونے سارے بھید بتا ئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدہو شی وچ ، ہو ش سکھا ئے ۔۔۔۔۔ ،،مد ہو شی وچ ہو ش ،، یہی خو بصورت (پیراڈکس). اس کتا ب کی رو ح ہے کیو نکہ اس رو حا نی تجربے میں اکیسویں صدی کا بہت بڑا معاشی انقلا ب بھی پو شیدہ ہے۔ ما ئیکرو فنانس  کی دنیا میں ایک حیرت انگیز تجربہ اور عمل ۔واقعی یہ ڈا کٹر صاحب کی ضد ۔دیوانگی اور مر مٹنے کی آرزو سے پو را ہو تا ہے ۔ معا شی ترقی کے جتنے مروجہ ما ڈل مو جو د ہیں ۔ معا شی ترقی کی جو اسکیمیں را ئج ہیں ۔ما ئیکرو فنانس کی جتنی تھیو ریز روبہ عمل ہیں ۔بینکاری کی فریب کا ری کے جتنے تصورات گردش میں ہیں پھر بغیر نفع  بغیر نقصان  کی جو بھی سحر انگیزی ہے پھر صاحب اقتدار اور ارباب بست وکشاد کے غربت دور کرنے کے پی ۔آر۔ایس۔پی کے جتنے بھی پروگرام ہیں ان سب کا ختتام ، ان سب کا نتیجہ کسی نہ کسی طرح ،،سود،، کے استحصالی نظا م پر ہو تا ہے۔سود انسانی جسم سے خو ن نچو ڑ لیتا ہیاور غربت کم ہو نے کی بجائے اور زیا دہ بڑھتی ہے۔پھر گھر بکتے ہیں ۔عزت نفس نیلا م ہو تی ہے سہا گ اجڑتے ہیں ۔  لَقدخلقنا الانسان فی احسن تقویم  ۔۔۔۔۔ کے ہاتھ میں کشکو ل تھما دیئے جا تے ہیں       ؂ عجب ستم ظریف سا حا کم ہے میرے شہر کا لو گو   ۔    دیتا  نہیں  خیرات  اور جا نے  بھی  نہیں  دیتا  غربت دور کرنے کی فکر میں گرتے پڑتے اہل وطن معاشی   ۔۔ترقی کے ان تصورات کے منطقی نتیجے یعنی (پاورٹی ٹریپ) میں ہو کمرمبے کا شکا ر ہو مٹتے اور معدام ہو تے جا رہے تھے بلکہ جو ش کے بقول ان کی صورت کچھ ایسی تھی ۔   وہ غریب دل کو سبق ملے کہ خو شی کے نام سے ڈر گیا ۔۔۔۔۔  جو کسی نے ہنس کے با ت کی تو میرا چہرہ اُتر گیا              اخوت کے سفر کا یہ میرِکارواں آگے بڑھا سود اور جبر کے اس مکروہ معاشی نظام کو للکار کر کہا۔      ؂ایک ذرا صبر کر جبر کے دن تھوڑے ہیں ۔۔  ڈاکٹر امجد ثاقب کا معاشی فلسفہ اپنے اند ر مواخاتِ مدینہ کی روح رکھتا ہے اور اس کی صورت کچھ اس انداز میں ہمارے سامنے یوں مست و رقصاں نظر آتی ہے۔                                                اب نظام زِر بدلنا چاہیئے ۔۔۔۔۔۔  سوچ کا محور بدلنا چاہیئے  ۔۔۔۔۔  گر نہیں ممکن کہ بدلے جسم بھی   ۔۔۔۔    بادشاہ کا سَر بدلنا چاہیئے  ۔۔۔۔۔۔۔   حیرت ہے ، کمال ہے ، معجزہ ہے۔ حقیقت ہے کہ سُود کے بغیر آٹھ ارب کے قرضِ حسنہ کا اجراء اور پھر سو فیصد وصولی ۔ مائیکرو فنانس کے بڑے بڑے عالمی جفادری نہ صرف حیران ہیں بلکہ پریشان بھی ہیں کہ معاشی ترقی اور "غربت مکاؤ" کے اس نظریہ کی ماؤنٹ ایورسٹ کو کیسے سر کر لیا گیا ۔ جی ہاں ! اکیسویں صدی میں صرف اور صرف اخوت کے تصور کی بدولت یہ نا ممکن کام ممکن ہوا۔ ابھی بنگلہ دیشی ماہر معاشیات ڈاکٹر محمد یونس کے گرامین بنک کا غوغا ختم نہیں ہوا تھا ۔ ابھی اُن کے اعزاز میں ہونے والی نوبل پرائیزکی تقریب کے اثرات ماند بھی نہیں پڑے تھے کہ ڈاکٹر امجد ثاقب نے ایک ایسےمائیکرو فنانس کا تصور پیش کر دیا جس کی بنیاد سُود نہیں ایثار ہے۔جس کی معاشی روح میں کوئی منافع موجود نہیں بلکہ انسانیت سے پیار ہے۔ تکریمِ آدمیت ، احترامِ آدمیت اور توقیر آدمیت کو بنیاد بنا کر قرضِ حسنہ کا اجرا کیا جاتاہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر محمد یونس کا گرامین بنک اپنے مقروضوں سے چالیس فیصد تک سُود وصول کرتا ہے مگر اخوت بنک واقعی ایک دیوانگی ہے اور اس دیوانگی کا سلوگن جلی حروف میں ہمارے سامنے یوں رقم دیکھائی دیتا ہے۔       آپ کھولیں تو سہی اُن پر درِ رزق حلال ۔۔۔۔  پھر نہ توڑیں گے کبھی رات کو تالے بچے        ڈاکٹر امجد ثاقب لکھتے ہیں کہ "مائیکرو فنانس کا مشہور ایکسپرٹ میلکم ہارپرلندن سے خصوصی طور پر یہ دیکھنے آیا کہ ہم مائیکرو فنانس کے نام پر کیا کر رہے ہیں جب وہ مسجد میں پہنچا اور اس نظام کو دیکھا کہنے لگا مجھے حیرت اس بات پر نہیں ک اخوت نے مائیکرو فنانس کے مروجہ اصولوں کو توڑا ہے بلکہ حیرت تو یہ ہے کہ اس کے باوجود یہ کامیابی کی طرف گامزن ہے" میلکم ہارپر کی حیرت بجا ہے کیونکہ اُن کی معاشی تاریخ میں مواخاتِ مدینہ جیسا کوئی باب شامل نہیں وہ جس سٹاک ایکسچینج کی پیدوار ہے اُس میں ہر گھر دای آدمی کے بھاؤ گرتے ہی چلے جاتے ہیں ۔   یہ صاحبانِ روزوشب  ۔۔  پہلیاں کرنسیوں کی بوجھنے کے واسطے  ۔۔  سوالیہ نشان بن کے رہ گئے ہیں  ۔۔  اِن کو کچھ خبر نہیں کہ آج بھی  ۔۔  کرنسیوں کی اُنچ نیچ اپنی سطح رہی ۔۔  بس آدمی ہے جس کی قدر میں کمی رہی  ۔۔  بس آدمی ہے جس جس کا بھاؤ گر رہا ہے ہر گھڑی        ڈاکٹر صاحب آپ نے ارضِ پاک کے اُفتاد گانِ خاک کو اپنے معاشی فلسفے اور عمل کی بدولت ہمدوش ثریا کیا کروماروں بدن دریدو، لرزتے اور کپکپاتے ہاتھ آپ کے لئے محو دُعا ہیں ۔ اہلِ ثروت سے التجا ہے کہ وہ اپنی آسائیشوں میں سے کچھ عطا کریں اور اربابِ اختیار کے حضور یہ فریاد ہے کہ وہ اپنی مقتدر حیثیت کو بروئے کار لاتے ہوئے آپ  کے لئےآسانیاں پیدا کریں ۔ ڈاکٹر صاحب آپ قدم بڑھائیں اللہ تعالیٰ کی نصرت آپ کے ساتھ ہے کیونکہ آپ کا یہ سفر اللہ تعالیٰ کے نبیﷺ کی سنت کا سفر ہے۔ میں آپ کیلئے صرف یہ کہوں گا ۔    لفظ جب تک وضو نہیں کرتے  ۔۔۔۔  ہم تیری گفتگو نہیں کرتے

