ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

خصوصی کالم  ۔۔۔۔۔۔ بھیانک لوکل گورنمنٹ بل 2013 اور اُس کے نتائیج ۔۔   

                                     

      گونج     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر کمال فرید ملک

تقریباً تیراں (13 ) سال بعد ایک خشک قلم کی نوک سے خونچکاں آنسو
مجھے فاروق خدشہ ہے چمن میرا نہ لُٹ جائے   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اناڑی عقل والوں کی قیادت مار دیتی ہے۔
معزز قائرین اور اُفق صحافت کے چمکتے ستاروں اور ارباب اختیار اور اُن کے نام نہاد علمبرداروں کے نام
دنیا بھر کے ترقی پزیر ، ترقی یافتہ۔ پسماندہ یا پسماندہ ترین ممالک یا قوموں کے ماضی یا حال کے دریچوں میں جھانکا جائے یا پھر اُن کے مستقبل کے خوابوں کی چلمن میں پنپنے والی سوچوں کی جگممگاہٹ اور اُس سے پھوٹنے والی سنہری کرنوں کی جانب دیکھا جائے تو ایک حقیقت یقیناً ہمارا منہ چڑانے کے لئے نمایاں طور پر دیکھائی دے گی کہ ر وز بروز ترقی اور خوشحالی کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے اُن کے قدم ہمیں ہمارے رہنماوں کی تنگ نظری ، منفی اور امتیازی سوچ اور اپنی دنیا آباد رکھنے کے لئے سب کی بستیاں اُجاڑنے اور اپنی بادشاہت قائم رکھنے کے لئے پوری قوم کی پسماندگی قائم رکھنے کا عمل کا احساس دلاتے ہیں۔
دوستو!   رہبر و رہنما وہ ہوتے ہیں جو ہر رات اپنے سہانے خوابوں میں سے نہایت بیش قیمت جھلملاتے موتیوں کو چُرا کر اپنی قوموں کے ماتھے کا جھومر بناتے ہیں ۔اور وہ جو اپنے گرم لہو اور اُس کی مہک سے تاریخ کے صفحات پر اپنے ملک و قوم کی ایسی تصویر کشی کر جاتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کے لئے ہر روز ایک نیا سنگ میل اُن کی ترقی کی نئی نئی راہیں استوار کرنے کا سبب بنتا ہے۔ وہ نہیں جو اپنے سہانے خوابو ں کو اپنی ذاتی ترقی ، اپنے خاندان کی خوشحالی کا ضامن اور اپنے اقتدار کی طوالت کا باعث بناتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کے ہمیشہ تاریخ اور وقت نے ایسے رہنماوں اور حکمرانوں کو اپنے دامن سے جھٹک دیا لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں گردش ایام کے پلٹنے اور شدید اذیت کے باوجود عہد حاضر کے فرعون اور قارون اس حقیقت کو کسی صورت سمجھنے سے عاری ہیں۔شاید اس لئے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی آنکھوں ، منہ اورکانوں پر گمراہی کی مہر لگا دی ہے ۔ یا پھر ہماری پوری قوم کی بے حسی اور آپس کے نفاق اور ایک قوم ایک اُمت کی اجتماعی سوچ کے خاتمہ نے انہیں ہمارے مقدر سے اس انداز سے کھیلنے کے ء موقعے فراہم کئے ہیں۔بہر حال یہ بھی ایک سوال ہے جسے شاید وقت کا کوئی لمبا پیمانہ ہی حل کر پائے یا پھر ہم سب کا حقائق کو پرکھ کر چلنا۔
