ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

مولانہ مفتی واحد بخش صاحب (مرحوم)ولد رئیس چھتہ خاں صاحب

تاریخ کوٹ مٹھن میں مفتی صاحب کی دینی خدمات ہر دور میں قابل تحسین ہیں اور آپ کی قابلیت اور دینی تعلیمات ، قرآن و حدیث اور علم فقہہ پر عبور ہی آپ کی پہچان بنا آپ دارالعلوم دیوبند انڈیاسے شیخ الحدیث تھے۔ وہی سے اسلامی تعلیمات حاصل کیں اور دستار بندی ہوئی آپ  کا شمار فلسفہ فقہا ٗ   کے نام ور اُساتذہ میں ہوتا تھا۔ شیخ الحدیث اور صدر مدرس کی حیثیت سے مدرسہ قاسم العلوم ملتان اور مدرسہ معزن العلوم خان پور ضلع رحیم یار خان دینی تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔مفتی صاحب ضلع مظفر گڑھ تحصیل علی پور کے شہر خان گڑھ  کے قصبہ شاہ وسوا  سے ہجرت کر کے کوٹ مٹھن آباد ہوئے اور دینی علوم کے بے بہا خزانے سے اس علاقہ کے لوگوں کو فیض یاب کیا ،دربار حضرت خواجہ غلام فرید ؒ پرقائم مدرسہ کو آپ نے اپنا مرکز بنایا اور لوگوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کیا اسی طرح خاندان فریدؒ کے افراد اور چشم چراخ بھی مفتی صاحب سے تعلیم حاصل کرتے رہے جن میں سرفہرست خواجہ فیض فرید سائیں بھی آپ کے شاگردوں میں تھے۔مفتی صاحب کو فارسی ، عربی، اردوُ ، سنسکرت اور سرائیکی پر مکمل عبور حاصل تھا۔مفتی صاحب کی تعلیمات کا مرکز بے شک کوٹ مٹھن رہا لیکن اُنہوں نے دریا کے پار کے علاقوں میں بھی خاص طور پر خانپور میں بھی دینی خدمات سر انجام دی۔ اسی بدولت مفتی صاحب کو دریا کے دونوں جانب یکساں اہمیت اور پذیرائی ملی۔ بیرون ملک ایران ، عراق ، انڈیا میں بھی آپ کے شاگرد موجود ہیں اور پاکستان میں مختلف علاقوں میں آج بھی آپ کے شاگرد علم وعمل کی شمع سے اُجالہ کئے ہوئے ہیں۔مفتی صاحب 1904میں پیدا ہوئے اور آپ نے 21 جنوری 1984   کو   وفات پائی اور اس جہان فانی سے کوچ کرتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے  آپ کی تدفین کوٹ مٹھن کے قبرستان میں ہوئی۔ آپ کی تعلیمات ، حسن اخلاق اور شاگردوں کی بدولت آج بھی آپ کی مہک اور روشنی اس دھرتی کو منور کئے ہوئے ہے۔

 

