ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

 


                                                        پاکستان کی جھیلوں کی تفصیل

 

آنسو جھیل

ملف:Ansoo lake small.jpeg

آنسو جھیل وادی کاغان میں واقع ایک جھیل ہے۔ جو ضلع مانسہرہ، خیبر پختونخوا، پاکستان میں واقع ہے۔ یہ کوہ ہمالیہ میں ملکہ پربت کے پاس واقع ہے۔

وقوع وادی کاغان, ہمالیہ
متناسق 34°48′49.98″N 73°40′35.94″E  
چلمچی ملک پاکستان
سطح کی بلندی 4245 m     (13927 ft)

وادی کاغان اور آنسو جھیل کی چند تصاویر

Lake Saiful Muluk - Kaghan Valley - Pakistan Ansoo Lake (Tear Lake) - Kaghan Valley - Pakistan Kaghan Valley - Pakistan

                                                                       بنجوسہ جھیل      

بنجوسہ جھیل : Banjosa Lake

  ایک مصنوعی جھیل اور مشہور سیاحتی مقام ہے۔ یہ راولاکوٹ سے 20 کلومیٹر دور ضلع پونچھ، آزاد کشمیر، پاکستان میں واقع ہے۔
بنجوسہ جھیل راولاکوٹ سے بذریعہ سڑک منسلک ہے۔ جھیل کے ارد گرد گھنا جنگل اور پہاڑ اس جھیل کو بے حد خوبصورت اور دلکش بناتے ہیں۔ یہاں گرمیوں میں بھی موسم خوشگوار رہتا ہے۔ سردیوں میں یہاں شدید سردی ہوتی ہے اور درجہ حرارت منفی 5 سینٹی گریٹ تک گر جاتا ہے۔

دسمبر اور جنوری میں یہاں برف باری بھی ہوتی ہے۔ سیاحوں کے قیام کے لیے یہاں مختلف سرکاری محکموں کی آرام گاہیں،نجی مہمان خانے اور طعام گاہیں موجود ہیں۔

تصاویر بنجوسہ جھیل

بنجوسہ جھیل کا ایک منظر

ملف:Rawalkot 3.jpg
وقوع راولا کوٹ، آزاد کشمیر
متناسق    ″N 73°48′59″E °48′38°33
چلمچی ملک پاکستان
سطح کی بلندی  1,981میٹر   6,500           فٹ

بنجوسہ جھیل، راولا کوٹ

بنجوسہ جھیل کا ایک منظر

     ۔                                       ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حمل جھیل

حمل جھیل ضلع قمبر-شہدادکوٹ، صوبہ سندھ، پاکستان میں واقع ہے۔ یہ لاڑکانہ شہر سے 58 کلومیٹر اور قمبر شہر سے 40 کلومیٹر دور ہے۔ اس جھیل کی لمبائی 25 کلومیٹر اور چوڑائی 10 کلومیٹر ہے اور یہ 2965 ايکڑ پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ میٹھے پانی کی جھیل ہے۔ كوه کیر تھر سے بہ کر آنے والے مختلف ندی نالے اس جھیل کے بننے کا سبب بنتے ہیں۔

یہ جھیل بے شمار پرندوں کا مسکن ہے اور سردیوں میں یہاں سائیبریا سے بھی مہاجر پرندے سردیاں گزارنے آتے ہیں۔ ۔ یہاں میٹھے پانی کی مچھلی بھی کافی تعداد میں پائی جاتی ہے۔ تاہم سیم نالے کا کھارا پانی جھیل میں ڈالنے کی وجہ سے یہ آلودگی کا شکار ہے اور یہاں کی جنگلی اور آبی حیات شدید متاثر ہے۔

 

۔                  زنگی ناوڑ جھیل   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔         

