ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

مٹھن کوٹ یا کوٹ مٹھن _____________________؟

تحقیق و تحریر :۔ پرو فیسر ڈاکٹر شکیل پتافی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترتیب و تکمیل خادم شہر فرید کمال فرید ملک

راجن پور سے تقریباً16 کلومیٹر جنوب میں واقع اس شہر کا اصل نام کیا ہے۔ مٹھن کوٹ یا کوٹ مٹھن ؟ اس سوال کا حل تلاش کرنا اس لےئے بھی ضروری ہے کہ آج اس شہر کے لےئے دونوں نام اپنی اپنی جگہ مکمل مفہوم رکھتے ہیں ۔اور لکھنے ،پڑھنے ،بولنے اور سمجھنے میں دونوں ناموں میں کوئی فرق محسوس نہیں کیا جاتا ۔اگرچہ ان دونوں ناموں سے ایک ہی شہر مُراد لیا جاتا ہے۔ مگر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان اس شہر کے اصل نام کے بارے میں اب بھی بحث ہوتی رہتی ہے ۔ کوئی اِسے مٹھن کوٹ اور کوئی اِس شہر کا اصل نام کوٹ مٹھن ظاہر کرتا ہے ۔لہذا تاریخِ کوٹ مٹھن کے سلسلے میں بنیادی بحث اس شہر کے اصل نام کے بارے میں ۔ “کوٹ “ہندی زبان کا لفظ ہے جو شہر پناہ یا چار دیواری کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔کسی قصبہ یا شہر کے نام کے ساتھ “کوٹ “کے لفظ کا لاحقہ یا سابقہ اس امر کا ثبوت ہے کہ قدیم زمانے میں لوگ اپنے جان و مال کی حفاظت کے لےئے اپنے گھروں کے گرد قلعہ نما چاردیواری تعمیر کرتے تھے جسے قلعہ تو نہیں البتہ “کوٹ “کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا ۔جس طرح بادشاہوں نے جنگی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف مقامات پر قلعے تعمیر کرائے اسی طرح لوگ بھی اپنے گھروں کو با حفاظت بنانے کے لےنئے کوٹ کی تعمیر کو ضروری تصور کرتے تھے ۔جو بعد میں اُس شہر یا قصبے کے نام کا حصہ بن جاتا تھا۔ 1713 میں جب مٹھن نامی شخص نے حضرت خواجہ شریف محمد کوریجہ کے لےئے ایک مدرسے کی بنیاد رکھی اور ساتھ ہی گھر تعمیر کر کے اس کے گر د کوٹ تعمیر کیا تو یہ جگہ “کوٹ مٹھن خان “کے نام سے مشہور ہو گئی ۔کوئی  بھی باہر سے آنا والا اجنبی شخص جب اس جگہ کے بارے میں دریافت کرتا تو اُسے بتایا جاتا کہ یہ کوٹ، مٹھن خان کا ہے ۔پھر آہستہ آہستہ گردو نواح کے لوگوں اور خانہ بدوش افراد نے اپنی مستقل سکونت کی غرض سے اپنے مکانات تعمیر کئے تو وہ جگہ ایک بستی کی صورت اختیار کر گئی جسے بدستور “کوٹ مٹھن “کے نام سے پکارا جانا لگا اور تقریباً ڈیڑھ سو سال تک یہ شہر “کوٹ مٹھن ” کے نام سے مشہور رہا۔1849 میں جب انگریزوں نے پنجاب میں اپنا تسلظ قائم کیا تو یہ خطہ بھی انگریزوں کے قبضے میں آگیا ۔انگریز کوٹ مٹھن کو مٹھن کا کوٹ تصور کرتے ہو اِس شہر کو مٹھن کوٹ کہنے لگے۔ 1853 میں جب اِس شہر کو تحصیل کا درجہ دیا گیاتو انگریزوں نے اپنی انگریزی طرز کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں “تحصیل مٹھن کوٹ ” کا نام دیا ۔