ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

 

پاکستان کے دریاوٗں کی تفصیل اور ربط ایک جائیزہ

            ۔۔۔۔دریا

کسی پہاڑ  یا جھیل سے بہت سا پانی نکل کر خشکی پر دور تک بہتا چلا جاتا ہے تو اسے دریا کہتے ہیں۔ دریا تو کسی  دوسرے دریا سے جا ملتا ہے۔ یا کسی بحر یابحیرے میں جاگرتا ہے۔ دریا بذات خود مستقل بھی ہوتے ہیں اور معاون بھی ایک دریا دوسرے دریا میں جاگرے تو معاون کہلاتا ہے۔

 

         پاکستان کے دریا                 

ملف:Rivers of Pakistan.png

   دریائے سندھ                                                                        

دریائے سندھ کی خلائی تصویر
دریائے سندھ کی خلائی تصویر

                     ۔۔۔۔۔۔۔                                دریائے سندھ

دریائے سندھ پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم دریا ہے۔ دریائے سندھ کی شروعات تبت کی ایک جھیل مانسرور کے قریب ہوتی ہے۔ اس کے بعد دریا بھارت اور پاکستان کشمیر سے گزرتا ہوا صوبہ سرحد میں داخل ہوتا ہے۔ صوبہ سرحد میں اسے اباسین بھی کہتے ہیں جس کا مطلب ہے دریاؤں کا باپ۔ دریائے سندھ کو شیر دریا بھی کہا جاتا ہے۔ صوبہ سرحد میں دریا پہاڑوں سے میدانوں میں اتر آتا ہے اور اس کے بعد صوبہ پنجاب اور سندھ سے گزرتا ہوا کراچی کے قریب بحیرہ عرب میں گرتا ہے

آغاز جھیل مانسرور
دہانہ بحیرہ عرب
میدان ممالک چین  ، پاکستان  ،بھارت
لمبائی 1988 کلومیٹر 3200    میل
منبع کی بلندی 4556 میٹر
دہانہ کی بلندی میٹر0

آبی حیات۔۔۔۔                                                    

۔۔اندھی ڈولفن۔۔۔   

دریائے سندھ میں اندھی ڈولفن پائی جاتی ہے۔ اس کو سو سو کہا جاتا ہے۔ اسکا ایک مقامی نام بلھن بھی ہے۔ ڈولفن کی یہ قسم دنیا بھر میں نایاب ہے۔ یہ قدرتی طور پر اندھی ہوتی ہیں اور پانی میں آواز کے سہارے راستہ تلاش کرتی ہے۔ اس کی آبادی میں اظافے اور اس کی حيات کو پیش دشواریوں کو دور کرنے کی کئی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

 

                                                                                                        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کے دریا

 

۔1۔ دریائے بیاس                 کوہ ہمالیہ سے نکلتا ہے اور مشرقی پنجاب ’’بھارت‘‘ کے اضلاع امرتسر اور جالندھر کے درمیان سے گزرتا ہوا فیروز پور کے قریب دریائے ستلج سے مل جاتا ہے۔ پھر مؤخر الذکر نام سے پاکستان میں

داخل ہوتا ہے۔326 ق م میں سکندر اعظم کی فوجیں یہاں آکر رک گئیں تھیں۔

 

                                                                                                                           ۔2۔   دریائے جہلم


گرمیوں میں دریائے جہلم کا منظر

دریائے جہلم کوہ ہمالیہ میں چشمہ ویری ناگ سے نکل کر سری نگر کی ڈل جھیل سے پانی لیتا ہوا پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور جنوب مغرب کو بہتا ہوا تریموں کے مقام پر یہ دریائے چناب سے مل جاتا ہے۔یہ مغربی پنجاب کےدریاؤں میں سے اہم دریا ہے۔ یہ سارے دریا پنج ند کے قریب دریائے سندھ میں مل جاتے ہیں۔ رسول کے مقام پر دریائے سندھ سے نہر لوئر جہلم نکالی گئی ہے جو ضلع شاہ پور کو سیراب کرتی ہے۔ رسول کی پن بجلی کا منصوبہ اسی کا مرہون منت ہے۔ نہراپر جہلم منگلا ’’ آزاد کشمیر‘‘ کے مقام پر سے نکالی گئی ہے۔ اور ضلع گجرات کے بعض علاقوں کو سیراب کری ہے۔ آب پاشی کے علاوہ ریاست کشمیر میں عمارتی لکڑی کی برآمد کا سب سے بڑا اور آسان ذریعہ یہی دریا ہے۔ سکندر اعظم اور پورس کی لڑائی اسی دریا کے کنارے لڑی گئی تھی۔ سکندر اعظم نے اس فتح کی یادگار میں دریائے جہلم کے کنارے دو شہر آباد کیے۔ پہلا شہر بالکل اسی مقام پر تھا جہاں لڑائی ہوئی تھی۔ اور دوسرا دریا کے اس پار یونانی کیمپ میں بسایا گیا تھا۔ اس شہر کو سکندر اعظم نے اپنے محبوب گھوڑے بیوسیفاتس سے منسوب کیا جو اس لڑائی میں کام آیا تھا۔


