ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

مساجد شہر فریدؒ  کوٹ مٹھن
کو ٹ مٹھن کی بے شمار مساجد میں سے اس وقت کم و بیش اکیس (21)تاریخی مسا جد ہیں جو شہر میں مختلف مقا ما ت پر واقع ہیں ۔
اکثر مساجد میں پنچگانہ نما ز کی ادائیگی با قا عدگی کے سا تھ ہو تی ہے ۔
ان میں سے چند مساجد کا تفصیلی مطا لعہ درج ذیل ہے ۔
مسجد دربا ر عالیہ حضرت خواجہ غلام فرید ؒ
یہ کو ٹ مٹھن کی قدیمی مسجد ہے جو دربار حضرت خواجہ غلام فریدؒ کو ریجہ کے احاطے میں واقع ہے۔ اس مسجد کی تعمیر حا جی محمد مسو خا ن نے مکمل کرائی اور ساتھ ہی وضو کر نے کی غرض سے ایک پختہ تا لا ب بھی بنوایا جو اب تک مو جو د ہے جسے چمنً کے نام سے مو صوم کیا گیا ۔اس مسجد کی تعمیر کا کام 1871ء میں مکمل ہو ا۔ پختہ چھوٹی اینٹوں سے بنی ہو ئی اس مسجد کی تعمیرپرانی طرزکی تعمیراتی نقائش کا عمدہ نمونہ ہے ۔
مسجد کے دروازے پر مسو خان کے نام کا یہ کتبہ لگا ہے
محمد مسو خا ن حا جی حرم                           بنا کرد ایں مسجد از صدقِ دم
الہی بر آور مراداتِ او                                مصاعف بکن جملہ حسنات او
خرد گفت تا ریخ خمش نویس
زہی مسجد ی فرخ و بس نفیس

آج بھی اس مسجد کا طرز تعمیر اپنی مثال آپ ہے ،اور اس کی اندر کی عمارت میں عربی اور فارسی کی تحریریں، آیات کریمہ اور بقش ونگار قائیم ہیں تاہم کچھ کو از سر نو تازہ کیا گیا ہے ، لیکن اپنی اصل حالت میں۔

حاجی مسو خان کا تعمیر کردہ کمرہ  مسجدشرقاً غرباً مو جو دہ پیمائش کا نفس تھا ۔ یعنی وہ کمرہ صرف اند ر کے ستو نوں تک محدود تھا ۔بعد ازاں 1947ء میں دیوان سید عبداللہ بخا ری نے اس مسجد کی تنگی کو محسوس کر تے ہو ئے اس کی غربی دیوار کو شہید کرکے اس کی جگہ ستون کھڑے کر دئیے اور اسیمزید مغرب کی طرف وسیع کر دیا جس سے اس کمرہ کی لمبائی چوڑائی برابر ہو گئی ۔ اب اس کی پیمائش33 × 33فٹ ہے ۔ اندر چا ر بڑے بڑے ستون ہیں سامنے کی طرف مسجد کے تین دروازے اس کے صحن میں کھلتے ہیں۔ مسجد کا صحن بہت کشا دہ ہے ۔ کمرے کے با ہر جنو بی حصے کو بھی مسجد کے صحن میں شما ر کیا جا تا ہے ۔اس مسجد کے قیام سے ہی اس میں با قاعدہ نمازِ با جماعت کا اہتمام ہو رہا ہے ۔ نما زِ جمعہ اور نما زِ عیدین بھی یہاں اداکی جا تی ہیں ۔ مختلف اوقات میں اس مسجد کے صحن میں درس قرآن بھی دیا جا تا ہے ۔ ۔ اس مسجد میں امامت کافریضہ سر انجام دینے والوں میں شیخ عبدالعزیز اور انکے بیٹے شیخ عطا محمد چشتی کی گراں قدر خدمات ہیں ۔ اوقاف کی تحویل میں آجانے کے بعد اب اس مسجد کے پیش امام تنخوا ہ دار طبقہ میں محکمہ اوقاف ک طرف سے بطور خطیب پیرزادہ غلام حسن نے اس مسجد کے لئے سب سے زیا دہ خدمات پیش کی ہیں ۔جو بعد از رئیٹارمنٹ وصال پا چکے ہیں۔

