ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

مصیبتیں کیوں نازل ہوتی ہیں ۔ عذاب کیا ہوتا ہے اورامتحان کیا
 

تحریر ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ


معذز قارئین ! یہ درست ہے کہ دنیا مین تمام خوشیاں اور تکالیف اللہ تبارک تعالیٰ کی جانب سے اوراُسی کی ذات بابرکت کے امر کی بدولت ہیں۔ ہر خوشی بھرے لمحات پر بے ساختہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور ہر دکھ اور رنج والم میں صبر اختیار کرنا اور اس کی رضا میں راضی ہو کر ہی ہم نہ صرف اپنے دکھوں کا مداواکر سکتے ہیں بلکہ انہیں خوشیوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔تکلیف دہ لمحات کسی عام فرد کیلئے ہو ںیا پھر اجتماعی لوگوں کیلئے ایک بات طے ہے کہ قوتِ برداشت کے مطابق ہی ہوتے ہیں تاہم جب انسانی قوت برداشت شدتِ تکلیف کے سامنے دم توڑدے تو سمجھ لیجئے کہ اب یقیناًاللہ تبارک تعالیٰ ہم سے ناراض ہیں اور یہ فارمولا 100%درست ہے ۔لیکن صرف ہم مسلمانوں کیلئے بے شک کبھی کبھی اور کہیں کہیں ایسا غیر مسلموں کیلئے ہوتا ہے لیکن بہت کم کیونکہ یہ اٹل حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے منکر(غیر مسلموں)کو اسی دنیا میں بے شمار نعمتوں سے نواز دیتے ہیں اور ان کے ہر اچھے عمل کی جزاء اسی دنیا میں ان کو دیتے رہتے ہیں اور چونکہ ان کے صبرو استقامت کا امتحان مطلوب نہیں ہوتا اس لئے عیش وعشرت،دولت،اقتدار ،اور بے شمار دنیاوی نعمتیں ان پر نازل کر دی جاتی ہیں تاہم سب سے اہم اور بے شمار قیمتی دولت "ہدایت "ان سے دور کر دی جاتی ہے کہ آخرت میں جہنم و دوزخ ان کا مقدر ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں ان غیر مسلموں کے ہر اچھے اخلاق ،اچھے عمل کا صلہ بڑھا چڑھا کر خداوند بزرگ وبر تر انہیں دیتا رہتا ہے اور ان کے برُے اعمال کو دوزخ کی وادی میں ان کیلئے عذاب کی صورت میں اکٹھا کرتا رہتاہے۔اس کے برعکس ہم کلمہ گو مسلمان بھائیوں پر نوازشات کی بارش میں بے شک کمی دکھائی دیتی ہے۔لیکن ہم اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ آخرت میں ہمارے اچھے اعمال اور دولتِ ایمان ہمارے لئے انگنت، بے شمار انعامات لئے ہمارا استقبال کرنے کیلئے بے چین رہتے ہیں بلکہ ہمیں دی گئی تکالیف ہمارے بے شمار گناۂ کبیرہ وصغیرہ کو اسی دنیا میں مٹا ڈالنے کا سبب بنتی ہیں یہ اور بات ہے کہ ہمیں اس کا ادراک نہیں اور انسانی فطرت کو اس ادراک کو حاصل کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے جو ہدایت کی صورت میں اللہ تبارک تعالیٰ کی ذات مبارکہ اپنے ان بندوں کو عنایت فرماتے ہیں جو اس امتحان اور مصیبت کی گھڑی میں اپنے رب کو یاد رکھتے ہیں اور اس کی رضا میں راضی ہو کر اس کا شکر ادا کرتے ہیں ۔
