ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

 

سید مبارک علی شاہ (مرحوم) ولد سید سردار علی شاہ
۔1938۔میں پیدا ہوئے اور 1988میں وفات پائی،میٹرک تک تعلیم حاصل کی دوکانداری کے پیشہ سے منسلک رہے کچھ زرعی زمین کی آمدن بھی تھی ، اس علاقہ کے نمبددار بھی رہے ۔ وارد نمبر5 کے محلہ سردار علی شاہ میں رہائیش پذیر تھے۔ان کے سٹور پر مختلف ایشاء کے علاوہ درسی اور دیگر کتب دستیاب تھی ، بلکے اگر یوں کہا جائے کہ یہ اس علاقہ کا پہلا کتاب گھر تھا تو بے جا نہ ہو گا۔شاہ صاحب نے اپنے وارثان میں ۲بیٹے اور ۴بیٹیاں سوگوار چھوڑیں۔

حاجی غلام رسول (مرحوم) ولد میاں جمعہ (قوم پنوار) 1914ء ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔1995 ء
اولاد: 4بیٹے 3بیٹیاں   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیشہ : قصاب
انہوں نے پاکستان کو بنتے ہوئے دیکھا اور پاکستان بننے میں قائداعظم کے قریب رہتے تھے۔اس وقت ان کی عمر تقریباً 33سال تھی اوربہت فعال رکن بھی رہے۔ اور پاکستان بننے کے بعد قصاب کا کام شروع کیا اور آخری دم تک اسی کام میں مشغول رہے۔اور سیاست میں بڑا اہم کردار ادا کرتے تھے۔

کریم بخش  (مرحوم)ولد حاجی سوہاترا (قوم پنوار) 1930 ء  ۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔1995 ء
اولاد : 3بیٹے 2 بیٹیاں ۔۔۔۔۔۔۔ پیشہ قصاب
خدمات: انہوں نے یونین بھی بنائی تھی اس میں پنوار برادری کے سب پڑھے لکھے آدمی شامل تھے اور ان کے فیصلوں کی تعید کرتے تھے ۔ اور ان کا سب قوم بڑا احترام کرتی تھی اور دکھ درد میں سب بڑی امداد کرتے تھے۔

کرم حسین  (مرحوم)ولد حاجی فیض محمد پنوار 1912 ء  ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 1998 ء
اولاد: 4بیٹے 5بیٹیاں   ۔۔۔۔۔۔۔۔پیشہ : پٹواری
خدمات:آپ نے 20سال تک پٹواری کا کام سر انجام دیتے تھے۔ اور بعد میں ریٹائرمنٹ لے کر سماجی کاموں میں حصہ لینا شروع کر دیا اور پنوار برادری کے سیاسی کاموں میں بڑی دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کو دل کی تکلیف تھی اور بائی پاس کرواتے وقت آپ کی موت واقع ہوئی۔ پنوار برادری کو منظم کرنے میں ان کا بڑا کردار تھا۔ اور خدا ترس انسان تھے اور کافی بچیوں کو جہیز کا سامان بھی دیتے تھے۔

سید محمد شاہ (مرحوم)ولد سید مبارک علی شاہ 1967
شروع سے ہی درویش صفت انسان تھے۔ اور سارا دن درویشوں  کی طرح گلیوں بازاروں میں پھرتے تھے۔ اور لوگ ان کے گھر جا کر ان سے دُعا لیا کرتے تھے۔مبارک شاہ صاحب کے بڑے بڑے بیٹے تھے کھبی کھبار اُن کی دوکان پر بیٹھا کرتے تھے نہایت خاموش بطعہ تھے ہر لمحہ مسکراتہ چہرہ دیکھائی دیتا تھا ۔ 1967 میں ہیدا ہوئے اور 2006 میں خالق حقیقی سے جا ملے ۔شکل وشباہت میں والد صاحب ملتے تھے ۔

