ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

 

استاد الحفا ظ حا فظ میاں محمد بخش معین فریدی

 

استاد الحفا ظ حا فظ میاں محمد بخش معین فریدی قصبہ داجل کے دینی گھرانے میں تقریبا ؁ء میں پیدا ہو ئے ۔ قومی شنا خت کے لحا ظ سے آپ لو ہا ر خا ندان کے فرد تھے ۔آپکے آبا ؤ اجداد کا پیشہ قرآن مجید پڑھنا اور پڑھا نا تھا ۔یہاں تک کہ گھر کے سب مرد اور عو رتیں حا فظ قرآن تھے ۔گھر میں سارادن درس قرآن جا ری رہتا اور باہر بھی۔ایسے ما حو ل میں پرورش کی وجہ سے آپ نے دس سال کی عمر میں قرآن حفظ کرلیا ۔علا قہ کے بزرگو ں کا کہنا ہے ۔کہ حا فظ صاحب کے والد دادا کے ہاں جنا ت کی جما عت بھی درس حا صل کرتی تھی ۔حا فظ صا حب مرحو م کے بڑے دادا مو لانا مرید غو ث صا حب نے اپنی اکثر زندگی تو نسہ شریف میں گزاری ۔آپ پر حضرت قبلہ خوا جہ شا ہ سلیما ن صاحب تو نسوی کے سجا دہ نشین حضرت قبلہ شاہ اللہ بخش صا حب تو نسوی کی خصو صی شفقت تھی ۔آپ غریب نو ازمولانا صاحب سے روزانہ قرآن پاک کا دورفرما تے تھے۔اورسا تھ ہی دینی مسئلے اور مسا ئل بھی زیر بحث رہتے تھے ۔مو لا نا صا حب کو کبھی کبھا ر گھر دا جل یا حا جی پو ر شریف آنے کی بمشکل اجا زت ملتی تھی۔مو لا نا صا حب کا انتقا ل بھی تو نسہ شریف میں ہو ا۔حضرت قبلہ شا ہ اللہ بخش صا حب نے مو لا نا صا حب کا جسد خا کی ان کے آبا ئی وطن داجل لے جا نے کی اجا زت مرحمت نہ فرما ئی۔اور وہیں آستان عالیہ سلیما نیہ کے قبرستا ن احا طہ میں مدفن ہو ئے۔
حافظ میاں محمد بخش صا حب نے قرآن پا ک حفظ کر نے کے تھو ڑے عرصہ بعد درس وتدریس کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ دا جل میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد معہ جما عت طلبا ء محمد پور شریف روا نہ ہو ئے ۔وہا ں آستان عا لیہ حضرت قبلہ مولا نا نو ر محمد صا حب بڑرہ کے دربا ر شریف پر درس قا ئم کیا ۔وہا ں شہر اور دیہا ت کے بے شمار طلبا ء حفظ و نا ظرہ قرآن سے مستفید ہو ئے۔کچھ عرصہ کے بعد وہا ں سے معہ جما عت طلبا ء حا جی پو ر شریف کے سفر کا عزم کیا ۔وہا ں حضرت قبلہ خوا جہ نو ر محمدصا حب نا روال کے دربا ر شریف پر کا فی عرصہ درس وتدریس اور اما مت کا سلسلہ جا ری رکھا ۔اور وہا ں پر بھی بہت سے لو گو ں نے حفظ /نا ظرہ قرآن پڑھنے کا استفادہ حا صل کیا ۔ حا جی پو ر شریف کے اس وقت کے سجا دہ نشین کے علا وہ تما م حضرا ت کی حا فظ صا حب کیسا تھ خصوصی شفقت رہی۔ حا فظ صا حب مرحو م مذکو راور ان کے خا ندان کے اکثر افراد حضرت قبلہ خو اجہ غلا م فریدؒ صا حب (کو ٹ مٹھن شریف)کے خا ندان کے مریدان میں سے تھے۔حا فظ صاحب بھی حضرت قبلہ خواجہ غلا م فریدؒ صا حب کے پو تے حضرت قبلہ خواجہ مولا نا محمد معین الدین کے دست بعیت مرید تھے۔آپ حضرت مولا نا صاحب نے جب داجل حا فظ صا حب کے گھر قدم رنجا فرما یا تو وہا ن با قی گھر والو ں کے سا تھ حا فظ صاحب کو بیعت فرما یا ۔پیرو مرشد کے خا ندان کے حکم کی تعمیل میں حا فظ صاحب پھر حا جی پو ر شریف سے واپس محمد پو ر شریف روانہ ہو ئے۔
وہاں پر مسجد حضرت صا حب والی میں اما مت اور درس اور تدریس کا سلسلہ جا ری رکھا ۔ کچھ عرصہ کے لئے قنبر شا ہ کے سید صا حبا ن اور علا قہ کے لو گو ں نے حفظ اور نا ظرہ قرآن شریف پڑھا ۔ جہاں بھی درس قرآن پڑھا نے جا تے پچیس /تیس طلبا ء کی جما عت سا تھ رہتی تھیجب قبلہ حضرت صا حبا ن محمد پو ر شریف سے نقل مکا نی کرکے کو ٹ مٹھن شریف میں مستقل مقیم ہو ئے تو حا فظ صا حب کو بھی ہمرا ہ لا ئے۔ کیو نکہ امامت اوردرس قرآن کے علا وہ اور بھی بہت سے ضروری خصوصی کام حا فظ صا حب کے سپرد ہو تے تھے۔ حضرت صا حبا ن کی اجا زت پرحا فظ صا حب نے مسجد محلہ خواجگا ن میں بھی درس وتدریس اور امامت کے فرا ئض سر انجا م دیئے۔بعد ازاں حضرا ت کے حکم کی تعمیل سے 1959 ؁ء میں آستا ن عا لیہ تا ج پا ک صا حب پر مدرسہ تعلیم القرآن کی بنیا د ڈالی۔اور آخر تک یہا ں مہتمم اور مدرس /اما مت کے فرا ئض انجا م دیتے۔ یہ مدرسہ پو رے شہر میں بڑا مدرسہ تھا ۔جہا ں پر سندھ حیدر آبا د کے علا وہ ضلع رحیم یار خا ن ،مظفر گڑھ ،ڈیرہ غا زی خا ن ،اوچ شریف کے دور دراز علا قوں سے طلبا ء آکر مشغو ل تعلیم رہتے اور حفظ و نا ظرہ تعلیم قرآن پاک سے مستفید ہو ئے۔حا فظ صاحب مرحو م نے اپنی زندگی کے 100یا 110سال میں سے 80برس را ت دن تعلیم القرآن ،امامت میں صرف کئے۔وہ اپنے زما نہ کے بہت خو ش الحا ل حا فظ تھے۔آخری وقت تک قرآن پا ک ازبر یا د رہا ۔رمضا ن شریف کے مہینہ میں اکثر دو دو مصلے پڑھ لیتے تھے ۔یا ایک رات میں دو دو جگہوں پر تراویح پڑھا تے تھے۔شہر کی مسجد میں تراویح سے فارغ ہو کر نشتر گھاٹ پل پر افسروں /عملہ کے ڈیڑھ سو آدمیوں کو تراویح شروع کرادیتے تھے۔یہ صرف حا فظ صا حب کی قابلیت اور خو ش اخلا قی کی وجہ تھی۔علا وہ ازیں کئی علا قوں کے زمیندار اورسردار صا حبا ن حا فظ صا حب کو تحفت معہ جما عت شاگردان ہفتہ ہفتہ ،دس دس دن کے لئے اپنے علا قوں میں قرآن شریف سننے کے لئے لے جا تے تھے ۔