حاجی خدابخش صاحب (مرحوم) ولد حاجی اللہ وسایا صاحب مرحوم

حاجی خدابخش ولد حاجی اللہ وسایا ولدبناں ولد نباہو ولد حافظ بناں قوم  (پنوار)راجپوت انڈیا کے شہر دہلی سے اس علاقہ میں آباد ہوئے۔  آج بھی دہلی آپکے بزرگوں کی سرائے حافظ بناں موجود ہے۔ آپ کے پردادا 1857 کی جنگ آزادی میں ہجرت کر کے پہلے چاچڑاں شریف ضلع رحیم یار خان اور پھر بانی شہر حضرت خواجہ شریف محمد کوریجہ کے ہمراہ کوٹ مٹھن آباد ہوئے۔ جاجی خدابخش صاحب 18 مئی 1903 میں پیدا ہوئے اور آپ نے 23 مئی 1983 کو  اسی سال پانچ دن کی عمر میں وفات پائی  اور قبرستان خواجہ شریف محمد سائیں میں مدفن ہوئے۔ بلدیہ کوٹ مٹھن میں محرر چونگیات کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی اور بعد از ریٹائرمنٹ صدر بازار کوٹ مٹھن میں پنوار کلاتھ ہاوس کے نام سے کپڑے کی دوکان لگائی۔ حاجی ساحب مسلک فقہ حنفی بریلوی سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت خواجہ ہوت پاک سائیں کوریجہ کے مریدت خاص تھے ۔ اپنے مسلک کے علوم سے نہ صرف گہری دلچسپی رکھتے تھے بلکہ آپ کا شمار مذہبی علوم سے گہری آشنائی رکھنے والوں میں ہوتا تھا۔ آپ نے دو شادیاں کیں ، پہلی بیوی سے 3 بیٹے ( عبدالرزاق صاحب   ریٹائرڈ انسپکٹر چونگیات ،  االلہ وسایا صاحب ،ریٹائرڈ وٹرنری اسسٹنٹ  ، حاجی احمد رضا  مرحوم )     اور 1 بیٹی  غلام سکینہ ( مرحومہ) ہے۔ جبکہ دوسری بیوی میں سے پانچ بیٹے ۔ ( احمد بخش شاہین  صاحب ریٹائرڈ ٹیچر ، غلام محمدصاحب  ٹیکس کلرک بلدیہ کوٹ مٹھن ، گُل محمدصاحب ٹیچر ہائر سکنڈری سکول بوائز کوٹ مٹھن ، محمد عثمان صاحب ریٹائعڈ صوبیدار آرمی (ملیشیاٗ) حال فوجی کتاب گھر صدر بازار کوٹ مٹھن اور محمد صدیق نائب قاصد بلدیہ کوٹ مٹھن ہیں) اور 1 بیٹی  غلام عائشہ ہے۔آپ حاجی صاحب نے دو مرتبہ حج اور پانچ مرتبہ عمرہ کی سعادت حاصل کی ۔ آپ ہمیشہ سے ہی صوم وصلواۃ کے پابند تھے، اور حافظ ْقرآن پاک تھے۔ آپ نہایت ایماندار اور فرض شناس تھے دوراں ملازمت احسن طریقہ سے فرائض منصبی سر انجام دئیے۔ دُکھی انسانیت کی خدمت آپ کا نصب العین رہا، آپ سر درد ، آدھے سر کا درد ، بچھو کاٹنے اور اسی طرح کی دیگر تکالیف میں دم کیا کرتے تھے جس سے تکلیف میں آنے والے مریض کو فوری آرام ملتا ۔ مطالعہ کے عادی تھے اس کا اندازہ اس بات سے با خوبی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ دہلی سے شائع ہونے والا رسالہ (پیشواٗ) ہر ماہ منگوایا کرتے تھے۔مچھلی اور خرگوش کا شکار نہایت شوق سے کرتے تھے۔ آپ کی آخری آرام گاہ آپ کے بزرگوں کے پہلو میں ہے۔ دعا ہے اللہ تبارک تعالیٰ اُنہیں غریق رحمت فرمائے۔ آمین۔،      

مولوی غلام حیدر فریدی صاحب( مرحوم) ولد گلُ محمد صاحب بُزدار

مولوی غلام حیدر فریدی صاحب 1912 میں پیدا ہوئے۔ شعبہ تدریس سے منسلک ہوئے ، زیادہ تر ملازمت صوبہ بلوچستان میں کی اور ناظم تعلیمات کے عہدہ پر ملازمت کا اختتام کیا اور بعد ازاں مستقل کوٹ مٹھن میں رہائیش پذیر ہوئے۔ بُزدار قوم سے تعلق تھا ۔ آپکے بیٹے ماسٹر خلیل احمد بزدار بھی شعبہ درس و تدریس سے منسلک رہے۔ انتہائی باوقار شخصیت کے مالک تھے ۔پابند صوم وصلواۃٰ تھے۔جد جہد اور محنت کی بنیاد پر ایک ٹیچر سے ناظم تعلیمات کے عہدے تک ترقی حاصل کی۔باذوق اور با اصول تھے سماجی اور ادبی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتے تھے ۔ شہر فریدؒ کوٹ مٹھن میں پہلی بزم فرید تنظیم بنی تو آپاُس کے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ کمال فرید ملک کے ہمراہ ۱۹۸۰ سے ۱۹۸۴ تک تعلیم بالغاں کے لئے سر گرم عمل ہوئے اُسوقت کے اسسٹنٹ کمیشنر راجن پور اعجاز احمد منگی نے اس سلسلہ میں سرپرستی کی۔اس سلسلہ میں فنڈز اکھٹے کرنے کے لئے میوزیکل پروگرام کرائے گئے۔ اس قسم کا تجربہ اس علاقہ میں پہلا کامیاب تجربہ تھا۔ اس اہم ترین مقصد کی تکمیل کے لئے کمال فرید ملک ، مولوی صاحب کی کاوشیں بے شک قابل ستائیش ہیں لیکن اعجاز احمد منگی اے سی راجنپور کی بھر پور توجہ اور معاونت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مولوی صاحب عمر کے اس حصہ میں بھی اسقدر فعال تھے کے عملی طور پر نہ صرف اس جدوجہد میں شامل رہے بلکے خود پڑھاتے تھے۔ 30 ماچ 1987 کو آپ نے وفات پائی اور اس جہان فانی میں اہم ترین فرائض سرانجام دیکر اس انداز سے رخصت ہوئے کہ آج تک آپ کی یادیں ہم سب کے دلوں میں زندہ ہیں۔

عبدالعزیز خان پتافی (مرحوم) ولد اللہ بخش خان پتافی
پتافی صاحب (مرحوم) 1938 میں پیدا ہوئے ، مڈل تک تعلیم حاصل کی اور محکمہ محال میں بطور پٹواری کے اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ وارڈ نمبر۱ میں رہائیش پذیر تھے ۔ ملازمت سے ریٹائیرمنٹ کے بعد اُنہوں نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا اور وارڈ نمبر5میں اپنی ذاتی دوکان میں کاروبار شروع کیا۔ اور 1984 میں وفات پانے تک وہ اسی شعبہ سے منسلک رہے ۔ سماجی ، دینی اور ثقافتی کامون میں بڑھ چڑھ کر حسہ لیتے تھے،ہر طبقہ فکر کے لوگ اُن کی خدمات کے معترف ہیں ۔ان کا خاندان موجودہ تحصیل جام پور کے علاقہ لعل گڑھ سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے۔گورچانی اور کوریجہ خاندان سیقریبی رشتہ داری کی بدولت ہر دو خاندانوں میں پتافی خاندان عزت سے دیکھا جاتا ہے۔ پتافی صاحب نے اپنے وارثان میں5بیٹے اور6بیٹیاں چھوڑیں۔آپ کے بڑے بیٹے رحمت اللہ پتافی نہ صرف اپنا کاروبار کرتے ہیں بلکے کاشتکاری کے شعبہ سے بھی منسلک ہیں اسی طرح ان کے چھوٹے بیٹے عنایت اللہ خان پتافی بھی اپنے ذاتی کاروبار اور کاشتکاری میں مصروف ہیں ۔ ان کے خاندان کا شمار تعلیم یافتہ خاندانوں میں ہوتا ہے جبکہ سماجی کاموں میں ان کی شمولیت کسی بھی تعارف کی محتاج نہیں۔

عبدالغفور صاحب پتافی (مرحوم) ولد اللہ بخش خان پتافی
پتافی خاندان دراصل موجودہ تحصیل جام پور کے علاقہ لعل گڑھ سے ہجرت کر کہ شہر فرید کوٹ مٹھن کی زینت بنا۔اس خاندان کا شمار بھی بلوچ قوم میں ہوتا ہے ۔ گورچانی خاندان سے قریبی رشتہ داری ہونے کی بدولت ان کی رزشتہ داری کوریجہ خاندان سے بھی بنتی ہے کیونکے حضرت خواجہ نظام الدین صاحب کی شادی گورچانی خاندان میں ہوئی تھی اسی نسبت سے کوریجہ خاندان پتافی حضرت کو اپنا ننہال کہتا ہے اور ان کا بے حد احترام کیا جاتا ہے۔ عبدالغفور پتافی صاحب   1934 میں پیدا ہوئے آپ نے تعلیم سے فراغت کے بعد اپنی عملی زندگی میں ملازمت بطور ٹیچر اختیار کی اور سب سے پہلے صوبہ بلوچستان میں فرائض سر انجام دیتے ہوئیضلع مستونگ ، ضلع جھل مگسی ، کوئیٹہ اور پھر شہداد کوٹ میں رہے۔ ان علاقوں میں 18 سال تک خدمات سر انجام دینے کے بعد آپ یہاں واپس تشریف لائے اور شہر فرید ؒ کے مختلف سکولوں میں پڑھایا آخر میں آپ نے بطور ایس ایس ٹی گورنمنٹ بوائیز ہائی سکول کوٹ مٹھن میں اپنے فرائض سر انجام دئیے۔ اس سکول میں انگلش پڑھانے میں آپ کا شمار اُس وقت کے اُساتذہ میں سرفہرست ہو کرتا تھا۔سکول کے اوقت کے بعد آپ کا مسکن درس وتدریس کا مرکز بنا رہتا تھا ۔ طبعیت میں سختی بلکل نہ تھی خوش گوار موڈ میں ہی روز مرہ کے امور کی سر انجام دہی کرنا وہ گُر ہے جو اس شہر کے اکثر لوگوں نے شاید آپ سے سیکھا۔ میں (کمال فرید ملک) نے بھی کلاس نہم اور دہم میں ان سے تعلیم حاصل کی کبھی بھی غصہ یا پریشانی میں نہ دیکھا تھا۔نہایت شفیق ، پُر خلوض اور مدبر پایا۔خواجہ غلام فریدؒ سے بھر پور عقیدت رکھتے تھے، صوم وصلوۃٰ کے پابند تھے ۔آپ کی اولاد میں 2 بیٹیاں اور 5بیٹے ہیں جن کی اعلیٰ ترپیت اُنہوں نے اپنی نگرانی میں کی اور آج سب اچھے عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔جو اُن کی تعلیم وتربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اسی طرح آپ کے شاگردوں میں بھی بے شمار لوگ علاقہ اور وطن کی خدمت میں برسر پیکار ہیں۔ آپ نے مورخہ 8مئی 1993 کو دل کا دورہ پڑنے سے رحلت فرمائی اور اپنی جان جان آفریں کے سپرد کیاور امر ہوئے ۔ آپ کی رہائیش وارڈ نمبر۱ نذد سرکلر روڈ محلہ خواجگان میں تھی اور آج بھی آپ کی اولاد وہی رہائیش پذیر ہے۔