 

 اخوت کا سفر
پروفیسر عبدالقیوم اشکر
گورنمنٹ گریجو یٹ کا لج راجن پو ر
بقول اقبا ل   ......   کس نہ گردد درجہاں محتاج کس   ......   نکتہء شرعِ مبیں ایں است وبس 

(کہ دنیا میں کو ئی کسی کا محتا ج نہ ہو ۔دین مبین کا مرکزی نکتہ بس یہی ہے)
غربت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔اورجا گیرداریت اور سرما یہ داری کا تحفہ ہے۔عہد قدیم میں جب انسان قبیلہ داری زندگی گزارتے تھے اور زمین اور اس کی پیدا وار پو رے قبیلے کی مشترکہ ملکیت ہوتی تھی ۔غربت نام کی چیز کہیں مو جو د نہیں تھی۔قحط پڑتا تھا تو سب ہی اس کا شکا ر ہو تے تھے ۔ افراط ہو تی تھی تو سب ساجھے دارہو تے تھے۔مگر آج سرما یہ دارانہ معیشت میں اگر قحط پڑتا ہے تو صرف غریب بھو کو ں مرتا ہے۔قحط کا ہی کیا مذکور دولت اور پیداوار کی ا س ریل پیل میں بھو ک ،بیما ری اور صاف پا نی نہ ملنے کے با عث کتنے ہی لو گ مر جا تے ہیں ۔سرما یہ داری کا گڑھ امریکہ ہر سال پچھلے سال کی ذخیرہ کردہ گندم کو ضا ئع کرنے(سمندر میں پھیکنے یا جلا نے )پر پا نچ سو ارب ڈا لر ز خرچ کرتا ہے تاکہ نئی گندم کی قیمت منڈی میں برقرار رہے۔یہ گندم اتنی مقدارمیں ہو تی ہے کہ افریقہ کی کل آبا دی کوکئی سال کا فی ہے اس کو ضا ئع کرنے پر جو رقم خرچ ہو تی ہے وہ پو رے افریقہ کو ایک سال کے لئے پینے کا صا ف پا نی فرا ہم کرنے کے لئے کا فی ہے۔ یہ سرما یہ داری ہے جس میں ہم سب جی رہے ہیں ۔اگر ہم پا کستا ن کا بھی جا ئزہ لیں تو ایک طرف چند ہزاروہ لو گ ہیں جو بے تحا شہ ذمینوں کے ما لک ہیں اور سردار ،وڈیرے،اور پیر کہلا تے ہیں اور دوسری طرف کرڑوں ایسے لو گ بھی ہیں جنہیں سر چھپا نے کے لئے ایک کمرے کی جگہ بھی میسر نہیں ایک طرف سینکڑوں،ہزاروں مربو ں کے ما لک ہیں اور دوسری طرف کرڑوں بے رو زگار اور بے زمین لو گ جنہیں کا شت کے لئے ایک بیگھہ بھی میسر نہیں ۔  .... کب ڈوبے گا سرما یہ پرستی کا سفینہ  .....  دنیا ہے تیری منتظرِروزِمکافات  ....اگرچہ غربت کا مستقل حل تو وہی ہے جو کلیمِ بے تجلی اورمسیحِ بے صلیب کا رل مارکس نے تجو یز کیا بے تحا شہ اور بے حد وحساب ذاتی ملکیت کا خا تمہ اور وسا ئل کی مسا وی تقسیم ۔وہ وقت شا ید ابھی دور ہے لیکن وقتی طور پر معاشی نفسا نفسی کے اس دور میں ڈاکٹر امجد ثا قب صا حب جیسے لو گ ایک نعمت سیکم نہیں۔  ....    ایں سعادت بزورِبازو نیست  ....  تا نا بخشدِخدائے بخشدہ   ...  یہ لوگ انسا نیت کے محسن ہیں بیما ری کا مستقل علا ج اگر نہیں کیا جا سکتا تو اس کے درد میں کچھ مداوابھی بہت بڑی با ت ہے۔یو رپ میں غربت کو کم کرنے کے لئے چھو ٹے قرض بنگلہ دیش کے ڈا کٹر محمد یو نس قریشی نے گرامین بینک کے نا م سے شروع کیا اور بہت جلد یہ پروگرام غربت زدہ علا قوں میں معاشی مو ت قریب پہنچے لوگوں کو آکسیجن دینے کا با عث بنا لیکن اس میں بھی انہو ں نے سو د کو شا مل کر کے اس کو سرما یہ دارانہ رکھا ان کا خیا ل تھا کہ سو د کے بغیر یہ پرو گرا م نہیں چل سکے گا ۔ لیکن ڈاکٹر امجد ثاقب صا حب نے اخو ت کے نا م سے یہی پرو گرا م بلا سو د چلا کر اس فلسفہ کو تبدیل کر دیا اور اب دنیا بھر میں ان کے اس پرو گرا م کا مطا لعہ کیا جا رہا ہے اور اس کی تحسین و تعریف کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر صا حب کی یہ کتا ب ایسی جہد مسلسل اور سعیٰ سعید کی داستا ن ہے۔اس میں ایسے انسا نو ں کا ذکر ہے جو لفظ انسان کو معا نی عطا ء کر تے ہیں ۔ ہم ہر روز اخبا رات و رسا ئل میں کرپشن کنگز اور لٹیرو ں کی کہا نیا ں پڑھتے پڑھتے انسا نیت سے اپنا ایما ن کھو چکے ہیں ۔ اس کتا ب کو پڑھ کر آپ انسانیت پر اپنے ایمان کو دوبارہ پا سکتے ہیں۔ادسیو لا میکارتھی،خلیفہ ذکی الدین ،مارئن لوتھر کنگ کو ایسے کتنے ہی لو گ اس کتاب کا مو ضوع ہیں ۔ مجھے تو یہ کتاب عہد جدید کی تذکراۃاولیا ء لگتی ہے۔ ولی کی تعریف یہی ہے کہ وہ انسان دوست ہو تا ہے۔میر ے نزدیک تو بلب ایجا د کرنے والا تھا مس ایڈیسن بھی ولی ہے ۔کہ جس نے بلب ایجا د کر کے اندھیرے دور کیے اور انسان کی استدادِکار میں اضا فے کا با عث بنا ۔کہ وہ تسبیح خواں جو منبر و محراب میں بیٹھ کر صرف تسبیح ومنا جا ت کرتا رہے۔ میرے نزدیک ایلگزینڈر فلیمینگ بھی ولی ہے۔جس نے پنسلین ایجا د کر کے لا علا ج بیکٹرائی امراض کا علا ج دریا فت کر کے لا کھو ں انسانو اں کو مو ت کے منہ سے بچایا ۔لا کھوں بے گھروں کی خدمت کرنیوالی مدرٹریسا بھی ،عبدالستار ایدھی بھی چھیپا بھی اور ڈاکٹر امجد ثاقب بھی ولی ہیں ۔اور میں اسے عہد ناپرساں میں ان جیسے تما م انسا نیت نو از مسیحاؤں کو      سلا م پیش کرتا ہو ں ۔