دریائے سندھ کا بہاؤ، جہاں جہلم کا اختتام ہوتا ہے
لمبائی 740

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔3۔   دریائے حب                                             

دریائے حب پاکستان میں کراچی کے قریب واقع ایک چھوٹا دریا ہے۔ یہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں کوہ کیرتھر سے شروع ہوکر بحیرہ عرب میں گرتا ہے۔ اپنے آخری حصے میں یہ دریا صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ کے مابین سرحد بناتا ہے۔

1981ء میں اس دریا پر ایک ڈیم بنایا گیا جسے حب ڈیم کہتے ہیں۔ یہ ڈیم لسبیلہ کے لیے آبپاشی اور کراچی کے لیے پینے کا پانی فراہم کرتا ہے۔

                                                      ۔4۔ دریائے استور

دریائے استوردریائے سندھ کا ایک معاون دریا، دریائے گلگت میں شامل

دریائے استور

دریائے استور (Astore River) دریائے سندھ کا ایک معاون دریا ہے جو کہ وادی استور میں سے بہتا ہے۔ دریا درہ برزل کی مغربی ڈھلان سے شروع ہوتا ہے۔

دریائے استور دریائے گلگت کو متناسقات کے مقام پر ملتا ہے۔

  دریائے استور 

دریائے استور پر ایک پل

 

۔ 5۔ دریائے باڑہ                                        

دریائے باڑہ (Bara River) (پشتو: سیند باړه) خیبر ایجنسی، خیبر پختونخوا، پاکستان میں ایک دریا ہے۔ دریائے باڑہ کی ابتداء وادی تیراہ، تحصیل باڑہ، خیبر ایجنسی سے ہوتی ہے۔

یہ دریائے کابل جو کہ ورسک ڈیم سے نکلتا ہے میں شامل ہونے کے بعد پشاور میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد شمال مشرقی سمت میں ضلع نوشہرہ کی طرف ہوتی ہے۔

 

۔  6۔ دریائے توی                                

دریائے توی (Tawi River) ایک ایسا دریا ہے کہ جموں شہر میں بہتا ہے۔ عام طور پر بھارت میں دیگر دریاؤں کے طرح دریائے توی بھی مقدس سمجھا جاتا ہے۔

چناب کے ساتھ سنگم

دریائے توی کی لمبائی 141 کلومیٹر (88 میل) ہے۔ دریا 300 میٹر (980 فٹ) جموں شہر کے پل کے قریب وسیع ہے۔ جموں شہر کے بعد یہ پاکستان میں پنجاب کے دریائے چناب میں شامل ہو جاتا ہے۔

دریائے توی دریائے چناب کا بائیں کنارے پر ایک اہم معاون دریا ہے۔

۔  7۔ دریائے جندی                                           

دریائے جندی (River Jindi) جسے کوٹ اور منظری بابا کے طور پر بھی جانا جاتا ہے پاکستان کے شمالی علاقے مالاکنڈ، چارسدہ، خیبر پختونخوا سے شروع ہونے والا ایک دریا ہے۔

سال کے ابتدائی مہینوں کے دوران دریائے جندی میں بہت ہی محدود پانی ہوتا ہے، لیکن موسم گرما کے مہینوں اس میں کافی برساتی پانی موجود ہوتا ہے۔

دریائے کابل اور دریائے جندی کے ارد گرد کے علاقوں کا شمار خیبر پختونخوا  کےسب سے زیادہ سنچائی والے علاقوں میں کیا جاتا ہے۔

۔    8۔ دریائے رخشن               

دریائے رخشن (Rakshan River) درہ ندوکی، ضلع واشک، بلوچستان، پاکستان سے نکلتا ہے۔

۔9۔ دریائے روپل                                 

دریائے روپل (Rupal River) شمالی پاکستان میں روپل گلیشیر سے شروع ہونے والی ایک برفانی ندی ہے۔ یہ وادی روپل میں نانگا پربت کے جنوب میں بہتی ہے۔ اسکے بعد یہ دریائے استور میں مل جاتی ہے۔

۔10۔ دریائے شنگھو                    

دریائے شنگھو (Shingo River) سرو دریا کا ایک معاون دریا ہے اور لداخ کے علاقے میں بہتا ہے۔ دریائے شنگھو بھارت سے پاکستان میں آزاد کشمیر کے مقام پر داخل ہوتا ہے اور دراس ندی سے ملتا ہے جو کہ کارگل

سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ دریائے شنگھو کا پانی لداخ میں دیگر دریاؤں سے صاف ہے کیونکہ یہ برف پگھلنے سے تشکیل میں آتا ہے۔

۔11۔ دریائے شکسگام                                                   

دریائے شکسگام (Shaksgam River) (ہندی: शक्सगाम नदी) دریائے یارکمد کا ایک معاون دریا ہے۔ اسکے دیگر نام دریائے کلیچن (Kelechin River) اور دریائے میوزتگھ (Muztagh River) ہیں۔

یہ وادی شکسگام میں قراقرم پہاڑی سلسلے کے متوازی شمال مغربی سمت بہتا ہے۔ دریا کی بالائی وادی کے ٹو کو سر کرنے والے شمال کی طرف سے استعمال کرتے ہیں۔ دریا چین اور پاکستان کے درمیان سرحد بناتا ہے۔

