ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

سید غلام علی شاہ صاحب بخاری(مرحوم)ولد سید جندوڈا شاہ بخاری


شاہ صاحب 1905 میں پیدا ہوئے اور آپ نے 1971 میں وفات پائی، کوٹ مٹھن کے وارد نمبر 2میں رہائیش تھی اور مڈل تک تعلیم حاصل کی سادات گھرانے کے سربراہ تھے اور بے شمار مرتبہ میونسپل کمیٹی کے کونسلر بنے،سیاسی طور پر نہایت بصیرت رکھتے تھے اور اجتماعی کاموں میں ہمیشہ سرگرم عمل رہتے تھے۔زمینداری کے پیشہ سے منسلک رہے ۔

 

 

 

سید فیض احمد شاہ صاحب بخاری (مرحوم) ولد سید جندوڈا شاہ بخاری

شاہ صاحب کا تعلق بھی سادات خاندان سے تھا  آپ 1910 میں پیدا ہوئےاورحسب دستور بلدیہ کوٹ مٹھن میں اس خاندان کی نمائیندگی رہی فیض احمد شاہ ساحب نہ صرف کونسلر منتخب ہوئے بلکے ان کی اہلیہ بھی خواتین کی مخسوص نشست پر کونسلر منتخب ہوئیں ۔جبکہ فیض احمدشاہ صاحب ٹاون کمیٹی کوٹ مٹھن کے وائیس چیرمین بھی بنے۔وارڈ نمبر 2کے محلہ نظام شاہ میں رہائیش رکھنے والے سادات خاندان کے سربراہ نے مڈل تک تعلیم حاصل کی تھی اور محکمہ تعلیم میں مدرس کی حیثیت سے اپنے فرائیض سرانجام دیتے رہے۔ اور بعد از ریٹائیرمنٹ اپنے خاندان کی نمائیندگی سیاست میں کی ملک غلام صابر گروپ سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ اُسی گروپ سے کونسلر اور پھر وائیس چیرمین ٹاون کمیٹی منتخب ہوئے۔سماجی اور اجتماعی ترقیاتی کاموں میں اُن کا کردار نمایاں رہا۔ سیاست میں اپنے گروپ کے مضبوط ترین اہم ساتھی رہے ۔حکومتی اور طاقتور طبقہ کی جانب سے زبردست دباو کے باوجود ثابت قدم رہے اور اپنے گروپ کی کامیابی کا سبب بنے جس کی بدولت اُن کا احترام نہ صرف گروپ بلکے ہر طبقہ فکر کے لوگوں میں کیا جاتا تھا کیونکہ یہ وہ دور تھا جب بڑے بڑے اہم اور عوام کی نگاہ میں مضبوط کونسلر بھی اپنے پاوں کی مٹی زور جبر یا لالچ کی بدولت چھوڑ گئے تھے۔لیکن شاہ ساحب کی ثابت قدمی نے نہ صرف سیاست کا دھارا بدل دیا بلکے ایسے حالات میں بے وفائی کرنے والے اور لالچ کی وجہ سے غداری کرنے والوں کو بھی منہ کی کھانی پڑی ، غالباً یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اس گھرانے کا فرد الیکشن میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ شاہ صاحب انتہاہی خاش اخلاق ، بُرد بار ، ملنسار ، عوام دوست اور شفیق طبعیت کے مالک تھے۔ شاہ صاحب 1989 میں خالق حقیقی سے جا ملے۔اُن کے بعد اُن کی صاحبزادی مس ارشاد بتول بخاری نے بھرپور کامیابی حاصل کی اور کونسلر منتخب ہوئی اور بعد ازاں دوسرے الیکشن میں ضلع اسمبلی کی کونسلر منتخب ہوئیں۔