معزز قارئیں ، اوپر کےئے گئے سوالات کی روشنی میں آج کی اس تحریر کا محور ہے نئے بلدیاتی نظام کا وہ ڈھانچہ جس کی رونمائی موجودہ صوبائی حکومت نے اس دور کے چند ماہ ہی نہیں بلکے گزشتہ پانچ سالوں میں متواتر تگ ودو کے بعد کی۔پوری دنیا میں کسی بھی ایسے نظام کا اگر جائزہ لیا جائے تو یقیناً اُس میں روز بروز آگے بڑھنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور قوم ، ملک ، معاشرے اور علاقائی ترقی کو محور بنایا جاتا ہے ۔بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کیمنازل طے کرنے والوں کے لئے وقت کے قیمتی مگر سنگ دل لمحات بھی راہیں استوار کرتے چلے جاتے ہیں لیکن یہ کیسی مملکت خداداد اور اُس کے حاکم اور رہبر ورہنما اور اُن کے علمبردار ہیں جو اس قوم کے ساتھ گزشتہ چونسٹھ سالوں سے سانپ اور سیڑھی کا بھیانک اور کبھی نہ ختم ہونے والا کھیل نہایت بے رحمی اور سفاکی سے کھیلے چلے جا رہے ہیں اور اس ملک کی ترقی کی راہیں بند راستوں کی جانب اس انداز سے موڑے چلے جا رہے ہیں کے دن دوگنی اور رات چوگنی کا نعرہ بھی بلندہے اور دن دوگنی رات چوگنی تنزلی ہمارا مقدر بنا چلا جا رہا ہے ۔
معزز قارئین کرام ! لوکل گورنمنٹ پنجاب بل 2013 کا نفاذ ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ پنجاب بھر میں رائیج بلدیاتی نظام جس کی دراصل روح مقامی علاقائی سطع پر لوگوں کی ترقی اور اُن میں نچلی سطع پر اختیارات کی اس انداز سے تقسیم ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کو ترقی کی جانب گامزن ہوں اور دیہی علاقے اربن اور اربن علاقے اپنا دائرہ اس طرع بڑھائیں کے اُن کے اردگرد کے دیہی علاقے اُن میں ضم ہوں اور اسطرح ملک بھر میں ترقی کا عمل تیزی سے جاری رہے۔اس مقصد کی تکمیل کے لئے اس نظام میں سب سے چھوٹا یونٹ یونین کونسل تھا جو کہ بکھری ہوئی آبادیوں پر مشتمل ہوتا تھا ،اور کئی یونین کونسلوں کے اشتراک سے ضلع کونسل قائم کی جاتی تھی تاکہ ضلع بھر کے دیہی علاقوں کو ترقی اور خوشحالی کی راہیں استوار کرنے کے لئے باہمی اشتراک عمل کا وسیع تر موقعہ ہمہ وقت دستیاب ہو اور اس عمل میں رہتے ہوئے جو یونین کونسل بہتر قیادت یا حکمت عملی کی بدولت ترقی کی منازل طے کر لیتی اور بکھری ہوئی آبادی کو یکجا کر کہ ایک ٹاون کی صورت اختیار کرتی اُسے ٹاون کمیٹی کا درجہ دیا جاتا تھا اور پھر اُسے مزید ترقی کی راہیں استوار کرنے کے لئے وقت دیا جاتا تھا ۔ ٹاون کمیٹی میں مقامی حکومت علاقہ میں صفائی ، صحت ، پینے کا صاف پانی ، سٹریٹ لائیٹ ، نکاسی آب کے معاملات پر توجہ دیتی تھی اور اس علاقہ کی گلیاں پختہ کرنا اور یہاں تعلیم کی سہولیات فرہم کرنا ،اس علاقہ کو اردگرد کے علاقوں کے لئے اجناس اور دوسری ایشاء کی منڈی بنانا اور دیگر ترقیاتی کاموں کا اس انداز سے تعین کرنا کہ یہ علاقہ مکمل طور پر ترقی کی منازل طے کرے اور اس سارے عمل میں یہاں کے رہائیشیوں کا معصولات کا ادا کرنا ایک ایسا عمل تھا جو حکومت وقت پر بوجھ ڈالے بغیر علاقائی ترقی کا کامیاب ترین راستہ رہا۔اور جب یہ ٹاون کمیٹی اپنی مقرر شدہ منازل کامیابی سے طے کر لیتی اور اس کی اربن آبادی بڑھ جاتی تو اسے میونسپل کمیٹی کا درجہ دیا جاتا جس سے ترقی کی رفتار مزید تیز ہوپاتی اور اس طرح درجہ بدرجہ میونسپل کمیٹی سے میونسپل کارپوریشن اور میٹروپولیٹن بننے کا عمل ہمارے چھوٹے چھوٹے شہروں کو ایک جانب بڑے شہروں کی شکل میں تبدیل کرنے کا راستہ بن پاتا ہے۔اور دوسری جانب سہولیات اور روزگار کی فراہمی بڑے بڑے شہروں کی جانب لوگوں کی منتقلی کے عمل کو روکنے کا باعث تاکہ اُن شہروں پر آبادی کا بوجھ نہ بڑھے ۔