“AKHUWAT KA SAFAR”

By,Somia Iram (Govt Post Graduate College  Rajan Pur)

When I went through this book the word “AKHUWAT” influenced my feelings and sentiments, it captured my imaginations and me in the past almost fourteen hundred years back it was time when I saw a great benefactor of humanity along with his followers migrated to MADINA and that great benefactor of humanity made Muslims as a one brotherhood.The practical display of AKHUWAT was unprecedented when Muslims of MADINA shared their each and every possession. They have shared their houses they have shared their properties and even they have shared their luggage without expecting any return. It was the true spirit. On which our HOLY PROPHIT (PBUH) lagged the foundation of society that was based on the pillars of love, sincerity, devotion, sacrifice and brotherhood. A society that was away from the materialism.It was the true soul of AKHUWAT. But suddenly I return back from my imaginative word to real world.Realism punched my soul “What a contrasting situation b/w past and present”.In present, I found a society embedment of poverty, miseries, deprivation where people are even deprived form their basic necessities; most of the people are even living their lives below poverty line. Suffering from distortuncny forces, they were helpless; hopeless it seems that they were anxiously looking for some well wisher.It the meanwhile fortunate enough for me when I started reading book “A AKHUWAT KA SAFAR”By Dr. Amjad saqib. It was enlightening and through prow king piece of writing in which written was beautifully narrated paradigm shift of AKHUWAT.To me, “AKHUWAT KA SAFAR” was not a simple tale or journey started from kachi basti of Rasool pur in 2001. But in actual sense it was a spiritual movement against brutality of materialistic and utalitanan system. It was a movement of love and sacrifice against distortuncny forces and viciousness of poverty.“writer has beautifully amalgamated his intellectual harmony, intensity of vision and his creative feeling in an unusual manner with this master place of writing while reading the book “AKHUWAT KA SAFAR” I have realized that “BY Reintroducing the concept of Qarz-e- Hasen” interest free financing for the elimination   of poverty and for the betterment of deprived part of society writer was indebted the whole nation this piece of writing is definitely bed a prologue to old sentiment of brotherhood. As concerned the content of writing it is beautifully handled with composite composition, precession and uniqueness of style.Some times while reading this journey it seems that words are speaking.Having an excellent array of words and marvelous felicity   of phrasing Dr. Amjad Saqib has added a though provoking and vigorous style to literature.“Infect the way in which sincerity of purpose and spirit of true thinking is provided in this book, it should be regarded as heart throbbing master piece on the welkin of literature”.“This book has its foundations scented on strong and stable tradition-cum-conversion which is everlasting and matchless.In short talented, devoted, sincere and ambitious writer has written this epoch making master piece with for sightedness and thought fullness. So, its imperative for us to appreciate and celebrate his scholarly vision. I would like to end my words with pray for more depth of thoughts and insight for this visionary person. (AMEEN)