زنگی ناوڑ جھیل

زنگی ناوڑ جھیل بلوچستان کے ضلع نوشکی کے جنوب مغرب میں48کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور بے پناہ خوبصورتی کی وجہ سے ایک منفرد قدرتی تفریح مقام ہے ۔ زنگی ناوڑ کا کل رقبہ 1060ایکڑ پر پھیلا ہو اہے اس کی لمبائی12.8کلو میٹر ہے ۔بھاری بارشوں کے موسم کے نتیجے میں جھیل پانی سے بھر جاتی ہے گرمیوں کے موسم میں پانی کا لیول 0.9تک رہ جاتا ہے اب تک زنگی ناوڑ میں سالانہ اوسطاً76ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔خوبصورت زنگی ناوڑ جھیل ماضی میں مختلف پرندوں اور جنگلی حیات کا مسکن تھا ،آبی پرندے بطخ، چنکارا، انڈین گزیل، ماربلڈ ٹیل، وائیٹ ٹیلڈ، کیپونگ، لٹل گریب، موراین، برش فٹڈجربوہاز،ٹرکنٹس،پلیٹ ٹیلڈ گیکف، یلو اپیکلڈ ٹوڈو ایئر زنگی ناوڑ کے خوبصورت ماحول کا حصہ ہوا کرتے تھے ۔جہاں کبھی90,000تک پرندے اڑتے تھے اور ان کی افزائش نسل بھی یہی ہوتی تھی آج سالانہ 1000پرندے بھی نہیں آتے ۔یہ خوبصورت جھیل بے دریغ شکار اور لاپرواہی کے باعث ایک تاریخ بن چکی ہے ۔

 

   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیف الملوک

جھیل سیف الملوک

جھیل سیف الملوک

جھیل سیف الملوک ناران پاکستان میں 3224 میٹر/10578 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ ناران کے قصبے سے بذریعہ جیپ یا پیدل اس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت جھیل ہے۔ ملکہ پربت، اور دوسرے پہاڑوں کا عکس اس میں پڑتا ہے۔ سال کے کچھ مہینے اس کی سطح برف سے جمی رہتی ہے۔

 

۔عطا آباد جھیل                       ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

عطا آباد جھیل وادئ ہنزہ, صوبہ گلگت بلتستان, پاکستان میں واقع ہے۔ یہ جھیل پہاڑ کے ایک حصے کے سرکنے یعنی لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں 2010ء میں وجود میں آئ۔ یہ جھیل عطا آباد نامی گاؤں کے نزدیک ہے جو کریم آباد سے 22 کلومیٹر اوپر کی جانب واقع ہے

یہ واقعہ 4 جنوری 2010ء میں پیش آیا جب زمین سرکنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے اور شاہراہ قراقرم کا کچھ حصہ اس میں دب گیا اور دریائے ہنزہ کا بہاؤ 5 ماہ کے لئے رک گیا۔ جھیل کے بننے اور اس کی سطح بلند ہونے سے کم از کم 6000 افراد بے گھر ہوئے جبکہ 25000 مزید افراد متائثر ہوئے۔

اس کے علاوہ شاہرائے قراقرم کا 19 کلومیٹر طویل حصہ بھی اس جھیل میں ڈوب گیا۔ جون 2010ء کے پہلے ہفتے میں اس جھیل کی لمبائی 21 کلومیٹر جبکہ گہرائی 100 میٹر سے زیادہ ہو چکی تھی۔ اس وقت پانی زمین کے سرکنے سے بننے والے عارضی بند کے اوپر سے ہو کر بہنے لگا۔ تاہم اس وقت تک ششکٹ کا نچلا حصہ اور گلمت کے کچھ حصے زیر آب آ چکے تھے۔

گوجال کا سب ڈویژن سیلاب سے سب سے زیادہ متائثر ہوا جہاں 170 سے زیادہ گھر اور 120 سے زیادہ دوکانیں سیلاب کا شکار ہوئیں۔ شاہرائے قراقرم کے بند ہونے سے خوراک اور دیگر ضروری ساز و سامان کی قلت پیدا ہوگئی۔ 4 جون کو جھیل سے نکلنے والے پانی کی مقدار 3700 معکب فٹ فی سیکنڈ ہو چکی تھی۔