سید سردار علی شاہ(مرحوم)ولد سید محمد شاہ 

سردار علی شاہ صاحب 1904 میں پیدا ہوئے اور 1974 میں وفات پائی تعلیمی معیار مڈل تھا محکمہ محال میں پٹواری کی حیثیت سے فرائض سرانجام دئیے اور ریٹائر ہونے کے بعد دس سال تک نمبردار کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اور علاقائی سیاست میں بھی مثبت کردار ادا کرتے رہے ۔ کوٹ مٹھن کے وارڈ نمبر5کے رہائیشی تھے اور ان کے محلے کا نام انہی سے موسوم کیا گیا تھا جو کہ آج بھی محلہ سردار علی شاہ کے نام سےہے۔

عبدالرزاق (مرحوم)ولد اللہ بخش (قوم پنوار) 1935 ء  ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 2003 ء
اولاد: 7بیٹے 2بیٹیاں    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیشہ : زمینداری
خدمات: آپ پہلے دودھ بیچتے تھے اور بعد میں اپنی زمینوں کو فروخت کر کے اپنوں بچوں کو پڑھایا اور آج ان کے بچے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہیں ۔ اور کافی دوستوں کو بھی اپنی ملکیتی زمین بھی مفت دی تھی تا کہ اپنی جگہ بنا سکیں ۔ کافی خدا ترس انسان تھے ۔ آپ خود انپڑھ تھے لیکن بچوں کو پڑھانے کا بڑا شوق تھا۔

 

خواجہ بخش (مرحوم)ولد میاں کریم بخش۔ 1946 ء ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 2003 ء
اولاد: 2بیٹے 2 بیٹیاں  ۔۔۔۔۔۔۔۔ پیشہ : مٹھائی کا کام
آپ کی زندگی کا کافی عرصہ باہر گزرا اور کراچی میں فیکٹریوں میں کام کرتے تھے اور بعد میں کوٹ مٹھن آکر مٹھائی کا کام شروع کیا اور پنوار برادی میں فیصلے جات میں ان کا بڑا عمل دخل تھا سیاسی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔

 

حاجی محمد بخش (مرحوم)ولد اللہ ڈیوایا (قوم پٹھان ) 1945 ء ۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 2005 ء
اولاد: 4بیٹے 5بیٹیاں پیشہ:   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔زمینداری/دکانداری
خدمات :پہلے 20 سال تک زمینداری کرتے تھے بعد میں کپڑوں کا کروبار بھائی کے ساتھ مل کر شروع کیا اور کوٹ مٹھن میں ان دونوں بھائیوں نے پہلے کپڑے کا کام شروع کیا اور ابھی ان کے بیٹوں نے یہ کام سنبھالا ہوا ہے۔بہت ہی ملنسار آدمی تھے۔اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔

سید سردار علی (مر حوم) ولد سید فقیر محمد شاہ 1921 ء ۔۔۔ تا ۔۔۔ 2006 ء
اولاد 2بیٹے 2بیٹیاں پیشہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمینداری/پیری فقیری
 پہلے تو زمینداری کا کام کرتے تھے پھر بعد میں پیری فقیری کا کام شروع کر دیا اور لوگوں کو تعویز دیا کرتے تھے اور کافی باعمل بزرگ تھے اور لوگ ان سے دعائیں لینے کے لئے دور دور سے آتے تھے اور کافی سخی شخص تھے ۔ اور غریبوں/ مسکینوں کی بڑی مدد کرتے تھے۔ 1921 میں پیدا ہوئے اور 2006 میں وفات پائی۔

رسول بخش  (مرحوم)ولد اللہ ڈیوایا (قوم پنوار) 1922 ء ۔۔۔ تا ۔۔۔ 2006 ء
اولاد : 4بیٹے ، 4بیٹیاں    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیشہ زمینداری/دکانداری
خدمات: پہلے زمینداری کرتے تھے اور بعد میں اس کے ساتھ ساتھ آم کے باغ بھی لیتے تھے۔اور آم پورے پنجاب میں منڈیوں میں بھیجے جاتے تھے اور آم کے باغات لینے کے لئے ڈیرہ غازیخان تک جاتے تھے اور دکان میں بھی آم کی اعلیٰ ورائٹی رکھتے تھے۔1922 میں پیدا ہوئے اور 2006 میں وفات پائی۔