خطے کا اوسط سالانہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گر سکتا ہے۔ دریائے شکسگاما سطح سمندر سے 15،000 فٹ کی بلندی پر بہنے والا سب سے طویل دریا ہے۔

وادی شکسگام

۔12۔ دریائے شگر                                        

دریائے شگر (Shigar River) گلگت بلتستان، پاکستان میں واقع ایک دریا ہے۔ دریائے شگر کا پانی بلتورو گلیشیر اور بیافو گلیشیر کے پگھلنے سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ وادی شگر میں بہتا ہے۔

یہ دریائے سندھ کا ایک معاون دریا ہے جو وادی سکردو میں اس میں شامل ہوتا ہے۔

                  ۔    13       ۔ دریائے     شیوک                                                                  

وادی اور دریائے شیوک

دریائے شیوک

دریائے شیوک لداخ ,انڈیا سے نکلتا ہے اور بلتستان ضلع گانچھے سے بہتا ہوا دریائے سندھمیں گرتا ہے اسکی لمبائی 550 کلومیٹر ہے۔ یہ دریا سیاچن گلیشیر کیساتھ واقع ریمو گلیشیر سے نکلتا ہے۔
 

               ۔۔۔۔۔۔۔۔14۔ دریائے مولا

دریائے مولا بلوچستان، پاکستان میں واقع ہے.

دریائے مولا پر ناولونگ ڈیم   ضلع جھل مگسی

   
NAULANG DAM PROJECT
Location

Naulong Dam Project is proposed to be constructed on Mula River at Sunt about 30 km from Gandawa city Distt. Jhal Magsi of Balochistan to store 1,24,000 AF water for irrigation of 25,337 acres land in Balochistan.

Dam

Height

138 Ft
Storage 0.12 MAF
Present Status

* Feasibility study completed by Wapda in 1996.
* PC-II proforma (Rs.78.205 Million) for Detailed Engineering Design & Tender
Documents has been approved by CDWP on August 2,2001.
* Revised PC-II amounting to Rs.185.564 million approved by CDWP on 17.07.2009.
* PC-I amounting to Rs.11699.820 million recommended by CDWP for approval of
ECNEC on 17.07.2009.
* ECNEC in its meeting held on 03.09.2009 approved the Project for implementation.
* Up dated PC-I has been submitted to Ministry of Water and Power for obtaining
approval of CDWP.
* Bids opened on 17.04.2010. The contract of Naulong Dam Project is under award to the lowest bidder M/S DESCON -Zargon JV. Release of funds awaited.
* Revised PC-I amounting to Rs.31.962 Billion cleared by CDWP on its meeting held on june 29,2010 for approval of ECNEC.
* Meeting with Kamal Majeedullah special assistant to Prime Minister (SAPM) held on 29.01.2011 about technical aspects of the project

River MULA (Baloch)
Area Under Irrigation 25337 Acres
Scope of work Review of Feasibility Study, Detailed Engineering Design & Tender Documents.
Time Lines
  Planned Expected
PC-II December 2008 March 2010
PC-I - -
Approval
  Rs. in Million Remarks
PC-II 78.205 Approved by CDWP on 02.08.2001
  185.564 Approved by CDWP on 17.07.2009
PC-I 11699.820 Million
31.962 billion (revised)
Approved by ECNEC on 03.09.2009
Cleared by CDWP on 29.06.2010
Performance Report As on 28.02.2011
 

Behind .... days

On target

Ahead ..... days

PC-II -   -
PC-I -   -
Financial Status (Rs. in Million)
Head of Account

Expenditure upto 30.06.2010

Budget allocation 2010-2011

Expenditure in FY 10.11 upto 28.02.2011

Total expenditure upto 28.02.2011 (P)

Admn 57.671   1.759 59.43
Overhead        
Consultants 66.166   - 66.166
Assets 4.647     4.647
Works 33.696     33.696

Total

162.18   1.759 163.939
Head of Account

Expenditure upto 30.06.2010

Budget allocation 2010-2011

Expenditure in FY 10.11 upto 28.02.2011

Total expenditure upto 28.02.2011 (P)

Admn        
Overhead & central payments        
Consultants        
Assets        
Works/Land Cost        
IDC (Sukuk) Bonds        

Total:-

       
* ECNEC in its meeting held on 03.09.2009 approved the project for implementation.
* Up dated PC-I has been submitted to Ministry of Water and Power for obtaining approval of CDWP.
* Bids opened on 17.04.2010. The contract of Naulong Dam Project is under award to the lowest bidder M/S. Descon Zargon JV. Release of funds awaited.
* Revised PC-I amounting to Rs. 31.962 billion cleared by CDWP on its meeting held on june 29,2010 for approval of ECNEC.
* Meeting with Kamal Majeedullah Special Assistant to Prime Minister (SAPM) held on 29.01.2011 about technical aspects of the project.

