ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

 

کو ٹ مٹھن جدید
قیام کی تا ریخ :۔کو ٹ مٹھن قدیم کی تباہی کے بعد اس شہر کے متا ثرہ افراد تقریبا دو سال تک کو ٹلہ حسین کے قریب عارضی جھو نپٹریوں میں پڑے رہے۔
بالآخر انکی درخو است پر راجن پو ر تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر مسٹرلین نے 20 جنوری ٗ1865کو نئے شہر کے قیام کا حکم صادر کیا ۔
1۔ جس کے تحت سب سے پہلے علاقے کا سروے ہو ااور کو شش کی گئی کہ نیا شہر ایسی جگہ پر ہو جہا ں لو گ اپنی زرعی اراضی کی دیکھ بھال آسانی کے ساتھ کر سکیں ،دریائی تجا رت کا سلسلہ بھی بحال رہ سکے اوردوبارہ دریائی سیلاب کا اندیشہ بھی نہ ہو ۔ چنانچہ ان تمام با تو ں کو مدنظر رکھتے ہو ئے مو جو دہ جگہ کا انتخا ب عمل میں آیا ۔
(جیسا کہ نقشہ سے ظا ہر ہے کہ ) یہ جگہ مو ضع محب علی اور مو ضع کو ٹلہ حسین کے مشترکہ رقبہ سے لی گئی ۔
2۔ جسے حکو مت کے سرکا ری فنڈ سے مبلغ = 757روپے کے عوض خرید کیا گیا ۔
3۔ مسٹرلین کی زیر نگرانی نئے شہر کا نقشہ تیا ر کیا گیا ۔اس نقشے کو منشی محمد کھوسہ نے تیا ر کیا ۔وہ ان دنوں پٹواری کی حیثیت سے اپنی خدما ت سر انجا م دے رہا تھا ۔جبکہ اس نقشہ کے لئے منظوری کی سفارش اس وقت کے تحصیلدار میاں لدھا خان اعوان نے کی ۔ جس کی اسسٹنٹ کمشنر مسٹر لین نے حتمی منظوری کے احکامات صادر کئے ۔ نئے شہر کو 36محلوں میں تقسیم کر کے متاثرہ خا ندانوں کے حوالے کر دیا گیا ۔ سیلا ب سے بچاؤ کے لئے شہر کے گرد ایک بند بھی تعمیر کر دیا گیا ۔ سرکلر روڈ کے اندر شہر ۵۳ایکڑ ایک کنال اور ۱۳مرلوں میں قائم ہو ا۔اب اگرچہ اس بند کا نام ونشان باقی نہیں رہا اور مختلف لو گوں نے اس پر نا جا ئز قبضہ کر رکھا ہے ۔لیکن کو ٹ مٹھن شہر کے نقشوں میں اب بھی اس بند کی واضع نشا ندہی ملتی ہے۔ 

ّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّ

1۔مثل حقیقت محکمہ محال ، مو ضع کو ٹ مٹھن جدید ، ٗ1872ء صد59

2۔ایضاٌ
3۔ایضاٌ
4۔منشی محمد عمر کھو سہ تحصیل روجہان کے قصبے عمر کو ٹ کا رہنے والا تھا ۔ اسکی اولا میں سے امیر محمد کھو سہ محمد اعظم کھوسہ اب بھی عمر کو ٹ میں مقیم ہیں ۔ جبکہ محمد افضل کھو سہ کو ٹ مٹھن میں
رہا ئش پزیر رہا اور اب عمرکوٹ تحصیل روجہان میں رہائیش اختیار کر چکا ہے۔
5۔میاں لدھا خا ن اعوان کا تعلق کو ٹ مٹھن سے تھا ۔ انکی اولا د میں سے میاں منظور احمد اعوان ۔ ریاض احمد اعوان اور فیا ض احمد اعوان کے نام زیا دہ معروف ہیں اور ان کی شہر فرید کوٹ مٹھن کے لئے خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔

نقشہ کوٹ مٹھن جدید 1865 میں :۔

 

 

 

جغرافیہ شہر فرید کوٹ مٹھن

محلِ وقوع         ۔ ۔     کوٹ مٹھن پنجاب کے جنوبی ضلع راجن پور کا ایک چھوٹا سا شہر ہے اور تحصیل راجن پور میں واقع ہے ۔یہ شہر ضلعی ہیڈ کوارٹر سے تقریباَ 16کلو میٹر دور جنوب میں واقع ہے۔یہ شہر ارض بلد29 اور 30 ( شمال) اور طول بلد70 اور71( مشرق ) کے درمیان واقع ہے ۔کوٹ مٹھن کے شمال میں” مین روڈ” پر کوٹلہ نصیر کا بڑاقصبہ آباد ہے ۔ جنوب میں بستی میانی اور کوٹلہ حُسین کی چھوٹی چھوٹی بستیاں ہیں اور اِن سے آگے دریائے سندھ بہتا ہے۔مشرق میں بستی مُحب علی اور اس کے آگے دریائے سندھ کا بہاو ہے۔ کوٹ مٹھن کے مغرب میں بستی پھلی اور بستی دھینگن واقع ہے

سطح سمندر سے بلندی    ۔۔۔۔۔  کوٹ مٹھن کا موجودہ شہر سطحِ سمندر سے تقریبا 296فٹ بلندی پر واقع ہے۔ 1 ؂ضلعی گزٹیئر ڈیرہ غازی خان 84۔1883 صفحہ2

سطع:۔    کوٹ مٹھن کے جنوب اور مشرق میں دریائے سندھ بہتا ہے اِس لیے کوٹ مٹھن کا شمار دریائی علاقوں میں ہوتا ہے ۔اِس بنیاد پر اس کی سطح زیادہ تر ریتلی ہے ۔گرمی میں دریا کے طغیانی سے ہر سال سیلاب کا اندیشہ بھی رہتا ہے ۔

آب و ہوا

 آب وہوا کے اعتبار سے یہ شہرگو اتنا زیادہ اہم نہیں ۔ البتہ دریائی کنارے پر واقع ہونے کی وجہ سے رات کو قدرے زیادہ ٹھنڈک ہوتی ہے ۔ بحیثیت مجموعی اِس علاقے کی آب و ہوا مُعتدل ہے اور کسی حد تک گرم مرطوب ہے ۔

موسم ۔    ۔۔۔۔۔  یہاں پر موسم زیادہ تر خُشک رہتا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ گرمیوں میں یہاں سخت گرمیپڑتی ہےسردیو کے موسم میں بھی زیادہ سردی نہیں پڑتی البتہ چند راتیں ایسی آتی ہیں جب درجہ حرارت نُقطہء انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے۔بارشوں کا سلسلہ بہت کم رہتا ہے۔