حضرات محترم!   صرف یہی نہیں بلکے ان علاقوں میں ترقی کے اس عمل میں تعلیم کی بہتر راہیں استوار کرنے کے مواقعے بھی بڑھتے تھے یعنی پرائمری سکولوں س ےمڈل سکولوں کی جانب سفر اور مڈل سے ہائیر اور ہائیر سے ہائیر سکنڈری اور پھر کالجز اور یونیورسٹیوں کاقیام قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔اور ان سب سے بڑھ کر اہم ترین عمل یہ کہ یہ نظام نچلے درجے سے قیادت کو پیدا کرنے کا ایسا شفاف عمل ہے کہ چیک اینڈ بیلنس کی موجودگی اگر بلا تفریق اور امتیاز قائم رہے تو یونین کونسل سے اُبھرنے والی قیادت جب ترقی اور تجربہ کی منازل طے کرتے کرتے پنجاب یا ملکی سطع پر پہنچتی ہے تو ایک جانب اُس میں امور مملکت سے آگاہی اور ترقی کی راہیں اور منازل طے کرنے کا ادراک نکھر کر سامنے آچکا ہوتا ہے تو دوسری جانب اُس کے کردار اور عمل کی ضمانت وقت اور عوامی انتخاب کی تیز ترین نگاہیں مہیا کرتی ہیں اور کسی بھی خامی یا لرزش و کوتاہی کی صورت میں متبادل قیادت ہمہ وقت اس خلا کو پُر کرنے کے لئے تیار ملتی ہے۔ اور یہی قیادت دراصل نیچلی سطع تک عوامی مسئل سے مکمل آگاہی رکھتی ہے، جو شاید اسٹیبلشمنٹ کو گوارا نہیں۔
معزز قارئین ! ایسے نظام کی موجودگی آخر کس کی نگاہوں میں کھٹکتی تھی کہ 1999 تک کامیابی سے چلنے والا یہ نظام 2000 کے لوکل کورنمنٹ آرڈینینس کے ہاتھوں زندہ درگور کر دیا گیا اور ایک ایسا نظام مسلط کر دیا گیا جس کی بدولت تمام اربن کونسلوں یعنی ٹاون ، میونسپل کمیٹیاں ختم کر دی گئی اور ان کی جگہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن سب پر مسلط کر دی گئی اسی طرح میونسپل کاپوریشنز اور میٹروپولیٹن کارپوریشنز بھی ختم کر دی گئی ۔ بے شک ایک ڈیکٹیٹر سے یہی توقع کی جا سکتی تھی اُس نے اپنی سوچ کے مطابق ہر تحصیل اور ضلع پر ایک ایک فرد مسلط کر کہ اپنی حکمرانی کو مضبوط کیا اور دوبارہ انگریزوں کے جاگیردارانہ ، سرمایہ دارانہ اور چوہدریوں کے نظام کو تقویت دی اور وقت کے زہریلے سانپ نے جانب اُفق بڑگتی ہوئی خلق خدا کو ڈسا اور اپنی خودساختہ سیڑھی کے ذریعے اُسے ایک مرتبہ پھر زمیں بوس کردیا۔  نو سال اس نظام کے ذریعے تباہی پھیلانے کے بعد جب ایک مرتبہ پھر سورج اُبھرا تو اپنے پانچ سالہ دن کی آب وتاب کے باوجود اس نظام کو اُسی سرکاری مشینری کے ذریعے ملک وقوم پر مسلط رکھا گیاجو اس کی خالق و پالک تھی۔اورآج جب دوبارہ کسی سیاہ رات کا سامنا کئے بغیر آفتاب منور ہے تو پھر سے اسٹیبلشمنٹ کے شیش ناگ نے اس نطام کو ڈسا اور اپنے زہر قاتل سے ثریا سے زمین پر گرے لوگوں کو زمین کی نچلی تہہ میں اُتار دیا۔