 

                                        ۔15۔ دریائے نیلم

 

دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا

دریائے نیلم

دریائے نیلم کشمیر میں دریائے جہلم کا ایک معاون دریا ہے۔ بھارت میں اسے دریائے کشن گنگا بھی کہتے ہیں۔ یہ آزاد کشمیر کے شہر مظفر آباد کے قریب دریائے جہلم میں گرتا ہے۔ اس مقام سے کچھ ہی آگے جہلم پر منگلا ڈیم بنایا گیا ہے۔ یہ دریا اپنے شفاف نیلگوں پانی کی وجہ سے مشہور ہے اور یہی اس کی وجہ تسمیہ بھی ہے۔

خطہ کشمیر
ماخذ  34.389629°N 75.121806°E / 34.389629; 75.121806 
- محل وقوع وشانسر جھیل, بھارت
- بلندی  
دہانہ  34.354869°N 73.468537°E / 34.354869; 73.468537
- محل وقوع دریائے جہلم مظفر آباد, پاکستان
- بلندی  
لمبائی 152 کلومیٹر 245 میل
نکاس  
- اوسط  m3/s (16,421 cu ft/s 465)
دریائے نیلم حبہ خاتون کا ایک منظر

 

۔16۔ دریائے ٹوچی                                    

دریائے ٹوچی

دریائے ٹوچی جسے دریائے گمبیلا بھی کہتے ہیں افغانستان سے وزیرستان میں داخل ھوکر وادی داوڑ کو سیراب کرتے ہوئے تنگہ سے گزرتا ہوا بنوں میں داخل ہوتا ہے جہاں اسے گریڑا کا نام دیا گیا ہے۔ بنوں میں وزیر بکا خیل اور علاقہ میریان کا کچھ حصہ سیراب کرتا ہے۔ ضلع لکی میں داخل ہو کر اس کا نام گمبیلا ہو جاتا ہے جو عیسک خیل کے قریب دریائے کرم میں جا گرتا ہے۔ ماضی میں جب کنویں نہ تھے تو اس کا پانی صحت کے لیے مفید خیال کیا جاتا تھا اور دریائے کرم کا پانی مضر صحت ہوا کرتا تھا چونکہ بنوں کے باسی انہی دریاؤں سے پانی پیتے تھے یہی وجہ تھی۔ ماضی میں بنوں وال مروت کے مقابلے میں زرد رو ، کمزور اور لاغر ہوا کرتے تھے۔ مگر اب صورت حال بہتر ہو گئی ہے۔ بنوں وال بھی اچھی صحت کے مالک ہیں اور پیٹ کی جملہ بیماروں سے نجات پا چکے ہیں۔

 

دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا

۔17۔ دریائے پنجند                                                  

دریائے پنجند (Panjnad River) پنجاب میں ضلع بہاولپور کے انتہائی آخر میں ایک دریا ہے۔ دریائے پنجند پر پنجاب کے دریا یعنی دریائے جہلم، دریائے چناب، دریائے راوی، دریائے بیاس اور دریائے ستلج کے پانچ دریاوں کا سنگم قائم ہوتا ہے۔

جہلم اور راوی چناب میں شامل ہوتے ہیں، بیاس ستلج میں شامل ہوتا ہے اور پھر ستلج اور چناب ضلع بہاولپور سے 10 میل دور شمال میں اچ شریف کے مقام پر مل کر دریائے پنجند بناتے ہیں۔ مشترکہ دریا تقریبا 45 میل کے لئے جنوب مغرب بہتا ہے

اور پھرکوٹ مٹھن  کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔ دریائے سندھ بحیرہ عرب کی جانب بہتا ہے۔ پنجند پر ایک بںد تعمیر کیا گیا ہے جو پنجاب اور سندھ کے صوبوں کو ابپاشی کے لیے پانی فراہم کرتا ہے۔

دریائے سندھ اور دریائے پنجند کے سنگم کے بعد دریائے سندھ ستند کے طور پر نام سے جانا جاتا تھا، اس میں پنجاب کے پانچ دریا، سندھ کے علاوہ دریائے سرسوتی بھی شامل تھا جسکا وجود اب ختم ہو چکا ہے۔پنجند کا نام پنج یعنی پانچ اور ند سے مراد ندیاں ہیں۔

 

  ۔۔  18                                  دریائے پنجکورہ

دریائے پنجکورہ (Panjkora River) (سنسکرت: गौरी) شمالی پاکستان میں ایک دریا ہے۔ دریا سلسلہ کوہ ہندوکش میں لات کے مقام سے نکلتا ہے۔ یہ دیر بالا اور پھر دیر زیریں سے بہتے ہوئے چکدره، ضلع مالاکنڈ، خیبر پختونخوا

کے قریب دریائے سوات میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس کے نام کے لئے فارسی سے ماخوذ ہے پنج یعنی پانچ اور کورہ یعنی دریا۔

۔19۔                                    دریائے پونچھ 

دریائے پونچھ (Poonch River) جموں و کشمیر، بھارت اور آزاد کشمیر، پاکستان کا ایک دریا ہے۔ اس کا آغاز پیر پنجال سلسلہ کوہ سے پوتا ہے۔ یہ شمال مغربی کی طرف بہتا ہے۔ اس کے بعد یہ جنوبی سمت بہتے ہوئے منگلا جھیل میں داخل ہو جاتا ہے۔

اس کے کنارے پر اہم آبادیوں میں پونچھ، سہرا، ٹاٹا پانی اور کوٹلی شامل ہیں۔ اس کے دو معاون سواں اور بیتار ہیں۔

 

 20.                                                                   ۔ دریائے ڈوری