حاجی مسو خان کے حالات زندگی
حاجی محمد مسو خا ن منگروٹھ تحصیل تو نسہ کے نتکائی قبیلے کا فرد تھا ۔ نو اب لعل خا ن نتکا ئی کا بیٹا تھا ۔ ابتدا ء میں حا جی مسو خا ن انگریزی حکو مت میں تحصیلدار کے عہدے پر فا ئز رہا ۔ بعد ازاں اس نے ملا زمت چھو ڑ کر زمینداری کا شغل اختیا ر کر لیا ۔ اس کی زمینداری ضلع ڈیرہ غازی خان کے اکثر علا قوں میں مو جو د تھی ۔ اس لئے اس کا شما ر ضلع کے بڑے رئیسوں میں ہو تا تھا ۔ وہ نہا یت سخی ،مہمان نو از ، حق گو اور دیندار سردار تھا ۔
اس نے مختلف مقامات پر کئی مساجد تعمیر کرائیں جن میں دائرہ دین پنا ہ ،منگڑوٹھ اور کو ٹ مٹھن کی مسجدیں قابلِذکر ہیں ۔ 1882ء میں حا جی مسو خا ن کی وفات ہو ئی اور وصیت کے مطا بق اسے کو ٹ مٹھن میں دربار خواجہ غلام فریدؒ کے احا طے میں دفن کیا گیا ۔

مسجد دربا ر حضرت خواجہ تاج پاک
اس مسجد کا شما ر بھی کو ٹ مٹھن کی قدیم ترین مساجد میں ہو تا ہے ۔ جب کو ٹ مٹھن کا قدیم شہر سیلاب کی زد میں آکر صفحہ ہستی سے مٹ گیا تو خواجہ غوث بخش ؒ نے اس جگہ اپنے بزرگوں کی تدفین کے لئے ایک مقبرہ تعمیر کیا ساتھ ہی اس مسجد کی بنیا د رکھی ۔ تقریباً 1883 میں اس مسجد کی تعمیر کا کا م مکمل ہو ا
خو اجہ در محمد کے مقبرے سے تقریباً 6 فٹ کے فا صلے پر جنو ب میں اس مسجد کا ایک کمرہ واقع ہے جس کی لمبائی تقریباً30 فٹ اور چوڑائی 20فٹ ہے ۔ یہ مسجد پختہاینٹوں سے بنی ہو ئی ہے ۔ اسکی شمالی ،جنوبی اور مشرقی دیواروں میں تین تین دروازے نصب ہیں ۔ مسجد کے آگے ایک کشا دہ صحن ہے جس کے دائیں با ئیں خواجہ در محمدؒ اور خو اجہ غلام شیر پاکؒ کے مقبروں کے سماع خانےہیں ۔ مسجد کی ظا ہری حا لت درست ہے لیکن اندر مناسب مرمت کی ضرورت ہے ۔یہ مسجد ایک درسگا ہ بھی ہے جس میں تقریباً ساٹھ سالوں سے تشنگان علم اپنی پیاس بجھا رہے ہیں ۔ اس مسجد میں نما ز پنجگانہ کی ادائیگی با قاعدگی سے ہو تی ہے ۔البتہ نمازِجمعہ کا اہتمام نہیں ہو تا تھا پچھلے چند سالوں سے اس مسجد میں باقاعدگی سے نماز جمعہ اور نماز عید کی ادائیگی کو یقینی بنایا گیا اس اہم ترین فریضہ کو سر انجام دینے کے لئے مرحوم خواجہ جمال محمد کوریجہ کی گراں قدر خدمات کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس مسجد میں جن بزرگوں نے امامت کے فرائض سر انجام دیئے ۔ ان میں خلیفہ امام بخش ،خلیفہ قائم دین اور حا فظ محمد بخش کے نام شامل ہیں اور ساتھ ہی اس مسجد میں مو جو د مدرسہ کی نگرانی بھی انہی حضرات کے ذمہ ہوتی تھی ۔