نذر حسین (مرحوم) ولد حاجی غلام رسول پنوار 1947ء۔۔۔ تا ۔۔۔ 2006 ء
اولاد : 5 بیٹے 4 بیٹیاں   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیشہ ۔قصاب
خدمات: یہ قصاب کا کام کرتے تھے اور قصاب یونین کے صدر تھے اور سیاست میں عملی طور پربڑے ایکٹو تھے اور لوگوں کے کاموں میں بھرپور دلچسپی رکھتے تھے۔1947 میں پیدا ہوئے اور 2006 میں اس جہان فانی سے رحلت فرمائی۔

خان محمد (مرحوم) ولد اللہ بخش (قوم پنوار) 1935 ء ۔۔۔ تا ۔۔۔ 2006 ء
اولاد : 3بیٹے 1 بیٹی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیشہ زمینداری /قصاب
خدمات: پہلے زمنداری کرتے تھے اور یہ کام 15سال تک کیا اور بعد میں قصاب کا کام شروع کردیا اور یونین کے سرگرم رکن رہے ہیں تعلیم مڈل تھی لیکن تعلیم کا شوق بہت تھا ۔غریب پرور آدمی تھے ۔ قصاب کے ساتھ ساتھ بھینسوں /بکریوں کا فارم بھی تھا ان کی خریدوفروخت کرتے تھے۔1935 میں پیدا ہوئے اور بھر پور عجز وانکساری سے زندگی گزارتے ہوئے2006 میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

محمد ایوب (مرحوم) ولد کریم بخش (قوم پنوار) 1965 ء ۔۔۔ تا ۔۔۔ 2007 ء
اولاد: 3بیٹے 2بیٹیاں   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیشہ : قصاب
خدمات: یہ صرف بکرے کا کام کرتے تھے ۔ اور گوشت پورے ضلع میں فروخت کرتے تھے اور ان کے کافی ساتھی تھے ۔ لیکن گردے فیل ہونے کے بعد کافی عرصہ بیڈ ریسٹ پر رہے اور آپریشن کے بعد کچھ عرصہ تک زندہ رہے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپریشن کے بعد بھی قصاب کا کام کرتے تھے لیکن طبیعت نہ سنبھل سکی۔1965 میں پیدا ہوئے اور 2007 میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

غلام سرور وینئس  (مرحوم)ولد غلام حسن وینئس 1920 ء ۔۔۔ تا ۔۔۔ 2007 ء
پیشہ ملازمت /ذاکر اہلیبیت
خدمات: پہلے محکمہ پولیس میں ملازم تھے اور اپنے امور دلیرانہ طریقے سے انجام دئیے ۔ اور ریٹائر منٹ کے بعد ذاکر اہلیبیت بن گئے اور مجلسوں میں اہلیبیت کے واقعات بتاتے تھے اور 20سال تک ذاکر کے طور پر کام کرتے رہے اور ان کا ذاکر اہلیبیت میں کافی نام تھا اور کافی علم رکھتے تھے۔1920 میں پیدا ہوئے اور 2007 میں رحلت فرمائی۔

 

فدا حسین  (مرحوم)ولد عبدالرحمن (قوم پنوار) 1956 ء ۔۔۔ تا ۔۔۔ 2011ء
اولاد: 2 بیٹے 6بیٹیاں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیشہ قصاب /لکڑی کا کام
خدمات: پہلے قصاب کا کام کرتے تھے اور سیاست میں عملی طور بہت ایکٹو تھے اور وارڈ میں سیاسی اعتبار سے ان کا بہت نام تھا۔ اور ہر آدمی کے کام کے لئے خود نکل پڑتے تھے ۔ پنوار برادری میں ان کا بڑا نام تھا۔قساب کا کام چھوڑ کر لکڑی کا کام شروع کر دیا ۔ لیکن گردے فیل ہونے کی وجہ سے کافی عرصہ بستر پر رہے ۔ علاج معالجہ ہونے کے باوجود کالق حقیقی سے جا ملے۔ آج بھی ان کی خدمات کو یاد کیا جاتا ہے۔

 

غلام نازک  (مرحوم)ولد اللہ ڈیوایا (قوم پٹھان ) 1977 ء ۔۔۔ تا ۔۔۔ 2012 ء
اولاد: 3بیٹے 2بیٹیاں پیشہ :  ۔۔۔۔۔۔۔زمینداری/دکانداری
خدمات: یہ زمینداری کے ساتھ ساتھ کپڑوں کا کام بھی کرتے تھے اور انتہائی شریف انسان تھے اچانک دل کا دورہ پڑا اور اس جہان فانی سے رخصت پاگئے ۔ اور گریبوں کے دکھ درد میں بہت شریک ہوا کرتے تھے اور ان کی مالی معاونت بھی کرتے تھے۔

 

کریم بخش پنوار (مرحوم) ولد فیض محمدپنوار
پنوار خاندان سے تعلق رکھنے والے کریم بخش صاحب 1942 میں پیدا ہوئے اور 1997 میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ مڈل تک تعلیم حاصل کی اور پٹوار کا کورس کرنے کے بعد محکمہ محال میں بطور پٹواری بھرتی ہوئے
تحصیل راجن پور اور روجہان کے مختلف علاقوں میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ وارڈ نمبر 5 محلہ قصابان میں رہائیش پذیر تھے ۔اولاد میں 4بیٹے اور 5 بیٹیاں چھوڑیں ۔ عام لوگوں سے ملنا جُلنا اور اُن کی شادی غمی میں شمولیت کی بدولت ہر دلعزیز تھے۔اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

منطوراحمد پنوا     (مرحوم) ولدفیض محمدپنوار

ان کا تعلق بھی پنوار خاندان سے تھا۔1941 میں پیداہوئے اور 1993 میں دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں محکمہ محال میں بطور پٹواری بھرتی ہوئے اور بعدازاں قانونگو اور پھر نائب تحصیلدار بنے۔ زیادہ تر ملازمت تحصیل روجہان کے علاقوں میں کی۔اپنے خاندان کی ترقی کے لئے ہمیشہ سرگرم عمل رہے،اپنے وارثان میں 1 بیٹا اور 6 بیٹیاں چھوڑیں۔

مرزا داؤد بیگ ولد مرزا محمد رمضان (قوم مغل پٹھان)         
اولاد 6بیٹے ، 4بیٹیاں چھوڑیں ۔۔۔۔۔۔۔۔     پیشہ                                  ........واچ میکر/انجن ساز
خدمات:عوامی سماجی کاموں میں بے انتہاہ دلچسپی لیتے تھے ،دوستوں کا وسیع حلقہ احباب تھا۔مرزا صاحب کے گھرانے کی مادری زبان اردو تھی اور ہے۔ ان کے ہاں بہت اچھی اردو بولی جاتی تھی ،بلدیاتی سیاست میں ان کا کردار بھر پور رہا ان کی اہلیہ ٹاون کمیٹی کی ممبر بھی رہیں ۔ بہت ذہین اور قابل تھے۔پیشہ کے اعتبار سے واچ میکر تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انجنوں کا کام بھی کرتے تھے اور انجنوں کے بہت اچھے کاریگر تھے۔  ضلع بھر مین اُن کی مہارت کے لوگ معترف اور معتقد تھے بلکے ریاست کے علاقہ میں بھی اُن کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں ۔دریائے سندھ میں چلنے والے بحری چھوٹے  جہازوں کے انجنوں کی مرمت بھی کرتے تھے ۔ اور بلدیہ کے ٹھیکیدار بھی رہے۔ مالی حالات کافی اچھے تھے۔مرزا صاحب نے ایے سے زیادہ شادیاں کیں۔رہائیش وارڈ نمبر 5 کے محلہ مرزا داود بیگ میں تھی یہ محلہ آج بھی اُنہی کے نام سے موجود ہے۔1229 میں پیدا ہونے والے مرزا داود بیگ صاحب نے 2004 میں وفات پائی ۔پان بہت زیادہ کھاتے تھے اور سگریٹ بھی بہت زہیادہ پینے سے اُن کی صحت ازیادہ اچھی نہ تھی۔موٹے چشمہ والی عینک استعمال کرنے والے مرزا صاحب شروع سے ہی اُونچا سنتے تھے تاہم آخری عمر میں آلہ سماعت کا باقاعدگی سے استعمال کرتے تھے۔ایک شادی اُنہوں نے آخری عمر میں بھی کی۔