دریائے ڈوری

دریائے ڈوری (Dori River) جسے دریائے لورا بھی کہا جاتا ہے افغانستان اور پاکستان کا ایک دریا ہے۔ یہ دریائے ارغنداب کا ایک معاون دریا اور دریائے ہرمند کا ذیلی معاون دریا ہے اور صوبہ قندھار، افغانستان میں 320 کلومیٹر اور پھر بلوچستان، پاکستان میں بہتا ہے۔دریائے ڈوری کوئٹہ شہر کے شمال سے شروع ہوتا ہے۔ اسے پاکستانمیں لورا کہا جاتا ہے، افغانستان میں داخل ہونے کے بعد اسکا نام کدھنائی ہے اور اسپن بلدک میں اسے ڈوری کہا جاتا ہے۔

 

دریائے ڈوری

۔21۔                                                  دریائے ژوب 

دریائے ژوب (Zhob River) (پشتو: ژوب سيند) بلوچستان اور خیبر پختونخوا، پاکستان میں واقع ہے۔ دریا کا نام اصل ایران زبان سے ہے۔ پشتو زبان میں، ژوب کا مطلب بہتا ہوا پانی ہے۔ دریائے ژوب کی کل لمبائی 410 کلومیٹر ہے۔

دریائے ژوب دریائے گومل کا معاون دریا ہے۔   دریائے گومل ڈیرہ اسماعیل خان سے 20 میل جنوب میں دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔

دریائے ژوب شمالی بلوچستان میں زمین کو سیراب کرتا ہے۔

  22 -                              ۔ دریائے کیچ

دریائے کیچ (Kech River) دریائے دشت کا معاون دریا ہے جو کہ ایران سے بلوچستان، پاکستان میں بہتا ہے۔ تربت شہر اس دریا کے کنارے واقع ہے اور یہ باغات اور سبزیوں کی کھیتی سیراب کرنے کے استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم یہ علاقہ سیلاب کا شکار ہے۔ جون 2007 میں سیلاب کا پانی تربت شہر میں داخل ہو کیا جب دریائے کیچ کا بند ٹوٹ گیا اور ہزاروں افراد اس سے متاثر ہوئے۔

۔23 ۔                                                             دریائے ہارو 

دریائے ہارو (Haro River) ایک دریا کآ نام ہے جو خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں بہتا ہے اور ایبٹ آباد اور بھر پنجاب میں داخل ہو جاتا ہے۔مشہور خانپور بند اسی دریا پر خانپور، ضلع ہری پور میں تعمیر کیا گیا ہے۔

اس کے چار بڑے معاون یہ ہیں۔۔۔لورا ہارو۔۔۔۔ستورا ہارو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیلان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کنداد

دریا  ہارو ،غازی بروتھا بند کے قریب دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔

 

دریائے ہارو

 24-                                               ۔۔ دریائے ہسپر   

دریائے ہسپر (Hispar River) ہسپر گلیشیر جو کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں سلسلہ کوہ قراقرم میں ایک 49 کلومیٹر طویل گلیشیر ہے، کے پگھلنے سے پانی حاصل کرتا ہے۔

دریائے ہسپر شمال مغرب میں بہتے ہوئے ہسپر، ہوپر اور نگر گاوں سے ہوتے ہوئے وادی ہنزہ میں دریائے ہنزہ میں شامل ہو جاتا ہے۔

۔ 25۔                            دریائے دشت 

دریائے دشت (Dasht River) ضلع گوادر، بلوچستان، پاکستان میں واقع ہے۔

دریائے دشت کا معاون دریا دریائے کیچ جو کہ ایک موسمی دریا ہے ایران سے اس میں بہتا ہے۔ میرانی بند دریائے دشت پر واقع ہے۔ بند ارد گرد کے علاقوں کو سیراب کرنے، خطے میں سیلاب سے بچاو اور گوادر شہر کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

 ۔ 26۔                                                    دریائے راوی

ماخذ چمبہ ، ہماچل پردیش ، بھارت
دہانہ پاک بھارت سرحد سے ہوتے ہوئے دریائے چناب میں
طاس ممالک بھارت ، پاکستان
لمبائی 720 کلومیٹر
Basin area بھارت ، پاکستان اور افغانستان
River system دریائے سندھ کا نظام
بائیں معاون بیاس اور ستلج
دائیں معاون چناب اور سندھ