قارئین محترم! متذکرہ بالا بحث کا ایک پہلو اور بھی ہے جو میں آپ سب کے سامنے پیش کرنے کی جسارت کرتا ہو ں اور امید ہے کہ میری یہ مختصر سی کاوش آپ پڑھنے لکھنے والے ساتھیوں کی سمجھ میںآجائے گی یہ طے ہے کہ ہم ایک ایسی اُمت ہیں جو تمام اُمتوں سے افضل ہے ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ تمام نبیوں ، رسولوں میں سب سے افضل ترین اور آخری نبی ہیں آپ ﷺ کی آمد اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کے بعد جس طرح سابقہ تمام شریعتوں کو متروک قرار دے دیا گیا اسی طرح امر خداوندِقدوس جو کہ سابقہ اُمتوں کیلئے کچھ اور تھا مگر ا س اُمت کیلئے بدل دیا گیا ااور اس کی وجہ ہمارے نبی اکرم ﷺ کی وہ دعائیں ہیں جو انہوں نے رُو رُو کر اپنی اُمت کی بخشش اور بہتری و بھلائی کیلئے مانگی ۔ آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے ہر لمحہ میں صرف اور صرف اپنی اُمت کیلئے دعائیں مانگی اور اپنی زندگی کے آخری لمحے بھی نبی آخرت الزماں نے اس جہاں سے رخصتی کے وقت اور اپنے خالقِ حقیقی سے ملاقات کے لمحات کے درمیان بھی صرف یہی تقاضہ کیا کہ میرے بعد میری امت سے کیا سلوک ہو گا ۔
قارئیں محترم! ہر دعا ہر تکرار اور ہر منت کے عوض اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے کہا کہ وہ اپنے محبوب کو راضی کریگا اور اس کی اُمت کے بارے میں اسے خوش کر دے گا اور اس کے بعد اس کی اُمت کو اکیلا نہیں چھوڑے گا ۔یہی وجہ ہے کہ قیامت تک ہم اپنی اصل شکلوں کو برقرار رکھیں گے ورنہ باقی اُمتوں کی طرح شاید اپنے اعمال کی بدولت ہم بھی مختلف حیوانوں کی شکلیں اختیار کر چکے ہو تے یا پھر اللہ کی جانب سے نازل ہونے والے عذابوں میں غرق ہو چکے ہو تے چونکہ ایسا ہوناممکن نہ بچا تھا بوجہ ہمارے نبی آخرت الزماں محبوبِ خدا ﷺ کی دعاوں کی وجہ سے لیکن دوسری جانب ہماری بد اعمالیوں نے نہ صرٖ فحد سے تجاوز کرنا شروع کر دیا بلکہ ہم بلکل تعلیمات شریعت سے دور ہو چکے ہیں بلکہ شریعت محمدؐی میں تبدیلی جیسے برتر گناہ اور اسلام کے نظامِ اخلاق سے بلکل الٹ روش اختیار کر چکے ہیں۔
آج ہماری نسلوں نے وہ تمام عیب اور گناہ اپنی زندگی کا معمول بنا لئے ہیں جن میں سے صرف ایک کی موجودگی کی بنا پر سابقہ اُ متوں کو عذاب اور تباہی سے دو چار ہونا پڑا ۔آج بدیانتی،ملاوٹ، بدعنوانی ،رشوت،شراب،نشہ،جوا،زنا ، حرام خوری ، مکا ری و عیاری ،سود،قتل وغارت گری ہماری زندگی کا معمول بن چکے ہیں انسانی لاشوں پر ہم اپنی سلطنت کے محل تعمیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سرعام ناچ گانے کی محفلیں اور عیاشی خانے ہماری زندگی کا لازمی جزبن چکے ہیں خدا کی اس زمین پر طاقت کے زور پر اپنی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے ہم بے دریغ انسانی گلے کاٹ رہے ہیں ہر طرف چیخ وپکار ہے سسکیاں ہیں،التجائیں ہیں ،فریادیں ہیں لیکن ہمارے کان بند ہیں ُ نکھوں کو دیکھائی نہیں دیتا ،بلکہ یہ سب ہمارے لئے باعث اطمنان وتسکین بنتا جا رہا ہے۔مساجد میں،امام بارگاہوں میں ،شاہراؤں پر تڑپتی ہوئی بے گوروکفن لاشیں ہمارے ہی بھائیوں کی برہنا اور سر کٹی لاشیں ، آگ اور خون کی بہتی ہوئی ندیا ں اور بچوں کے بھوکے پیٹ بھرنے کیلئے عصمتوں کی نیلامی اور چوری ڈکیتی ۔راہ زنی کا ذکر تو کیا کرنا ہم نے تو سود کو بھی حلال کر دیا اُس سود کو حلال کر دیا جس کے بارے میں فرمانِ خداوندی ہے کہ" تم سود چھوڑ دو یا پھر تیار ہو جاؤ میں اور میرا رسول ﷺ تم سے جنگ کرنے آرہے ہیں " ہم اس قدر سفاک، جابر ،بدکردار،بدقماش تو تھے ہی لیکن اس قدر غافل اور گمراہ ہو چکے ہیں کہ اپنے رب ،رب العالمین اور اپنے نبیؐ، محسنِ انسانیت ،محبوبِ خدا ﷺسے جنگ کیلئے میدان میں آچکے ہیں اور سود کو حرام قرار دیا گیا ہم نے جگہ جگہ بنک کھول دئیے اور سود کے بغیر کوئی کاروبار نہ ہو سکے ایسا ماحول پیدا کردیا  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قارئین محترم! یہ جو چھوٹی چھوٹی قیامتیں کبھی اجتماعی قتل و غارت کی شکل میں کبھی زلزلوں کی شکل میں کبھی سونامی کی صورت میں کبھی بے وقت کی بارشوں کی شکل میں کبھی سیلاب کی تباہ کاریوں کی صورت میں کبھی نااہل، بدیانت،بد کردار حکمرانوں کی صورت میں ،کبھی جبر اور نا انصافی کی صورت میں اور کبھی ا غیاروں کی غلامی کی صورت میں ہم پر نازل ہو رہی ہیں یہ بے شک خطرے کے وہ الارم ہیں جو بڑی قیامت کی آمد سے قبل بجائے جا رہے ہیں تاکہ ہم سمجھ سکیں اور اُس راستے پر آجائیں جو فلاح کا راستہ ہے ، جو بھلائی کا راستہ ہے،جو محبت کا راستہ ہے ، جو امن کا راستہ ہے ،جو بھائی چارے کی بنیاد ہے ،جو مساوات کا ذریعہ ہے ، جو اخوت کا درس دیتا ہے، جو انسان کو انسانیت کی معراج تک پہنچاتا ہے اور وہ راستہ ہے جس کے بارے میں اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے محبوب سے فرمایا ہے
"کہ تم کہہ د و اے نبی ﷺ کہ یہ ہے میرا راستہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ میں بلاتا ہوں اللہ کی جانب ۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں اکیلا نہیں بلکہ وہ سب بھی جنہوں نے کلمہ پڑھا "۔
قارئین محترم! بے شک اللہ تبارک تعالیٰ کا وعدہ ہے اپنے محبوب سے کہ میں تجھے اور تیری امت کو اکیلا نہ چھوڑوں گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری اصلاح کیلئے ،ہمیں سیرات المستقیم تک لانے کیلئے اور آخرت کی تباہی وبربادی سے بچانے کیلئے اللہ تعالیٰ جہاں ہمارا امتحان لیکر ہمارے گناہوں کی مغفرت فرماتا ہے وہاں ایسے عارضی چھوٹے چھوٹے عذابوں سے ہمارے گناہوں کا بوجھ بھی ہلکا کرتا ہے .