رقبہ ۔   ۔۔۔۔۔۔   کوٹ مٹھن کا موجودہ شہر اس وقت موضع “کوٹ مٹھن جدید ” میں واقع ہے۔ موضع کا کُل رقبہ 154 ایکر6کینال اور2مرلے ہے۔ جبکہ شہر کا کُل رقبہ سرکلر روڈ کے اندر اندر 53 ایکڑ ایک کینال اور13 مرلے ہے ۔

اہم پیداوار یں ۔   ۔۔۔۔۔۔ گندم ،جوار ، مکئی ، کپاس ، گنا، تمباکو ، بر سیم اور تمام سبزیاں کوٹ مٹھن میں اکثر کاشت ہوتی رہتی ہیں۔ پھلوں میں کھجور کی پیداوار زیادہ ہے۔ البتہ آم اور مالٹے کے باغات بُہت کم ہیں۔ دریائی علاقے میں مٹر ، چنا ، خربوزہ اور تربوز کی فصلیں کثرت سیکاشت کی جاتی ہیں۔۔

دریائے سندھ   

   کوٹمٹھن کے جنوب اور مشرق میں دریاؤں کا بہاوٗ رہتا ہے۔یہ شہر پنجاب کے تمام دریاؤں کے سنگم پر واقع ہے۔تمام دریا کوٹ مٹھن کے قریب ” ٹبہ گوپانگ” کے مقام پر ایک ہو کر آگے کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔سردیوں کے موسم میں دریا کے کنارے انجن کے ذریعے پانی کھینچ کر فصلوں کو سیراب کیا جاتا ہے۔ گرمیوں میں ہر سال دریا کا پانی شہر کے قریب قریب پہنچ جاتا ہے۔  

ںہری نظام ۔ اور کنویں

نالہ قاضی واہ ۔ اب تقریباً سو سال سے ویران پڑا ہے قاضی نور مُحمد کوریجہ نے1791 میں ونگ کے شمال مشرق میں دریائے سندھ سے ایک نالہ کھدوایا تھا جو ونگ سے گزرتا ہوا بستی مُحب علی اور موجودہ شہر کوٹ مٹھن کے درمیان سے گزر کر کوٹ مٹھن قدیم کی طرف بڑھ جاتا تھا۔ چند سالوں کے بعد جب اس نالہ کے ٹھیکہ میں قاضی نور محمد کو نقصان پہنچا تو اُنہوں نے اسے بند کرا دیا ۔ لیکن بعد میں کئی سالوں تک یہ نالہ دریا کی طغیانی کے باعث پانی سے بھر جاتا رہا۔ البتہ نقشوں میں اس نالہ کی نشاندہی ملتی ہے۔۔  

فرید مائینر۔
فرید مائنر کوٹ مٹھن کے شُمال میں شرقًا غرباً بہتا ہے1983میں اس کو ” قادرہ نہر ” سے نکالا گیا ۔ سرکاری ریکارڈ میں اس مائنر کی چوڑائی 3فٹ 8 انچ اور گہرائی ایک فٹ درج ہے۔ یہ نالہ کوٹ مٹھن میں زیادہ تر موضع رکھ کوٹ مٹھن کا رقبہ سیراب کرتا ہے۔

فخر مائینر ۔ ۔اس مائنر کی کھدوائی بھی “فرید مائنر ” کے ساتھ عمل میں آئی ۔ یہ مائنر کوٹ مٹھن کے مشرق میں شُمالًا جنوباً بہتا ہے ۔ اس سے کوٹ مٹھن کا بہت کم رقبہ سیراب ہوتا ہے۔ البتہ اس کی شرقی بند بڑی مضبوط اور کافی اُونچی ہے۔ جو شہر کے بچاؤ کے لئے سیلاب کی روک تھام کا کام سر انجام دیتی ہے۔

   کنویں ۔

کوٹ مٹھن میں زیرِ زمین پانی کی سطح کافی بُلند ہے۔ اس لئے کنویں احداث کرنے کے لئے زمین کو زیادہ گہرائی تک نہیں کھودنا پڑتا تھا۔ تقریباً دس پندرہ فُٹ گہرائی تک پانی نکل آتا تھا۔1865 میں جب موجودہ شہر کا قیام عمل میں آیا ۔ تو زمینوں کو سیراب کرنے کے لئے شہر کے چاروں طرف سرکلر روڈ کے باہر 18کنو یں احداث کئے گئے ( ۱ ؂ مثل حقیّت ، محکمہ محال موضع کوٹ مٹھن جدید 1872) ۔ جو آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ ختم ہوتے چلے گئے ۔یہ کنویں جن رقبوں کو سیراب کرتے تھے اب وہاں رہائشی مکانات تعمیر ہو گئے ہیں ۔ البتہ ان اٹھارہ کنوؤں میں سے چند ایک اب بھی اپنی اُسی حالت میں موجود ہیں۔

سڑکیں۔ 

کوٹ مٹھن اس وقت تین بڑی سڑکوں کے سنگم پر واقع ہے۔ ایک سڑک شمال کی طرف راجن پور ، ڈیرہ غازیخان اور اس سے آگے کے شہروں کی طرف جاتی ہے جس پر ہر وقت ٹریفک رواں دواں رہتی ہے۔ دوسری بڑی سڑک کے ذریعے روجہان ،کشمور اور کراچی کی طرف سفر کیا جاتا ہے۔ یہ سڑک پنجاب کو صوبہ سندھ سے ملاتی ہے۔ جو کوٹ مٹھن سے ہی گزر کر جاتی ہے۔ تیسری بڑی سڑک مشرق میں نشر گھاٹ کے ذریعے سے پاکستان کی عظیم شاہراہ KLP” روڈ” سے جُڑی ہو ئی ہے۔ نشتر گھاٹ کا پُل چونکہ عا رضی نوعیت کا حامل ہوتا ہے جو صرف سردیوں کے موسم میں سفر کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے ۔اس کے لیے یہ سڑک چاچڑاں شریف تک کچی مگر قابلِ استعمال ہے۔ ضلع رحیم یار خان اور بہاول پور سے رابطہ اسی کچی سڑک کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ اسی جانب سے ایک پختہ سڑک قصبہ ونگ سے کوٹ مٹھن کو ملاتی ہے۔ اس کے علاوہ مزید رابطہ سڑکات کوٹ مٹھن کو دیگر دیہاتوں سے ملاتی ہیں جیسا کہ کوٹ مٹھن سے بستی دستی ، کوٹ مٹھن سے بستی کلر  ، کوٹ مٹھن سے بستی میانی  ، کوٹ مٹھن ست بستی مشوری اور بستی مہار ،  قبل ذکرہیں۔