گڑھی اختیا ر خا ن کے حضرت قبلہ مو لا نا محمد یا ر فریدی کا حا فظ صا حب سے بہت انس تھا ۔آپ ہر سال حا فظ صا حب مرحو م کو پا نچ دنو ں کے لئے گڑھی شریف لے جا تے تھے اور ختم قرآن پا ک سنتے تھے۔ایک دن حضرت مو لا نا صا حب مر حو م نے حا فظ صا حب کو فرما یا ۔کہ حا فظ صا حب آپ وعدہ کریں ۔کہ آپ میرے وصال کے بعد بھی مہربانی کر کے میرے ہا ں گڑھی شریف میں رہ کر (مزار)پر پا نچ دن قرآن پا ک سنا یا کریں گے۔اس با ت کا حا فظ صاحب سے وعدہ ہو ا۔لیکن افسوس کہ ان کے وصال کے بعد پہلے سال میں کسی مجبو ری کے تحت حا فظ صا حب سے وعدہ وفا نہ ہوا۔ اگلے دن رات کو خواب میں حضرت مولا نا محمد یا ر صا حب نے حا فظ صاحب سے فرما یا "کہ حا فظ صا حب افسوس ہے کہ آپ نے پہلے سا ل ہی میرے سا تھ بے وفا ئی کی۔ اس پر حا فظ صاحب پر یشا ن اور ما یو س ہو ئے ۔دو چار روزکے بعد گڑھی شریف حا ضری کے لئے روانہ ہو ئے ۔وہاں جب پہنچے تو حضرت قبلہ مو لا نا صا حب کے سجا دہ نشین صا حب خواجہ غلا م نا زک صا حب معہ تما م تحفہ /تحا ئف (معمول )کے جو کہ ہر سال حا فظ کو ملا کرتے تھے۔ حا فظ صا حب کی انتظا ر میں بیٹھے تھے ۔اس دوران جو بھی مو لا نا غلام نا زک صا حب کو ملنے آتا ۔تو فرما تے ابھی میں فارغ نہیں ہو ں ۔میں کسی کے انتظا ر میں بیٹھا ہو ں ۔بعد میں ملیں گے۔
حا فظ صا حب کے پہنچنے پر مو لا نا صا حب اٹھ کر حا فظ صا حب سے بغلگیرہو ئے ۔اور فرما یا میں صبح سے آپ کے انتظا ر میں بیٹھا ہو ں ۔اس کے بعد حا فظ صا حب ہر سا ل عرصہ تک حسب وعدہ حا ضری دیا کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ کے کرم سے حا فظ صا حب کو قرآن پا ک از بر یا د تھا ۔کئی سا لو ں تک شب برات کو اپنے پیرومرشد کی مزار کے سا منے شبینہ معہ رکعت پڑھا کرتے تھے ۔اس رات یہاں بہت سے لو گ ہو تے تھے۔ا ور کا فی صفیں بن جا تی تھیں ۔عشا ء کی نما ز کے بعد اکیلے امامت شبینہ کرتے اور صبح کی نماز کے وقت قرآن پا ک ختم کر لیتے تھے۔ایک دفعہ جب شبینہ پڑھانا شرو ع کیا ۔عشا ء کی نما ز کے بعد صفیں بن گئیں تو مصلہ پہ ٹھہر کر مقتدی صا حبا ن سے کہا کہ شروع کر یں آپ سب تیا ر ہو گئے ہیں ؟انہو ں نے کہا ۔ ہاں میاں صا حب ! تو حا فظ صا حب نے کہا ۔کہ قا بو ہو جا ئیں ۔نیت کے بعد شبینہ شروع کیا ۔تو پہلی رکعت 29پا روں یعنی(29)پارے پہلی رکعت میں پڑھ دیئے۔اور آخری ایک پا رہ کی دوسری رکعت اتنے میں حج کی نما ز کا وقت ہو گیااور قرآن شریف بھی ختم ہو ا۔