ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

لائبریری شہر فریدؒ کوٹ مٹھن

فروری27۔  1947 ؁ء کو بلدیہ کے اجلا س میں اس وقت کے چیئرمین لا لہ لو کو را م نے پہلی مر تبہ کو ٹ مٹھن میں لا ئبریری کے قیا م کی تجویز دی۔ جسے کثرت را ئے سے منظور کر لیا گیا ۔ چنا نچہ یکم اپریل 1947 ؁ء سے لا ئبریری کے لئے دو اخبا را ت رو زنا مہ پر تا ب اور روزنا مہ زمیندا ر منگوائے جا نے لگے ۔ ان کے علا وہ کچھ رسالے اور کتا بیں بھی منگوا ئی گئیں ۔ لا ئبریری ہا ل نہ ہو نے اور عوام النا س کو اخبا را ت ورسا ئل سیمستفید کرنے کے لئے فیصلہ کیا گیا کہ دفتری اوقات کے بعد اخبا را ت ملک فقیر محمد کی دکا ن پر رکھے جا ئیں تا کہ لو گو ں کو مطا لعہ کر نے کا منا سب مو قع فرا ہم کیاجا سکے ۔ دو سرے دن اخبا را ت کو واپس دفتر بلدیہ میں لا کر جمع کر دیا جا تا تھا ۔ یہ سلسلہ چند ما ہ تک جا ری رہا بعد میں کتا بوں اور