تحصیل کیلئے مُہریں اور سپاہیوں کیلئے جو پٹیاں بنائی گئیں ان پر تحصیل مٹھن کوٹ کندہ کرایا گیا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انگریزوں کی آمد سے ہی یہ شہر کوٹ مٹھن کے ساتھ ساتھ مٹھن کوٹ کے نام سے بھی متعارف ہوا۔1862 میں جب پُرانا شہر دریا برد ہوا تو تحصیل ہیڈ کوارٹر کو راجن پور منتقل کر دیا گیا ۔ سیلاب سے بچی کھچی آبادی کیلئے جب موجودہ شہر کی بنیاد رکھی گئی تو اِس شہر کو اُردو میں کوٹ مٹھن اور انگریزی میں مٹھن کوٹ درج کیا گیا ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ1868میں محکمہ محال کے تحت پہلا بندوبست شروع ہوا اور1871میں جب اس بندوبست کی مثل حقیقت اردو زبان میں ہوئی تو اُس میں اِس شہر کا نام کوٹ مٹھن لکھا ہوا ہے(۱)۔اس کے ساتھ ہی 84۔1883 جب ڈیرہ غازیخان کا ضلعی گزیٹےئر مرتب ہوا اور اُسے انگریزی زبان میں کتابی شکل دی گئی تواِ س شہر کو مٹھن کوٹ کے نام سے تحریر کیا گیا ہے(۲)۔یہ صورتِ حال نہ صرف کوٹ مٹھن کے نام کے ساتھ پیش آ ئی بلکہ انگریزوں نے مذکورہ ضلعی گزیٹےئر میں کوٹ سبزل کو بھی سبزل کوٹ لکھا ہے(3)۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لفظ “کوٹ “کو آخر میں لکھنے کی اصطلاح انگریزون کی وضع کردہ ہے۔1869 میں سیکریٹری پنجاب نے ایک حکم نامے کے تحت پنجاب کے تمام اضلاع کی تاریخ مرتب کرنے کا حکم جاری کیا تو اُس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر مسٹر بروس نے ضلع ڈیرہ غازیخان کی جغرافیائی ،اقتصادی اور ثقافتی تاریخ مرتب کی ۔جو انگریزی زبان میں لکھی گئی ۔ اپنی اس تحقیق میں مسٹر بورس نے اس شہر کو مٹھن کو ٹ لکھا(4) ۔لیکن بعد میں جب رائے بہادرہتورام نے اِ س کتاب کا انگریزی سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا تو ہتو رام نے مٹھن کوٹ کا اُردو ترجمہ کوٹ مٹھن کیا(5) ۔ اِس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انگریزوں کے یہاں قبضے کے بعد اُردو میں مرتب ہونے والے ریکارڈ میں یہ شہر کوٹ مٹھن لکھا ہوا ملتا ہے۔جب کہ انگریزی زبان میں مرتب کی جانے والی دستاویزات میں اِس شہرکو مٹھن کو ٹ لکھتے ہیں۔
اِس کا ایک ثبوت یہ بھی کہ1883میں لالہ حکم چندنے “تواریخ ڈیرہ غازیخان “کے نام سے ایک فتحیم کتاب مرتب کی یہ کتاب اگرچہ اب نایاب ہے لیکن اِس کی دو جلدیں پنجاب یونیورسٹی میں اب بھی موجود ہیں۔ اِس کتاب میں لالہ حکم چند نے اِس شہر کو “کوٹ مٹھن “اور “مٹھن کوٹ “دونوں ناموں سے تحریر کیا ہے۔لیکن ایک بات کا خیال رکھا ہے کہ جہاں اُس نے اِس شہر کا نام انگریزی میں لکھا ہے وہاں اُس نے اِس شہر کا نام “مٹھن کوٹ “لکھا ہے جبکہ اُردو میں اُس نے اِس شہر کا نام “کوٹ مٹھن “تحریر کیا ہے(۶)۔ اِس سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ اِس شہر کیلئے مٹھن کوٹ کا لفظ انگریزوں کے پنجاب اور اِس علاقے پر قبضہ کے بعد میں استعمال میں لایا گیا ۔اب اگر ایک لمحے کیلئے بھی یہ بات بھی تسلیم کر لی جائے کہ اِس شہر کا اصل نام مٹھن کوٹ ہی تھا تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوٹ مٹھن کا نام آخر کس نے متعارف کرایا ۔جبکہ یہ بات تو ثابت ہو چکی ہے کہ صرف انگریزوں نے ہی اِس شہر کو کوٹ مٹھن کی بجائے مٹھن کوٹ کہا تھا ۔ اُنیسویں صدی کے آخری عشرے تک اِس شہر کیلئے اگرچہ دونوں نام مشہور ہو گئے تھے۔لیکن کم از کم اِس امر کا خیال ضرور رکھا جاتا تھا کہ جب اِ س شہر کو انگریزی رسم الخط میں تحریر کیا جاتا تو “مٹھن کوٹ “کے حوالے سے ورنہ اُردو اور سرائیکی میں اِس شہر کو” کوٹ مٹھن” کے نام سے لکھا اور پکارا جاتا تھا۔لیکن ناموں کی یہ دو رُخی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور بیسویں صدی کے آغاز سے ہی دونوں نام اُردو تحریروں میں استعمال ہو نے لگے اِس کا ثبوت یہ کہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا پوتا مرزا احمد اختر حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا مرید خاص تھا ۔اُس نے اِس شہر کیلئے دونوں نام استعمال کئے (۷)۔اِسی طرح رائے ہتو رام جس نے مسٹر بروس کی کتاب کا انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کرتے وقت اِس شہر کو “مٹھن کو ٹ “کی بجائے “کوٹ مٹھن “لکھا تھا ۱۹۰۷میں “تاریخ بلوچستان “سے جب اُس نے ایک اور کتاب مرتب کی تو اس نے اُس میں ایک جگہ اِس شہر کو اُردو میں مٹھن کوٹ لکھتے ہوئے کوئی جھجھک محسوس نہ کی (۸)۔گویا اس سے اِس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ بیسویں آغاز سے اب تک اِس شہر کیلئے دونوں نام بلاتخصیص استعمال میں لائے جا رہے ہیں ۔مٹھن خان نے جب “کوٹ “کی بنیاد رکھی اور خواجہ شریف محمد ؒ سے اپنی والہانہ عقیدت کے اظہار کیلئے اِس شہر کے نام کے ساتھ “شریف”کے لفظ کو بھی ضروری سمجھتے ہیں ۔حضرت خواجہ شریف محمد ؒ سے ہماری عقیدت ومحبت اپنی جگہ لیکن تاریخ میں اِس کا کوئی ثبوت کہیں نہیں ملتا۔تاہم مولانا غلام جہانیاں نے غالباًپہلی مرتبہ لفظ شریف کو کوٹ مٹھن کے ساتھ منسلک کرنے پر زور دیا ہے۔وہ اِس کے نام کے بارے میں ایک جگہ لکھتے ہیں ۔
“اِس شہر کاپورا نام “کوٹ مٹھن شریف “ہے کیونکہ یہ پیرو مرشد حضرت مخدوم محمد شریف ورئیس مٹھن خان کے کی طرف سے منسو ب ہے(۹)”
