ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

چلڈرن پا رک بلدیہ کوٹ مٹھن
 

چلڈرن پا رک کے شما ل مشرقی کو نے ،سرکلر رو ڈ کے با ہر ،دفتر بلدیہ کے پہلو میں واقعہ ہیں ۔26کنا ل 15مرلے کا یہ پلا ٹ محکمہ اوقا ف کی ملکیت ہے ۔ پہلے اس پلا ٹ کی حا لت نہا یت خرا ب تھی ۔ کئی فٹ گہرے اس کھڈے نما پلاٹ کا نشیب میں ہونا اس علاقہ کے لوگوں کے لئے وبال جان بن چکا تھا ، ارد گرد کی آبادیوں ، دربار سے آنے والا گندا پانی اور خاص طور پر بارشوں کے پانی کی بدولت اس پلاٹ نے ایک جوھڑ کا مستقل روُپ دھار لیا تھا ۔ دُور دوُر تک بد بوُ کی وجہ سے لوگوں کو شدید تکلیف کا سامنا تھا اور ہر وقت گندے پانی کی وجہ سے مچھروں کی بھر مار سے بیماریوں کا پھیلنا تو بے شک ایک مستقل عمل بن چکا تھا او سا را سا ل اس میں گندے پا نی اور کو ڑا کر کٹ کا ڈھیر لگا رہتا تھا ۔ اس کی گہرائی کسی بھی انجانے خوف کی علامت تھی ۔21 جو ن 1980 ؁ء کو بلدیہ کے اجلا س میں تجویز پیش کی کہ محکمہ اوقا ف سے اس پلا ٹ کو حا صل کر کے یہاں ایک چلڈرن پا رک بنا یا جا ئے ۔ ان دنوں وزیر بلدیا ت ذاکر حسین قریشی کو ٹ مٹھن آئے تو ان سے بھی اس پلا ٹ کے حصول کی با ت کی گئی ۔ چنا نچہ 2 ما رچ 1982 ؁ء کو چیئرمین بلدیہ نے چیف ایڈمنسٹریٹر اوقا ف (لا ہو ر )کو لکھاکہ کو ٹ مٹھن کو پلا ٹ ملکیہ محکمہ اوقا ف ،چلڈرن پا رک کے لئے کرا ئے پر دیا جا ئے ۔جس پر انہو ں نے نا ظم اوقا ف ملتان کے تو سط سے منیجر اوقا ف کو ٹ مٹھن کو تفصیلی رپو رٹ بھجو انے کے لئے لکھ ا۔ نقشہ مو قع تیا ر کیا گیا ۔ کا غذی کا روا ئی مکمل ہو جا نے پر 20اپریل 1983 ؁ء کو بحوالہ چھٹی نمبری 3037نا ظم اوقاف ملتا ن نے مذکو رہ پلا ٹ 99سا لو ں کے لئے بلدیہ کو ٹ مٹھن کو کرا ئے پر دینے کی منظوری دے دی ۔ پلا ٹ کا کرا یہ سالا نہ ایک رو پیہ طے ہو ا۔مو رخہ 3 مئی 1983 ؁ء کو بحوالہ رسید نمبر 247711/2478کرا یہ پیشگی مبلغ 99/=روپے محکمہ اوقاف کے حسا ب میں جمع ہو ا۔ اس طرح مذکو رہ پلا ٹ جو لا ئی 1982 ؁ء سے جو ن 2081 ؁ء تک 99 سا لوں کے لئے بلدیہ کو ٹ مٹھن کے قبضہ میں آگیا ۔اس تمام تر کاروائی میں جہاں چیرمین ٹاون کمیٹی ملک غلام صابر کی خصوصی کاوشیں بے شک اپنی جگہ ہیں لیکن اس تھمام تر عمل میں اُسوقت کے ڈپٹی کمیشنر میجر(ر) چوہدری خالد لطیف اور کمیشنر ڈیرہ غازیخان چوہدری محمد اشرف کی توجہ خاص اور بھرپور دلچسپی کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دراصل انہی ایام میں گورنر پنجاب غلام جیلانی نے کوٹ مٹھن کا دورہ کیا اور دربار حضرت خواجہ غلام فریدؒ پر حاضری دی اس موقعہ پر بلدیہ کے انتظامات پر بے حد خوش ہو کر اُنہوں نے چیرمین بلدیہ کے کہنے پر محکمہ اوقافکو خصوصی احکامات دئیے اور دراصل اسی کی بدولت محکمہ اوقاف نے فوری طور پر یہ پلاٹ بلدیہ کو لیز پر دیا۔
25جون 1984 ؁ء کو کمشنر ڈیرہ غا زی خا ن نے کو ٹ مٹھن کا دورہ کیا اور اس پلا ٹ کو ہموارکر کے اس جگہ پا رک قا ئم کرنے کا حکم دیا ۔ مبلغ 20000/=رو پے کی مٹی ڈا ل کر اس کو ہموا ر کیا گیا ۔ یہ جگہہ چونکے بہت زیادہ گہری تھی اس لئے اس قلیل رقم میں اس کو مٹی سے بھرنا کسی صورت بھی ممکن نہ تھا چنانچے اس کی مٹی سے بھرائی کے کئے اُسوقت کے ڈپٹی کمیشنر نے بھر پور توجہ دی اور مختلف لوگوں کی ٹریکٹرز اٹرالیاں اس کام پر لگائی گئی اس اہم کام کے لئے شہر کے معززین نے بھی رضا کارانہ طور پراپنی اپنی ٹریکٹر ٹرالیاں لگائی تاہم اس سلسلہ میں ڈیزل کی فراہمی بلدیہ کی جانب سے کی جاتی رہی ، دن رات بھرپور طریقہ سے کام کیا گیا تب جا کر اس کبھی نہ بھرنے والے گڑ ہے کو پُر کیا گیا۔ پا رک کے چا رو ں طرف خا ردار تا ر لگا ئے گئے ۔ مغربی جا نب ایک خو بصورت آہنی دروا زہ نصب کیا گیا ۔ مبلغ 12500/=رو پے کے جھولے خرید کر کے پارک کے اندر مختلف جگہوں پر نصب کئے گئے ۔ 1987 تک اس پارک کی رونقیں بحال رہی اور پھر اس کے بعد یہ سب کچھ آہستہ آہستہ بے رونق ہونے لگا۔چند سا لو ں میں یہ تما م چیزیں آہستہ آہستہ غا ئب ہو تی چلی گئیں ۔اس وقت یہ چلڈرن پا رک صرف ایک گرا سی گرا ؤ نڈ ہے جو ہر طرف سے کھلا ہو ا ہے اب اس کو مشا عرے ،کرکٹ اور دیگر تفریحی مشا غل کے لئے استعما ل میں لا یا جا تا ہے۔بلکہ اب اس کا گراس بھی خاتمے کی جانب سفر کررہا ہے اور اگر مزید کچھ عرصہ اس پر توجہ نہ دی گئی تو یقیناً یہ اُجاڑ ہو جائے گا۔