ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

سید فتح محمد شاہ بخاری (مرحوم) ولد سید نور شاہ بخاری
فتح شاہ صاحب 1920 میں پیدا ہوئے ،۔ اور64 سال کی عمر میں 25 مئی 1984 میں انتقال کیا اور خالق حقیقی سے جا ملے۔ محکمہ محال میں بطور پٹواری فرائض سر انجام دئیے۔ وارڈ نمبر9 سرکلر روڈ کے کنارے ان کی آبائی رہائیش گاہ تھی جو آج بھی ہے۔زیادہ تر ملازمت روجہان کے علاقہ میں کی۔ اس علاقہ کے مزاری سردار اُن کا بے حد احترام کرتے تھے۔ اس علاقہ میں عرس کے موقعہ پر تقریبات میں شامل ہونے والے تمام قوال زیادہ تر انہی کے ہاں قیام کرتے تھے۔ اسی طرح اکثر زائرین بھی انہی کے ہاں قیام کرتے تھے۔ان کی سخاوت بھی پورے علاقہ میں مشہور تھی۔ شاہ صاحب نے اپنی خاندانی جائیداد اسی سخاوت کے نظر کی۔فقہ جعفریہ سے گہری وابستگی رکھتے تھے لیکن ہر مسلک اور مکتبہ فکر کے لوگوں سے بہترین تعلق ہمیشہ قائم رکھا۔ انتہایہ ملنسار اور خوش اخلاق تھے۔

ڈاکٹر محمد افتخار احمد خان صاحب غوری پٹھان(مرحوم) ولد عبدالرحمٰن خان غوری

کوٹ مٹھن میں پہلے ڈاکٹر تھے ۔ ان  کےوالد عبدالرحمٰن خان غوری بڑے وضع دار اور خوش اخلاق طبعیت کے مالک تھے اس شہر مین اُن کی دینی خدمات بھی ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ڈاکٹر صاحب یکم اگست 1934  کو پیدا ہوئے ۔ وارڈنمبر 9 میں اُن کی آبائی رہائیش گاہ ہے، جبکہ وارڈ نمبر 4میں اُنہوں نے بعد میں نئی رہائیش گاہ بنائی۔ گول مارکیٹ کے ساتھ ہی اُن کا کلینک تھا جہاں ہمہ وقت مریضوں اور اُن کے دوستوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ سیاسی معاملات میں محدود مداخلت رکھتے تھے ۔لیکن آپکے دوستوں میں ہر طبقہ فکر اور سیاسی جماعت اور گروپ کے لوگ شامل تھے ۔ سیاست اور دینی راہیں جدا ہونے کے باوجود اُن کے تعلقات اصولوں اور اخلاقیات کے معیار پر پورا اُترتے تھے اور اُن کے پاس سخت مخالف بھی آپس میں شیر وشکر ہو کر بیٹھتے تھے اورمحو گفتگو رہتے اور کسی قسم کا تناوء یا ٹکراو نہ ہوتا۔موجودہ وارڈ نمبر 4میں اور اس کے ملحقہ علاقہ میں ان کی آبائی زرعی جائیداد تھی جس کی آبپاشی ایک کنویں سے کی جاتی تھی اور یہ کنواں ایک اُونٹنی سے چلایا جاتا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے دو شادیاں کی تھیں ۔ڈاکٹر صاحب بی ایس سی کے بعد نشترمیڈیکل کالج میں پڑھے اور تحریک ختم نبوت کے دوران عطا اللہ شاہ بخا ری صاحب ؒ کے قریبی ساتھی بھی رہے۔ سیاسی زندگی میں پی پی پی کے سکریٹری جنرل بھی رہے ۔ بعد ازاں پی پی پی کو چھوڑ کر پی این اے میں شامل ہوئے اور اس کے سکریٹری جنرل بنےاور پھر تاحیات پاکستان مسلم لیگ میں شامل رہے ۔ ملک غلام صابر سابقہ چیرمین ، رانا بشیر احمد (مرحوم) سابقہ چیر مین ، پروفیسر تاج محمد ، ان کے قریبی دوست تھے۔ڈاکٹر صاحب 3 مئی 2011 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