پاکستان ریلوے ۔

کوٹ مٹھن کے لئے ریلوے لائن کی سہولت بھی موجود ہے۔ جس پر دو بڑی اور ایک پیسنجر گاڑی چلتی ہے۔ تینوں گاڑیاں کوٹ مٹھن ریلوے اسٹیشن پر قیام کرتی ہیں۔ اس ریلوے لائن کی وجہ سے لاہور ،کوئٹہ ،کراچی اور پشاور تک سفر کرنے کی سہولت موجود ہے۔ تقریباً دس سال سے پیسنجر ٹرین کو بند کر دیا گیا ہے۔ تاہم لاہور سے کوئیٹہ جانے والی ٹرین چلتن ایکسپریس اور پشاور سے کراچی جانے والی خوشحال ایکسپریس کی سروس جاری ہے۔

آبادی بمطابق مردم شماری۔ 

ضلع ڈیرہ غازیخان کی پہلی مردم شماری 1855میں ہوئی ۔ اُس کے تحت کوٹ مٹھن کی کل آبادی 3991 نفوس پر مشتمل تھی ۔ اس کے بعد سے اب تک کوٹ مٹھن کی تاریخ میں تین مواقع ایسے آئے ہیں جن کے تحت کوٹ مٹھن کی آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ نمایاں کمی واقع بھی ہوئی ہے۔ پہلا موقع1862 کے تاریخی سیلاب کا عطا کردہ ہے جس میں کوٹ مٹھن کا قدیم شہر غرق ہو گیا۔ سیلاب کی تباہی سے متاثرہ آبادی کو جب موجودہ شہر میں بسایا گیا اور1868 میں دوسری مردم شُماری ہوئی تو اُس وقت کوٹ مٹھن کی آبادی صرف 2215 ریکارڈ ہوئی۔1881 کی مردم شُماری میں یہ تعداد 2607کو پہنچ گئی۔جبکہ1891کی مردم شُماری میں کوٹ مٹھن کی آبادی 2732ہو گئی( ۱؂ ضلعی گزیٹئر ڈیرہ غازیخان ص 191) اسی طرح بیس سال بعد1911 کی مردم شُماری میں کوٹ مٹھن کی آبادی 3385 نفوس پر مُشتمل تھی کی مردم شُماری میں یہاں آبادی میں ایک بار پھر کمی واقع ہوئی کیونکہ انفلیوئنزاء کی وباء سے پورے ضلع ڈیرہ غازیخان کی آبادی کو سخت جانی نُقصان اُٹھانا پڑا۔ضلع بھر سے اندازاً ساٹھ ہزار افراد اس وباء سے فوت ہو گئے (.2 عبدلقادر خان لغاری ۔تاریخ ڈیرہ غازیخان، حصہ اوّل، ڈیرہ غازیخان، 1987 ص 21) کوٹ مٹھن میں 139 افراد کی کمی واقع ہوئی او1921 کی مردم شُماری کوٹ مٹھن کی آبادی گزشتہ مردم شُماری نسبت کم ہو کر3226تک پہنچ گئی کی مردم شُماری میں کوٹ مٹھن کی آبادی5889ریکارڈ ہوئی ۔1947 میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا ۔ کوٹ مٹھن کے ہندو باشندے ہندوستان کی طرف کوچ کر گئے۔ اگرچہ اُن کی بجائے ہمارے مہاجر بھا ئی کوٹ مٹھن آکر آباد ہوئے لیکن کوٹ مٹھن میں مہاجرین کی آمد کا تناسُب کم تھا اس کا ثبوت ہمیں 1951 کی مردم شُماری سے ملتا ہے۔جس کے مُطابق کوٹ مٹھن کی آبادی 5889سے کم ہو کر 3675 تک پہنچ گئی

( ۱؂ عبدالقدر خان لغاری۔تاریخِ ڈیرہ غازیخان (حصہ دوم) ص 157)
اللہ تعالیٰ کالاکھ احسان ہے ک قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک کوئی ایسا موقع نہیں آیا کہ جس کے تحتکوٹ مٹھن کی آبادی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہو۔1971 کی مردم شُماری میں کوٹ مٹھن کی آبادی6337تھی ۔جبکہ1981کی مردم شُماری میں کوٹ مٹھن کی آبادی 8571تک پہنچ گئی ۔

ریکارڈ میں1981 والی مردم شُماری کی مختصر تفصیل درج ذیل ہھے۔

تعداد

عمر

نمبر شمار

تعداد

عمر

نمبر شمار

323

14 سال

11

330

4 سال

1

265

15 سال

12

225

5 سال

2

236

16 سال

14

226

6 سال

3

235

17 سال

15

238

7 سال

4

333

18 سال

16

240

8 سال

5

295

19 سال

17

321

9 سال

6

4281

20 سال سے اوپر

18

246

10 سال

7

8531

میزان کُل

19

248

11 سال

8

 

 

 

264

12 سال

9

 

 

 

225

13 سال

10

۔1991میں مردم شُماری نہیں ہوئی

نقشہ کوٹ مٹھن جدید   1865

مواضعات:۔   محکمہ محال کے ریکا رڈ میں اِس وقت کوٹ مٹھن کے نام سے چار مواضعات ہیں ۔جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

موضع کوٹ مٹھن کچہ:۔

مرلے

کنال

ایکڑ

رقبہ

7

1

2544

کُل رقبہ

6

4

1158

مفروعہ رقبہ

1

5

1358

غیر مفروعہ رقبہ

موضع کوٹ مٹھن پکہ رقبہ کے اعتبار سے تفصیل۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔  رقبہ کے لحاظ سے موضع کوٹ مٹھن۔

 

موضع کوٹ مٹھن پکہ رقبہ کے اعتبار سے تفصیل۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔  رقبہ کے لحاظ سے موضع کوٹ مٹھن۔      

مرلے

کنال

ایکڑ

رقبہ

0

0

1015

کُل رقبہ

0

0

566

مفروعہ رقبہ

0

0

449

غیر مفروعہ رقبہ

مرلے

کنال

ایکڑ

رقبہ

0

6

3875

کُل رقبہ

18

5

2329

مفروعہ رقبہ

2

0

1546

غیر مفروعہ رقبہ

        بلحاظ اقبہ ۔ موضع کوٹ مٹھن جدید

 

 

 

 

 

 