یعنی جو توقع اس حکومت سے کی جا رہی تھی کہ سندھ حکومت کی طرح پنجاب حکومت بھی ٹاون، میونسپل ،اور دیگر کمیٹیوں اور کارپوریشنوں کو بحال کرے گی بلکے مزید چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں کو ٹاون کا درجہ دیکر سابقہ کوتاہیوں اور احساس محرومی کا ازالہ کرے گی اور ایک مرتبہپھر یہ قوم بلندیوں کا سفر طے کرے گی اور علاقائی ترقی کے راستے ہموار ہونگے ایسے سب خوابوں کو چکناچور کر دیا گیا اور صرفمخصوص علاقوں کو میونسپل کا درجہ دینے کا حکم بادشاہی صادر فرما یا گیا اور وہ ٹاون اور میونسپل کمیٹیاں بھی یونین کونسلیں بنا دی گئی جو پاکستان بننے سے قبل بھی ٹاون اور میونسپل تھیں۔اس سلسلہ میں میں اپنے ہی شہر کے قتل نا حق کی مثال پیش کرنا بہٹر سمجھتا ہوں ۔ اور اسی سلسلہ میں میں عدالت عالیہ کا دروازہ بھی کھٹکٹا چکا ہوں اس اُمید سے کے شاید ہماری آواز انصاف کے ایوانوں میں سن لی جائے۔
حضرات محترم!   شہر فریدؒ کوٹ مٹھن 1934 سے1999 تک مختلف ادوار میں ٹاون اور میونسپل کمیٹی رہا اور یہ شہرقبل ازیں ضلع ڈیرہ غازیخان اور اب ضلع راجن پور کا خوبصورت ترین شہر ہے۔ اس شہر میں اس وقت تمام بڑی گلیاں کارپٹڈ اور چحوٹی گلیان سیمٹڈ سلیب ہیں۔ اس شہر میں کوئی سکول بغیر پختہ عمارت کے نہ ہے،ہائیر سکنڈری سکولز بوائیز اور گرلز موجود ہے۔گرلز ڈگری کالج زیر تعمیر ہے۔ تین خوبصورت پارک ہیں۔ چار نکاسی آب کی سکیمیں کام کر رہی ہیں ۔ تین واٹر سپلائی سکیمیں ہیں۔ پورے شہر اور ملحقہ علاقوں میں سٹریٹ لائیٹ موجود ہے۔ صفائی کا بہترین انتظام ہے، یہاں کے ہسپتال میں ایمرجنسی سنٹر زچہ بچہسینٹر اور آئی بلاک موجود ہے۔ ریلوے اسٹیشن ، جنرل بس اسٹینڈ، تھانہ ، ڈیجیٹل ٹیلی فون ایکسچینج، زراعت آفس، مویشیی ہسپتال ، سلاٹر ہاوس ،دو خوبصورت سرکاری ریسٹ ہاوس،ہائی وے ورکشاپ ، ٹیوٹا ٹرینگ سنٹر ، ووکیشنل ٹرینگ انسٹیتویٹ، اسٹیدیم، خواجہ فرید میوزیم، ضلعی دفتر اوقاف،اوقاف لائبریری،بلدیہ لائبریری اس شہر کی ترقی میں مزید اضافہ کا باعث ہیں، ہائیر سکندری سکولز سے لیکر پرائمری سکولوں تک اسوقت تقریباً 8500 بچے زیر تعلیم ہیں۔ جبکہ کالجز ،یونیورسٹی اور دیگر اداروں میں زیر تعلیم بچے علاوہ ہیں۔ فارغ التعلیم طلباء کی تعداد اس سے کئی گناہ زیادہ ہے ۔ جبکہ مدرسہ اور نان فارمل سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے اعداد شمار بھی اس میں شامل نہیں ہیں۔ایک ایکڑ زمین میں اس کمیٹی کا آفس ہے،دو سو پچانوے دوکانات ہیں جن سے کڑوڑوں روپے کی آمدن ہوتی ہے۔کل ملا کر تقریباً250 کروڑ سے زائد کی جائیداد اس کمیٹی کی ملکیت ہے جو کے عوام الناس کے ٹیکسوں کی مرہون منت ہے۔ 1981 سے اہلیان شہر فریدؒ پراپرٹی ٹیکس ،کاروباری ٹیکس اور کاروباری لائیسنس فیس اور پراپرٹی منتقلی ٹیکس ادا کر رہے ہیں ۔ بلدیہ کے اپنے ٹریکٹر ٹرالیاں ااور نظام صفائی کو کامیابی سے چلانے کے آلات ہیں اس سلسلہ میں 160 سے زائد ملازمین سر گرم عمل ہیں۔اور آبادی اس وقت چالیس ہزار سے زائد ہے۔