فرید بخش خا ن فریدی صاحب( مرحوم) ولد میاں محمد مسلم
لاڑ قوم سے تعلق رکھنے والے فرید بخش فریدی 30اگست 1930میں پیدا ہوئے اور 27 جون 1992 میں اس جہان فانی سے رخصت ہوئے ۔اپنی 62سالہ زندگی میں 25 سال محکمہ لوکل گورنمنٹ میں ملازمت کی ، 20سال کی عمر میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے ۔فریدی صاحب کی ایک بیٹی اور 5 بیٹے ہیں جن کی تربیت پر بھر پور توجہ دی اور اپنی طرح اولاد کو بھی صوم وصلوۃٰ کا پابند بنایا۔ سادگی سے زندگی بسر کرنے والے فریدی صاحب نہایت خوش اخلاق اور عجز وانکساری کا پیکر تھے ۔ دراز قد سانولی رنگت اور چہرے پر ہمہ وقت مسکراہٹ اُن کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ دینی معاملات کی سمجھ بھوج رکھنے والے فرید بخش صاحب خواجہ فرید ؒ سے گہری عقیدت رکھتے تھے اسی بنا پر اُنہیں فریدی کہا جاتا تھا۔ اور اسی نسبت اور اس کی پیروی کی بدولت اُن کے تمام بیٹوں کو بھی فریدی کہا اور لکھا جاتا ہے۔فریدی صاحب وارڈ نمبر۱ کے محلہ خلیفہ صاحب نزد دربار شریف رہائیش رکھتے تھے جہاں آج بھی اُن کا کنبہ رہائیش پذیر ہے۔

 

خلیل احمد خان بزدار (مرحوم) ولد مولوی غلام حیدر خان بزدار

خلیل احمد خان بُزدار 1939میں پیدا ہوئے اور 2001 میں اُنہوں نے 70 سال کی عمر میں وفات پائی۔ اور کوٹ مٹھن ہی اُن کی جائے مدفن بنی۔ دارڈ نمبر1کے محلہ خلیفان میں رہائش پزیر خلیل خان تعلیم کے شعبہ سے منسلک رہے۔ اُن کا تعلیمی معیار بی اے تھا اور شہر فرید کوٹ مٹھن کے اکلوتے مڈل بوائیز سکول کے اہم اُساتذہ میں اُن کا شمار ہوتا تھا۔ اور بعد ازاں اس سکول کو ہائی کا درجہ ملاتو بھی اس ادارہ میں خدمات سر انجام دیتے رہے ۔ اُس دور میں انگلش پڑھانے کے لئے سب سے قابل اُساتزہ کرام میں ان کا شمار ہوتا تھا۔اُن کے شاگردوں میں شامل طلباء آج اُن کے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی اُن کی کامیاب زندگی کی دلیل ہیں۔ملازمت سے ریٹائیرمنٹ کے بعد بھی اُن کی مسکن گاہ درس وتدریس کا مرکز بنی رہی اُن کے والد محترم مولوی غلام حیدر بھی تعلیم کے شعبہ سے منسلک رہے اور آخری عمر میں بھی وہ خادم شہر فرید کمال فرید ملک کے ہمراہ تعلیم بالغاں کے لئے عملی طور پر کوشان رہے۔ جن کی گراں قدر خدمات کا ہر خاص وعام معترف تھا اور آج بھی ہے۔تاہم مولوی غلام حیدر خان صاحب جس قدر ٹھندے مزاج کی طبعیت کے مالک تھے اُسی قدر ماسٹر خلیل خان صاحب حساس طبعیت رکھتے تھے اور خاص طور پر اپنے آخری ایام میں وہ کسی بھی قسم کی ناانصافی اور برائی کو برداشت نہ کرتے تھے۔اور ہر ایسے معاملہ جس میں کسی بھی شخص سے ناانصافی ہوتی دیکھتے تو ماسٹر صاحب بر سرعام اُس کے لئے نہ صرف آواز اُٹھاتے بلکے اُس کی حق رسی کے لئے سر توڑ کوشش کرتے ، اسی طرح سماجی کاموں کے کئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے سماجی کاموں میں بے انتہاہ دلچسپی اور عوامی طرز عمل کی وجہ سے اُنہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور پی پی پی کے ضلعی صدر لیبر بیورو رہے۔ آپ کی اولاد میں ۸بیٹے اور ۴بیٹیاں ہیں۔آپ کے سب سے بڑے بیٹے شوکت خان بزدار ہیں جو آج کل بطور ایس ڈی او انہار صوبہ بلوچستان کے ضلع جعفرآباد میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔جبکہ دوسرے بیٹے رفعت خان بزدار اُن کی زندگی سے ہی کاروباری زندگی بسر کر رہے ہیں اور سماجی کاموں میں اپنے والد کا کرادر ادا کر رہے ہیں اسی طرح اُن کے 2چھوٹے بیٹے شفقت خان اور رفاقعت بزدار نہ صرف اپنا کاروبار(بُزدار ٹینٹ ہاوس) چلاتے ہیں بلکے محکمہ اوقاف کے ٹھیکہ جات بھی حاصل کرتے ہیں اسی طرح یہ دونوں فرزندان بھی دینی ، سماجی ، سیاسی اور ثقافتی کاموں میں نمایاں انداز میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔جو اُن کے والد محترم کی تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

