ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

قبرستان  

اسوقت کوٹ مٹھن میں اور اس کے گرد نواح میں آٹھ قبر ستان موجود ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔ 

پیری والا قبرستان 

یہ قبرستان کوٹ مٹھن کا سب سے پرانا اور بڑاقبرستان ہے۔دربار خواجہ غلام فرید کے عین شمال میں احمد سعید چشتی کے گھر کے پیچھے یہ قبرستان واقع ہے۔کوت مٹھن کی تاریخ میں یہ قبرستان سب سے قدیمی ہے۔اس کے بارے میں روایت یہ بھی ہے کی موجودہ کوٹ مٹھن کے قیام سے قبل اس قبر ستان کا نشان موجود تھا۔اس وقت بستی محب علی میں مقیم دریشک قوم کے افراد کو مرنے کے بعد اس قبرستان میں دفن کیا جاتا تھا ۔اب بھی بستی محب علی اور بستی گنو کھانی کے دریشک اپنے لواحقین کو اس قبرستان میں دفن کرتے تھے ۔علاوہ ازیں کچھ شہر کے اہم خاندانوں کے عزیز واقارب بھی یہا ں دفن ہیں

کنڈے والا قبرستان ۔

کوٹ مٹھن میںیہ دوسرا بڑا قبرستان ہے۔جو دربار خواجہ غلام فرید کے مشرق میں واقع ہے۔ اس قبرستان کے احاطے میں ایک کنڈے کا بڑادرخت ہے۔ جس کے نیچے بانی کوٹ مٹھن حضرت خواجہ شریف محمد آسودہ خاک ہیں۔اس درخت کی نسبت سے اسے کنڈے والا قبرستان کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس قبرستان میں شہر کی اکثر قوموں کے لوگ اپنے مرنے والے عزیزوں کو دفن کرتے ہیں۔یہ قبرستان موجودہ شہر کے قیام کے ساتھ ہی قائم ہوا۔

قبرستان احاطہ دربار خواجہ غلام فرید

یہ چھوٹا ساقبرستان دربار حضرت خواجہ غلام فرید کے احاطے میں واقع ہے۔ اس میں خاندان
کوریجہ کے علاوہ خلفاےٗ کوریجہ اور مریدان کوریجہ کی قبریں موجود ہیں۔جن میں جتکھڑا اور خواجہ خاندان کے افراد بھی شامل ہیں ۔اس قبرستان میں قبر کے لیے جگہ حاصل کرنا ہر آدمی کے لیے ممکن نہیں ہے۔اس قبرستان میں مسجد اور مقبروں کے مغرب میں ایک تنگ جگہ پر بہت ساری قبریں بنی ہوئی ہیں ۔جن میں سے دو قبروں میں خواجہ غلام فخرالدین (فخرجہاں)کی دو صاحبزادیاں دفن ہیں ۔ساتھ ہی خواجہ غلام فرید کی دو بیویووں کی قبریں ہیں ۔جن میں سے ایک روہی وال بی بی کی قبرہے ۔قاضی ابو الخیر بھی اسی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔ مسجد کے غرب میں واقع اس قبرستان کے ایک حصے میں خلیفہ واحد بخش کی قبرہے۔معروف ستار نواز برکت قوال بھی اپنے ستار سمیت اس قبر ستان کے ایک کونے میں دفن ہے۔اشارات فریدی کے مصنف مولوی رکن الدین کی قبر بھی یہاں موجود ہے۔معروف بزرگ سید حسین شاہ بھی اس قبرستان میں ابدی نید سو رہے ہیں۔جبکہ تحصیل شجاع آباد کے معروف اور بہت بڑے زمنیداراور نون خاندان کے بزرگ رانا شفیع نون بھی اپنی عقیدت کی بدولت کی وجہ قبرستاب اطاطہ دربار میں مین گیٹ کے ساتھ ہی مدفن ہیں۔
مسجد کے جنوب مغربی کونے میں9ضرب 9فٹ کا ایک چھوٹا سا ایک کمرہ ہے۔جس کا دروازہ مشرق کی طرف کھلتا ہے۔اس چھوٹے کمرے میں دیوان عبداللہ شاہ بخاری 2دیوان محمد پیرشاہ بخاری اور ایک عورت دفن ہے۔سماع خانے کے مشرق میں22مربع فٹ کا ایک اور بنا ہوا ہے۔جسے مقبرہ بی بی صاحب کے نام سے پکاراجاتا ہے۔اس کمرے میں تین بیبیوں کی قبریں بنی ہوئی ہیں۔جن میں سے ایک خواجہ نازک کریم اور دو خواجہ معین الدین کی صاحب زادیاں دفن ہیں۔اس مقبرے میں مرد حضرات کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔اس مقبرے کی جنوب میں ملحق20 ضرب30فٹ کا ایک احاطہ موجود ہے جو خاندان کوریجہ کی تدفین کے لیے مخصوص ہے فی الحال اس احاطے میں خاندان کوریجہ کے ایک نو عمر مرحوم خواجہ نعیم الدین کی ایک قبر موجود ہے