لیکن وقت کے حکمرانوں نے ان سب حقائق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسے یونین کونسل بنادیا ہے اور اس کے تمام وسائل اور آمدن دوسرے علاقوں کے لئے مختص کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے جیسا کے پہلے گزشتہ کئی سالوں سے اس سے حاصل شدہ آمدن ٹی ایم اے راجن پور استعمال کرتی چلی آ رہی تھی ۔ جبکہ بمطابق قانون اسے میونسپل کمیٹی کا درجہ ملنا چاہیے تھا۔ جبکہ اس کے مد مقابل روجہان کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دیا گیا جو کہ ہر لحاظ سے کوٹ مٹھن سے پیچھے ہے بے شک ایسا کرنا اچھا عمل ہے لیکن ایسا کرنے کے باوجود کوٹ مٹھن اور اسی طرح کے دیگر شہر ۔۔۔ فاضل پور ، داجل کو نظر انداز کرنا نہایت غیر منصفانہ بلکے ظالمانہ اور سفاقانہ عمل ہے جس کی پُر زور مذمت ہم سب کا قومی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ اس سلسلسہ میں ارباب اختیار سے اپیل ہے کہ فوری طور پر اس جانب توجہ دیں کوٹ مٹھن ، فاضل پور ، ڈاجل کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دیتے ہوئے محمد پور دیوان ، حاجی پور شریف، اور عمر کوٹ کو بھی میونسپل کمیٹی بنایا جائے یا پھر ٹاون کمیٹی کا درجہ دیا جائے تاکہ دیہی علاقے ترقی کی منازل طے کر پائیں اور اس سوچ کا خاتمہ کیا جائے کہ علاقوں کی پسماندگی کو قائم رکھ کر مقامی چوہدریوں ، سرداروں اور اُن کے نام نہاد علمبرداروں کے تسلط کو تقویت دی جائے ایسا عمل قوموں کی تنزلی اور تباہی کا سبب بنتا ہے اور احساس محرومی کا وہ لاواتیار کرتا ہے جس کی بدولت پہلے ہی وطن عزیز بہت سی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے اور اسی امتیازی سلوک اور عدم توجہی کی بدولت جنوبی پنجاب کےبا شعور لوگ الگ صوبے کا مطالبہ کر تے چلے آرہے ہیں ۔اور اگر اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر یہ عمل اسی طرح جاری رہا تو ہماری پسماندگی ایک دن وہ انقلاب لانے پر مجبور ہو جائے گی جو ایسے خود غرض حکمرانوں اور ان کی محفوظ پناہگاہوں ( اسٹیبلشمنٹ کے تمام طبقات)کو تنکے کی مانند کسی سیلاب نوح میں بہا لے جائیں گے اور بے شک یہ فیصلہ وقت کرے گا کہ یہ سیلاب مظلوموں کے آنسووں سے اُٹھے گا یا پھر اُن کے گرم لہو سے لیکن اُٹھے گا ضرور یہ میرا دعویٰ ہے لیکن وقت کے حکمران اتنا ضرور یاد رکھیں کہ اُن کے حق حکمرانی کو ہم تسلیم کرتے ہیں مگر وہ بھی ایک غریب آدمی کا حق حکمرانی نہ صرف تسلیم کریں بلکہ اُس کی قدر کریں تاہم ایک فارمولہ سب پر لاگو ہوتا ہے اور اس پر عمل کی یقیناً سخت ضرورت ہے کہ حکمرانی خوف اور طاقت کے بلبوتے پر ذہنوں پر نہیں ہونی چاہیے بلکے خدمت ، محبت اور اخلاص کے بل بوتے پر دلوں پر ہونی چاہیے ۔ اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ میری اس تحریر کو مثبت انداز میں پڑھا اور سمجھا جائے گا اور سب اپنے اپنے فرائض کی بجا آوری کو یقینی بنائیں گے ورنہ خدا کی لاٹھی جتنی بے آُ واز ہے مخلوق خدا کی لاٹھی اُتنی ہی گرج دار ہے۔
شاید کے تیرے دل میں اُتر جائے میری بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محفل میں اس خیال سے پھر آ گیا ہوں میں