اس پر تما م متقدی اور وہا ں پر مو جو د با قی لو گ بھی حیران رہ گئے۔حا فظ محمد بخش مرحو م خو ش اخلا ق ۔عجز ونیاز اور خلو ص ومحبت کے پیکر تھے۔بہت دور دور سے لو گ آکر ان سے صلٰوۃ ،دعا،اور تعویذات کے ذریعہ شفا ء اور اپنی مشکلا ت حل کراتے تھے۔اور سب کچھ ان کےبزرگان کا کرم اور قرآن پاک کے صدقہ سے تھا ۔حا فظ صا حب مرحو م نما ز ،روزہ،تہجد کیسا تھ سا تھ نفلی عبادات کے بھی پوری طرح پا بند تھے۔وہ اپنے غریب طلبا ء اور دوست احباب کا بھی خا ص خیال رکھتے تھے ۔خود فقیر انہ لبا س اور حا لت میں رہتے تھے۔ ان کو اپنی اولا د کے علاوہ شا گرد وں یاحضرات سے کو ئی کپڑے وغیرہ ملتے تھے ۔وہ بکس میں رکھ کر تا لا لگاکرایک دوست دوکا ندار کے پا س رکھے ہو ئے تھے۔جب کو ئی غریب شاگرد وں یا دوستوں میں سے ملنے آتا ۔ان کو دوکان پر لے جا کر بکس سے کپٹرے اور کچھ پیسے دے دیتے تھے اور کہتے تھے۔لیکن آپ خود فقیرانہ لبا س میں رہتے۔گھر والوں کو بھی اس معاملہ کا پتہ ان کے انتقال کے بعد چلا ۔جب دوکاندار نے بکس گھر والوں کے حو الہ کر کے کہا ۔کہ یہ ان کی اما نت تھی۔اور یہی سلسلہ انہوں نے عرصہ سے چلا یا ہو اتھا ۔پختہ عقائد کی وجہ سے اولیا ء کرام کے عرائس کی حا ضری آخری عمر تک دیتے رہے۔انتقال سے کچھ ایام قبل 8رجب المبارک کو حضرت قبلہ قاضی عا قل محمد صا حب کے عرس کی حا ضری کے لئے گھر میں تیار بیٹھے تھے۔تو گھر والو ں نے کہا ۔کہ غسل کے بعد آپ نے وہی کپڑے پہن لئے ہیں ۔سخت گرمی ہے ۔نئے کپڑے آپ کے لئے سلوا کر رکھے ہیں ۔یہ پہن کر عرس کی حا ضری میں شا مل ہو ں ۔نئے کپڑے لیکر رکھ دیئے اور کہا ۔یہ میں 23رجب المبارک کو حضرت قبلہ قطب الدین صا حب جو کہ میرے پیر زادہ ہیں ۔ان کے عرس پر پہنوں گا ۔بعد ازاں یہ تین چار یو م سے پہلے گھر والوں سے پو چھتے تھے کہ حضرت قبلہ قطب الدین صاحب کے عرس کو کتنی دن با قی ہیں ۔ بتا یا جا تا کہ10دن، 08دن ،04دن با قی ہیں ۔ آخری با ر پو چھا تو بتا یا گیا ۔چا ر دن با قی ہیں ۔ اسی دن شا م کو بعد نما ز عصر گھر وا لو ں کیسا تھ بیٹھے تھے ۔تو پو چھنے لگے یہ کو ن آیا کھڑا ہے جو اب دیا کہ اور تو کو ئی نہیں ہے۔سب گھر والے بیٹھے ہیں ۔پھر کہا کہ یہ تو کھڑا ہے ۔کبھی صحن میں کبھی بر آمدہ میں ٹھہرتا ہے۔یہ پتہ نہیں گھر میں کیو ں آیا ہے۔کیا کہتا ہے؟گھر والوں نے وہی جو اب دہرایا۔ تھو ڑی دیر سر نیچا کر کے بعد میں اوپر سر اٹھا کر حا فظ صاحب نے کہا ۔ابھی جا ؤ مجھے چار دن دیر ہے۔(یہ مہلت کی وجہ تھی)۔اسی چو تھے دن یعنی حا فظ صا حب کے پیرزادہ کے وصال کے دن بوقت تہجد بتاریخ 23 رجب بروز جمعتہ المبارک حا فظ صاحب کا انتقال ہو ا۔