قبرستان احاطہ دربار خواجہ تاج پاک سائیں

اس دربار کو چھوٹا آستان بھی کہا جاتا ہے یہاں تین بڑے مقبرے بنے ہوئے ہیں۔
قاضی ابوالخیر ،حضرت قاضی عاقل محمد کے بڑے بھائی قاضی نور محمد کی اولاد میں سے تھے ۔وہ خود کو کوریجہ خاندان کی وارثت اور ولدیت کا اصل وارث تصور کرتے تھے۔اس سلسلے میں انہوں نے نواب بہاولپور کی عدالت میں خواجہ غلام فرید کے خلاف کئی مقدمے بھی دائر کیے۔مگر ہر بار فیصلہ ان کے خلاف ہوا۔ وہ خواجہ معین الدین کے عہد تک زندہ رہے۔اس قبرستان میں زیادہ ترشیدانی شریف کے کوریجہ خاندان اوراُن کے مریدین اور انتہاہی قُرب رکھنے والے تعلقدار اُنہی کی اجازت سے اپنے لواحقین کو مدفن کرتے ہیں۔

میراں سخی والا قبرستان

شہر کے مشرق میں چند قدم کے فاصلے پر جہاں آبادی ختم ہوتی ہے۔میراں سخی نامی ایک بزرگ کامزار ہے اس کے ساتھ چھوٹا سا قبرستان بھی ہے۔ جس میں زیادہ تر اہل تشیعہ حضرات اپنے مرنے والے لواحقین کو دفن کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں گرد ونواح کی آبادیوں کے لوگ اس قبرستان کو اولیت دیتے ہیں۔

فاضل شاہ والا قبرستان

شہر کے جنوبی حصہ میں آبادی سے تھوڑا دور فاضل شاہ نامی ایک بزرگ کا مزار ہے اس مزار کے احاطے میں ایک قبرستان بھی ہے جس کی قدامت کا اندازہ نہیں ہوسکا شہر کے چند افراد اور زیادہ تر دیہاتوں میں رہنے والے گوپانگ قوم کے افراد اپنے مرنے والے عزیزوں کو اس قبرستان میں دفن کرتے ہیں۔یہ قبرستان بے حد پُرانا ہے ہندووں کے دور میں اس قبرستان کے قریب ہندووں کا مسوان بھی تھا جہاں ہندو مُردوں کو جلایا کرتے تھے یہ شہر سے کافی دُور تھا لیکن اب یہ علاقہ شہر کے وارڈ نمبر 10 کا حصہ ہے اور اس علاقہ میں کافی آبادی ہے۔

جمن شاہ والا قبرستان

کوٹ مٹھن سے روجھان کی طرف جاتے ہوئے۔عید گاہ کے قریب سڑک کے بائیں کنارے پر جمن شاہ نامی ایک بزرگ کی آخری آرام گاہ ہے۔اس کے ساتھ ہی ایک بہت پرانا قبرستان بھی ہے۔اگرچہ شہر کے چند افراداپنے لواحقین کو یہاں آ کر دفن کرتے ہیں۔مگر یہ قبرستان زیادہ تر کوٹلہ حسین اور میانی کی آبادی کے لیے استعمال میں لایا جاتا ہے۔شہر کے سید بخاری بھی اپنے مرنے والے عزیزواقارب کو اسی قبرستان میں دفن کرتے ہیں۔زیادہ تر اہل تشیع حضرات اور گوپانگ، اراہیں ، اور گرد ونواح کی آبادیاں اس قبرستاب کو اہمیت دیتی ہیں۔

مدرسہ صادق حسین رسول شاہ والا قبرستان

شہر کے شمال میں پیری والا قبرستان کے ساتھ ملحق یہ قبرستان قیام پاکستان کے بعد قائم ہوا۔اس قبرستان میں زیادہ تر مہاجرین کی قبریں ہیں۔اب بھی شہر کے اکثر مہاجرین اپنے مرنے والے لواحقین کو اس قبرستان میں دفن کرتے ہیں ۔علاوہ ازیں بہت سے لو گ آبادی کےنزدیک ہونے اور بہتر نظام کی موجودگی کی بدولت اس قبرستان کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس علاقہ میں تمام تر سہولیات کی موجودگی ہے اور اب تو اس کی چار دیواری کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے