ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

سردار احمد بخش خان رند بلوچ(مرحوم) المعروف آمدو خان ولد غلام حسن خان رند

آمدو خان صاحب خواجہ فریدؒ اور اُن کے خاندان سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔ اور اسی در سے فیضیاب ہونے والوں کی فہرست میں ان کا نام بھی شامل تھا۔ ان کی پیدائیش 1905 میں ہوئی ۔تعلیمی معیار مڈل تھا لیکن ادب ،و نیاز ، اخلاقی اقدار ، سے اُن کا قد کاٹھ بہت اُنچا تھا۔ محکمہ ہائی وے میں بطور جمعدار (سپروائیزر) اپنے فرائض ریٹائیرمنٹ تک سرانجام دیتے رہے۔1950 میں انہی کے زیر نگرانی کوٹ مٹھن اور چاچڑاں شریف کے دوران پہلا کشتیوں کا پُل بنایا گیاجس کا افتتاع اُسوقت کے گورنر سردار عبدالرب نشتر نے کیا ۔انہی کے زیر نگرانی بنگلہ اچھا کے مقام پر بھی کشتیوں کا پُل1974 میں بنایا گیا اور اس موقعہ پر مزاری چیف سردار میر بلخ شیر خان مزاری صاحب نے انہیں حسن کارکردگی کا سرٹیفکیٹ دیا ۔1965کی جنگ کے موقعہ پر(طالب والا پُل)سرگودھابھی انہی کے زیر نگرانی ہنگامی طور پر بنایا گیا جو اس حقیقت کا منہ بالتا ثبوت ہے کہ اُن کی قابلیت اور مہارانہ نظروں کے سامنے اور دریا کے پیٹ میں سے راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت کے معترف کون کونسے لوگ تھے۔ ۱۸من وزنی شہتیر اکیلے اُٹھانا اُنکی جسمانی طاقت کو نمایاں کرتا ہے۔ دراز قد ، چوڑی چھاتی اور بڑی مونچھیں اُن کی شخصیت میں جو نکھار اور سحر انگیزی نمایاں کرتی تھیں اُن کی عاجزی اور مسکراہٹ ہر لمحہ اُس حسن کو نمایاں اور دلکش بناتی تھی۔اُن کی بدولت بستی بیانی ملاحان ، بستی منچھری ، بستی دستی ، اور کچہ کے بے شمار علاقوں کے مکینوں کو محکمہ ہائی وے میں ملازمتیں ملی ، جبکہ اس سے قبل محکمہ ہائی وے ان لوگوں کو ملازمت اس بنیاد پر نہ دیتا تھا کہ یہ لوگ کام نہیں کرتے لیکن آمدو خان صاحب نے اپنی ذمہ داری پر نہ صرف ان لوگوں کو ملازمتیں دلوائی بلکے ان سے وہ کام لیا کے دنیا عش عز کر اُٹھی اور آج تک ان علاقہ کے لوگوں کو اس شعبہ میں ملازمتوں پر رکھا جاتا ہے۔سرردار احمد بخش خان ریٹائیرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ تک وارڈ نمبر4 میں ہی مقیم رہے بعد ازاں ڈیرہ غازیخان کے علاقہ غازی گھاٹ چلے گئے جو کہ ااُن کا آبائی علاقہ تھا۔ اُس علاقہ میں بھی اُن کے عوامی روابط بے حد موئثر اور مظبوط تھے ۔ کھر ، گورمانی اور دیگر اہم سیاسی لوگوں نے اُن کی عوامی وابستگی کی بدولت بے حد پذیرائی کی لیکن کوٹ مٹھن سے محبت اُنہیں ورثہ میں ملی تھی اسی لئے جلد ہی وہ واپس آگئے اور کافی عرصہ یہاں قیام پذیر رہے اور 2005 میں وفات پائی لیکن آج بھی اُن سے لوگوں کی محبت اور لگاو اُنہیں دلوں میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔

عبدالعزیز غوری (مرحوم) ولد میاں محمد حسین غوری

عبدالعزیز غوری خاندانکے انتہاہی اہم اور سرکردہ فرد تھے جنہیں اللہ ڈیوایا خان غوری کی وفات کے بعد اس خاندان کے سربراہ کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ 1954 میں پیدا ہوئے پرائمری تک تعلیم حاصل کر سکے لیکن تعلیم کی کمی اُن کی زندگی کی راہوں میں رکاوٹ پیدا نہ کرسکی۔پیشہ سے کاروباری تھے اور بعد ازاں سعودی عرب کافی عرصہ تک رہے لیکن لوگوں سے گہری وابستگی اُنہیں زیادہ عرصہ تک وہاں نہ رکھ سکی اور وہ واپس اپنے علاقہ اور قوم کی خدمت کے جذبہ سے سرشار کوٹ مٹھن آگئے اور عومی ، سماجی کاموں میں سرگرم عمل ہوگئے ۔ اُن کے دوستوں اور ساتھیوں میں الحاج مریدحسین زرگر صاحب اور الحاج خادم حسین زرگر سر فہرست تھے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے گہری نظریاتی وابستگی رکھتے تھے لیکن مقامی سیاسی گروپینگ میں ملک غلام صابر گروپ کے اہم ترین ساتھیوں میں ان کا شمار ہوتا تھا ۔ بے باک شخصیت اور نہایت اعلیٰ ظرف رکھتے تھے۔ خوش اخلاقی اُن کی شخصیت کا اہم حصہ اور جدوجہد خاصہ تھا منفرد انداز سے زندگی بسر کرنے والے عبدالعزیز حقیقت میں انسان دوست اور یار باش تھے ۔ اپنے دیرینہ ساتھیوں حاجی مرید حسین اور حاجی خادم حسین کی وفات کے بعد ادھورے سے تھے لیکن اُنہی کے ساتھیوں سے ہمراہی رکھی۔ معاشی طور پر اچھے حالات نہ ہونے کے باوجود اُنہوں نے اپنی سفیدپوشی کا بھرم ہمیشہ قائم رکھا اورسماجی ،خدمات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے رہے۔ نام کی طرح حقیقت میں ہر دل عزیز تھے ،ہر محفل کی جان تھے ،اور اپنے خاندان ، گروپ ہی نہیں اس پورے وسیب کی پہچان تھے ۔ زندگی کے آخری ایام میں کینسر کا مرض لاحق ہوا تو بھی اُن کی خوش مزاجی اور سحر انگیز طبعیت نے کسی کو افسردہ نہ ہونے دیا اور نہایت دلیری اور حوصلہ سے اس مرض کا مقابلہ کرتے رہے لیکن موت برحق ہے اور اسی کشمکش میں اُنہوں نے اپنی جان 2010 میں اپنے خالق حقیقی کے حوالے کی اور اس پورے علاقہ کو اداس کر گئے مگر اپنی خوبصورت یادیں اور اپنی محبت کی ایسی خوشبو ہم سب میں بکھیر گئے کہ ہمیشہ اُن کی یادیں ہم سب کو مہکائے رکھیں گی۔اپنی اولاد میں اُنہوں نے 2یٹے اور 3 بیٹیاں سوگوار چھوڑیں ۔

غلام شبیر وئینس (مرحوم) ولد غلام حسن وئینس
غلام شبیر خان وئینس 1925 میں پیدا ہوئے اور 1994 میں اس جہان فانی سے رخصت ہوئے ۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد بطور کانسٹیبل پنجاب پولیس میں شمولیت اختیار کی اور اپنی خدمات کے بل بوتے پر اے ایس آئی کے عہدے پر سلسلہ ملازمت چھوڑا۔ محکمہ میں ان کی کارکردگی کو ہر دور میں سراہا گیا۔ عام لوگوں سے ان کا رویہ نہایت شفیقانہ تھا ، ملنسار اور خوش اخلاق تھے ۔ملازمت سے ریٹائیرمنٹ کے بعد اُن کی بقیہ زندگی خدمت خلق اور سماجی کاموں میں بسر ہوئی۔اپنے پسماندگان میں اُنہوں نے اپنی زوجہ کے علاوہ 2بیٹے اور2  بیٹے چھوڑے۔
 

عبدالغفور جھلن (مرحوم) ولد الہیٰ بخش
۔1947 میں پیدا ہوئے ۔ تعلیمی معیار ایم اے ایم ایڈ تھا ، بطور ایس ایس ٹی ٹیچر کے بوائیزہائیر سکنڈری سکول کوٹ مٹھن میں خدمات سر انجام دیں کچھ عرصہ بطور اے ای او مرکزکوٹ مٹھن بھی فرائض سر انجام دیئے۔ نہایت شریف النفس اور خوش مزاج تھے ۔ شعبہ تعلیم میں اُن کی خدمات ہمیشہ قابل ستائیش رہینگی۔ 2009 میں خالق حقیقی سے جا ملے ۔ اولاد میں 7 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں۔