دریائے راوی  ۔صوبہ پنجاب میں دریائے سندھ اوراس کے معان دریائے جہلم ، دریائے چناب ، دریائے راوی اور دریائے ستلج بہتے ہیں۔ دریائے راوی ضلع کانگڑہ میں درہ روتنگ سے نکلتا ہے اور ساڑھے چار سو میل لمبا ہے۔ پاک پنجاب کا درالحکومت لاہور اسی دریا کے کنارے واقع ہے۔ دریائے راوی اور دریائے چناب کا درمیانہ علاقہ دوآبہ رچنا کہلاتا ہے۔ دریائے راوی کی بڑی بری نہریں یہ ہیں۔ اپر باری دواب مادھو پور بھارت سے نکلتی ہے۔ اس کی قصور برانچ پاکستان کو سیراب کرتی ہے۔ نہر لوئر باری دوآب کے ہیڈورکس بلوکی میں ہیں۔ یہ نہر اضلاع ملتان اور منٹگمری کو سیراب کرتی ہے۔ انہار ثلاثہ ان میں دریائے راوی ، چناب اور جہلم کی تین نہریں اپر جہلم ، اپر چناب اور لوئر باری دواب شامل ہیں۔ گنجی یار منٹگمری اور ملتان کو سیراب کرنے کے لیے راونی کا پانی کافی نہ تھا۔ چنانچہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے چناب کا پانی بلوکی کے مقام پر بذریعہ نہر اپرچناب دریائے راوی میں ڈالا گیا۔ اس سے نہر لوئر چناب کا پانی کم ہوگیا ۔اور گوجرانولہ شیخوپورہ ، لائلپور اور جھنگ کے اضلاع کے لیے پانی ناکافی ثابت ہونے لگا۔ چنانچہ منگلا کو نہر اپر جہلم کا پانی خانکی کے مقام پر دریائے چناب میں ڈال دیاگیا۔ اضلاع لائل پور ، گوجرانولہ ، ساہیوال اور ملتان کی نہری آبادیاں انہار ثلاثہ کی بدولت ہی سیراب ہوتی ہیں ان میں اعلیٰ قسم کی گندم اور امریکن کپاس پیدا ہوتی ہے۔


دریائے راوی ، چمبہ کے نزدیک

 27-                                                  ۔ ساندل بار

ساندل بار پنجاب، پاکستان کا ایک خطہ ہے جو راوی اور چناب کے درمیان واقع ہے۔ یہ خطہ رچنا دوآب میں واقع ہے۔ یہ خطہ تقریبا 80 کلومیٹر چوڑائی (مغرب سے مشرق) اور 40 کلومیٹر لمبائی (شمال سے جنوب) پر مشتمل ہے۔ "بار" مقامی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی گھنے جنگلات کے ہیں جہاں نہری نظام دستیاب نہیں ہوتا۔

یہ بار ساندل کے نام کی وجہ سے "ساندل بار" کہلانے لگا۔ ساندل پنجابی رہنما دلا بھٹی کے دادا تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس بار کا زیادہ تر حصہ ضلع جھنگ میں واقع تھا لیکن موجودہ دور میں یہ خطہ فیصل آباد، جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ پر مشتمل ہے۔ساندل بار اصل میں پنجابی قبائل کا ایک وسیع علاقہ تھا جو ایک ہی ثقافت اور زبان استعمال کرتے تھے

اور آپس میں خونی رشتہ دار بھی تھے۔ موجودہ دور میں ساندل بار میں جھنگ، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پیر محل، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، حافظ آباد اور شیخوپورہ کے کچھ اضلاع شامل ہیں۔

۔28۔                                                 دریائے ستلج 

دریائے ستلج
ستلج پنجاب کے دریاؤں ميں سے ایک دریا کا نام ہے۔ 1960ء کے معاہدہ سندھ طاس کے تحت اس دریا کے پانی پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے بعد سے بھارت نے متعدد ڈیموں اور بیراجوں کے ذریعے اس کا پانی مکمل طور پر روک لیا ہے۔ اس دریا کے پانی سے بھارتی صوبوں پنجاب، ہریانہ اور راجستھان میں زرعی زمین سیراب کی جاتی ہے۔ دریائے ستلج میں بھارت سے پاکستانی علاقے میں پانی اب صرف سیلاب کی صورت میں داخل ہوتا ہے کیونکہ بھارت اسے Flood Release River کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

۔ دریائے سوات                    - 29   

دریائے سوات, صوبہ خیبر پختونخوا, پاکستان

دریائے سوات

دریائے سوات پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک دریا ہے۔ یہ کوہ ہندوکش سے وادی کالام اور ضلع سوات کی طرف بہتا ہے اور ضلع لوئر زیریں اور ضلع مالاکنڈ سے ہوتا ہوا وادی پشاور میں چارسدہ کے مقام پر دریائے کابل میں جا گرتا ہے۔

۔ 30۔                                                 دریائے سواں   

Indus river.svg

دریائے سواں

دریائے سوآں پوٹھوہار پاکستان کا ایک اہم دریا ہے۔ یہ مری کی پہاڑیوں سے شروع ہوتا ہے پھر اسلام آباد، راولپنڈی، چکوال اور میانوالی کے اضلاع سے ہوتا ہوا کالا باغ کے مقام پر دریائے سندھ میں جا گرتا ہے۔ اس کی لمبائی 250 کلومیٹر ہے۔

دریائے سواں
Swaan gorge or Swaan cut.JPG
پاکستان میں لمبائی۔۔۔۔۔200 کلومیٹر

 31-                                 ۔ دریائے چترال

 

چترال کا ایک دریا

دریائے چترال

دریائے چترال چترال کے دریاوں میں سب سے بڑا دریا ہے۔ اس کے علاوہ دریائے تورکھو اور دریائے موڑکھو بھی چترال کے بڑے دریاوں میں شامل ہیں۔ دریائے چترال کابل کے دریا کے ساتھ مل کر دریائے کابل بن جاتا ہے۔

 