محلوں اور گلیوں کا قیام

 سیلاب 1862میں کو ٹ مٹھن قدیم کی غر قا بی کے بعد مورخہ 20 جنوری 1865 کواسسٹینٹ کمشنر راجن پور مسٹرلین کے حکم کے مطا بق موجودہ شہر کے قیام کے لیے نقشہ تیار کیا گیا (بحوالہ مثل حقیقت محکمہ محال 88۔۔1987موضع کو ٹ مٹھن جدید ) نقشہ میں گلیوں کی تر تیب کچھ ایسے رکھی گئی کہ سرکلر روڈ کے اندر شما لاً جنوباً 4 شر قاً غرباً 6 بڑ ی گلیاں رکھی گئیں ۔ اور ہر محلہ ایک واضح مر بع شکل میں سامنے آیا نقشہ کی روشنی میں اُس وقت کی ضرورت کے تحت خا نقا ہوں (خانقاہ حضرت خواجہ غلام فرید ؒ اور خانقاہ حضر ت خواجہ تاج پاکؒ ) سمیت شہر کو 38 محلو ں میں تقسیم کیا گیا۔ سا تھ ہی اس امر کا بطور خاص خیال رکھا گیا کہ ہر قو م کے افراد کو علیحٰدہ علیحٰدہ محلوں میں بسا یا جا ئے۔ چنا نچہ ہندوّں کی متفقہ خواہش کے مطابق انہیں شہر کے وسطی محلوں میں بسایاگیا۔ ابتدا ء میں جو محلہ جس قوم کے فرد کے نام الا ٹ ہوا اُس محلے کو اُسی کے نام سے پکارا جانے لگا۔ لیکن جب 1887میں کوٹ مٹھن کو میونسپل کمیٹی کا درجہ ملا تو ہر محلے کے نام کو حتمی شکل دے کر اُسے کمیٹی کے ریکارڈ میں محفوظ کر لیا گیا ۔ 1887 کے مطابق کو ٹ مٹھن میں محلوں کے سرکا ری نا م درج ذیل تھے ۔

۔ 1۔ محلہ جمعہ حجام ۔ 2 ۔ محلہ حامد گاذر۔ ۳ ۔ محلہ نکا خوجہ 4۔ محلہ جندوڈہ خوجہ  5۔ محلہ ھا شم گاذر 6۔ محلہ حاجی مو سیٰ 7۔ محلہ سونو رام  8۔ محلہ کلیان جی ۔ 9 ۔ محلہ ہیم راجَ . 10۔ محلہ قصابا ن . 11 ۔ محلہ دھرم سالہ . 12 ۔ محلہ پارس رام . 13۔ محلہ گھنیشہ رام . 14 ۔ محلہ پر مانند. 15  محلہ خلیفہ صاحب. 16۔ خانقاہ حضر ت خواجہ غلام فرید . 17۔ محلہ ولیچہ. 18 محلہ آسا نند. 19۔ محلہ فتو رام . 20۔ محلہ بہا رجی . 21۔ محلہ فرید آباد. 22۔ باغیچہ چندر بھان 23۔ خانقا ہ تا ج پاک 24۔ محلہ بخش کہار 25۔ محلہ مصر پلومل . 26۔ محلہ سیوارا م   27  ۔ محلہ ریجھ رام  28 باغات سونورام ۔ 29۔ محلہ مولوی نور محمد . 30۔ محلہ مردم لاکھا . 31۔ محلہ نظام شاہ  32۔ محلہ راما نند . 33۔ محلہ ساون دایہ . 34۔ محلہ میرا کمہار . 35۔ محلہ دین محمد قریشی . 36  ۔ محلہ مستری عبدالرحمن . 37۔ محلہ غا زی برڑہ . 38۔ محلہ طوائف ۔

۔1947کے بعد ہندوؤں کے چلے جانے کے با وجو د بلد یہ کے سرکا ری ریکارڈمیں محلے کے ناموں میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو ئی ۔ بالآخر 20جنوری 1963کو ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غا زی خان کے ایک حکم نامے کے مطابق پہلی مرتبہ محلوں کے ناموں کو تبدیل کیا گیا اور مکانا ت کی نمبرینگ بھی ہوئی ۔ ناموں کی اس تبدیلی میں جس بات کا بطور خا ص خیال رکھا گیا کہ یہ تبدیلی اکثر ان محلوں کے نامو ں میں کی گئی جو ہندوؤں کے نا موں سے معروف تھے ۔ہندوؤں کے چلے جانے کے بعد ان کے محلوں میں چونکہ ہندوستا ن سے ہجرت کر کے آنے والے ہمارے مہا جر بھا ئی آباد ہوئے اس لیے زیا دہ تر نئے نام ا’ن کے ناموں پر رکھے گئے تھے۔ اس اہم ترین کام کو سرانجام دینے میں اُسوقت کے چیرمین میونسپل کمیٹی ملک غلام صابر صاحب نے کُلیدی کردار ادا کیا۔