لینڈ سلائیڈ کے نتائج و عواقب

زمین کے سرکنے اور جھیل کی سطح بلند ہونے پر حکومتی عدم توجہ کے خلاف متائثرہ افراد نے احتجاج شروع کر دیا کہ ان کے مالی نقصان کا معاوضہ دیا جائے۔موجودہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور سابقہ وزیرِ اعظم نواز شریف کے علاوہ پنجاب کے وزیرِ اعلٰی شہباز شریف نے بھی عطا آباد کا دورہ کیا۔

حکومتِ پنجاب کی جانب سے شہباز شریف نے متائثرین کی امداد کے لئے 10 کروڑ روپے اور لینڈ سلائیڈ سے مرنے والے افراد کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلان کیا۔ ¨جون 2010 کے پہلے ہفتے میں جب پانی بند کے اوپر سے بہنے لگا تو نشیبی علاقوں کے لوگ سیلاب کے خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہونے لگے۔

تاہم حکومتی اور امدادی اداروں کے مطابق کسی بھی بڑے سیلاب کے امکانات بہت کم تھے۔ بہت سارے لوگوں کو بننے والے 195 امدادی کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا۔ بہاؤ کے پاس موجود دو ہسپتالوں کو بھی خالی کر الیا گیا۔ چند سرکاری افسران کا یہ اندازہ غلط نکلا کہ جھیل کے بھرنے کے بعد جو پانی بہے گا وہ 60 فٹ بلند لہر کی صورت میں ہوگا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔منچھر جھیل۔

منچھر جھیل (Lake Manchar)

پاکستان میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ یہ دریائے سندھ کے مغرب میں واقع ضلع دادو، سندھ میں بہتی ہے۔

اس جھیل کا رقبہ مختلف موسموں میں 350 مربع کلومیٹر سے 520 مربع کلومیٹر تک ہوتا ہے۔ كوه کیر تھر سے بہ کر آنے والے مختلف ندی نالے اس جھیل کے بننے کا سبب بنتے ہیں۔ اس جھیل میں دریائے سندھ سے بھی پانی ڈالا جاتا ہے۔

یہ جھیل بے شمار پرندوں کا مسکن ہے اور سردیوں میں یہاں سائیبریا سے بھی مہاجر پرندے سردیاں گزارنے آتے ہیں۔ یہاں میٹھے پانی کی مچھلی بھی کافی تعداد میں پائی جاتی ہے۔ تاہم سیم نالے کا کھارا پانی جھیل میں ڈالنے کی وجہ سے یہ آلودگی کا شکار ہے اور یہاں کی جنگلی اور آبی حیات شدید متاثر ہے۔

یہ ایک تفریحی مقام بھی ہے اور تعطیلات کے دنوں میں کافی لوگ تفریح کے لیے یہاں آتے ہیں۔

منچھر جھیل

منچھر جھیل -
متناسق    / 26.423; 67.673 26.423°N 67.673°E / 26.423; 67.673
داخلی بہاؤ اولٰی نہر ارل واہ، نہر دانستر
خارجی بہاو اولٰی دریائے سندھ
چلمچی ملک پاکستان
 
رقبہِ سطح  کلومیٹر² 350سے 520 کلومیٹر

منچھر جھیل

 

منچھر جھیل پر کشتیوں میں آباد سینکڑوں ماہی گیر جھیل کا پانی آلودہ ہونے کے باعث اب جھیل سے باہر آ کر رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور بڑی بڑی کشتیوں میں جھونپڑے بنا کر رہنے کا خوبصورت اور انوکھا طرز حیات دم توڑ رہا ہے۔