چترال کا ایک دریا

۔32۔                                                         دریائے چناب 

دریائےچناب اور جہلم کے سنگم کا مقام، پنجاب، پاکستان

دریائے چناب (انگریزی میں Chenab) چناب کا نام 'چن' اور 'آب' سے مل کر بنا ہے جس میں چن کا مطلب چاند اور آب کا مطلب پانی ہے، دریائے چندرا اور دریائے بھاگا کے بالائی ہمالیہ میں ٹنڈی کے مقام پر ملاپ سے بنتا ہے، جو بھارت کی ریاست ہماچل پردیش کے ضلع لاہول میں واقع ہے۔ بالائی علاقوں میں اس کو چندرابھاگا کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ جموں و کشمیر کے جموں کے علاقہ سے بہتا ہوا پنجاب کے میدانوں میں داخل ہوتا ہے۔ پاکستان کے ضلع جھنگ میں تریموں کے مقام پر یہ دریائے جہلم سے ملتا ہے اور پھر دریائے راوی کو ملاتا ہوا اوچ شریف کے مقام پر دریائے ستلج سے مل کر پنجند بناتا ہے، جو مٹھن کوٹ کے مقام پر دریائے سندھ میں جا گرتا ہے۔ دریائے چناب کی کل لمبائی 960 کلو میٹر ہے، اور سندھ طاس معاہدہ کی رو سے اس کے پانی پر پاکستان کا حق تسلیم ہے۔ ویدک زمانہ (قدیم ہندوستان) میں اسکو اشکنی یا اسکمتی کے نام سے اور قدیم یونان میں آچےسائنز کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 325 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے سکندریہ (جو آج شاید اوچ شریف یا مٹھن کوٹ یا چچارن ہے) نام سے ایک شہر دریائے سندھ کے نزدیک پنجند کے سنگم پر تعمیر کیا۔ پنجابی تہذیب میں چناب کا مقام ایک علامت کے طور پر ہے جسکے گرد پنجابی سوجھ بوجھ گھومتی ہے اور ہیر رانجھا کی پنجابی رومانوی داستان دریائے چناب کے گرد ہی گھومتی ہے۔

ریلوےہندوستان ریلوے، جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر دنیا کا سب سے اونچا پل بنا رہی ہے جسکی تکمیل 2009ء میں متوقع ہے۔

 

 33-                                                    ۔ دریائے کابل

Kabulriverinjaa.jpg

دریائے کابل کا فضائی منظر

دریائے کابل

دریائے کابل ایک دریا کا نام ہے جو کہ افغانستان میں کوہ ہندوکش کی ذیلی شاخ کوہِ سنگلاخ سے نکلتا ہے اور پاکستان میں اٹک کے قریب دریائے سندھ میں مل جاتاہے۔ اس دریا کی کُل لمبائی 700 کلومیٹر ہے۔

 

۔ دریائے کرم                                         -34  

 

دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا

دریائے کرم پشتود کرمې سيند ۔ کرم ایجنسی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایک ایجنسی ہے۔ جو تمام ایجنسیز میں خوبصورت ترین اور اہم ایجنسی ہے۔ یھاں پر اکثریت بنگش قبائیل آباد ھیں۔اس کی سرحدیں ایک طرف افغانستان ، اورکزئی ایجنسی ، خیبر ایجنسی ، ٹل, ہنگو ، اور شمالی وزیرستان جبکہ کچھ حصہ بنوں سے ملتا ہیں۔کرم کی تین تحصیلیں پارہ چنار ، صدہ اور بگن ہے۔

افغانستان کے صوبے غزنی کے پہاڑوں سے متصل 50 میل دور کوہ سفید کے جنوبی حصے سے نکل کر علاقہ کرم ایجنسی میں قوم بنگش کے زمینوں کو سیراب کرتے ہوئے ٹل بلند خیل شاخ، بنگش خیل کے پاس سے گزرتا ہے۔ ضلع بنوں کی مغربی حد سے متصل پوسٹ کرم کے مقام مشرق سے بنوں میں داخل ہوتا ہے یہ دریا تقریباً ہر موسم میں بہتا ہے آس پاس پہاڑی برساتی نالے اس میں جاگرتے ہیں۔ ماضی میں برسات کے دنوں دونوں کناروں تک بہتا تھا مگر کرم گڑھی سکیم کے بعد دریا سنبھلنے لگا۔ اب ماضی کی طرح کہرام بپا نہیں کرتا۔ ماضی میں بہت سارے قصبات اور اراضی دریا برد ہوئے ہیں۔ دریائے کرم سے قبیلہ منگل نے پہلی بار نہر کچکوٹ نکالی تھی ایک دوسری ویال پٹونہ ہے جو بعد میں جنوب سے موجود اولاد شیتک کے عہد میں نکالی گئی ہے جس سے علاقہ ممد خیل وزیر سیراب ہوتا ہے۔ مجیر نکلسن نے ویال لنڈیڈوک ٹیلی رام تحصیلدار کی نگرانی میں 1855ء میں کھدوائی۔ اسے ٹیلی رام نہر بھی کہتے ہیں اس سے لنڈیڈوک کی چھ ہزار کنال اراضی قابل کاشت بن گئی ہے اس کے علاوہ ویال آمندی ویال ہنجل ، ویال منڈان، ویال فاطمہ خیل، خون بہا، ویال چشنہ اور ویال شاہ اسی دریائے کرم سے نکالی گئی ہیں۔ ویال شاہ جو یہ شاجہان کے بیٹے دارا سے منسوب کی جاتی ہے۔ بہتر نظامِ آبپاشی کے باعث بنوں ایک زرخیر جگہ ہے۔ دور سے دیکھا جائے تو بنوں جنگل نظر آتا ہے۔