اخوت کا سفر
مسز تسنیم کو ثر
لیکچرار شعبہ اردو گورنمنٹ کا لج برائے خوا تین
بِسمِ اللہ الرحمنِ الرحِیم
معزز حا ضرین محفل مجھے بے حد خوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے کہ میں آج اس باوقار تقریب کا حصہ ہوں ۔ڈاکٹر امجد ثاقب سے میرا تعارف اس کتاب ،،اخوت کا سفر ،، کے ذریعے ہوا ۔مجھے محسوس ہوا ۔
 ؂       اٹھا کے سر کو دیکھوں تو گر پڑے دستار
وہ شخص میرے تصورسے ہے بلند اختر
   
اخوت کا سفر محض ایک سفر نامہ نہیں بلکہ اردو سفر ناموں میں ایک خو بصورت اور منفرد اضا فہ ہے۔یہ محض ایک شخص کا سفر نامہ بھی نہیں ہے بلکہ اس میں ہزاروں خا ندانو ں کا سفر رقم ہے جو انہیں اخوت کی لڑی میں پروگیا ہے۔ 
اس کتاب کے دو حوالے ہیں ایک ادبی حوالہ اور دوسرا فکری حوالہ ادبی حوالے سے ڈاکٹر صاحب کی نثر کی خو بیاں کسی بڑے ادیب کی بڑی ادبی تخلیق میں پا ئی جانے والی خو بیوں کے ہم پلہ قرار دی جا سکتی ہیں۔  رواں اور سادہ انداز بیان ۔الفاظ جو جذبا ت واحساسات کی تاثیر میں ڈرے ہو ئے ہیں ۔کہانی کے بیان میں لطافت اور روانی ہے۔دل موہ لینے والے انداز میں بغیر کسی تضع اور بنا وٹ کے انھوں نے سب کچھ بیان کر دیا ہے ایسا محسو س ہو تا ہے گو یا قلم ہاتھ نے نہیں دل نے تھا م رکھا تھا ۔ شاعرانہ اسلو ب کی گواہی آغاز ابواب میں عنوانات اور پھر بر محفل اشعار نے دے دی ہے۔ اشعار ان کے اسلو ب میں اس قدر تحلیل ہو گئے ہیں کی سلاست وروانی میںیہ ثا بت نہیں ہو تے بلکہ ان کی مصنویت میں اور اضا فہ ہو جا تا ہے ۔یہی نہیں بلکہ کہنا بجا ہو گا کہ نثر کی طا قت اور توانائی میں اضا فہ ہو جا تا ہے ۔ سفر نامے کی سب سے بڑی خو بی جو ایک قاری حیثیت سے میں محسو س کرتی ہو ں وہ یہ ہے کہ مصنف انگلی پکڑکر قاری کو بھی اس دنیا کی سیر کرائے جس کی مصنف نے خو د جا گتی آنکھو ں سے کی۔ ڈاکٹر صاحب کے معاملے میں یہ عرض کروں گی کہ یہاں انگلی پکڑنے کی نو بت نہیں آئی بلکہ قاری خو د مصنف کے پیچھے پیچھے بڑی عقیدت کیسا تھ چل رہا ہے۔ یہ کتاب بلا شبہ فکری ہم آہنگی ،تخیلات کی بلندی ۔دینی لگا ؤ احساس ہمدردی کا بہترین امتزاج ہے۔ کتا ب کا جاذب نظر اسلو ب اور توا نا لہجہ ہر لفظ میں بولتا دکھا ئی دیتا ہے کتاب کا دوسرا حوالہ فکری ہے یقیناًیہ با ت قابل ستائش ہے کہ فکرکی ایسی بلندی اللہ کے پسندیدہ لو گو ں کو نصیب ہو تی ہے سفر نا مہ پڑھنے کے بعد یہ با ت شدت سے محسو س ہو تی ہے کہ ڈا کٹر صا حب اللہ کے پسند یدہ لو گو ں میں سے ہیں اس لئے ہم وقت ان کیسا تھ غیبی طا قت مو جو د رہتی ہے جو ان میں حا ئل مشکلا ت فوراَ دور کر دیتی ہے۔ خلو ص دل اور نیک نیتی کیسا تھ اگر کو ئی کا م شروع کیا جائے اور وہ بھی خا لص اللہ کی رضا کے لئے تو پھر چند برسوں میں محض دس ہزارسے شروع کئے گئے کام میں اربو ں کی برکت کیسے آتی ہے یہ بات ہمیں اخوت کا سفر آسانی سے سمجھا ہے۔ میں نے اخوت سے قرض نہیں لیا لیکن میں یہ بات حلفاً کہہ سکتی ہوں کہ اس سفر نامے  کے اختتام تک میں نے محسوس کیا ہےکہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے میں ڈاکٹر صاحب کی مقروض ہوں۔  بے لو ث خدمت کے اس عظیم پیکر نے اس حادی دنیا میں جہا ں ہر کسی کو صرف اپنے لئے راستہ بنانا ہے آگے بڑھنا اور ترقی کرنا ہے وہاں اپنی حا لت سے زیادہ دوسروں کی حا لت سنوارنے کی فکر میں ہمیں زندگی کے کئی قیمتی سال دے دیئے ۔اور سفر ابھی جا ری ہے اللہ کرے دیر تک جا ری رہے۔ غریب کی انا مجروح کئے بغیر ان کی مدد کرنا اور پھر اس لینے والے ہاتھ کو دینے والے ہاتھ میں بدلنا کو ئی معمولی کا رنا مہ نہیں ۔پندرہ سو سال پہلے لا ئے کئے اسلامی نظریے کو آج جو بظا ہر نا ممکن دکھا ئی دیتا تھا عملی شکل دینا اور پھر اسے ایسی کا میابی سے ہمکنا ر کرنا کہ دنیا دادِتحسین دینے پر مجبور ہو جا ئے یقیناًاپنے آپ میں ایک عظیم کا رنا مہ  ہے۔ زندگی ہر کسی کو ملتی ہے لیکن جو اس زندگی کی بھلا ئی جیسے عظیم مقصد کے تابع کر لیتے ہیں دراصل وہی لو گ کا میاب وکا مران کہلا تے ہیں ۔ یقیناًاخو ت کا سفر ڈاکٹر صا حب کے لئے تو شہء آخرت ہے کیو نکہ سب کیسا تھ بیٹھ کر ہنسنا تو آسان ہے لیکن کسی بے کس ، بے بس و مجبو ر کی آنکھ سے چھلکتے آنسوؤ ں کو پو نچھنا بہت مشکل ہمارے رب نے اسے عبادت قرار دیا ۔،، اخوت کا سفر،، پڑھ کر محسوس ہو تا ہے کہ ڈاکٹر صا حب کی زندگی کا ہر لمحہ عبادت میں گزرا ہے ۔ آخر میں دل سے نکلی ہو ئی یہ دعا ان کی نذر کرتی ہوں ۔

؂        تیرا خادرِ درخشاں رہے تا ابد فروزاں
تیری صبح نو رِ افشاں کبھی شام تک نہ پہنچے  
    
شکریہ

 

 

جاری ہے انتظار فرماوئیں شکریہ