صوفی محمد شریف زرگر (مرحوم) ولد محمد رمضان

بہت کم لوگ یہ جانتے تھے کہ صوفی شریف صاحب پٹھان قوم سے تعلق رکھتے تھے ۔کیونکہ پیشہ کے لحاظ سے وہ سُنار کا کام کرتے تھے اسی لئے عام لوگ اُنہیں زرگر کہتے تھے۔ اور اس سے بھی حیران کنُ بات یہ کہ صوفی صاحب کا شمار بہت کم پڑھے لوگون میں ہوتا تھا۔اور ایسا اُن کی سادہ اور خاموش طرز زندگی کی وجہ سے لیکن حقیقت اس سے بلکل مختلف تھی صوفی صاحب نہ صرف پڑھے لکھے تھے بلکے اگر میں یہ کہوں کے خاص طور پر اُنہیں دینی علوم اور ہر مکتبہ فکر اور مسلک کے علوم پر عبور حاصل تھا۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے یقیناعام لوگ تسلیم نہیں کریں گے مگر میں بذات خود ( کمال فرید ملک) اس کی گوہی کے لئے بیان کر رہا ہوں کہ مجھے بھی اس حقیقت کا علم ۱۹۸۲ میں ہوا اور میں اُن کے اس علم اور تدبر سے اُن کی زندگی تک استفادہ حاصل کرتا رہا۔ اُن کے بدولت نہ صرف مجھے دینی علوم سے رغبت ہوئی بلکے کئی معاملات میں نے اُن سے اور مرحوم فیاض احمد شاہین صاحب ایڈووکیٹ سے استفادہ حاصل کیا ۔ کئی کئی گھنٹے اُن سے گفتگو میرا روزانہ کا معمول تھا ان دونوں صاحبان سے گفتگو میں ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے یہ لوگ علم کا ایسا سمندر ہیں جس میں طغیانی کے بغیر اس میں چھپے ہوئے ہیرے اور موتی خود بخود دوسرے کے دامن میں آتے ہیں ۔بظاہر یہ دونوں شخصیات اس علاقہ میں دہرئیے کے طور پر مشہور تھیں اور لوگ ان کی سخت طبعیت کی بدولت ان سے دور رہتے تھے ۔ مجھے اتفاق سے ان دونوں شخصیات سے قربت کا موقعہ ملا۔ تو ان میں جو محبت ، خلوص ، درد ، محبت ،اور اخلاص میں نے پایا اُسے اگر چاہوں بھی تو بھول نہیں سکتا ۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم اور والدین کی دعاوں اور تربیت کے بعد مجھے جو ملا اس میں ایک بہت بڑا حصہ ان دو شخصیات کا ہے۔بعض اوقات صوفی صاحب سے مجھے انتہائی سخت اور تلخ رویہ ملتا تھا ۔جس سے بے شک چند لمحوں کے لئے مایوسی ہوتی تھی لیکن میری تگ ودو اور اُن سے مانوس طبعیت ہمیشہ مجھے ان سے دور جانے سے روک دیتی اور یہی وجہ تھی کہ اُن کے علوم اور فکر مجھے مال ومال کرتے رہے شاید اکثر لوگوں میں قوت برداشت کی کمی تھی یا پھر اُن کی مجھ سے بے انتہا محبت بہر حال میں ان کی محبت ، خلوص ، شفقت ، اور درس کو کھبی بھول نہیں سکتا اور دعا گو ہوں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اُنہیں اعلیٰ مقا عطا فرمائے آمین ۔ ثم آمین۔ صوفی صاحب اس خطے کا اثاثہ تھے اور اس حقیقت کا اظہار بھی یہاں لازمی ہے۔ حضرت خوجہ احمد علی صاحب صوفی شریف صاحب کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ یہ میرا ہی نہیں شہر کا شیر ہے ۔ اور ایسا اُن کی بے باک اور نڈر طبعیت کی وجہ سے کہا جاتا تھا ۔ صوفی شریف صاحب اسقدر بے باک تھے کہ حقیقت بیان کرنے میں وہ کبھی بھی دریخ نہ کرتے تھے اور طاقتور سے طاقتور ہستی بھی اگر اُن کے سامنے ہوتی تو بھی ایک لمحہ میں وہ حقائق سے پردہ اس انداز میں اُتار تے تھے کہ کسی کو جوب کی جرات نہ ہوتی اور میں اس سلسلہ میں نہ صرف اُن کا معتقد تھا ، رہونگا بلکے پیروکار ہونے پر فخر ہے۔
حق گوئی کا تاج سر پر سجائے سفید پوشی میں سہی لیکن خودداری سے جیتے ہوئے اس معاشرہ میں سادگی سے زندگی بسر کی اور اپنے بعد اپنی اولاد کے علاوہ بے شمار گرویدا اور پیروکار چھوڑ کر جانے والے درویش منش انسان دوست صوفی صاحب اکثر و بیشتر سفید لباس میں ملبوس 22 نومبر2001 کواپنے خالق حقیقی سے جاملے اور وہ سفید چادر اوڑی جس کا نصیب ہونا سب کی دعا ہوتی ہے۔صوفی شریف صاحب 1930 میں پیدا ہوئے تھے اور اُن کا آبائی گھر تحصیل جام پور کا علاقہ تھا لیکن اُن کی شفقت ، محبت ، خلوص اور چاہتیں اس دھرتی کا مقدر تھیں۔ دارڈ نمبر ۱ میں اُن کی رہائیش تھی اور اُن کے جانے کے بعد سے کم ازکم مجھے یہ علاقہ ہمہ وقت سوگوار نظر آیا۔