تو گویا کوٹ مٹھن کے ساتھ شریف کے لفظ کا استعمال عقیدتاًکیا گیا ہے جو کہ بیسویں صدی کے کسی عشرے میں سامنے آیا ہے۔البتہ مولانا غلام جہانیاں کی اِس شہر کے بارے میں تحقیق نے اور زیادہ واضح کر دیا ہے کہ اِس شہر کا اصل نام کوٹ مٹھن ہے مٹھن کوٹ نہیں ۔  حضرت خواجہ غلام فرید ؒ اپنی کسی بھی تصنیف میں اِس شہر کو مٹھن کو ٹ نہیں لکھا حتیٰ کہ انہوں نے اپنے سرائیکی دیوان میں دو جگہوں پر اِس شہر کا ذکر کیا ہے۔اور صرف کو ٹ کے لفظ کو اہمیت دے کر یہ شہر مُراد لیا گیا ہے یعنی صرف کوٹ کہہ دینے سے بھی کوٹ مٹھن مُراد لیا جاتا رہا ہے
ملاحظہ ہو:۔ ا

حُسن حقیقی ،نور حجازی کھیڈے نازنیاز دی بازی   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  صدقوں سمجھ سنجان آیا کوٹ شہر وچ
اِس طرح ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :۔
تونے درشن مول نہ پیساں تانوی نازک نین نبھیساں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وچ کوٹ شہر مَر ویساں تھی در دلبر دی گولی 

مندرجہ بالا بحث سے جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ 1713 سے لیکر1849 تک یہ شہر صرف کوٹ مٹھن ہی تھا ۱۸۵۰ ؁ء سے تقریباً 1900 تک یہ شہر انگریزی رسم الخط میں مٹھن کوٹ اور اُردو میں کوٹ مٹھن لکھا جاتا رہا اس کے بعد سے اب تک انگریزی زبان ہو یا اُردو یہ شہر دونوں ناموں سے لکھا اور پکارا جاتا ہے اور دونوں ناموں کے لکھنے ،پڑھنے ، بولنے اور سمجھنے میں کوئی فرق محسوس نہیں کیا جاتا ۔بہتر تو یہی ہے کہ اب ہمیں کم از کم شعوری طور پر اِس شہر کے اصل نام یعنی کوٹ مٹھن کو فروغ دینا چاہیے لیکن اب اگر ہے یہ شہر اپنے دونوں ناموں سے یکساں مقبول ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی اِس شہر کو ایک انفرادیت حاصل ہے۔تاہم پروفیسر ڈاکٹر شکیل پتافی صاحب کی تحقیق کی بدولت وضاحت کے بعد ہم نے اس وہب سائیٹ کے لئے ۔۔۔ کوٹ مٹھن ۔کام۔۔ کے نام کو مناسب جانا اور اپنے اصل کی جانب سفر کا ذریعہ سمجھا۔ مندرجہ بالا تحقیق میں ڈاکٹر شکیل پتافی نے جن تاریخی حوالاجات کو بنیاد بنایا      ۔۔۔ اُن کی فہرست درج ذیل ہے۔  ۔                                                                                                                                                                               ۔(۱)مثل حقیقت (محکمہ محال)1972 صف۔59
(۲)ضلعی گزیٹےئر ڈیرہ غازیخان 84۔1883 صف 190
(۳)ضلعی گزیٹےئر ڈیرہ غازیخان 84۔1983 صف 146
(۴)بروس نوٹس ضلع ڈیرہ غازیخان صف 123
(۵)رائے بہادر ہتورام “گلبہار”طبع دوم، بلوچی اکیڈمی کوئٹہ 1983ء صف116
(۶)حکم چند،نواریخ، ڈیرہ غازیخان (طبع دوم) انڈس پبلیکیشنز،کراچی 1992 صف 38صف 392
(۷)مرزا احمد اختر مناقبِ فریدی، 1314 صف 49
(۸)رائے ہتورام ، تاریخِ بلوچستانشنز ، خان پور، لاہور 1907 صف 259
(۹)مولانا غلام جہانیاں ، ہفت اقطاب ، ڈیرہ غازیخان صف 70
(۱۰)دیوانِ فرید ؒ ،مرتبہ قیس فریدی،جھوک پنلیکے، 1992 صف 42
(۱۱)دیوانِ فرید ؒ ، مرتبہ قیس فریدی صف 192