ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

ڈ سپوزل سکیمز کوٹ مٹھن

 

 

شہر کے جنو ب میں میا نی رو ڈ پر وا قع پر انے ریسٹ ہا ؤس کے قریب ڈسپو زل ورکس کے دو کنو یں مو جو د ہیں ۔ شہر بھر میں سرکلر روڈ کے اندر اندر سیوریج ڈالی جا چکی ہے ، چیر مین بلدیہ ملک غلام صابر کی خصوصی کاوشوں سے اس کام کا آغاز اور کرایا گیا اور اسے پایا تکمیل تک پہنچایا گیا۔شہر بھر سے نکاسی آب کابیشتر حصہ اسی سیوریج کے ذریعے مدنی مسجد چوک سے ہوتا ہوا میانی روڈ پر واقعہ اس ڈسپوزل ورکس کے دو کنووں میں جاتا ہے ۔ جہا ں سے شہر کے گندے پا نی کو مختلف زمینداروں کے ہاں آبپا شی کے لئے فرو خت کیا جا تا ہے ۔ 1983 ؁ء میں غلا م مصطفیٰ خا ن گو پا نگ سے دو کنا ل سو لہ مرلے رقبہ اس سکیم کے لئے خرید کیا گیا تھا۔یہ سکیم پبلک ہیلیتھ انجیئرنگ را جن پو ر کے زیر نگرا نی پا یہء تکمیل کو پہنچی ہے ۔5 اگست 1985 ؁ء سے کا م کا آگا ز ہو ا ۔ اب اس کا پا نی مبلغ 220/=رو پے فی گھنٹہ کے حسا ب سے آب پا شی کے لئے قرب وجوار کے ذمہ داروں کو فروخت کیا جا تا ہے ۔جو اپنی زمینوں میں زیا دہ تر سبزی کا شت کرتے ہیں جو کو ٹ مٹھن کی سبزی منڈی میں رو زانہ فروخت کی جا تی ہے ۔اور بے شک اس سے بلدیہ کو آمدن حاصل ہوتی ہے لیکن اس حقیقت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا ضاسکتا کہ یہ سبزی انتہاہی مضحر صحت ہے اور اس کی بدولت بے تحاشہ بیماریاں پھیلنے کا ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔

قدرتی (قدیمی)ڈسپوزل سکیم                 ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                         جھلار لاکھوں والی
 

اس کے علاوہ وارڈ نمبر 5 کے محلہ روشن مثدی اور محلہ جمال فرید کی درمیانی مین گلی سے ایک بڑے نالے نما نالی کے ذریعے شہر کی کچھ نکاسی وارڈ نمبر4 کے محلہ قصابان سے گزرتی ہوئی لاکھوں والی جھلار تک جاتی ہے اور گندے پانی کو اس قدرتی جھلار میں ڈالا جاتا ہے اس نالے سے بھی اس علاقہ کے اکثر چھوٹے کاشتکار آب پاشی کیا کرتے تھے ، سیوریج سکیم بنانے سے قبل شہر کا سارا پانی اسی جانب نکالا جاتا تھا۔ تاہم ڈسپوزل ورک مکمل ہونے سے اس جانب نکاسی آب کا بہاو کافی کم ہو گیا اور اب وقت کے ساتھ ساتھ بڑہتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اس جانب کاشت کردہ زرعی اراجی اب کالونیوں میں تبدیل ہو چکی ہے جس کی وجہ سے اب اس علاقہ میں ایک جانب تو نکاسی آب کا دباو بڑھا ہے جبکہ دوسری جانب اس پانی کا کاشتکاری کے لئے استعمال بے حد کم ہو گیا ہے۔ اور اس علاقہ میں رہائیش اختیار کرنے والے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ اور بارشوں کے موسم میں اس علاقہ کے مکینوں کو نہ صرف شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے بلکے وبائی بیماریاں پھیلنے سے پورا علاقہ اس کی زد میں آتا ہے اس سلسلہ میں فوری انتظامات کی ضرورت ہے جس پر تاحال کوئی توجہ نہ دی گئی ہے۔جو کہ انتہائی قرب کی بات ہے۔