بلحظ ترتیب محلوں کے پُرانےاور نئے ناموں کی تفصیلحدود کمیٹی

نئے نام

پُرانے نام

نمبر شمار

محلہ جمعہ حجام

محلہ جمعہ حجام

1

محلہ حامد گازر

محلہ حامد گازر

2

محلہ نکا خوجہ

محلہ نکا خوجہ

3

محلہ جند وڈا خوجہ حر

محلہ جند وڈا خوجہ حر

4

محلہ ہاشم گاذر

محلہ ہاشم گاذر

5

محلہ حاجی موسیٰ

محلہ حاجی موسیٰ

6

محلہ عبدالمغنی

محلہ سونو رام

7

محلہ عبدالستار

محلہ کلیان جی

8

محلہ مولا بخش

محلہ ہیم راج

9

محلہ قصابان

محلہ قصابان

10

محلہ جمال فرید

محلہ دھرم سالہ

11

محلہ عزیز بھٹی

محلہ پارس رام

12

محلہ غلام نبی

محلہ گھنیشہ رام

13

محلہ نازک کریم

محلہ پرما نند

14

محلہ خلیفہ صاحب

محلہ خلیفہ صاحب

15

خانقاہ غلام فرید

خانقاہ غلام فرید

16

محلہ سردار علیشاہ

محلہ ولیچہ

17

محلہ روشن مشدی

محلہ آسانند

18

محلہ ناز فریدی

محلہ فتورام

19

محلہ نیاز علی

محلہ بہار جی

20

محلہ فرید آباد

محلہ فرید آباد

21

محلہ تاج پاک

باغیچہ چندر بھان

22

خانقاہ تاج پاک

خانقاہ تاج پاک

23

محلہ بخش کہار

محلہ بخش کہار

24

محلہ داوَد بیگ

محلہ مصر پلو مل

25

محلہ رشید خان

محلہ سیوا رام

26

محلہ فخر جہان

محلہ ریجھ رام

27

باغات سونو رام  نمبر ۱

باغات سونو رام

28

محلہ مولوی نور محمد

محلہ مولوی نور محمد

29

محلہ اقوام لاکھا

محلہ مردم لاکھا

30

محلہ سید نظام شاہ

محلہ نظام شاہ

31

محلہ قطبی

محلہ راما نند

32

محلہ ساون دایہ

محلہ ساون دایہ

33

محلہ امیر ا کمہار

محلہ میرا کمہار

34

محلہ دین محمد قریشی

محلہ دین محمد قریشی

35

محلہ مستری عبدالرحمن

محلہ مستری عبدالرحمن

36

محلہ غازی برڑہ

محلہ غازی برڑہ

37

محلہ سید حسن شاہ

محلہ طوائف

38

1963 میں جب محلو ں کے ناموں میں تبدیلی لا ئی گئی اُس وقت تک کو ٹ مٹھن کے ارد گرد ؛ سرکلر روڈ کے باہر آٹھ نئے محلے بھی قائم ہو چکے تھے ۔ لہذا نئے ناموں کی فہرست میں ان محلوں کو بھی شامل کر لیا گیا تھا۔ ان محلوں کے نام یہ ہیں ۔
1 ۔ نئی آبادی فرید آباد ۔ 2۔ محلہ خواجہ شر یف محمد ۔ 3۔ چاہ غازی برڑہ 4۔ چاہ مصر والی ۔5۔ محلہ ہا شم گاڈر ۔ 6۔ بستی کٹانہ 7۔ بستی گنو کھانی (چھو ٹی) 8۔ آبادی ریسٹ ہاؤ س (چاہ مخدوم والا)
1971کی مردم شماری کے مطابق شہر میں دو محلوں کا مز ید اضافہ ہوا ۔ ان میں ایک محلہ نئی آبادی مکانات ڈاکٹر خور شید محمد ملک ؛ اور دوسرا محلہ ؛ کا لو نی اکبر آباد ؛ کے نام سے مشہور ہوئے .ان دو محلو ں کے اضافے کے ساتھ کو ٹ مٹھن کے کل محلوں کی تعداد48تک پہنچ گئی .
محلوں کی اِس نئی فہرست میں دو محلوں کے نام بھی تبدیل ہوئے ، یعنی بستی کٹانہ کانام محلہ اقبال آباد اور محلہ خواجہ شریف محمد کا نام مکانات خواجہ احمد علی رکھا گیا۔
1981ء کی مردم شماری میں تین اور محلوں کااضافہ ہوا جن کے نام یہ ہیں
۱۔چاہ قریشی والا، 2۔ نئی آبادی کا محلہ سما دھ اور 3 ۔ محلہ اکبر آباد اِ ن تین محلوں کے اضافہ کے ساتھ کوٹ مٹھن میں محلوں کی تعداد 51ہو گئی جو اب تک قائیم ہیں۔کچھ لوگوں نے اگر اپنے طور پر اپنے محلوں کو نئے نام دے رکھے ہیں تو یہ اُن کی ذاتی پسند یا نا پسند پر مبنی ہے ورنہ بلدیہ کے ریکاڑد میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اِ س کا واضح ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ مورخہ25ستمبر1992ء کو سکریٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب کی ہدایت بذریعہ نوٹیفیکشن نمبر SOV-4-4/81کے مطابق کوٹ مٹھن میں محلہ وار مکانوں کی تعداد جمع کی گئی۔ جس کے تحت (خانقاہوں سمیت) مذکورہ 51محلوں کا ذکر ملتا ہے۔
ستمبر1992ء میں کئے جانے والے اُس سروے کے مطابق کوٹ مٹھن میں محلہ وار مکانوں کی تعداد درج ذیل ہے
 

تعداد مکانات

نام محلہ

نمبر شمار

12

محلہ جمعہ حجام

1

34

محلہ حامد گاذر

2

33

محلہ نکا خوجہ

3

44

محلہ جند وڈا خوجہ

4

12

محلہ ہاشم گاذر نمبر ۱

5

6

محلہ حاجی موسیٰ

6

18

محلہ عبدالمغنی

7

26

محلہ عبدالستار

8

34

محلہ مولا بخش

9

53

محلہ قصابان

10

11

محلہ جمال فرید

11

19

محلہ عزیز بھٹی

12

42

محلہ غلام نبی

13

30

محلہ نازک کریم

14

23

محلہ خلیفہ صاحب

15

18

خانقاہ غلام فرید

16

 

محلہ سردار علیشاہ

17

26

محلہ روشن مشدی

18

28

محلہ ناز فریدی

19

61

محلہ نیاز علی

20

13

محلہ فرید آباد

21

5

محلہ تاج پاک

22

 

خانقاہ تاج پاک

23

16

محلہ بخش کہار

24

18

محلہ مرزاداوَد بیگ

25

38

محلہ رشید خان

26

24

محلہ فخر جہان

27

9

محلہ سونو رام

28

23

محلہ مولوی نور محمد

29

18

محلہ اقوام لاکھا

30

8

محلہ سید نظام شاہ

31

28

محلہ قطبی

32

13

محلہ ساون دایہ

33

11

محلہ میرا کمہار

34

20

محلہ دین محمد قریشی

35

17

محلہ مستری عبدالرحمن

36

29

محلہ غازی برڑہ

37

12

محلہ سید حسن شاہ

38

30

نئی آبادی فرید آباد

39

8

محلہ ہاشم گاذر نمبر ۲

40

12

مکانات خواجہ احمد علی

41

8

بستی گنو خانی

42

13

چاہ والی برڑہ

43

5

چاہ مصر والی

44

10

محلہ اقبال آباد

45

21

نئی آبادی ریسٹ ہاوَس

46

39

نئی آبادی مکانات ڈاکٹر خورشید محمد ملک

47

25

کالونی اکبر آباد نمبر ۱

48

19

محلہ اکبر آباد نمبر ۲

49

1

چاہ قریشی والا

50

19

نئی اآبادی سمادھ

51

1042

کل تعداد مکانات 

 

اُوپر جن محلو ں کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب 9وارڈوں میں تقسیم ہیں ۔   

حدود کمیٹی کا تعین اور میونسپل کمیٹی کا اجرا                                                        

اپریل 1887کو پنجا ب حکو مت کے ایک نو ٹیفیکیشن نمبر 158کیمطا بق کو ٹ مٹھن میونسپل کمیٹی کے لئے پہلی مرتبہ           حدود کمیٹی کا تعین ہو ا۔ اس نو ٹیفیکیشن کے تحت کمیٹی کی حدود کو سرکلر رو ڈ تک محدود کیا گیا ۔ جہا ں مختلف مقا ما ت پر پا نچ چو نگیا ں قا ئم کی گئیں ۔ سر کلر رو ڈ سے باہر کی نزدیکی آبا دی کو بھی کمیٹی کی حدود سے با ہررکھاگیا ۔ آہستہ آہستہ کو ٹ مٹھن کے گرد نو اح کی آبا دی میں اضا فہ ہو تا چلا گیا ۔ آخر کا ر1934 میں کو ٹ مٹھن میو نسپل کمیٹی کے اس وقت کے چئر مین حکم سیوا را م کے تحرک پر حدود کمیٹی میں تو سیع ہو ئی اس سلسلے میں 7 ما رچ 1934 کو بحوالہ نو ٹیفیکیشن نمبر 7717پنجا ب حکو مت نے حدود کمیٹی میں تو سیع کا