صوبہ سندھ کے ضلع دادو میں واقع منچھر کو ایشیا بھر میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل کے طور پر جانا جاتا تھا لیکن یہ اب تباہی کا شکار ہو چکی ہے۔ آج جھیل اپنی آلودگی کے باعث آبی جانداروں اور ان پر انحصار کرنے والے انسانوں کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ رائٹ بنک آؤٹ فال ڈرین’ آر بی او ڈی ‘ کے ذریعے کھارے اور آلودہ پانی کا اس جھیل میں پھینکا جانا ہے۔ جھیل میں بارشوں اور سیلاب کے دنوں میں جب پانی کی سطح خطرے کے نشان یعنی سولہ فٹ تک بلند ہوجاتی توجھیل سے نہروں کے ذریعے اس پانی کا نکاس کیا جاتا۔ دوہزار چار کے دوران جھیل میں پانی کی سطح کم کرنے کے لیے جب منچھر سے پانی چھوڑا گیا تو اس آلودہ پانی کو پی کر حیدرآباد اور دوسرے علاقوں میں اٹھاون ہلاکتیں ہوئیں۔ اس واقع کے بعد سے جھیل کا پانی نہروں میں نہیں چھوڑا جاتا، جس کی وجہ سے پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، اس وقت منچھر میں پانی کی سطح چودہ فٹ ہے جو خطرے کے نشان سے صرف دو فٹ کم ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر جھیل میں پانی کی سطح کم کرنے کے لیے اسے نہر میں نہ چھوڑا گیا تو جھیل کا بند ٹوٹنے کی صورت میں بڑے پیمانے پر تباہی کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ پانی کی آلودگی کی وجہ سےجھیل میں موجود نہ صرف مچھلیوں کی نشو ونما نہیں ہو رہی بلکہ ان کی تعداد میں بھی نمایاں کمی ہو رہی ہے۔ جھیل کے کنارے پر آباد منچھر بند نامی گاؤں کے ملاح مولا بخش کا کہنا ہے کہ اب اُنہیں صرف چھوٹی مچھلیاں ہی ملتی ہیں اور وہ بمشکل دن میں دس سے پندرہ روپے کماتے ہیں۔ مولا بخش کے بقول چند سال پہلے تک وہ روزانہ ایک سے ڈیڑھ من بڑی مچھلی پکڑتے تھے جس کی قیمت بھی زیادہ ملتی تھی۔ ’اب بھی پرانے وقت کو یاد کر کے ہم روتے ہیں حکومت نے اس جھیل کو بنایا نہیں تباہ کیا ہے‘۔منچھر جھیل کے آلودہ پانی نے نہ صرف آبی جانداروں کو بُری طرح متاثر کیا بلکہ جھیل کے اندر اُگنے والی سبزیاں بھی جن میں ’ قم اور بہی‘ شامل ہیں بہت حد تک ختم کر دی ہیں۔اس کے علاوہ منچھر میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث اردگرد کے علاقوں کی زرعی زمینیں بھی سیم کا شکار ہو کر بنجر ہو رہی ہیں۔ اکثر ملاح اب مچھلی نہ ملنے کی وجہ سے دوسرے علاقوں میں چلے گئے ہیں جن میں گوادر سر فہرست ہے۔ اور کچھ ملاح تو اب اپنا آبائی کام چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں مزدوری کرتے ہیں اور گاؤں میں اکثریت عورتوں ہی کی رہ گئی ہے۔پانی آلودہ ہونے کی وجہ سے چٹائی بُننے کے لیے جھیل کے اندر اُگنے والی ’ کندر‘ بھی ختم ہو گئی ہے اور گاؤں کی وہ خواتین جو کندر سے چٹائی بنانے کا کام کرتی تھیں اب ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران بے روزگاری بڑھنے کی وجہ سے بیس سے تیس ہزار لوگ اس جھیل سے چلے گئے ہیں۔ بڑے بڑے زمیندار اور سرکاری افسر مچھلی اور پرندوں کے شکار کے لیے یہاں آتے تھے۔ ’اب نہ مچھلی رہی نہ وہ پرندے، اس لیے لوگ بھی نہیں آتے۔ ماحولیات کے وزیر مملکت ملک امین اسلم کا اس ساری صورت حال کے بارے میں کہنا تھا کہ حکومت نے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر ’پاکستان ویٹ لینڈ پروجیکٹ‘ کے نام سے ملک بھر میں موجود آبی ذخائر کو بچانے کے لیے ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ اور منچھر جھیل جو سندھ میں پانی کا ایک اہم ذخیرہ ہے اُس منصوبے میں شامل ہے۔ماحولیات کے حوالے سے کام کرنے والے ایک عالمی ادارے ’ڈبلیو ڈبلیو ایف‘ سے منسلک ڈاکٹر اعجاز احمد کا کہنا تھا کہ جھیل کو بچانے کے لیے ایک سنجیدہ اور جامعہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر اعجاز کا مزید کہنا تھا کہ صرف جھیل میں موجود پانی ہی خراب نہیں ہوا بلکہ زیر زمین پانی بھی متاثر ہوا ہے اور اس سارے عمل کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے لمبے عرصے تک کام کرنے کی ضرورت ہے۔ منچھر سے اب بھی ہزاروں لوگوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے، لیکن منچھر کے قریبی علاقوں کے رہنے والے اکثر لوگ بے یقینی کی کیفیت کے باوجود اس علاقے کو چھوڑ کر جانے کے لیے آمادہ نظر نہیں آتے۔ اگر منچھر کی رونق کو بحال کر لیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف مقامی آبادی کی زندگی دوبارہ لوٹ آئے گی بلکہ وہ پرندے جنہوں نے منچھر سے منہ موڑ لیا تھا دوبارہ اس جھیل کا رخُ کریں گے۔