ڈسپوزل ورکس سکیم نئی آبادی کوٹلہ حسین
 

سابقہ بلدیاتی نظام تبدیل کر کے 2000 -1 ء میں جنرل مشرف نے نئے بلدیاتی نظام کا آغاز کیا تو ٹاون کمیٹی کو ختم کر کے اسے یونین کونسل بنا دیا گیا اور کوٹ مٹھن شہر کے ہمراہ دیگر علاقہ جات کو بھی شامل کردیا گیا۔ ان نئے شامل کردہ مواضعات میں موضع کوٹلہ حسین بھی شامل تھا جس کی ایک بڑی آبادی شہر کوٹ مٹھن سے بجانب رورل ہیلتھ سنٹر منسلکہ تھی ۔ ان انتخابات میں کمال فرید ملک نے بطور ناظم کامیابی حاصل کی اوراپنی کامیابی کے فوراً بعد سب سے پہلے کرائے جانے والے ترقیاتی کاموں میں انہوں نے اس بڑی آبادی کی نہ صرف گلیاں نالیاں پختہ تعمیر کرائی بلکے نکاسی آب کے منصوبہ کو بھی مکمل کرایا اورایک نئی ڈسپوزل سکیم اس علاقہ میں تعمیر کرائی جس کے بڑے کنویں میں اس پورے علاقہ اور اس سے ملحقہ علاقہ کا پانی اکھٹا کر کے وہاں سے بذریعہ پمپ اُس علاقہ کے کاشتکاروں میں تقسیم کیا جانے لگا اور اس کے باوجود بچنے والے پانی کو اُس علاقہ کی قریبی نہر میں ڈال دیا جاتا تھا۔اس سے اس علاقہ کے لوگوں کو نہ صرف بے انتہا سہولت ملی بلکے حفظان صحت کے مطابق ماحول بھی مہیا کیا گیا اور تیزی سے پھیلتی ہوئی غلاظت اور بیماریوں کو بھی کنٹرول کیا گیا۔

ڈسپوزل سکیم نئی آبادی ملحقہ وارڈنمبر7 نزد ہسپتال

اس نئی آبادی کا کام بھی اآسوقت کے ناظم کمال فرید ملک نے اس انداز سے مکمل کرایا کہ نہ صرف اس علاقہ کی تمام گلیاں اور نالیاں مکمل طور پر پختہ (کارپیٹٹ اور سیمنٹ سلیب) کرائی گئیں بلکے اس علاقہ کا بھی اہم مسلہ نکاسی آب کا تھا اس سلسلہ میں کمال فرید ملک نے ایک پائیپ لائین کے ذریعے اس آبادی کا پانی محکمہ جنگلات کی جانب نکالا اور وہاں ایک ڈسپوزل کنواں تعمیر کرایا اس آبادی کا سارا پانی اس کنویں میں اکھٹا ہوتا اور اس کے بعد اس پانی کو محکمہ جنگلات اپنے جنگلات کی آب پاشی کے لئے استعمال کرتاہے۔

ڈسپوزل سکیم بستی میانی ملاح

بستی میانی ملاح بھی موضع کوٹلہ حسین چک اول کی ایک بڑی بستی ہے۔ یونین کونسل کوٹ مٹھن کا حصہ بننے سے قبل یہ علاقہ جات یونین کونسل بستی پھلی اور اُس سے قبل یونین کونسل ونگ کا حصہ تھے اور بے حد محرومیوں کا شکار تھے ، نہ گلیاں نہ نالیاں اور نہ ہی نکاسی آب کا کوئی ذریعہ ۔ چنانچہ اُسوقت کے ناظم کمال فرید ملک نے اس علاقہ پر بھی بھر پور توجہ دی اور اس کی بھی تمام گلیاں نالیاں نہ صرف پختہ (خارپیٹیٹ اور سیمنٹ سلیب) تعمیر کرائیں بلکے اس علاقہ کی نکاسی آب کی سکیم بھی مکمل کرائی ،اس علاقہ کا تمام گندا پانی ایک بڑے نالے کے ذریعے سڑک کی دوسری جانب موجود ایک قدرتی جھلار(قدرتی بڑے کنویں کی مانند کئی کنال پر محیط بڑا گڑہا) میں ڈال دیا گیا جہاں سے اس پانی کو اُس علاقہ کے کاشتکار اس پانی کو اپنے مصرف میں لاتے ہیں اس سلسلہ میں اس قدرتی قائیم جھلار کے مالک میاں نازک حسین قریشیٰ نے خصوصی تعاون کرتے ہوئے اس کی اجازت دی ۔


ڈسپوزل سکیم بستی کوٹلہ حسین (کڈن)
اسی موضع کوٹلہ حسین کی ایک اور بڑی آبادی جو کہ اقوام کڈن اورسیال پر مشتمل تھی اس آبادی میں بھی لوگوں کو انہی مسائل کا سامنا تھا۔ لہٰذا کمال فرید ملک نے اپنے دور میں اس علاقہ کی بھی تمام گلیاں نالیاں پختہ کرائیں اور اس آبادی کی نکاسی آب کا مسلہ بھی مستقل طو رپر اس انداز سے حل کیا کہ ایک نالے کے ذریعے اس علاقہ کا پانی اس علاقہ کے پیچھے زرعی رقبوں تک پہنچایا جس سے ایک جانب اس علاقہ کا اہم مسئلہ حل ہو گیا اور دوسری جانب چھوٹے کاشتکاروں کوآبپاشی کے لئے مفت پانی کی سہولت فراہم ہو ئی۔

نکاسی آب سکیم بستی گنوکھانی

یہ بڑی آبادی بھی قبل ازیں یونین کونسل بستی پھلی اور اس سے قبل یونین کونسل ونگ کا حصہ تھی اور دیگر علاقوں کی طرح محرمیاں ان کا مقدر بنی رہیں ۔ یہ بستی موضع بستی محب علی کا حصہ ہے اس علاقہ کی بھی اسی دور میں تمام گلیاں نالیاں پختہ(کارپیٹیٹ اور سیمنٹ سلیب) کرائیں گئیں۔اور ایک بڑے نالے کے ذریعے اس کی نکاسی اس بستی کے قریب سے گزرنے والی ایک نہر میں ڈال دی گئی اس نہر سے قبل کاشتہ زمینوں کے کاشت کار اس پانی کو ضرورت کے تحت استعمال میں لاتے رہتے ہیں۔

ڈسپوزل سکیم بستی محب علی
موضع محب علی کے نام سے موسوم بستی محب علی کی بھی تمام گلیاں نالیاں بھی اسی دور میں مکمل کرائی گئیں اور ایک سیوریج کے ذریعے اس علاقہ کا پانی محکمہ جنگلات کے رقبعہ نذد چوک بستی کلر تک پہنچایا گیا اور یہاں ایک کنواں تعمیر کرایا گیا جہاں یہ گندا پانی سٹور ہوتا اور وہاں سے محکمہ جنگلات والے اسے حسب ضرورت استعمال میں لاتے تھے ، بستی سے اس منویں تک سیوریج کا چونکے فاصلہ بہت زیادہ تھا اور راستہ میں دوسری آبادیوں کا پانی بھی اس میں شامل کیا جاتا تھا اور پائیپ لائین کی صفائی کے نظام کو بھی سامنے رکھا گیا تھا اس لئے فاصلہ فاصلہ پر گٹر بنائے گئے تھے۔ اس سکیم سے کچھ عرصہ تک لوگوں نے سکُھ کا سانس لیا لیکن بعد ازاں جب بستی محب علی کی سڑک کا از سر نو تعمیر کا کام شروع ہوا تو اس دوران سڑک تعمیر کرنے والے ٹھیکہداروں کی غفلت اور اس سڑک سے گزرنے والی لوڈ د ، ٹریکٹرٹرالیوں نے اس سیوریج لائین کو توڑ دیا جس کی بر وقت مرمت نی کرائی گئی اور اس طرح اس سکیم سے لوگ مستفید نہ ہو پوئے ، تاہم بعد میں تحصیل کونسل نے اس سیوریج لائین کے بجائے یہاں ایک نالہ تعمیر کرایا لیکن اس سلسلہ میں لیوول کا خیال نہ رکھا گیا جس کی وجہ سے اس علاقہ کی نکاسی کا مسٗلہ تا حال حل طلب ہے۔

ڈسپوزل سکیم بستی فرید آباد
بستی غریب آباد بھی موضع محب علی کی آبادی ہے ۔ یہ اس علاقہ کی سب سے غریب بستی تھی اور فلڈ 2010 ء میں یہ علاقہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ جہاں سے فلڈ بند ٹوٹی یہ علاقہ اُس کے راستہ میں تھا اور دوسری وجہ یہ بستی سطع زمین سے کم ازکم چھ سے سات فٹ نیچے تھی اور پھر غریب گھرانوں پر مشتمل یہ بستی کچی تھی ،چنانچہ مکمل طور پر منہدم ہو گئی ۔ اس بستی کی از سر نو تعمیر کا کام ادارہ اخوت اور اآس کے ذریعے لاےء گئے ڈونرز نے کمال فرید ملک کے کہنے پر اُنہی کے ذریعے کرائی اس بستی کی ایک سال سے کم عرصہ میں تعمیر کرائی گئی اور اس نئی تعمیر میں جہاں اس کو سطع زمین سے اُونچا کیا گیا وہاں اس کی پختہ تعمیر کے ساتھ ساتھ اس کی نکاسی آب کی جانب بھی توجہ دی گئی۔ اور اس بستی کے باہر ایک ڈسپوزل سکیم بنائی گئی ۔ اس سکیم میں تیار کیا گیا بہت بڑا حوص نما کنواں اوپر سے آر سی سی چھت کے ذریعے بند کر دیا گیا اور اس کنویں سے ایک پائیپ کے ذریعے جمع شدہ پانی کو مین نالے میں ڈالا جاتا ہے، جبکہ ساری بستی کو سیوریج کے ذریعے اس کنویں سے ملا دیا گیا ہے۔اس بستی کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس کا نام غریب آباد کی بجائے فرید آباد رکھ دیا گیا ہے۔