روشن علی خان ولد میرا للہ (قوم مستری)
اولاد 9 بیٹے ، 3بیٹیاں
روشن علی مرحوم کا شمار اُس دور کے معروف لوگوں میں ہوتا تھا تعلیم کے اعتبار سے بے شک وہ بہت کم پڑھے لکھے تھے لیکنخدا داد کاروباری صلاحیت کی بدولت ان کا شمار کامیاب کاروباری افدراد میں ہوتا تھا۔ٹھیکہ داری بھی کرتھ تھے اور مختلف دیگر کاموں کے علاوہ راشن ڈپو بھئی کامیابی سے چلاتے تھے۔ مالی لحاظ سے کافی مضبوط تھے ۔،لیکن عمر کے آخری حصہ میں مالی حالات اچھے نہ رہ پائے جس کی بدولت گزر اوقات میں دشواری رہی۔ تاہم اس دوران بلدیہ کے چھوٹے چھوٹے ٹھیکہ جات سے اپنے آپ کو مصروف بھی رکھا اورگزر اوقات کا ذریعہ بھی نبائے رکھا لیکن دشوار ری میں رہے۔ بلدیاتی سیاست میں بھی ہمیشہ اہم رول ادا کیا اور عوامی سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کتر حصہ لےتے تھے۔مرزا داود بیگ صاحب اور روشن صاحب ملک غلام صابر صاحب کے گروپ کے اہم ترین ساتھیوں میں سے تھے۔ وارڈ نمبر 5 کے محلہ روشن مشدی میں ان کی رہائیش تھی اور یہ محلہ ان کے اور حاجی محمد صادق مشدی کے ناموں پر رکھا گیا تھا۔انہوں نے بھی ایک سے زائد شادیاں کیں تھیں۔1925 میں پیدا ہوئے اور 1985 میں خالق حقیقی سے جا ملے۔   

حاجی محمد صادق  صاحب المعروف حاجی مشدی (مرحوم) ولد روڑے خان
اولاد: 3 بیٹے , 2بیٹیاں پیشہ دکانداری ، کاشتکاری
حاجی صاحب 1924 میں پیدا ہوئے۔ وارڈ نمبر 5 محلہ روشن مشدی میں ان کی رہائیش تھی۔ نہایت معتبر شخصیت کے حامل تھے۔ پیشہ سے کازتکاری ، زمینداری سے منسلک لیکن کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ نہایت خاموش طبعہ اور خوش اخلاق اور مسرور کنُ شخصیت کے مالک تھے۔سماجی فلاھی کاموں میں گہری دلچسپی لیتے تھے،اسی بنا پر اس محلے کا نامان کے اور ان کے ساتھی روشن کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ ایماندار اور صلح کنُ تھےاسی بنا پر اُنہیں مختلف معاملات میں فیصلہ جات کے لئے سب سے بہتر تصور کیا جاتا تھا۔ شہر میں بہت ساری دوکانات اور مکانات اُن کی ملکیت میں تھے۔ سدگی اور قناعت اُن کے مزاج کا حصہ تھی ۔ سیاسی طور پر ملک غلام صابر صاحب کے گروپ سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ہر طبقہفکر کے لوگوں میں نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔حاجی صاحب بنے 2002میں وفات پائی لیکن آج بھی اُن کی یادیں اُن کی محبت اور ملنساری اور عجز وانکساری کی وجہ سے تازہ ہیں۔ حاجی صاحب پانچ وقت کی نماز اور صوم وصلواۃ کے پابند تھے نہایت عبادت گزار تھے ۔ نماز پنجگانہ مسجد میں باقاعدگ سے اد کرنا اُن کی عادت کا حصہ تھا اور دوسروں کو بھی مسلسل اس کی تلقین اس انداز سے کرتے کہ اثرات مرتب ہوں۔

 
محمد شفیع  (مرحوم)  بھٹی ولد محمد نیاز قوم بھٹی)
شفیع بھٹی صاحب 1953 میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد محترم نیاز محمد کو کوٹ مٹھن میں ہر فرد عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔خودار شخص تھے محنت مزدوری کرتے تھے لیکن مقام دولت مند اور پڑھے لکھے لوگوں سے زیادہ تھا ۔ اس پورے علاقہ میں اُن کی قلفی بے حد مشہور تھی۔ شاید ہی کوئی بڑا چھوٹا ایسا اُس دور میں رہا ہو جس نے اُن کی قلفی شوق سے نہ کھائی ہو اُس دور میں انہی کی بدولت کوٹ مٹھن کی سوغاتوں میں کوٹ مٹھن کی قلفی نے اولیت آخر کی۔ لوگ راجن پور سے ہیاں قلفی کھانے آتے تھے بعد ازاں اُنہی کے ایک شاگرد نے اُن کی جکہ لی اور بابو قلفی والے کے نام سے مشہور ہوا ۔ ایک خاص عمر تک شفیع بھٹھ صاحب اپنے والد محترم کے ہمراہ اس کام میں مشغول رہے لیکن اُنہی کی زندگی میں شفیع بھٹی صاحب نے اپنا سلور کے برتنوں کا کام شروع کیا اور بعد ازاں ٹرنک پیٹی تیار کرنت کے کام کا آغاز کیا جس میں اُنہیں بڑی شہرت اور مہارت حاصل ہوئی اور اسی طرح پھر انہوں نے سٹیل اور چینی کے برتنوں کو بھی اپنی دوکان کا حصہ بنایا اور یہ کاروبار اسقدر پھیلا کے وہ شفیع برتنوں والے کے نام سے جانے پہچانے لگے۔بھٹی صاحب مرحوم نے اپنے والد کی زندگی اور بعد میں بھی اپنے نہب بھائیوں کی دیکھ بھال اور کفالت کا فریضہ نہایت احسن انداز سے جاری رکھا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے محبت اور لگاو اُنہیں ورثہ میں اپنے والد سے ملا تھا ،اسی طرح مقامی سیاست میں بھی اُنہیں ملک غلام صابر گروپ سے وابستگی ورثہ میں ملی  جسے اُنہوں نے مرتے دم تک نبھایا ۔ سماجی ،کاموں میں بے انتہاہ دلچسپی لیتے تھے اور ایک مدبر منجھے ہوئے سیاسی ورکر تھے ۔اسی وجہ سے پارٹی اور گروپ دونوں جگہ اُن کی رائے کو بھرپور اہمیت دی جاتی تھی۔ راجن پور کی معروف سیاسی شخصیت شوکت بھٹی صاحب اُن کے سسر تھے۔ شفیع بھٹی صاحب مقامی بلدیاتی سیاست میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتے تھے ، لیکن اُنہوں نے خود کبھی عملی سیاست میں حصہ نہ لیا تھا البتہ اُن کی زندگی میں گروپ کے اصرار پر اُن کی اہلیہ نے ڈائیریکٹ گنرل کونسلر کی نشست پر الیکشن لڑا اور بھر پور کامیابی حصل کی اور پھر دوسری مرتبہ دوبارہ اسی نشست پر کامیابی حاصل کی۔آخری عمر میں کاشتکاری بھی کی کچہ کے علاقہ میں گنہ کاشت کیا کرتے تھے اور متواتر کاروبار کے ساتھ ساتھ کاشتکاری پر بھی بھر پور توجہ دیتے ،شدید گرمی اور سردی میں سخت محنت اور خرابی صحت رہنے سے دل کے عارضہ میں مبتلا ہوئے لیکن اس سلسلہ کو بند نہ کیا اور اسی بنا پر وہ 2003 میں اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ شہر بھر میں کسی بھی اپنے پرائے کی تکلیف میں دن رات ایک کر دینے والے شفیع بھائی اپنی صحت کے بارے میں کسقدر لاپرواہ تھے اس کا اندازہ تو اُن کے اس عمل سے ہوتا ہے لیکن لوگوں کی خدمت اور اُن کے دکھُ درد میں اُن کا ساتھ دینے کا جو انمول درس وہ ہم سب کو دے گئے اُسے کوئی بھی فراموش نہیں کر سکتا اور ُج کم از کم میری ( کمال فرید ملک) کی زندگی کی تو بنیاد ہی اسی ایک نقطہ پر ٹکی ہے جو اُن کی بدولت حاصل ہوا۔نہایت خاموش طبعیت اور عجز وانکساری کا پیکر تھے ، شدید غصہ کی حالت میں بھی گفتگو خوش اخلاقی اور مسکراہٹ کی حالت میں کرنا اور اپنا نقصان کر کے بھی تعلقات کو بچانا اور پھر کبھی اس کا اظہار کسی طور کسی کے سامنے نہ کرنا وہ گُر تھا اُن کے پاس کے بڑے بڑے بھی اس کی پیروی کی صلاحیت آج بھی نہیں رکھتے۔ بہر حال بے شمار خوبیاں اور بہت کم خؒامیاں یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہیں جو بہت کم لوگوں کو ملتی ہیں اُن میں ایک بھائی محمد شفیع بھٹی بھی تھے۔ 