سید مہر علی شاہ صاحب سکنہ مہر یوالہ پر جمعہ یا جمعرات کو آستا ن عالیہ کی حا ضری کے لئے کو ٹ مٹھن شریف آیا کرتے تھے۔اور حا فظ صا حب کے حجرہ میں حا ل و احو ال اور خیر و عا فیت کے سلسلہ میں تشریف رکھتے تھے۔شا ہ صاحب کہتے ہیں ۔کہ حا فظ صا حب کے انتقال کے 8 9,دن قبل میں زیا رت کے لئے دربار شریف پر آیا ۔حا فظ صا حب حجرہ میں مو جو د نہ تھے۔دربار شریف پر مو جو د کسی سے پو چھا تو پتہ چلاکہ حا فظ صا حب روضہ شریف کے دروازہ پر ٹھہر کر دیکھا کہ حا فظ صا حب حضرت قبلہ تا ج پاک صاحب کے سرہانے دست بستہ عرض کر رہے تھے۔کہ حضور میں حضرت قبلہ قطب الدین صاحب کے عرس کے ختم شریف کے دن 23رجب المرجب کو حا ضر ہو نگا ۔مجھ پر کرم اور شفقت کی نگا ہ ہو ۔حا فظ میاں محمد بخش صاحب مرحو م کی زندگی کا ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ سال 1984-85 ؁ء میں غا لبا سرگو دھا کے علا قہ کا ایک فو جی بھگوڑہ اپنی جا ئے تعیناتی سے فرار ہو کر حا فظ صاحب کے ہاں درس شریف میں آیا ۔اور کہا کہ میں کچھ عرصہ یہاں رہ کر قرآن پاک پڑھنا چا ہتا ہو ں ۔وہ درس میں پا نچ ،چار ما ہ نماز ،قرآن پاک پڑھتا رہا اور ساتھ ہی مسجد شریف کی صبح وشا م خوب صفائی کرتا تھا ۔اس کے والد ریٹائر ڈ صوبیدار تھے۔بھگو ڑے کو غیر حا ضر پا کر تما م گھر والے اور دفتر والے پریشان تھے۔تلاش کے بعد کو ئی پتہ نہ چلا ۔ادھر ملڑی افسران نے بھگوڑے کی واپسی کے لئے اس کے ورثاء کو بے حد پریشان کر رکھا تھا۔آخر کا ر صوبیدار نے کرنل صا حب کو تحریری عرضی پیش کر دی کہ وہ بھگوڑا عرصہ سے تلاش بسیار کے بعد نہیں مل سکا ۔لہٰذااندازہ ہے۔کہ وہ فوت ہو گیا ہوگا ۔والدین نے قل خو انی تک بھی اداکر دی ۔اور ملڑی کی طرف سے تمام واجبات ،بقایا جات بھی وصول کر لئے۔ تھو ڑے عرصہ بعد فو جی بھگوڑے کے والد صوبیدار نے خواب میں آستان عا لیہ تاج پاک صاحب کا مکمل ما حول اور مسجد شریف کے باہر حا فظ صاحب کو درس قرآن شریف پڑھاتے ہو ئے دیکھا ۔سا تھ ہی اپنے بیٹے (بھگوڑے)کو بھی وہیں موجود دیکھا ۔صبح اٹھ کر اس نے خواب کا واقعہ گھر والوں کو سنا یا ۔اور کہا کہ میرا بیٹا زندہ ہے۔میں اسے لینے جا رہا ہو ں ۔وہ خواب والی صورت ذہن میں رکھ کر اپنے علاقہ ضلع سرگودھا سے روانہ ہو کر راستہ میں ملتان ،مظفر گڑھ،ڈیر ہ غا زی خا ن ،جام پور، تو نسہ شریف ،اوچ شریف تمام درباروں کی زیارت کرتا رہا۔