ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

نشتر گھا ٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک تا ریخی جا ئزہ

تحقیق :۔ ڈا کٹر پرو فیسر شکیل پتا فی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    تحریر و ترتیب:۔ کمال فرید ملک ۔ خادم شہر فریدؒ

کو ٹ مٹھن اور چا چڑا ں کے درمیان کشتیوں کا پُل 1950 میں منظو ر ہو ا ۔ اس پُل کی منظوری اس وقت کے گو رنر پنجا ب سردار عبدالرب نشتر کا عظیم کا رنا مہ تھا جسے انہی کے نا م سے منسوب کرتے ہو ئے نشتر گھاٹ کہا جا نے لگا ۔3 دسمبر 1950کو سردار عبدالرب نشتر نے کو ٹ مٹھن آکر اپنے دست مبا رک سے نشتر گھا ٹ کا افتتاح کیا ۔سروے کے مطا بق اس پل کے لئے 130کشتیوں کا تخمینہ لگا یا گیا جس کے لئے لکڑی خیر آبا د ( پشا ور ) سے منگو ائی گئی ۔ ان دنو ں دریا کا بہا ؤ کو ٹ مٹھن کے قریب زیا دہ تھا اس کے لئے کو ٹ مٹھن سے چا چڑا ںجا تے ہو ئے پہلا پل84 کشتیوں کا بنا یا گیا ۔ دوسرا پل 17کشتیوں اور تیسرا8 کشتیوں پر مکمل ہو ا۔ اس طرح پہلی مرتبہ بنائے جا نے والے تین پلوں پر 109کشتیاں کام آئیں ۔گرمیوں کے مو سم میں مسا فروں کی سہو لت کے لئے ابتدا ء میں چھ عدد فیری بو ٹس منظور ہو کر آئیں جن میں سے چا ر سواریوں کے لئے اور دو سا ما ن کے لئے استعمال میں لا ئی جا تی تھیں ۔بعد میں دو پیٹرول لا نچیں اور بھی منگو ائی گئیں لیکن رو زبروز آمد ورفت کی بڑھتی ہو ئی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہو ئے1954 میں غا زی گھا ٹ سے ایک بڑا جی، جہا ز لا کر کو ٹ مٹھن اور چا چڑا ں کے روٹ پر چلا یا گیا ۔ تین سا ل بعد محکمہ ہا ئی وے نے نو اب بہا ول پو ر سے انڈس کو ئین نامی ایک اور بڑا جہا ز خریدا ۔ ( نواب آف بہاول پور کا یہ بحری جہاز اُن کے ذاتی استعمال میں رہا تھا اور اس تاریخی جہاز کا استعمال صرف نواب صاحب اپنے پیر و مرشد خواجہ غلام فریدؒ سے ملاقات پر آنے کے لئے کیا کرتے تھے ۔ اور بوقت ضرورت خواجہ ٖفریدؒ بھی اس جہاز کا استعمال کیا کرتے تھے اس جہاز کی تین منزلیں تھیں ایک منزل پانی کے اندر اور دو اُوپر تھیں اس جہاز میں خواتین کے لئیعلیعٰدہ کیبن بنائے گئے تھے۔جب کہ فیملی کے لئے علیعٰدہ کیبن بنئے گئے تھے۔ جن میں آرام دہ صوفہ سیٹ اور بیڈ موجود تھے ۔ جہاز کے ہر کیبن اور ہال میں لائیٹ اور پنکھے موجود تھے۔ مسافروں کے لئے ایک خوبصورت اور کشادہ کینٹین بنائی گئی تھی۔ ضرورت کی ایشیاء کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا تھا۔ جہاز میں کسی بھی حادثہ کی صورت میں بہتر حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔)شو مئی قسمت 1968میں اس جہا ز کو آگ لگ گئی جو کو ٹ مٹھن کی تا ریخ میں ایک بہت بڑا سا نحہ تھا ۔ یہ حا دثہ ملا زمیں کی غفلت سے پیش آیا ۔ اس کے سا تھ ہی محکمہ ہا ئی وے نے نشتر گھا ٹ کو ٹھیکدار انہ سسٹم پر دینے کا فیصلہ کر لیا ۔ جو اس نطام کی تباہی اور بربادی ہی نہیں بلا آخر بند ہونے کا سبب بنا ۔ اور یہ طریقہ کا ر2005 تک چلتا رہا اس کے بعد جب سردار علی رضا خان دریشک ضلع ناظم بنے تو اُنہوں نے اس ٹھیکہ داری سسٹم کو ختم کر کہ اس پپل کے راستے عوام الناس کی آمد ورفت پر عائد تمام ٹیکس ختم کر دئیے ۔ اور اس سلسلہ میں تمام اخراجات ضلع حکومت اُٹھانے لگی ، بے شک اُن کے ضلع ناطم رہنے تک لوگوں کو یہ سہولت حاصل رہی لیکن اس کے بعد نئی حکومت کے آنے پر بے شک یہ ٹیکس تو دوبارہ عائد نہ ہوئے لیکن وقت کے حاکموں نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر ان آبی راستوں پر بحری قضاقوں کی طرح قبضہ کر لیا اور سرکار سے کئی گناہ ٹیکس ان آبی گزر گاہوں پر مسافروں سے وصول کیا جاتا ہے۔ اور وقت کہ یہ ظالم جابر حکماب اور نام نہاد وڈیرے دن رات لوگوں کا خون چوسنے میں مصروف ہیں اور ضلعی انتظامیہ بے کس ومجبور خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے معروفٹھیکہ دا ران :۔محمد اکرم گو پانگ (مرحوم ) ، محمد افضل دریشک (مرحوم ) ، حا جی حبیب اللہ خا ن دریشک کے نام شامل ہیں ۔جنگ 1965کے دوران سرگو دھا میں دریا ئے جہلم پر پتن ڈھا ک کے مقام پر بھا رتی حملے کا خطرہ تھا ۔ حفظِ ما تقدم کے طور پر نشتر گھا ٹ سے60 کشتیاں بذریعہ ریل گا ڑی سرگو دھا بھجو ائی گئیں ۔ جنگ کا خطرہ ٹل جا نے کے بعد60میں سے41کشتیاں واپس آئیں جنہیں احمد بخش خا ن رند (جعمٰدار ہائی وے) د ریا ئی راستہ کے ذریعے واپس کو ٹ مٹھن لے کرآیا ۔منا سب دیکھ بھا ل نہ ہو نے کی وجہ سے نشترگھاٹ کی کشتیوں میں آہستہ آہستہ کمی واقع ہو تی گئی ۔ حتیٰ کہ 1990 تک 130میں سے قابل استعما ل کشتیوں کی تعداد80 رہ گئی ۔ 1992کے سیلا ب میں29 مزید کشتیاں غرق ہو گئیں ۔ با قی 50 کشتیاں تین پلوں کے لئے نا کا فی تھیں اس لئے 94۔ 1993 میں دو سال متواتر نشتر گھا ٹ پر کو ئی پل تعمیر نہیں ہو ا۔ یہ ایسا مو قع تھا کہ ایک طرف تو عوام پختہ پل کی تعمیر کرنے کا مطا لبہ کر رہے تھے جبکہ دوسری طرف عوامی ضرورت دو سال سے کشتیوں کے عارضی پل سے محروم تھی ۔ بلا آخر سردار فاروق احمد خان لغاری نے جو اُسوقت صدر پاکستان تھے اُن کی خصوصی مہربانی سے 1995میں نشتر گھا ٹ کے لئے لو ہے کی پختہ کشتیوں کا پُل منظور ہوا اور اُسوقت کے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب میاں افضل حیات نے اس پپل کا افتتاع کیا۔ جسپر بھا ری ٹریفک آسانی کیساتھ گزر سکتی ہے ۔ اب گزشتہکئی سالو ں سے انہی کشتیوں کے ذریعے پل تعمیر ہو تا ہے ۔ محکمہ ہائی وے کی جانب سے کئے جانے والے وہ تمام انتظامات جو عرصہ دراز سے کئے جاتے تھے وہ سب وقت کے ساتھ بہتر ہونے کے بجائے مزید بدتر ہوتے چلے گئے ۔ پہلے انڈس کوئین کو آگ لگی اس کے بعد لکڑی کے بنے ہوئے مسافر خانوں کی تباہی کا مرحلہ شروع ہوا اور پھر دوسرا بڑا اور اکلوتا جی جہاز بھی ناکارہ ہو گیا اور اس کی مرمت کا کام بھی نہ کرایا گیا اور اسے بھی انڈس کوئین کی طرح کباڑ خانے کی مانند دریا کے ایک کنارے لگا دیا گیا اور ان کی نگرانی پر متعین عملہ ہی خود اہنے آفیسران کے ہمراہ ان کے پپرزے اور ان استعمال شدہ قیمتی لکری چرانے کا عمل جاری کئے رہے اور اب ان حالت ایسی ہے کہ قابل دید۔ اس اکلوُتے جہاز کے ناکارہ ہونے کے بعد گرمیوں میں سرکا ری طو ر پر کو ئی انتظا م نہ ہو نے کے با عث اس دریا ئی روٹ پر پرا ئیوٹ لا نچیں چلتی ہیں ۔ کو ٹ مٹھن میں محکمہ ہا ئی وے کا ایک گو دا م اور ایک ر یسٹ ہا ؤ س بھی ہے ۔ گو دا م میں نشتر گھا ٹ سے متعلق سا ما ن کو رکھنے اور منا سب دیکھ بھال کرنے کا کا م سرانجا م دیا جا تا تھا اسی گودام میں ہائی وے ورکشاپ بھی قائم کی گئی تھی ۔ جہاں کشتیوں ۔ مسافر خانوں ۔ جہاز اور دیگر ایشیاء کی مرمت ، بحالی کا کام سرانجام دیا جاتا تھا اور ضرورت کے تھت نئی کشتیاں بھی بنائی جاتی تھیں اس سلسلہ کے لئے محکمہ ہائی وے کے پاس تمام کاریگر اور انجینئرز اور ہمہ قسم مشینری موجود تھی اور ہے۔ اب بھی اس محکمہ کے پاس بھاری مکینیکل مشینری اور آلات موجود ہیں اسی گودام میں شیشم اور دیار کی قیمتی لکڑی کا ذخیرہ بھی کیا جاتا تھا ۔ گو دا م اور ریسٹ ہا ؤس 28کنال14 مرلے رقبہ میں واقع ہے ۔