اخبا را ت کو احسن لا ئبریری را جن پو رمیں منتقل کر دیاگیا ۔
15اکتو بر1957 ؁ء کو بلدیہ کے اجلا س میں ملک غلا م صا بر نے کو ٹ مٹھن میں دوبا رہ لا ئبریری کے قیا م کی طرف تو جہ دلا ئی ۔ جس کے تحت 200/=رو پے کی کتا بیں خرید کی گئیں اور دفتربلدیہ کے ایک کمرے کو لا ئبریری ہا ل کی شکل دی گئی ۔ 21 مئی 1958 ؁ء کو اسسٹنٹ کمشنر را جن پو رعبدالبا ری خا ن نے دفتر بلدیہ میں قا ئم شدہ اس لا ئبریری کا با قا عدہ افتتاح کیا ۔ اس وقت اس لا ئبریر ی کا نا م اسسٹنٹ کمشنر مذکو رہ کے نا م پر با ری میو نسپل لا ئبریری کو ٹ مٹھن رکھا گیا ۔ کچھ عرصہ تک کتا بو ں کی دیکھ بھا ل کی جا تی رہی لیکن آہستہ آہستہ تما م کتا بیں تلف ہو گئیں ۔ 1962 ؁ ء میں فرید ما رکیٹ کی چھت پر لا ئبریری کی غرض سے تعمیر شدگو ل کمرے اور اس کے گرد تعمیر شدہ بر�آمدہ کو باقاعدہ لائبریری بنادیا گیا۔ جو قبل ازیں کبھی بھی حقیقی ضرورت کے لئے استعما ل میں نہ لا یا گیا تھا ۔ 1982 ؁ء ایک مرتبہ پھر لا ئبریری کے قیا م کی طرف پیش رفت ہو ئی ۔ اور اسے با قا عدہ بنانے کے لئے بلدیہ کے 1982-83 ؁ء کے سالا نہ بجٹ میں لا ئبریری اسسٹنٹ کی ایک آسا می BPS-5کی گنجا ئش رکھی گئی ۔ اور اس دور میں چیر مین بلدیہ ملک غلام صابرنے بے شمار دینی ، معلوماتی کتابوں کے علاوہ ناول اور بچوں کی کتب منگوائیں۔ اسی سلسلہ کی کڑی کے طور پراپنے دوسرے عرصہ میں ملک غلام صابر نے مزید کتب کا اس میں اضافہ کیا
بعد ازاں 1989 ؁ء میں اُن کے پیش رو چیر مین بلدیہ راو محمد صدیق نے 150,000/=روپے کی مزید کتا بو ں کی خریداری کرائی۔را ؤ محمد صدیق کے اس دورمیں، 1989 ؁ء میں لا ئبریر ی ہا ل کی تعمیر کے لئے 1,98000/= روپے منظور ہو ئے ۔
3023550 فٹ کی پیما ئش کے کمرے کی تعمیر کے لئے متعدد با ر ٹنڈرکال کئے گئے، لیکن اس میں پیش رفت نہ ہو سکی ۔ البتہ کتابیں دفتر بلدیہ کے ایک کمرے میں حفا طت کیسا تھ الما ریو ں میں سجیرہیں اور تقریبا ہر سال مخصوص بجٹ کے تحت ان کتا بو ں میں اضا فہ بھی ہو اہے ۔ راؤ انتظا ر علی اور امداد حسین انجم لا ئبریری اسسٹنٹ کی حیثیت سے اپنے فرا ئض سر انجا م دیتے رہے ہیں ۔
بعد ازاں 2000 - 2001 ء میں جنرل مشرف کے دور میں ٹاون کمیٹی کو ختم کر کے یونین کونسل بنا دیا گیا ۔ اس دور میں کمال فرید ملک نے بطور ناظم چارج سنبھالا تو ایک مرتبہ پھر سے لائبریری کی قسمت جاگی،اس مد میں رقم نہ ہونے ہر اُنہوں نے باقاعدہ ایک کمیٹی قائم کی اور لائبریری کا چارج کلرک امداد حسین انجم کے سپرُد کیا۔امدادحسین انجم نے اس سلسلہ میں نہایت محنت اور تندہی سے کام لیا اور اس سلسلہ میں فنڈز اکھٹے کرنے میں مختلف اوقات میں سٹیج پروگرام بھی منعقد کئے گئے اور ثالثی کونسل کی جانب سے کئے جانے والے فیصلہ جات میں موصولہ عطیات کی بدولت لائبریری کی کتب اور الماریوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور باقاعدہ طالب علموں اور لائبریری ممبران کو کتب جاری کرنے کا سلسلہ تواتر سے جاری رہا ۔ اس کے لئے یونین کونسل آفس میں ناظم آفس کے لئے موجود بڑے کمرے کو ناظم کوٹ مٹھن نے رضاکارانہ طور پر خالی کر کے لائبریری ہال میں تبدیل کر دیا اور خود اُنہوں نے کمیٹی روم میں اپنا آفس قائم کر لیا اس طرح باقاعدگی سے لائبریری پہلی مرتبہ منظر عام پردیکھائی دی جس سے نہ صرف اہلیان شہر اور مختلف طبقہ فکر اور طلباء و طالبات مستفید ہوئے۔نظامت کے دوسرے دور میں بھی کمال فرید ملک نے اس جانب بھرپور توجہ دی لیکن پنجاب حکومت نے لائبریری کا شعبہ یونین کونسل سے لے کر تحصیل کونسلوں کے حوالے کر دیا ، غالباً اس کی ایک وجہ یونین کونسلوں کے پاس فنڈز کی عدم دستیابی تھی لیکن یہاں تحصیل کونسل راجن پور نے لائبریری کو سنبھالنے سے انکار کردیا اور یہ امر حیرت انگیز تھا ، کہ ایک اہم شعبہ کو چلانے کے بجائے بند کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی اور لاکھوں روپے بلا دریخ غیر اہم اور غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ کرنے والی تحصیل کونسل نے اسقدر اہم شعبہ کو سنبھالنے اور چلانے سے انکار کر دیا ۔ ایسی صورت حال میں بلا آخر ناظم یونین کونسل کوٹ مٹھن کمال فرید ملک نے اسے سنبھالے رکھا اور عوام کے اس قیمتی اثاثہ اور سرمایہ کو نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ لوگ اس سے استفادہ حاصل کرتے رہے۔
یہاں ایک اور نقطہ قابل غور ہے کہ ایک جانب یونین کونسل کوٹ مٹھن کے پاس لائبریری میں اہم اور بھاری تعداد مین کتب موجود ہیں لیکن عمارت نہیں ہے جبکہ دوسری جانب محکمہ اوقاف کے پاس خوبصورت اور کشادہ عمارت برائے لائبریری موجود ہے لیکن کتب ناپائید ہیں ۔ اس صورت حال کا جائیزہ لینے کے بعد ناظم شہر فرید ؒ کوٹ مٹھن کمال فرید ملک نے ایک تحریری مراسلہ کے ذریعے محکمہ اوقاف کے اعلیٰ آفیسران کو تجویز پیش کی کہ محکمہ اوقاف اور یونین کونسل باہمی اشتراک سے لائبریری قائم کریں اور چلائیں اس میں کتب ، الماریاں ، لائبریرین، روزانہ کے اخبارات، کمپیوٹرز برائے آئی ٹی سیکشن یونین کونسل کی جانب سے ہوں اور اس لائبریری کی بلڈنگ اور فر نیچر محکمہ اوقاف کی جانب سے ہوں جبکہ اس کے انتظامات اور نگرانی محکمہ اوقاف کے منیجر اور سرپرستی ناظم یونین کونسل کریں لیکن اس اہم ترین تجویز کو محکمہ اوقاف کی جانب سے پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔ لہٰذا محکمہ اوقا ف نے 1989 ؁ء میں 1369000/=روپے کی لا گت سے دربا ر غلا م فرید ؒ کیسا تھجو لائبریری تعمیرکی تھی وہ تا حال اُجاڑ پری ہے اور اسی بدولت اس کی عمارت وقت کے ساتھ ساتھ حالت خستگی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ۔ اس لا ئبریری کی تعمیر میں جدید تقا ضوں کو مدنظر رکھا گیا تھا ۔ لیکن وہاں نہ تو فرنیچر ہے اور نہ ہی کو ئی لا ئبریری کلرک ۔ کچھ پرا نی اور غیر ضرروری کتا بیں لا ئبریر ی ہا ل سے ملحق ایک چھو ٹے سے کمرے میں پڑی ہو ئی ہیں ۔یہ لا ئبریر ی سا را سا ل بند رہتی ہے البتہ اس کے دیگر کمروں نے عملہ کی رہائیش کا معاملہ حل کر رکھا ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دربار فریدؒ کی اس اہم ترین عمارت کو بنانے میں ایک ایسے گورنر کی ذاتی دلچسپی اور توجہ نے اہم کردار کیا جسے ویسے تو ڈیکٹیتر کہا جاتا تھا (گورنر پنجاب جنرل (ر) غلام جیلانی)لیکن اپنے دور میں ہمہ قسم کے ترقیاتی کاموں اور فلاحی کاموں میں اُن کی مثال نہیں اسی طرح دربار فریدؒ کی تزئین و تعمیر نو اور وہ بھی اس حالت میں اُنہی کی بدولت ممکن ہو سکی ۔