مسجد اہلحدیث
یہ مسجد شہر کے مغربی جانب سرکلر روڈ کے کنا رے پر واقع ہے ۔اس مسجد کا کل رقبہ 72 × 88فٹ ہے جس میں ایک مدرسہ بھی قائم ہے۔ ۱۹۹۱ ؁ء میں مسجد کی تعمیر کا کام شروع ہو اجو اب تک جا ری ہے ۔ تا ہم مسجد کی عمارت اس قابل ہے کہ اس میں نما زپنجگانہ اور نماز جمعہ کا اجتماع با قاعدگی کیساتھ ہو تا ہے ۔ اس مسجد کے لئے پلاٹ/3,17000روپے کی لاگت سے خریدا گیا ۔ جبکہ تعمیر پر اب تک /4,50,000روپے خرچ آئے تھے ۔ تمام اخراجا ت مدرسہ کلیتہ البنات (بلاک نمبر 8ڈیرہ غا زی خان ) نے برداشت کئے ہیں ۔اہلحدیث کو ٹ مٹھن کے امیر جماعت جناب غلام صابر اس مسجد کے متولی ہیں ۔

مدنی مسجد
یہ مسجد شہر کے جنوبی حصے میں سرکلر روڈ کے کنا رے پر واقع ہے جہاں پر صدر با زا ر کا آخری سرا ختم ہو تا ہے ۔کوٹ مٹھن میں اس مسجد کے قیام کے لئے حا جی احمد بخش بھٹی اور ان کے صاحبزادوں نے گہری دلچپسی لی ۔اس سلسلے میں انہوں نے سردار کرم الہی خا ن دریشک (مرحوم) ، الہی بخش خان دریشک (مرحوم) اور محمد رمضا ن خا ن دریشک (مرحوم)سے تقریباً 33مرلے کا پلاٹ حا صل کر کے مسجد کی تعمیر کا انتظام کیا۔ 1968ء میں علامہ دوست محمد نے اس مسجد کا سنگِ بنیا درکھا ۔ اس مسجد کے قیا م سے قبل کو ٹ مٹھن میں دیو بند مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو مرکزیت حا صل نہ تھی ۔ لیکن اب یہ مسجد کو ٹ مٹھن میں اس مسلک کی نمائندگی کر رہی ہے۔
اس مسجد میں پا نچوں وقت نماز با جماعت کا اہتمام باقاعدگی سے ہو تا ہے ۔ علا وہ ازیں جمعہ اور عید کی نمازیں بھی یہا ں پڑھائی جا تی ہیں ۔ مسجد کا کمرہ کھلا ،برآمدہ کشادہ اور صحن کا فی پھیلا ہو اہے ۔ کا فی عرصہ سے امامت کا فریضہ مولا نا حفیظ الرحمن مدنی سرانجام دے رہے ہیں ۔ جو اس مسجد میں مو جود ایک دینی مدرسہً دارالعلوم مدینہً کے نگران بھی ہیں ۔اس مسجد کے احا طے میں مکتب سکیم کے تحت گورنمنٹ کامنظور شدہ ایک پرائمری سکول بھی ہے ۔جس کے لئے علیحدہ عمار ت نہ ہو نے کے باعث مسجد کے صحن کو درس وتدریس کا سلسلہ بنایا جا تا ہے ۔