Korm.JPG

دریائے کرم۔ کرم ایجنسی

 

۔ 35۔                                        دریائے کنہار 

دریائے کنہارناران کے مقام پر

دریائے کنھار

دریائے کنھار وادئ ناران، خیبر پختونخوا ، پاکستان میں لولوسر جھیل سے شروع ہوتا ہے۔ ملکہ پربت، سیف الملوک جھیل، مکڑا چوٹی اور وادئ کاغان کا پانی سمیٹتا ہوا دریائے جہلم سے آ ملتا ہے۔ اس کے پانیوں میں عمدہ ٹرا‎ؤٹ مچھلی ملتی ہے۔ بالاکوٹ سے ناران جانے والی سڑک اس کے کنارے سے گزرتی ہے۔ چٹانوں سے ٹکراتا ہوا اس کا پانی ایک خوبصورت مگر خوفناک منظر پیش کرتا ہے۔

 

دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا

 

۔  کورنگ ندی                                   ۔36   

کورنگ ندی

(Korang River) کورنگ ندی

۔ پنجاب، پاکستان میں ایک ندی ہے۔ یہ مری سے شروع ہو کر اسلام آباد کی طرف بہتی ہے۔

کورنگ ندی سلسلہ کوہ مارگلہ سے آنے والی دیگر ندیوں کےساتھ مل کر اسلام آباد میں مصنوعی راول جھیل بناتی ہیں۔ ندی جی ٹی روڈ سے قبل دریائے سواں میں شامل ہو جاتی ہے۔

کورنگ ندی

۔ 37۔                              دریائے گلگت  

دریائے گلگت

دریائے گلگت

دریائے گلگت شمالی پاکستان کا ایک دریا ہے۔ گلگت کے پیچھے سے شروع ہوتا ہے اور شہر کے ساتھ سے گزرتا ہے۔ پانی صاف ہونے کی وجہ سے اس میں ٹراؤٹ مچھلی بھی ہوتی ہے۔ دریائے ہنزہ سے ملنے کے بعد یہ دریائے سندھ سے ملتا ہے۔

۔  دریائے گومل                                                   -38 

دریائے گومل (Gomal River) (پشتو: ګومل سیند، ګومل دریاب, سنسکرت: गोमती) افغانستان اور پاکستان میں واقع ایک دریا ہے۔

پاکستان کے اندر دریائے گومل جنوبی وزیرستان سے گھرا ہوا ہے۔ یہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے درمیان سرحد بناتا ہے۔ جنوبی وزیرستان سے دریا پاکستان کے ضلع ٹانک، کی وادی گومل میں داخل ہوتا ہے۔

اور بنیادی طور پر یہاں دریائے گومل کا پانی وادی گومل وادی میں کاشت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ دریا بعد میں تحصیل کلاچی تحصیل ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی گزرتا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے 20 میل جنوب میں یہ دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔

جامعہ گومل کا نام دریائے گومل کے نام پر ہے۔ ای 7 اسلام آباد میں ایک سڑک کا نام بھی "گومل روڈ" ہے۔

 39-                                            ۔ دریائے ژوب

دریائے ژوب (Zhob River) (پشتو: ژوب سيند) بلوچستان اور خیبر پختونخوا، پاکستان میں واقع ہے۔ دریا کا نام اصل ایران زبان سے ہے۔ پشتو زبان میں، ژوب کا مطلب بہتا ہوا پانی ہے۔ دریائے ژوب کی کل لمبائی 410 کلومیٹر ہے۔

دریائے ژوب دریائے گومل کا معاون دریا ہے۔   دریائے گومل ڈیرہ اسماعیل خان سے 20 میل جنوب میں دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔

دریائے ژوب شمالی بلوچستان میں زمین کو سیراب کرتا ہے۔

 ۔ 40 ۔                       دریائے گھگر

دریائے گھگر

دریائے گھگر

دریائے گھگر (دیوناگری: घग्गर हकरा، گرمکھی: ਘੱਗਰ ਹਕਰਾ، شاہ مکھی: گهگـر هکره) پاکستان اور بھارت کا ایک دریا ہے جو زیادہ تر مون سون کے موسم میں رواں ہوتا ہے۔

۔ دریائے ہنزہ                                              -41

دریائے ہنزہ پاکستان کے شمالی علاقوں ہنزہ اور نگر کا اہم دریا ہے۔ بہت زیادہ مٹی اور چٹانی ذروں کی آمیزش کی وجہ سے یہ بہت گدلا ہے۔ مختلف گلیشیر اور خنجراب اور کلک نالے اسکی بنیاد ہیں۔ پھر اسی میں نلتر نالہ اور دریائے گلگت ملتے ہیں۔ بلآخر یہ دریائے سندھ میں مل جاتا ہے۔ شاہراہ ریشم اس دریا کے ساتھ چلتی ہے۔

 

دریائے ہنزہ کا فضائی منظر

 

دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا

 

دریائے ہنزہ پر ایک پل