یہاں ایسے لوگوں سے بھی دنیا بھری پڑی ہے جو اس دکھ درد، شدید عذاب اور تباہی میں نہ صرف اپنے دن رات خدمتِ انسانیت میں صرف کرتے ہیں بلکہ اپنے مال سے بے تحاشہ خرچ کر کے ان محروم لوگوں کو زندگی کی بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرتے ہیں مشکلات کی بے شمار گھڑیوں میں ہم نے دیکھا ایک ایسے طبقہ کو جو بے شک اپنے اپنے گھروں میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے دی گئی تمام تر نعمتوں کی بدولت بے فکر زندگی بسر کر رہے تھے انہوں نے فوراًاپنا آرام چھوڑا ،اپنے گھروں کو خیر باد کہا ، اپنے کاروبار چھوڑے اور اپنے مال اسباب کے ہمراہ مشکل کے ان لمحات میں اپنے بہن بھائیوں کی مدد کو آپہنچے ، بھوکے خاندانوں کیلئے خوراک کی فراہمی ،بے گھروں کیلئے چادر اور چار دیواری کی فراہمی ،بیماروں کیلئے علاج معالجہ کی سہولت ،اُجڑے گھروں کی آباد کاری، بے یارو مددگار بھائیوں کیلئے ذریعہ روزگار کی فراہمی اور یہ سب کچھ بلا تمیز،
بلاامتیاز اوربغیر کسی لالچ کے صرف اور صرف خوف خدا اور خدا کے رسول ﷺسے اپنے اُمتی ہو نے کے اس رشتہ کی لاج رکھنے کیلئے جو اس دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی سب سے عظیم اور سب سے برتر ایسا رشتہ ہے جسے جن لوگوں نے اس دنیا میں قائم8 رکھنے کی جدوجہد کی وہی روزِآخرت اس سے فیض یاب بھی ہونگے وہی نبی آخرت الزماں ﷺ کے قریب بھی ہونگے اور وہی اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو بھی ہونگے اور ہم جیسے گناہ گاروں کی بخشش کیلئے شاید راہیں بھی استوار کرینگے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے اقبال ؒ نے کہا
 
"خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں ،بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا  جس کو خدا کے  بندوں سے  پیار  ہو گا "
 

قارئین محترم! جہاں اس نفسانفسی کے عالم میں ایسے مال دار لو گ موجود ہیں جن کی بد ولت ایسے سینکڑوں بلکہ ہزاروں عذاب اس اُمت سے ٹلتے ہیں اور جن کے خزانوں کے منہ کھلنے سے ہزاروں ، لاکھوں بے بس ومجبورانسانوں کی تسکین اور عزت نفس ،چادر اور چار دیواری کا تحفط ہوتا ہے وہاں شدید ترین کرب واضطراب اور عذاب کی حالت میں لوگوں کے صبرٹوٹنے کے وہ لمحات ٹلتے ہیں جن کے ٹوٹنے سے امتحان عذاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے اور صبر قائم رہنے سے عذاب امتحان کی صورت میں بدل کربے تحاشہ گناہوں کی بخشش کا سامان بن جاتا ہے میں اکثر کہتا ہوں کہ اگر مال دار لوگ عشرو زکوۃدینے میں کوہتائی نہ برتیں تو کبھی کسی غریب کی بیٹی کے سر کے بال سفید نہ ہو، کبھی بھوکے بچوں کے پیٹ بھرنے اور بوڑھے لاچار والدین کی بیماری کے علاج کیلئے کسی غریب کے گھر کی عزت نیلام نہ ہو ۔اور اگر ہم سب قرآن پاک کی پہلی آیت کریمہ "الحمداللہ رب العلمین "کا مطلب سمجھ جائیں اور مان لیں ،ایمان لے آئیں کہ سب کو پالنے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے تو یقیناًکوئی تاجر ملاوٹ نہ کرے ،کم نہ تولے، کوئی ڈاکٹر حوس کا شکار نہ ہو تو حکمران دولت کمانا مقصدِ حیات نہ بنائے کوئی مُنصف چند سکوں کے عوض انصاف کی نیلامی نہ کرے کوئی وکیل حصولِ دولت کیلئے نا انصافی کی راہیں استوار نہ کرے اور انصاف کی نیلامی میں حصہ دار نہ بنے کوئی عورت بھوکے بچوں کے پیٹ بھرنے کیلئے عصمت دری نہ کرے کوئی آفیسر رشوت خوری کو ذریعہ رزق نہ کمائے اور شرک کی اس کیفیت کا شکار نہ ہوں جس کی وجہ سے اللہ کے سوا کسی اور کو رزاق ما ننے پر اُسے اکسا تا ہے مجبو ر کر دیتا ہے ۔اور وہ حصو ل رزق کیلئے دنیا کے بدتر ین گنا ہوں کو اپنے اوپر خو د ہی حلال قر ار دیتا چلا جا تا ہے ۔ اور بلا آخر ہلا کت اور تباہی اُس کامقدر بن جاتی ہے ۔آ ج اس مو قع پر میں بے حد شکر گزار ہوں اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتِ با برکت کا جس نے ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب ،شیخ شاہد حسن صاحب ، جنا ب ند یم ملک صاحب ،جنا ب عثمان اشر ف صا حب ،جناب اعجا ز بٹ صاحب،جنا ب افتخار القمرصاحب،جنا ب جاوید الرحمان صاحب ،جناب ذکی الدین صاحب، مسٹرووکرہن ریچ ،مسٹر وینڈلین مئیر، اور خاص طور پر فیصل موورز کے مالک جناب میاں محمد اظہر اور اُن کی ٹیم کا ، کہ ان جیسے انسان دوست اور خدا کا خوف رکھنے الے سا تھیوں کو اللہ تبا رک تعالیٰ نے ہر اُس جگہہ پہنچنے کی صلا حیت ، حوصلہ وہمت اور جذبہ بخشا جہاں کسی بھی امتحان میں لوگوں کے حوصلے کسم پُرسی ،مفلسی، بے بسی، اور شدد غم وتکلیف کی وجہ سے ٹوٹنے کے نزدیک پہنچتے ہیں ۔ تو یہ درویش منش انسان اُن دم توڑتے حوصلوں کو نئی قوت دیتے ہیں ۔ اور صبر و استقامت کیلئے ایسی راہیں تر اشتے ہیں ۔ کہ اس قدر تکلیف ،اور غم والم کی حالت میں بھی متاثرین صبر و استقامت کا دامن نہ چھوڑتے ہوئے شکر ا لٰہی میں مشغول رہتے ہیں اور اسی کی بدولت عذاب ،امتحان کی صورت میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ اور ہماری اور آپکی بخشش کے راستے ہموار ہو تے چلے جا تے ہیں۔بس اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب اس عمل کو اپنائیں اور دریا کی طوفانی لہروں میں ڈوبنے والوں کو بچانے کے لئے خود ساحل سے دریا میں اُتریں بجائے اس کے کہ کسی دوسرے کے انتظار میں تڑپتی، سسکتی ، بلکتی انسانیت ہمارے سامنے دم توڑ دے اور کہیں ہمارا امتحان عذاب میں نہ بدل جائے۔اور ہم وہ سب کچھ کھو بیٹھیں جس کا حصول ہمارا مقصد حیات ہے۔۔۔ آخر میں دُعا گو ہوں کہ اللہ ہم سب کو ایمان کی پختگی اور ہدایت عطا فرمائے اور ہمارے اخلاق بلند فرمائے، ایک دوسرے سے محبت، بھائی چارے اور اخوُت کا درس دے اور انسان کو انسانیت کی محراج تک پہنچانے کے لئے ہماری راہیں استوارفرمائے۔۔۔         آمین ۔ثم آمین۔                شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپکی دُعاوں کا طلبگار
کمال فرید ملک ۔ خادم شہر فریدؒ

،.