مسجد محلہ خو جہ
یہ مسجد شہر کے شمالی حصے میں سرکلر روڈ کے اندر محلہ خو جہ میں واقع ہے ۔ اس اعتبا ر سے اسے خو جوں والی مسجد بھی کہا جا تا ہے ۔ اس مسجد کا شمار بھی شہر کی ان قدیم مساجد میں ہو تا ہے جو موجودہ شہر کے قیام کے ساتھ تعمیر کی گئیں ۔میاں نکا خوجہ نے1872 میں اس مسجد کی بنیا درکھی ، تقریباً سوا دو مرلے کا ایک پلاٹ مسجد کے صحن کے آگے ویران پڑا ہے جسے مسجد کی ملکیت بتا یا جا تا ہے ۔اس پلاٹ کو شامل کرکے مسجد کا کل رقبہ تقریباًساڑھے آٹھ مرلے بنتا ہے ۔یہ مسجد14 ×  28فٹ کے ایک چھو ٹے سے کمرے پر مشتمل ہے ۔جو قدیم طرز تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے ۔ کمرے کی چھت کو چھو ٹی بڑی تین محرابوں سے بنایا گیا ہے ۔چھت سمیت کمرے کے اند ر اور با ہر کی دیواروں کو خو بصورت نقش نگا ری کی گئی ہے ۔ جو ملتا نی طرز کی نقاش کا ری کا عمدہ نمونہ پیش کر تی ہے ۔ مسجد کا فرش بھی خوبصورت اینٹوں سے بنا ہو اہے ۔صحن قدرے تنگ ہے اگر مزکو رہ خا لی پلاٹ کو اس کے احا طے میں شامل کر لیا جائے ۔تو مسجد صحن کشادہ ہو جا ئے گا ۔ مسجد کا جنوبی حصہ حجرے کے لئے مخصوص ہے جسے عموماًدرس وتدریس کے لئے استعمال میں لایا جاتا ہے۔حا فظ کریم بخش اور حا فظ محمد بخش کے علاوہ حا فظ نو ر محمد20 سالوں تک اس مسجد میں پیش امام مقرر رہے ۔ تقریباً30سالوں سے اس مسجد کے پیش امام مدرس اور متولی جناب عبدالرحمن خوجہ ہیں۔متذکرہ بالا تحقیق اس مسجد کی سابقہ ہسٹری ہے جبکہ اب اس مسجد کو از سر نو کشادہ کر کہ جدید انداز مین تعمیر کیا گیا ہے ۔جس کی تفصیل جلد آپ تک پہنچانیکا سلسلہ جاری ہے۔

المدینہ جامع مسجد

یہ مسجد تھانہ کو ت مٹھن کے احاطے میں واقع ہے۔ پہلے اس مسجد کا رقبہ تقریباً ایک ڈیڑھ مرلے پر مشتمل تھا ۔ 1987ء میں حاجی حبیب اللہ نے اس مسجد کو کشادہ کرکے یہاں ازسر نو مسجد تعمیر کرا دینے کی خواہش ظاہر کی اس سلسلے میں انہوں نے میاں عاشق فرید خوجہ کو متولی ٹھہرایا ۔ میا ں صاحب نے اس کا رِ خیر کی تکمیل کے لئے سب سے پہلے محکمہ پو لیس کے ضلعی حکام سے رابط استوار کیا ۔انکی رضا مندی سے مسجد کی تعمیر کے لئے ۹ مرلے رقبہ ملنے کا معاہدہ طے پا یا ۔ جس پر میاں عاشق فرید کی زیر نگرانی 8دسمبر1987ء کو مسجد کی تعمیر کا آغاز ہو ا۔ تقریباًایک سال کے عرصے میں تعمیر کا کام مکمل ہو گیا ،جس پر اڑھا ئی لا کھ روپے خرچ آئے جو حا جی حبیب اللہ نے اپنی گرہ سے ادا کئے ۔ا س مسجد کا نام المدینہ جامع مسجد رکھا گیا ۔ جنوری 1989ء سے اس میں نماز پنجگانہ کے ساتھ ساتھ نماز جمعہ کی ادائیگی بھی با قاعدگی سے ہو تی ہے ۔حا فظ خو رشید احمد اس مسجد کے پیش امام ہیں ۔جو تقریباًدس با رہ طلبا ء کو درس قرآن بھی دیتے ہیں 1992ء سے 26ما ہ رمضان کی را ت کو ڈاکٹر خو رشید محمد ملک کی طرف سے اس مسجد میں مقابلہ حسن قر ات کا اہتمام بھی کیا جا تا رہا ۔