خلیفہ عبدالواحد صاحب فیضی (مرحوم) ولد خلیفہ احمد یار
خلیفہ عبدالواحد فیضی صاحب 1932 میں پیدا ہوئے کھوکھر قوم سے تعلق رکھتے تھے ، چونکے آپ کے آباواجداد حضرت خواجہ غلام فرید ؒ اور اُن کے بزرگوں کے خلیفہ کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیتے رہے اسی نسبت سے تاحال ان کے خاندان کو خلیفہ کہا اور لکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے بہت کم لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ آپ کا تعلق کھو کھر قوم سے ہے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ان کی قابلیت کی وجہ سے نواب آف بہاولپور نے اپنے پاس اُنہیں اہم ذمہ داری سونپی جسے آپ نے احسن طرح سے نبھایا۔ بعد ازاں ریاست بہاولپور پاکستان میں ضم ہوئی تو آپ نے محکمہ لوکل گورنمنٹ میں ملازمت اختیار کی اور خانپور میں انسپکٹر چونگیات کے عہدے تک فرائض کی سر انجام دہی کرتے رہے بعد از ریٹائرمنٹ اپنے آبائی شہر کوٹ مٹھن واپس لوٹ آئے۔ جہاں اپنے آبائی گھر وارڈ نمبر ۱محلہ خلیفہ صاحب نذد دربار شریف رہائیش رکھی۔ خاموش طبعہ اور سادہ طرز زندگی گزاری۔ عوامی سماجی کاموں میں دلچسپی لیتے تھے اسی بنا پر بلدیاتی الیکشن میں بھی حصہ لیا اور کونسلر بھی رہے۔عمر کے آخری حصہ میں اپنے صاحبزادے کے ہمراہ کاروباری زندگی بھی بھر پور طریقہ سے گزاری اور مین ریلوے بازار میں الکٹرک سٹور پر بیٹھا کرتے تھے۔ نہایت شفیق طبعیت اور عجز وانکساری کا پیکر تھے۔ ہر طبقہ فکر اور ہر عمر کے لوگ اُن سے ملتے اور خوشی کا اظہار کرتے۔ آپ نے 71سال کی عمر میں 14مئی 2003 کو اس جہان فانی سے رخصت ہو کر خالق حقیقی کے حضور حاضری دی۔