غلام شبیر ولد حسن بخش (قوم پٹھان)
اولاد 1 بیٹا 4بیٹیاں پیشہ:  ملازمت (سیکورٹی گارڈ سکول) ۔
۔15سال تک سکول میں سیکورٹی گارڈ کے طور پر کا م کیا اور دوران سروس اِن کو ہارٹ اٹیک ہوااور اِن کی موت  2002میں واقع ہوئی۔ سیکورٹی گارڈ کے ساتھ ساتھ دہی کا کام بھی کرتے تھے ۔ اور اِن کی دہی کافی مشہور تھی۔ اور آج بھی اِن کی دہی کی دکان موجود ہے۔ اور گانا بھی گاتے تھے۔ اور سرائیکی شعر بھی لوگوں کو سناتے تھے اور لوگوں کو محظوظ کرتے تھے۔ خودار طبعیت کے مالک تھے حساس طبعیت کی بدولت حالات و واقعات کو دیکھتے تھے۔1966 میں پیدا ہوئے وارڈ نمبر5 کے محلہ مرزا داود بیگ میں رہائیش پذیر تھے ان کی اکثر برادری اسی وارڈ میں تھی جبکہ کچھ برادری کے افراد وارڈ نمبر 3 میں رہائیش پذیر ہیں ۔

عامر سہیل ولد طفیل احمد پنوار
پیشہ : طالب علم
شروع سے ہی پڑھائی کا بہت شوق تھا  سکول میں تقریری مقابلوں میں بھرپور دلچسپی رکھتے تھے۔ ایف۔ اے کا امتحان پاس کیا اور دورانِ تعلیم ان کا حادثہ ہو گیا اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ بہت خوش اخلاق اور ملنسار لڑکا تھا۔1984 میں پیدا ہوئے اور 2002 میں 21 سال کی عمر میں وفات پائی۔