تصاویر منچھر جھیل

 

                                            مہودند جھیل

مہودند جھیل

مہودند جھیل کالام سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر وادی اسو، ضلع سوات، خیبر پختونخوا، پاکستان میں واقع ہے۔ اس جھیل میں مچھلیوں کی بہتاب ہے اس لیے اسے مہودند جھیل یعنی مچھلیوں والی جھیل کہا جاتا ہے۔یہاں بذریعہ جیپ پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ تفریح اور مچھلیوں کے شکار کے لیے بہت اچھی جگہ ہے۔

مہودند جھیل
 

   ڈرگ جھیل                               

ڈرگ جھیل ضلع قمبر-شہدادکوٹ، صوبہ سندھ، پاکستان میں واقع ہے۔ یہ لاڑکانہ شہر سے 29 کلومیٹر اور قمبر شہر سے 7 کلومیٹر دور ہے۔ یہ میٹھے پانی کی جھیل ہے اور یہ 2965 ايکڑ پر پھیلی ہوئی ہے۔ كوه کیر تھر سے بہ کر آنے والے مختلف ندی نالے اس جھیل کے بننے کا سبب بنتے ہیں۔

ڈرگ جھیل بے شمار پرندوں کا مسکن ہے اور سردیوں میں یہاں سائیبریا سے بھی مہاجر پرندے سردیاں گزارنے آتے ہیں۔ اس جھیل کو 1972ء میں پرندوں کے لیے محفوظ قرار دے دیا گیا ہے۔

یہاں سیاحوں کے قیام کے لیے ایک آرام گاہ بھی واقع ہے۔

 

۔کلر کہار جھیل    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Visit To Hari Pur, Khewra And Kallar Kahar (97).JPG

کلر کہار جھیل

کلر کہار جھیل ضلع چکوال، صوبہ پنجاب، پاکستان میں موٹروے ایم-ٹو کے ساتھ واقع ہے۔ یہ نمکین پانی کی جھیل ہے۔

یہ ایک مشہور اور مقبول سیاحتی مقام بھی ہے۔ سیاح یہاں مچھلی کے شکار اور کشتی رانی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جھیل کے کنارے مختلف جھولے بھی لگے ہوے ہیں۔ یہاں سیاحوں کے قیام کے لیے محکمہ سیاحت پنجاب کی قیام گاہ موجود ہے۔

 

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کھبکی جھیل

کھبکی جھیل
کھبکی جھیل - قریبی راستے سے لی گئی ایک تصویر
قریبی راستے سے لی گئی ایک تصویر

کھبکی جھیل

کھبکی جھیل جنوبی سلسلہ کوہ نمک پاکستان کی ایک میٹھے پانی کی ایک جھیل ہے۔ شروع میں اس کا پانی نمکین تھا۔ اب اس میں ایک چینی قسم کی مچھلی متعارف کرائ گئ ہے۔