غلام عباس فریدی صاحب (مرحوم) ولد محمد بخش

              شہر فرید ؒ کی تاریخ میں غلام عباس فریدی صاحب ایک اہم کردار تھے۔ فریدی صاحب کی گراں قدر تعلیمی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی فریدی صاحب 1941میں دریا کے پار چاچڑاں شریف (ضلع رحیم یار خان)میں
  پیدا
ہوئے۔ آپ نے ایک غریب خاندان میں آنکھ کھولی پنجاب سے مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد حصول تعلیم کے لئے صوبہ بلوچستان کا رخُ کیا۔ وہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بطور ٹیچر فرائض کی ادائیگی شروع کی جہاں کافی عرصہ تک ملازمت کے بعد حکومتی سطع پر اعلان کی بدولت آپ نے اپنے علاقہ میں واپسی کو اولیت دی اور اس سلسلہ میں آپ نے چاچڑاں شریف کے بجائے شہر فریدؒ کوٹ مٹھن کو ترجیع دی اور وارڈ نمبر ۱ میں دربار کے نزدیک رہائیش اختیار کی۔اچھے ٹیچر کی حیثیت سے آپکی پہچان کو زیادہ وقت نہ لگا اور بہت جلد علم کی روشنی پھیلانے والے قلیل اُساتذہ میں فریدی صاحب کا شمار ہونے لگا ۔بطور شاگرد فریدی صاحب کی تعلیمات سے استفادہ حاصل کرنے کا موقعہ مجھے(کمال فرید ملک) کلاس نہم اور دہم میں ہوا۔انگلش اور مطالعہ پاکستان یہ دونوں مضامین خاص طور پر آپ کلاس نہم اور دہم میں پڑھایا کرتے تھے۔ آپ کے لیکچر دینے کا انداز اس قدر دلچسپ اور دوستانہ تھا کہ کلاس میں سے باہر جانے کا من نہ ہوتا تھا۔ درسی کتب سے ہٹ کر مطالعہ پاکستان ، اسلامیات اور انگلش کا پڑھانا اور سیدھا دل میں اُتار دینا ، شاید یہی ہمارے کام آرہا ہے۔کچھ عرصہ تک نطور اسٹینٹ ایجوکیشن آفیسر اور پھر ڈپٹی ڈی ای او کے فرائض بھی سر انجام دئیے ۔شاید یہ دور اُن کی زندگی میں اُن کی ترقی کا دور ہو لیکن ہائی سکول کوٹ مٹھن کے لئے اُن کا یہاں سے باہر جانا بے شک تنزلی کا دور شمار ہوتا ہے۔ بہر حال فریدی صاحب جلد ہی دوبارہ ہائی سکول واپس آئے اور کچھ ہی عرصہ بعد انہوں نے بطور پرنسپل چاج سمبھالہ اور اس عرصہ میں ایک مرتبہ پھر ہائی سکول کی ترقی کی جانب پیش رفت ہوئی ۔بعد ازاں فریدی صاحب کچھ عرصہ ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن اور پھر ڈائیریکٹر ایجوکیشن کے عہدے پر فائز رہے ۔ترقی کا یہ سفر ایک سفید پوش فرد کے لئے بے شک مشکل ضرور تھا لیکن ہمت اور قابلیت ایک ایسا طوفان ہے جس کے آگے کوئی بند نہیں باندھ سکتا اور پھر جب یہ طوفان اُٹھتا ہے تو ترقی اور خوشحالی کی راہیں دوسروں کے لئے بھی استوار کر تا ہے۔ بطور ٹیچر آپ کی طبعیت میں سختی قابل برداشت حد تک تھی فریدی صاحب ڈانٹ کے بعد پیار اور پھر طریقہ سے سمجھانے کے عمل پر یقین رکھتے تھے۔ بھر پور زندگی گزارنے کے بعد رئٹائرمنٹ حاصل کی اور اس کے بعدکسی کاروبار یا کام سے اجتناب کیا ۔ ڈی سی راجن پور نے راجنپور پبلک سکول کے پرنسپل کے عہدے کی پیش کش کی لیکن آپ نے قبول نہ کی۔ سادگی پسند تھے ،خلوص اور انکساری لیکن طبعیت میں خوداری اُن کی زندگی کا خاص حسن تھا۔زمانہ طالب علمی کے بعد فریدی صاحب سے اکثر و بیشتر میری طویل ملاقاتیں ہوتی تھیں اور علمی ادبی اور دینی گفتگو میں اُن سے بے شمار استفادہ حاصل کرنے کا نادر ترین موقعہ ملتا رہتا تھا۔ ۲۰۰۴ میں اپنے بیٹے کے ہمراہ راجن پور سے آتے ہوئے اُن کی کار کو حادثہ پیش آیا اس حادثہ میں اُن کے بیٹے موقعہ پر جان بحق ہوگئے اور فریدی صاحب شدید زخمی ہوئے۔ کافی عرصہ علاج کے بعد بحالی تو ممکن ہوئی لیکن جوان بیٹے کی جدائی کا صدمہ بہت گہرا تھا اسی کشمکش کے عالم میں زندگی کا بسر ہونا کیسا ہو گا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔بلا آخر 20 اگست 2005 کو اس جہان فانی کو خیر باد کہا اور اللہ کے حضور حاضری ہوئی۔