اوروہاں مو جو د مساجد ،درس کی بھی تو جہ سے زیارت کرتا رہا۔آخر کار کئی دنو ں کی مسافت کے بعد کو ٹ مٹھن شریف دربار حضرت خواجہ غلام فرید صاحب اور پھر دربار حضرت قبلہ تاج پاک صا حب پر پہنچا ۔جب وہ دربار حضرت تاج پاک پر پہنچا اورمسجد شریف اور درس قرآن دیکھا تو کہا کہ دربار تو یہی ہے ۔درس میں پہنچ کر حا فظ صا حب کو دیکھ کر تسلی ہو ئی اور سمجھا کی سارا مو حو ل وہی ہے اور مو لوی صاحب بھی جو میں نے خو اب میں دیکھا تھا ۔حا فظ صا حب علیک سلیک کے بعد عرض کیا کہ میرالڑکا اتنی عرصہ سے گم ہے۔شاید آپ کے درس میں ہو ۔حا فظ صاحب نے اس سے کہا ۔تشریف رکھیں ۔درس میں اتنی عرصہ سے ایک مسافر مو جود ہے کہ وہ چائے لینے گیا ہے۔اس سے مل لیں ۔شاید وہی ہو۔اتنے میں وہ بھگوڑابھی آگیا۔بچھڑے ہو ئے باپ بیٹا بڑے تپاک سے ملے اور کافی دیر تک روتے رہے۔ریٹارئرڈ صوبیدار نے تمام ماجرا حافظ صاحب کو سنا یا اور ایک دن رہنے کے بعد اپنے لڑکے کو سا تھ لیکر واپس چلاگیا ۔گھر پہنچنے کے بعد ہمسایوں میں سے کسی نے کرنل صاحب کے دفتر اطلاع کردی ۔کہ فلاں بھگوڑا زندہ واپس گھر پہنچ گیا ہے۔
اس پر کرنل صاحب نے ریٹا رئرڈ صوبیدار کو فوری طور پر دفتر بلا کر کہا کہ "آپ نے غلط بیانی کی۔جس پر ہم نے فوتیدگی کے بعد تما م واجبات اداکر دیئے ۔اس سے آپ ہماری پریشانی کا سبب بنے ہیں۔اور تمام دفتر والوں کو پریشان کردیا ہے۔ریٹائرڈصوبیدار نے تمام ماجرہ کرنل صاحب کو سنایا ۔تو کرنل صاحب نے کہا درس والے مو لانا صاحب کو لے آئیں ۔تاکہ ان سے اس معاملہ کے بارے میں تفصیلی بیان لیں۔صوبیدار صاحب فوراواپس کو ٹ مٹھن شریف پہنچے۔اورحا فظ صاحب کو منت سماجت کے بعد لا ہو ر کرنل صاحب کے ہاں لے گئے۔دفتر میں مو جود کر نل صا حب اور میجر کے علاوہ تمام دفتر والے اہلکار حافظ صاحب سے عزت و احترام سے پیش آئے۔اور حا فظ صاحب کے تصدیقی بیان پر معاملہ رفع دفع ہوا۔اور صوبیدار ، جناب حا فظ صاحب کوواپس کو ٹ مٹھن شریف چھوڑ گئے۔حا فظ محمد بخش مرحو م کو یہ اعزاز بھی حا صل ہے ۔کہ جن جن درباروں پر انہوں نے امامت اور درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا ۔وہاں باقی عام لو گو ں ،مسا فروں کے علاوہ حضرات کے خا ندان کے افراد بھی تعلیم قرآن پاک حفظ ونا ظرہ سے مستفید ہوئے۔ان کے سینکڑوں شاگردوں نے بھی اپنے اپنے علاقوں اور شہروں میں درس و تدریس کے سلسلہ جات جا ری رکھے ہو ئے ہیں ۔جو کہ ثواب جاریہ ہے۔