اس کی چوڑائ 1 کلومیٹر اور لمبائی 2 کلومیٹر ہے۔ کھبکی اس جھیل کے قریب واقع گاؤں کا نام بھی ہے۔ جھیل اوچھالی اس سے کچھہ فاصلے پر ہے۔

چلمچی ملک پاکستان
لمبائیِ کبیر 2 km
چوڑائیِ کبیر 1 km

 

۔کینجھر جھیل                      

کینجھر جھیل

کینجھر جھیل جو عام طور پر کلری جھیل کہلاتی ہے کراچی سے ایک سو بائیس کلومیٹر کی مسافت پر ضلع ٹھٹہ، صوبہ سندھ، پاکستان میں واقع ہے۔ یہ پاکستان میں میٹھے پانی کی دوسری بڑی جھیل ہے۔ یہ جھیل ضلع ٹھٹہ اور کراچی میں فراہمی آب کا ایک اہم زریعہ ہے۔ جھیل بے شمار پرندوں کا مسکن ہے اور اس کو پرندوں کے لیے محفوظ قرار دے دیا گیا ہے۔ سردیوں میں یہاں سائیبریا سے بھی مہاجر پرندے سردیاں گزارنے آتے ہیں۔

کینجھر جھیل ایک مشہور اور مقبول سیاحتی مقام بھی ہے۔ تعطیلات کے دنوں میں کراچی کے ہزاروں لوگ تفریح کے لیے یہاں آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کینجھر جھیل پر ایک ہفتے میں سترہ ہزار لوگ سیر کرنے آتے ہیں مگر ان کے قیام کے لیے یہاں کوئی معیاری بندوبست نہیں ہے اس لئے وہ جلد ہی چلے جاتے ہیں۔ کیبنجھر جھیل میں موٹر پر چلنے والی چھوٹی کشتیاں ہی سیاحوں کی واحد تفریح ہیں۔

وقوع ضلع ٹھٹہ، سندھ، پاکستان
متناسق 24°57′N 68°03′E  / 24.95; 68.05
چلمچی ملک Flag of پاکستان پاکستان
لمبائیِ کبیر 24 کلومیٹر
چوڑائیِ کبیر 6 کلومیٹر
رقبہِ سطح 13,468 ہیکٹر
پانی کا حجم 0.53 ملین ایکڑ فٹ
کینجھر جھیل
ڪينجهر ڍنڍ
کینجھر جھیل  ڪينجهر ڍنڍ -  کینجھر جھیل
کینجھر جھیل

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہالیجی جھیل۔

Haleji Lake
وقوع ٹھٹھہ, سندھ, پاکستان
متناسق  24.8059107°N 67.7794817°E / 24.8059107; 67.7794817
چلمچی ملک پاکستان
آبادیاں ٹھٹھہ, کراچی

ہالیجی جھیل

ہالیجی جھیل ضلع ٹھٹہ، صوبہ سندھ، پاکستان میں واقع ہے۔ یہ کراچی سے 82 کلومیٹر اور ٹھٹہ سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مغرب میں واقع ہے۔ یہ ایشیاء میں پرندوں کی سب سے بڑی محفوظ پناہ گاہ ہے۔

لمبائیِ کبیر 2 کلومیٹر
چوڑائیِ کبیر 2 کلومیٹر
رقبہِ سطح 4 مربع کلومیٹر
اوسط گہرائی 250 میٹر
گہرائیِ کبیر 250میٹر

 