ملک غلام اکبر الراعی صاحب (مرحوم)  ولد ملک غلام حیدر صاحب

سانولہ رنگ ، گول چہرہ ، درمیانہ دراز قد ، طبعیت میں انکساری ، شخصیت میں سحر انگیزی اور عاجزی و انکساری سختی کے ساتھ یہ سب ایک ہی شخصیت میں دیکھنے کا موقعہ ملا جب اپنے پہلے بلدیاتی الیکشن کی کمپین کے لئے ایک ایسی شخصیت کے پاس گیا جن سے دراصل میں ڈر یا خوف یا پھر احترام کا رشتہ رکھتا تھا ۔ طالب علمی کے زمانہ میں کھبی انتہائی سخت اور کھبی انتہائی خوشگوار مزاج کے مالک اُستاد محترم سے روزانہ ہی ملاقات ہوتی تھی۔ لیکن کب کس مزاج میں ہوں اس کا اندازہ نہ تھا ۔ اکثر وبیشتر سخت مزاجی کی بدولت شاید ڈر اور خوف کا رشتہ قائم ہوا ۔ لیکن اسقدر سخت مزاجی کے بعد بھی سکول میں بار بار ہر طالب علم کا اُن سے بار بار ملنا اور ملتے رہنا شاید احترام کا رشتہ قائم کرتا تھا ۔ یہ شخصیت تھی اُستاد محترم ملک غلام اکبر صاحب کی جنہیں عام طور پر مولوی غلام اکبر کے نام سے کہا سُنا جاتا تھا۔مولوی صاحب کوٹ مٹھن کے بوائیز سکول کی جان تھے ۔ سکول کا حال کمرہ اُس وقت تک آباد رہا جب تک مولوی صاحب ملازمت میں رہے آپ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہم نے اس حال کو کھبی نہ آباد دیکھا نہ کھبی شاد۔اس سکول میں تمام تر ادبی سرگرمیاں صرف انہی کی بدولت تھیں ۔ بزم ادب ، ڈرامے ، تقاریر ، کھیلیں ، مضمون نگاری ، جمناسٹک ،اور تعلیمی سرگرمیاں ان سب میں توازن کے ساتھ کام کرنا اور طلباء کو بھی متوازن کردار ادا کروانا اور نہایت کامیابی سے یہ گُر نہ اُن سے پہلے کسی میں تھا اور نہ اُن کے بعد کسی میں دیکھنے کو ملا۔ایک ہی لمحہ میں نرمی اور سختی کا یہ امتزاج کسی شفقت پدری سے کسی طور کم نہ تھا شاید یہی وجہ تھی کہ طالب علموا8 کو اُن کی سختی سے بھی اپناہیت اور پیار ملتا تھا اور اسی بدولت ڈر اور خوف اپنی اہمیت کھو بیٹھتا اور احترام کا رشتہ اس انداز سے جنم لیتا کہ کھبی ختم نہ ہوتا۔مولوی صاحب نے ایم اے ہسٹری ، ایم اے اسلامیات اور ایم اے پنجابی کیا ہوا تھا۔ آرٹیسٹک ذہن کے مالک تھے ادب سے بے حد لگاو تھا تعلیمی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۳۴ بس تک شعبہ تعلیم سے منلک رہے ۔وزیر اعظم پاکستان ( محمد خان جونیجو) کی جانب سے بہترین ٹیچر کا ایوارڈ حاصل کیا ۔آج سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں اُن کے شاگرد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ۔خواجہ غلام فریدؒ سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے باقاعدگی سے دربار کی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لئے جاتے تھے ۔ کلام فرید ؒ پر عبور رکھتے تھے۔رمضان شریف میں باقاعدگی سے دربار کی مسجد میں اعتکافکی سعادت حاصل کرتے تھے۔ محکمہ اوقاف کی مذہبی امور کی کمیٹی کے تا حیات ممبر رہے۔ عمر کے آخری سالوں میں گھٹنوں کے درد کی بدولت بے شک دیگر عوامی سماجی تقریبات میں شمولیت سے گریز کرتے تھے لیکن نماز کی ادائیگی باجماعت ادا کرتے تھے ۔اور کھبی کھبی بازار کی جانب نکل پڑتے تو بے شمار لوگ اُن سے ملتے۔22اکتوبر2007 کو اس جہان فانی سے رخصت ہونے والی یہ سحر انگیز شخصیت 1933 میں پیدا ہوئی اور 74 سالہ اس زندگی کے سفر میں بے شمار یادیں اور اچھے شہری اس خطے اور ملک کو دیکر خود خالق حقیقی کے حضور جا پہنچے۔آپ ارائیں قوم سے تعلق رکھتے تھے اور وارڈ نمبر ۱ میں آپ کی رہائیش گاہ دربار کے قریب تھی اور اب بھی وہی آپ کا خاندان رہائیش پذیر ہے،
ملک غلام مرتضیٰ صاحب (مرحوم) ولد ملک غلام نبی
ملک مرتضیٰ صاحب 1933 میں کوٹ مٹھن میں پیدا ہوئے اور 70 سال کی عمر میں 14جنوری 2003 میں وفات پائی ۔شعبہ تعلیم سے منسلک رہے ،اور پرائیمری سکول کے قابل ترین اُساتزہ میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ نماز پنجگانہ کی ادائیگی کے شروع سے ہی پابند تھے ۔ سادہ طبعیت اور مزاج میں انکساری تھی۔آپکی اولاد میں ۴بیٹیاں اور ۳ بیٹے ہیں جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ۔ان کے شاگردوں میں شامل سینکڑوں افراد اعلیٰ عہدوں  پر فائز ہیں اور اس علاقہ کی خدمت میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