ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ


فرید ما رکیٹ کوٹ مٹھن
 

فرید ما رکیٹ کو عا م گفتگو میں سبزی ما رکیٹگو لا ئی منڈی یا صرف منڈی کہہ کر پکا را جا تا ہے ۔ یہ ما رکیٹ چا روں طرف سے گو ل ہے اور شہر کے وسط میں تین بڑے با زاروں کے سنگم پر وا قع ہے ۔1865 ؁ء میں جب مو جو دہ شہر کی تعمیرنو کا کا م شروع ہوا تو نقشہ کیمطا بق اسی جگہ پر غلہ منڈی بنا ئی گئی ضلعی گزیٹیڈڈیرہ غا زی خا ن 1883-84 ؁ء میں کو ٹ مٹھن کا قدیم شہر چو نکہ تجا رتی اہمیت کے حو الے سے ملک بھر میں مشہو ر تھا اس لئے مو جو دہ شہر کے قیا م پر اس امر کو بطو ر خا ص ملحو ظ خا طر رکھا گیا کہ یہا ں کا روبا ری حضرا ت کے لئے ایک غلہ منڈی کی تعمیر کی جا ئے ۔ چنا نچہ 1870 ؁ء میں تعمیر ہو کر مکمل ہو نے والی منڈی قیا م پا کستا ن کے بعد ختم ہو گئی ۔ عما رت بو سیدہ ہو گئی اور اس کے ستو ن گرنے شروع ہو گئے ۔ جس پر بلدیہ کو ٹ مٹھن کے 27ما رچ 1961 ؁ء کے اجلا س میں اراکین بلدیہ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اس پرا نی منڈی کو گرا کر اس کی جگہ نئی (مو جو دہ)منڈی کی تعمیر کی جا ئے ۔ مذکو رہ اجلا س میں یہ بھی فیصلہ ہو اکہ یہ کا م ٹھیکہ پر دینے کی بجا ئے بلدیہ کو ٹ مٹھن اپنی سب کمیٹی تعمیرا ت کے زیر نگرا نی
( میاں فیض احمد خو جہ ۔سید محمد علی شا ہ ۔ غلا م نبی خا ن ۔رو نق علی ۔)  کی زیر نگرا نی خو دکرا ئے گی ۔ جبکہ اس وقت کے چیئر مین ملک غلا م صا بر اس کا م کے سر پر ست اعلیٰ ہو گئے۔
میاں فیض احمد خو جہ کو سب کمیٹی تعمیرا ت کا انچا رج مقرر کیا گیا اور اس منڈی کو فرید ما رکیٹ کا نا م دے کر کا م شرو ع کر دیا گیا ۔ تخمینہ لا گت 4000/=روپے لگایا گیا تھا ۔ لیکن اس کی تعمیر پر مبلغ 5202/=روپے خرچ ہوئے ۔ تعمیر کے دورا ن فیصلہ ہو ا کہ اس ما رکیٹ کے با لا ئی حصہ پر لا ئبریری کے لئے ایک گو ل کمرہ بنا یا جا ئے ۔ چنا نچہ ایک کمرہ اور اس کے گرد برآمدہ کی تعمیر پر 3400/=رو پے خرچ ہو ئے ۔ بعد ازا ں ایک اور فیصلہ کیمطا بق فرید ما رکیٹ کے احا طے میں سبزی مارکیٹ اور اس کے سا منے گو شت ما کیت کے دو بڑے بڑے کمرے تعمیر کئے گئے جن پر مزید 8085/=رو پے کا خرچہ ہوا ۔ اس طرح مئی 1962 ؁ء مبلغ 16687/=روپے لا گت سے فرید ما رکیٹ کا جا مع پرا جیکٹ مکمل ہو ا ۔اس مارکیٹ کی خوبصورتی اور پلانینگ اُس وقت کے چیرمین بلدیہ ملک غلام صابر کے تدبر اور ذوق کی نشاندہی کا منہ بولتا ثبوت تھا ، شہر کے وسعت میں تعمیر کی گئی یہ مارکیٹ جہاں شہر کو سرکلر روڈ کے اندر چار حصوں میں برابر تقسیم کر رہی تھی وہاں مکمل گولائی میں پیلرز پر آر۔بی، چھت سے تیار کی گئی اس مارکیٹ میں شہریوں کی سہولت کے لئے اس کے بیرونی حصہ میں ایک جانب سبزی مارکیٹ ، ایک جانب گوشت مارکیٹ ، تعمیر کی گئی جبکہ دوسرے بیرونی حصہ میں ایک جانب اجناس اور ایک جانب ہوٹل اور متفرق دوکانات تعمیر کی گئی۔ جبکہ اس کے اندرونی حصہ میں ایک جانب مچھلی مارکیٹ ، اور باربر شاپس،سُنار مارکیٹ،اور متفرق دوکانات بنائی گئی جبکہ ابدرونی اور بیرونی حصوں کے درمیان گولائی میں ہی گذر گاہ راہداری رکھی گئی اور چاروں اطراف سے شہر کی سڑکات اس مارکیٹ کو کراس کی صورت میں شہریوں کو راستہ دیتی تھی۔ جبکہ بلکل درمیان میں آرام گاہ کے لئے جگہ متعین کی گئی تھی اور اس آرام گاہ کے ساےئڈ کناروں پر موچیوں کے لئے جگہیں بنائی گئی تھیں۔ اس مارکیٹ کو دو جانب سے چھت پر جانے کا راستہ بنایا گیا تھا۔ اور نیچے بنائی گئی آرام گاہ کے بلکل اُوپر گول کمرہ تعمیر کیا گیا تھا، جسے پبلک لائیبریری کے لئے متعین کیا گیا تھا اور اس کمرہ میں بڑی میزیں اور بینچیں اور کُرسیاں رکھی گئی تھی ،اردگرد الماریوں میں کتابیں تھیں جبکہ باقاعدگی سے اخبار فراہم کیا جاتا تھا ۔ اس گول کمرہ کر اردگرد راہداری اور پھر نیچے بنائی گئی مارکیٹوں کے بلکل اُوپر مختلف کمرے بنائے گئے تھے ۔ کچھ کمروں کا استعمال سرائے کے طور پر اور کچھ کا استعمال طلباء کو پڑھائی کا ماحول فراہم کرنے کے لئے کیا جاتا تھا۔ اس شہر کی یہ خوبصورت ترین عمارت اس شہر کے حسن میں ہر جانب سے نکھار پیدا کرتی تھی۔اور شہر کے درمیان مین اس کی مثال ماتھے پر جھومر کی مانند تھی۔اُوپر والے حصہ پر گولائی میں چاروں جانب اس کی خوبصورت چار دیواری محرابی خدوخال کی صورت میں دوُر سے اپنی جانب کھینچتی تھی۔ سفید رنگ کے لبادے میں شہر کے چاروں اطراف کے راستے اس کو ہر آنے جانے والے کی نظروں کے بلکل سامنے اس عمارت کو اس انداز سے نمایاں کرتے تھے کہ ہر قدم پر نگاہیں اس کی جانب اُٹھی چلی جاتی تھیں۔
8 جولا ئی 1962 ؁ء کو اسسٹنٹ کمشنر را جن پو ر نے فرید ما کیٹ کا با قا عدہ افتتاح کیا ۔ فرید ما رکیٹ کو غلہ منڈی کی بجا ئے گو شت اور سبزی کی فروخت کے لئے مخصوص کر لیا گیا ۔ جبکہ 1963 ؁ء میں لا ری اڈہ کے قریب غلہ منڈی کی از سر نو تعیمر ہو ئی جس کے لئے اخرا جا ت کا بو جھ ڈسڑکٹ کو نسل نے بردا شت کیا ۔جو ن 1987 ؁ء میں فرید ما رکیٹ کی مرمت کیطرف تو جہ دی گئی ۔ پرا نے فرش کو اکھا ڑہ گیا اس جگہ نیا پختہ سلیپ ڈا لی گئی جس پر 39800/=رو پے خرچ ہو ئے ۔اس کی چاروں جانب راستوں پر خوبصورت گیٹ لگائے گئے۔جبکہاس کی چھت پے سائیرن بھی لگایا گیا جو کہ خاص طور پر رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں صحری اور افتاری میں لوگوں کو بر وقت مطلع کرنے کا اہم ترین ذریعہ تھا ۔اور کسی بھی ایمرجینسی میں اس کا استعمال کیا جاتا تھا۔ ما رکیٹ کے تما م دکا ندا ر بلدیہ کو منا سب کرا یہ ادا کرتے تھے ۔ بعد ازاں اُوپر کی منزل کا گول کمرہ مختلف اوقات میں مختلف کاموں کے لئے استعمال میں لایا جانے لگا ۔ تقریبا دس سال تک ٹیلیفون ایکسچینج بھی اسی کمرہ میں قا ئم رہا ۔2001 میں نئے بلدیاتی نظام میں جب ٹاون کمیٹیاں ختم کر دی گئی اور کوٹ مٹھن کو یونین کونسل بنا دیا گیا اور یہاں ایک سی او یونٹ قائم کر کہ اس کا انتظام تحصیل کانسل کو دے دیا گیا تو اسؓ وبصورت عمارت پر ادارہ کی توجہ ختم ہو گئی اور غالباً 2007-8 میں اس عمارت کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کے بجائے اسے جزوی طور پر منہدم کر دیا گیا اور دوبارہ تعمیر کرنے کا خواب تا حال شرمندہ تعمیر نہ ہو سکا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اس نایاب عمارت جو اب اپنی اصل حالت میں ہمارے سامنے نہ ہے کی تصاویر حاصل کر کے اس صفحہ پر لائی جائیں۔