۔ہنہ جھیل                                     

ہنہ جھیل

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے شمال کی طرف تقریباً دس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع سنگلاخ چٹانوں میں 1894 میں تاج برطانیہ کے دور میں لوگوں کو سستی فراہمی زیر زمین پانی کی سطح بلند رکھنے اور آس پاس کی اراضی کو سیراب کرنے کے لیے ہنہ جھیل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ہنہ جھیل موسم سرما میں مہاجر پرندوں کی بہترین آماجگاہ رہی سائبیریا سے آنے والے آبی پرندوں جن میں بڑی تعداد میں مرغابیوں اور Mallards کی ہوتی تھی جو موسم سرما میں پہنچتے اور موسم بہار کی آمد تک یہیں رہتے اور افزائش نسل بھی کرتے تھے ۔1818 ایکڑ رقبے پر پھیلی اس جھیل میں32کروڑ20لاکھ گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے اور گہرائی تقریباً 43فٹ ہے بارشوں اور برفباری کا پانی مختلف گزرگاہوں سے ہوتا ہوا اوڑک روڈ پر واقع براستہ سرپل جھیل تک پہنچتا ہے ۔
 ۔1994سے1997 تک جھیل میں پانی کی سطح برقرار رہی سرپل کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے2000سے2004تک جھیل مکمل خشک رہی۔ کوہ زرغون سے برفباری اور بارش سمیت اوڑک کے قدرتی چشموں کے پانی کو جھیل تک لانے کے لیے تاج برطانیہ دور میں سرپل تعمیر کیا گیا اور وہاں لوہے کے پانچ دروازوں اور پانچ سرنگوں کی تعمیر کی گئی تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جاسکے اور پانی جھیل تک پہنچے جھیل کو بہترین سیاحتی مقام بنانے اور لوگوں کو سستی تفریح اور ماحولیات کی بہتری کے لیے جھیل کا کنٹرول پاک فوج کے حوالے کیا گیا۔ تفریح کے لیے آنے والوں سے ٹکٹ لیا جاتا ہے تاکہ جھیل پر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ سالانہ لاکھوں روپے ٹکٹوں کی مد میں وصول کرنے کے باوجود جھیل کی بہتری پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ہنہ جھیل میں اب پانی کی سطح بتدریج گرنا شروع ہوگئی ہے اس وقت پانی کی سطح کم ہوکر آٹھ فٹ رہ گئی ہے۔ پانی کی گرتی ہوئی سطح سے جہاں سائبیریا کے پرندوں کا پڑاو اور سیاحت و تفریح متاثر ہوئے ہیں وہاں آس پاس کے باغات بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ قدرتی و ماحولیاتی نظام بھی متاثر ہو چکا ہے ۔اس جھیل میں کشتی رانی کی تربیت دی جاتی ہے اور یہاں کشتی رانی کے کئی مقابلے بھی ہوچکے ہیں۔یہ جھیل درمیان مین سے بہت گہری ہے جس کے سبب یہاں کئی حادثات بھی رونما ہوچکے ہیں ۔چند برس قبل جھیل میں چلنے والی کشتی میں ضرورت سے زائد افراد بٹھانےکے سبب کشتی الٹ گئی اور پندرہ سے زائد افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔اب فوج کی نگرانی میں ضروری حفاظتی انتظامات کے ساتھ یہاں آنے والوں کو کشتی کی سیر کروائی جاتی ہے۔جھیل کے قریب نصب لفٹ چئیر کو ایک حادثے کے بعدہٹا دیا گیا تھا ۔

ہنہ جھیل
ہنہ جھیل - موسم سرما میں ‌ہنہ جھیل کا ایک منظر
موسم سرما میں ‌ہنہ جھیل کا ایک منظر
وقوع ہنہ اوڑک وادی (کوئٹہ) پاکستان
متناسق ′N 67°06′E / 30.25°N 67.1°E / 30.25; 67.1
چلمچی ملک پاکستان
 
ہنہ جھیل پر پاکستانی پرچم لہراتا ہوا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہڈیری جھیل 

ہڈیری جھیل ضلع ٹھٹہ، صوبہ سندھ، پاکستان میں واقع ہے۔ یہ ٹھٹہ شہر کے شمال مغرب میں 14 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ہڈیری جھیل بے شمار پرندوں کا مسکن ہے اور اس کو پرندوں کے لیے محفوظ قرار دے دیا گیا ہے۔ سردیوں میں یہاں سائیبریا سے بھی مہاجر پرندے سردیاں گزارنے آتے ہیں۔