با ضابطہ حکم جا ری کر دیا ،۔ جس کے تحت سا بقہ پا نچ چو نگیوں میں سے چا ر کے مقا ما ت بھی تبدیل کر دئیے گئے اور ایک چو نگی کا اضا فہ بھی ہو ا اس طرح 1934 کی تو سیع کیمطا بق کو ٹ مٹھن میں کل چھ چو نگیاں قا ئم ہو ئیں ۔ اس تو سیع کا دا ئرہ کا ر مو ضع کو ٹ مٹھن جدید کی حدود اور حفا ظتی بند کے نشا نا ت تک پھیلا یا گیا جس کی تفصیل درج ذیل ہیں
شما لاً ۔شمال میں شہر کا حفا ظتی بند جس مقا م پر را جن پو ر سڑک سے گزرتا ہے اس کے بیرونی کنارے کو حدودکمیٹی میں شا مل کیا گیا اور شما ل چو نگی جو سرکلر روڈ کے اندر قا ئم تھی اُسے مذکو رہ حفا طتی بند کنا رے پر منتقل کر دیا گیا ۔( شمالی چونگی 1988 تک حفاظتی بند کے کنارے پر قائم رہی بعد میں اس چونگی کو ونگ موڑ پر منتقل کر دیا گیاجہاں یہ اب تک موجود ہے)
جنوباً: ۔ مو ضع کو ٹ مٹھن جدید کے جنوبی کو نے پر چا چڑا ں رو ڈ جس مقام پر نالہ قا ضی سے گزرتی ہے اس جگہ پر کمیٹی کی حدود قا ئم کی گئی اور جنو بی چونگی کو سر کلر رو ڈ سے منتقل کرکے چند قدم آگے لے جا یا گیا ۔
جہا ں وہ اب قا ئم ہے ۔
شرقاً:۔ شمال کیطرف آ تا ہو ا حفا ظتی بند مشرق میں بستی محب علی کے قریب جس مقا م پر نا لہ قا ضی کو چھو تا ہے اس بند کے بیرونی کنا رے کی حد کو شما ل سے مشرق کی طرف لے آیا گیا ۔ جسے آگے مو اضعا ت کو ٹ مٹھن جدید ،کو ٹلہ حسین اور بستی محب علی کے سنگم پر ملا یا گیا ۔ ساتھ ہی مشرقی چو نگی کو سرکلر رو ڈ سے ہٹا کر نا لہ قا ضی کے کنا رے پر لے جا یاگیا ۔ جہا ں اب تک قا ئم ہے ۔
غرباً :۔ مغرب میں حفا ظتی بند کے با ہر مو ضع کو ٹ مٹھن جدید کی حدود کو حدود کمیٹی مقرر کیا گیا ۔ سا تھ ہی مغربی چو نگی کو رو جہا ن رو ڈ پر عید گا ہ کے قریب لے جا یاگیا ۔ البتہ ایک اور نئی چو نگی کولا ری اڈہ کے مغرب میں سرکلر رو ڈ جہاں جنوب کیطرف مو ڑ کھا تی ہے اس کو نے پر قا ئم کیا گیا اس نئی چو نگی کا ایک مقصد پھا ٹک مو یشیان کا حسا ب رکھنا بھی تھا ۔
1934میں ہو نے والی اس تو سیع میں بستی شیخا ں ، بستی گنو کھا نی اور گردو نو اح کی نئی آبا دیا ں حدود کمیٹی میں شا مل ہو گئیں ۔1973میں مزید تو سیع کا منصوبہ بنا یا گیا ۔ اس وقت بلدیہ کا انتظا م ضلعی انتظا میہ کے ہا تھ میں تھا اس لئے اس منصوبے کی طرف خا طر خو اہ پیش رفت نہ ہو سکی ۔ بعد ازاں اُسوقت کے چیئرمین ملک غلام صابر نے اس جانب بطور خاص توجہ دی اور14فروری1981کو بلدیہ کے ایک اجلا س میں برو ئے قرار دادنمبر 45 اس معا ملہ کو دوبا رہ چھیڑا گیا ۔ا ب کی با ر حدود کمیٹی میں تو سیع کا منصوبہ جا مع تھا ۔ جن علا قوں کو توسیعکے اس منصوبے میں شا مل کیا گیا اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
شما لاً :۔، مواضع رکھ کو ٹ مٹھن کی مستطیل نمبر ۔94,93,92,77,76,65,64,55,54,37,36
مو ضع بستی محب علی کی مستیطیل :۔28,27
مو ضع کو ٹلہ حسین کی مسطیل :۔ 2,1
جنوباً :،مو ضع کو ٹلہ حسین کی مستطیل نمبر :۔ 20,19
شرقاً:۔ مو ضع بستی محب علی مستطیل نمبر:۔30,29تا حد کنا رہ غربی نا لہ قاضی ۔بشمو ل نئی آبا دی
غرباً :۔،مو ضع کو ٹلہ حسین کی مستطیل نمبر :۔ 11,10,9,6,5,4,3

متذکرہ بالا منصوبے کی روشنی میں 20مئی 1983کو تجاویز طلب کی گئیں اور اخبار میں توسیع حدود کیٹی کا اشتہار دیا گیا تاکہ عوام کی جانب سے اگر کوئی اعتراض ہو تو اس منصوبے پر نظر ثانی کی جائے۔ لیکن توسیع کے اس منصوبے پر کہیں سے کوئی اعتراض نہ ہوا۔ البتہ چئیر مین ضلع کونسل نے اس سلسلہ میں NOC جاری نہ کیا اس بنا پر یہ منصوبہ سرد خانے کی نظر ہو گیا لیکن اس سلسلہ میں چیئرمین بلدیہ ملک غلام صابر نے حوصلہ نہ ہارا اور خط وکتابت کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رکھا تو بلا آخر اس کا مثبت نتیجہ اس صورت میں سامنے آیا کہ بلدیاتی حدود کی توسیع صرف شمال کی جانب ریلوے پھاٹک تک ہو پائی اوراسی جانب چوڑائی شرقاً غرباً ہر دو اطراف 80, 80 فٹ طے ہوئی۔اس منصوبے کی تکمیل کے لئے یونین کونسل ونگ کے چیئرمین غلام محمد خان دریشک سے NOC حاصل کیا گیااور بلا آخر چیئر مین ضلع کونسل نے 8 مئی 1986 کو اس کی توثیق کر دی اور جب اس کی حتمی منظوری کے لئے کیس کمیشنر آفس بھجوایا گیا تو وہاں اس پر اعتراض لگایا گیا اور اس کے لئے حلقہ کے MNA اور MPA کی سفارش کروانے کا حکم نامہ جاری کیا گیا چنانچہ اسی کی بدولت یہ منصوبہ تین سال تک کٹھائی کا شکار ہوا اور بلا آخر3جولائی1989کو کمیشنر ڈیرہ غازیخان نے نوٹیفکیشن نمبری LCS/LFA-154/89 کے ذریعے توسیع حدود کمیٹی کی منظوری جاری کر دی۔اس سلسلہ میں ایک اور چونگی کا اضافہ ہواجسے ریلوے پھاٹک کے نزدیک قائیم
کیا گیاتھا۔ حدود کمیٹی کی اس تمام تر تٖفصیل کو نقشوں کی صورت میں ظاہر کیا گیا ہے۔ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ 

وارڈ بندی

انگریزوں نے1887میں جب بلدیاتی نظام متعارف کرایا تو اُس زمانے میں حکومت کی سکیم اور پالیسی کے مطابق کوٹ مٹھن کے لیے4 ممبران کی تعداد مقرر ہوئی جبکہ مزید ممبران کا چناؤ سرکاری طور پر عمل میں آنا تھا اس طرح کوٹ مٹھن میں کُل ممبران کی تعداد چھ تھی۔ابتداء میں مذکورہ 4ممبران کے چناؤ کے لیے شہر کو 4 وارڈوں میں تقسیمنہ کیا گیا بلکے ان چاروں ممبران کا چناؤ تمام شہر میں سے ہوتا تھا اور پورے شہر کو ملٹی وارڈ کی حیثیت حاصل تھی۔یہ چناؤ عوام کی طرف سے بذریعہ الیکشن عمل میں آتا تھا جبکہ بقیہ دو ممبران کو حکومتی سطح پر بذریعہ نامزدگی ہاوس کا ممبر بنایا جاتا تھا۔ مسلمانوں اور ہندوؤں نے باہمی اتفاقِ رائے سے ممبران کی کل تعداد کو آپس میں نصف نصف تقسیم کر رکھا تھا۔
قیامِ پاکستان کے بعد حکومت کی طرف سے باقاعدہ وارڈ بندی کے احکامات صادر ہوئے جس کے تحت کوٹ مٹھن میں 4وارڈ بنائے گئے۔1953ء کا الیکشن بھی اسی وارڈ بندی کے تحت لڑا گیا۔ان چاروں وارڈوں میں جن جن ملاحظہ 
محلوں کو شامل کیا گیا ا ن کی تفصیل درج ذیل ہے۔  مزید وضاحت کے لئے نقشہ بھی فرمائیں

 

نیا نام

نام محلہ

نام حلقہ

الیکٹرول یونٹ نمبر

وارڈنمبر

محلہ جمعہ حجام

محلہ حامد گاذر

  محلہ نکا خوجہ

محلہ جند وڈہ خوجہ

محلہ ہاشم گاذر

محلہ خلیفہ صاحب

خانقاہ غلام فرید

محلہ مولا بخش

محلہ حاجی موسی

محلہ قصابان

 

 

محلہ جمعہ حجام

محلہ حامد گاذر

محلہ نکا خوجہ

محلہ جند وڈہ خوجہ

محلہ ہاشم گاذر

محلہ خلیفہ صاحب

خانقاہ غلام فرید

محلہ ہیم راج

محلہ حاجی موسیٰ

محلہ قصابان

محلہ نکا خوجہ

527

1

محلہ عبدالستار

محلہ عبدالمغنی

محلہ جمال فرید

محلہ روشن مشدی

محلہ ناز فریدی

محلہ رشید خان

محلہ کلیان جی

محلہ سونو رام

محلہ دھرم سالہ

محلہ آسانند

محلہ فتورام

محلہ سیوا رام

محلہ آسانند

528

2

محلہ عزیز بھٹی

محلہ غلام نبی

محلہ نازک کریم

محلہ نیاز علی

محلہ فرید آباد

محلہ تاج پاک

خانقاہ تاج پاک

محلہ فخر جہان

باغات سونو رام

مکانات خواجہ احمد علی

محلہ پارس رام

محلہ گنیشہ رام

محلہ پرما نند

محلہ بہار جی

محلہ فریدآباد

باغیچہ چندر بھان

خانقاہ تاج پاک

محلہ ریجھ رام

باغات سونو رام

محلہ خواجہ محمد شریف

محلہ گنیشہ

529

3

محلہ سردار علیشاہ

محلہ غازی برڑہ

محلہ بخش کہار

محلہ مرزا داوَد بیگ

محلہ نور محمد

محلہ اقوام لاکھا

محلہ سید نظام شاہ

محلہ قطبی

محلہ ساون  دایہ

محلہ میرا کمہار

محلہ محمد قریشی

محلہ مستری عبدالرحمن

محلہ سید حسن شاہ

محلہ ولیجہ

محلہ غازی برڑہ

محلہ بخش کہار

محلہ مصر پلومل

محلہ مولوی نور محمد

محلہ اقوام لاکھا

محلہ سید نظام شاہ

محلہ راما نند

محلہ ساون دایہ

محلہ میرا کمہار

محلہ دین محمد قریشی

محلہ مستری عبدالرحمن

محلہ طوائف

محلہ نظام شاہ

530

4

 

1959 ؁ ء میں کوٹ مٹھن کے لیے دومزید وارڈوں کا اضافہ ہوا۔ جن کی روشنی میں تمام وارڈوں کو از سرِنو ترتیب دیا گیا۔ اور اس امر کا خیال رکھا گیا کہ آبادی میں توازن قائم رکھتے ہوئے وارڈوں کو تشکیل دیا جائے۔ ملاحظہ ہو کوٹ مٹھن میں چھ وارڈوں کی تفصیل۔            ( مزید وضاحت کے لیے نقشہ بھی ملاحظہ فرما ئیں)
 

۱۹۷۱ ء کے مطابق آبادی

محلے

وارڈ نمبر

1334

محلہ جمعہ حجام

محلہ حامد گاذر

محلہ نکا خوجہ

محلہ جند وڈہ خوجہ

محلہ ہاشم گاذر /نصف

آبادی فرید آباد

1

972

 محلہ حاجی موسیٰ

محلہ عبدالمغنی

محلہ عبدالستار

محلہ مولا بخش

محلہ ہاشم گاذر /نصف

محلہ خلیفہ صاحب

خانقاہ غلام فرید

2

562

محلہ غلام نبی خان

محلہ نازک کریم

 

 

3

1099

محلہ نیاز علی

محلہ فرید آباد

محلہ تاج پاک

خانقاہ تاج پاک

محلہ فخر جہان

باغات سونو رام

بستی گنو خانی چھوٹی

محلہ ساون دایہ

محلہ سید حسن شاہ بستی کٹانہ اقبال آباد 

 

 

 

4

1083

 محلہ اقوام لاکھا

محلہ سید نظام شاہ

محلہ قطبی

محلہ غازہ برڑہ

محلہ مستری عبدالرحمن

محلہ میرا کمہار

محلہ دین محمد قریشی

چاہ مخدوم والا

محلہ مولوی نور محمد 

5

1287

چاہ غازی برڑہ

محلہ قصابان

محلہ جمال فرید

محلہ عزیز بھٹی

محلہ ناز فریدی

محلہ رشید خان

محلہ مرزا داوَد بیگ

محلہ بخش کہار

محلہ روشن مشدی

محلہ سردار علیشاہ

چاہ مصر والی

6

 

 

کوٹ مٹھن میں 1959کے بلدیاتی انتخابات مذکورہ بالا وارڈ بندی کے تحت لڑے گئے۔البتہ1964ء کے بلدیاتی انتخابات حکومت کی کسی مصلحت کی وجہ سے 4 وارڈوں پر مشتمل تھے۔ اس کے بعد ایک عرصے تک بلدیاتی نظام معطل رہا لیکن جب مرحوم صدر ضیاء الحق نے بلدیاتی نظام کو پھر سے زندہ کیا تو اُس وقت تک آبادی میں خاصہاضافہ ہو چکا تھا اس لیے سروے کے مطابق تمام ملک میں از سرِ نو وارڈ بندیاں ہوئیں ۔ اس پر انتظامیہ نے کوٹ مٹھن میں آبادی اور ووٹروں کی تعداد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تین مزید وارڈوں کا اضافہ کر کے وارڈوں کی کل تعداد 9 تک پہنچا دی۔ چنانچہ 1979 کاالیکشن کوٹ مٹھن میں 9 وارڈوں کے تحت لڑا گیا ۔ اُس وقت جو وارڈ بندی عمل میں آئی اُس کی تفصیل یہ ہے۔                                                      ( مزید وضاحت کے لیے نقشہ ملاحظہ ہو) 
 

کے مطابق آبادی 1981

محلے

وارڈ نمبر

1385

نئی آبادی فرید آباد

خانقاہ خواجہ غلام فرید

خانقاہ خواجہ تاج پاک

محلہ خلیفہ صاحب

محلہ تاج پاک

مکانات خواجہ احمد علی

بستی گنوخانی

نئی آبادی سمادہ فاضل شاہ

چاہ مخدوم صاحب

نئی آبادی مدنی مسجد

1

962

محلہ سید حسن شاہ

محلہ غازی برڑہ

محلہ مستری عبدالرحمن

محلہ سید نظام شاہ

محلہ اقوام لاکھا

محلہ دین محمد قریشی

2

875

محلہ ساون دایہ

محلہ قطبی

محلہ فخر جہان

محلہ رشید خان

3

655

کالونی اکبر آباد

محلہ اکبر آباد

چاہ غازی برڑہ

چاہ قریشی والا

محلہ اقبال آباد

نئی آباد  ریسٹ ہاوَس

محلہ مولوی نور محمد

محلہ میرا کمہار

نئی آبادی چونگی نمبر ۱

4

719

محلہ جمال فرید

محلہ قصابان

محلہ روشن مشدی

محلہ سردار علیشاہ

محلہ مرزا داوَد بیگ

محلہ بخش کمہار

5

644

محلہ جمعہ حجام

محلہ حامد گاذر

محلہ حاجی موسیٰ

محلہ عبدالمغنی

محلہ عبدالستار

محلہ مولا بخش

6

1251

نئی آبادی چونگی نمبر ۴

نئی آبادی مکانات ڈاکٹر خورشید محمد

نئی آبادی چونگی نمبر ۵

محلہ جند وڈا خوجہ

محلہ نکا خوجہ

7

791

محلہ ہاشم گاذر  نمبر ۱ نمبر ۲

محلہ نازک کریم

محلہ غلام نبی

محلہ عزیز بھٹی

8

1249

محلہ ناز فریدی

محلہ نیاز علی

محلہ فرید آباد

باغات سونو رام

9


1979ء کے انتخابات مکمل ہونے کے بعد1981 میں مردم شماری ہوئی جس کے پیش نظر وارڈوں میں ووٹروں کی تعداد کو متوازن بنانے کے لیے از سرِ نو وارڈبندی کے احکامات جاری ہوئے۔ اس نئی تبدیلی کے تحت کوٹ مٹھن میں وارڈوں کی تعداد تو 9 ہی رہی لیکن وارڈ بندی کو نئے سرے سے تشکیل دیا گیا۔ اس سلسلے میں ملک غلام صابر اور راؤمحمد صدیق کی باہمی اتفاق رائے سے جو وارڈ بنائے گئے وہ اب تک ایسی صورت میں قائم رہے تاہم 1987 کے الیکشن کے بعد حلقہ بندی میں تبدیلی اس حد تک ہوئی کہ وارڈ نمبر ۱ کو دو حصوں میں بانٹ کر اور اس میں وارڈ نمبر 9 کا معمولی سا حصہ شامل کر کہ ایک نیا وارڈ قائیم کیا گیا اور اس طرح کُل وارڈوں کی تعداد 10ہو گئی اور1991 ؁ ء کے بلدیاتی انتخابات بھی اس نئی وارڈ بندی کے تحت منعقد ہو ئے۔اس نئی وارڈ بندی میں بھی جو چیز منفرد نظر آئی وہ یہ ہے کہ مذکورہ تینوں انتخابات میں باقی تمام وارڈوں سے تقریباً ہر مرتبہ نئے اُمیدوار منتخب ہو کر آتے رہے ہیں لیکن وارڈ نمبر3 اور 5 ایسے وارڈ ہیں جن میں اب تک کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ اس لیے ان دونوں وارڈوں میں ہمیشہ راؤ محمد صدیق اور ملک غلام صابر کی نشستیں نا قابلِ شکست رہیں، جو بہر حال ان دونوں کے لیے ایک اعزاز ہے۔
موجودہ وارڈ بندی کچھ اِس طور ہے۔            ( مزید وضاحت کے لیے نقشہ ملا حظہ فرمائیں)