ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

 

مولانہ مفتی واحد بخش صاحب (مرحوم)ولد رئیس چھتہ خاں صاحب

تاریخ کوٹ مٹھن میں مفتی صاحب کی دینی خدمات ہر دور میں قابل تحسین ہیں اور آپ کی قابلیت اور دینی تعلیمات ، قرآن و حدیث اور علم فقہہ پر عبور ہی آپ کی پہچان بنا آپ دارالعلوم دیوبند انڈیاسے شیخ الحدیث تھے۔مفتی صاحب ضلع مظفر گڑھ تحصیل علی پور کے شہر خان گڑھ سے ہجرت کر کے کوٹ مٹھن آباد ہوئے اور دینی علوم کے بے بہا خزانے سے اس علاقہ کے لوگوں کو فیض یاب کیا ،دربار حضرت خواجہ غلام فرید ؒ پرقائم مدرسہ کو آپ نے اپنا مرکز بنایا اور لوگوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کیا اسی طرح خاندان فریدؒ کے افراد اور چشم چراخ بھی مفتی صاحب سے تعلیم حاصل کرتے رہے جن میں سرفہرست خواجہ فیض فرید سائیں بھی آپ کے شاگردوں میں تھے۔مفتی صاحب کو فارسی ، عربی، اردوُ اور سرائیکی پر مکمل عبور حاصل تھا۔مفتی صاحب کی تعلیمات کا مرکز بے شک کوٹ مٹھن رہا لیکن اُنہوں نے دریا کے پار کے علاقوں میں بھی خاص طور پر خانپور میں بھی دینی خدمات سر انجام دی۔ اسی بدولت مفتی صاحب کو دریا کے دونوں جانب یکساں اہمیت اور پذیرائی ملی۔ بیرون ملک ایران ، عراق ، انڈیا میں بھی آپ کے شاگرد موجود ہیں اور پاکستان میں مختلف علاقوں میں آج بھی آپ کے شاگرد علم وعمل کی شمع سے اُجالہ کئے ہوئے ہیں۔مفتی صاحب 1904میں پیدا ہوئے اور آپ نے 1984 میں وفات پائی اور اس جہان فانی سے کوچ کرتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے لیکن آپ کی تعلیمات ، حسن اخلاق اور شاگردوں کی بدولت آج بھی آپ کی مہک اور روشنی اس دھرتی کو منور کئے ہوئے ہے۔

مولوی غلام حیدر فریدی صاحب( مرحوم) ولد گلُ محمد صاحب بُزدار
مولوی غلام حیدر فریدی صاحب 1912 میں پیدا ہوئے۔ شعبہ تدریس سے منسلک ہوئے ، زیادہ تر ملازمت صوبہ بلوچستان میں کی اور ناظم تعلیمات کے عہدہ پر ملازمت کا اختتام کیا اور بعد ازاں مستقل کوٹ مٹھن میں رہائیش پذیر ہوئے۔ بُزدار قوم سے تعلق تھا ۔ آپکے بیٹے ماسٹر خلیل احمد بزدار بھی شعبہ درس و تدریس سے منسلک رہے۔ انتہائی باوقار شخصیت کے مالک تھے ۔پابند صوم وصلواۃٰ تھے۔جد جہد اور محنت کی بنیاد پر ایک ٹیچر سے ناظم تعلیمات کے عہدے تک ترقی حاصل کی۔باذوق اور با اصول تھے سماجی اور ادبی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتے تھے ۔ شہر فریدؒ کوٹ مٹھن میں پہلی بزم فرید تنظیم بنی تو آپاُس کے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ کمال فرید ملک کے ہمراہ ۱۹۸۰ سے ۱۹۸۴ تک تعلیم بالغاں کے لئے سر گرم عمل ہوئے اُسوقت کے اسسٹنٹ کمیشنر راجن پور اعجاز احمد منگی نے اس سلسلہ میں سرپرستی کی۔اس سلسلہ میں فنڈز اکھٹے کرنے کے لئے میوزیکل پروگرام کرائے گئے۔ اس قسم کا تجربہ اس علاقہ میں پہلا کامیاب تجربہ تھا۔ اس اہم ترین مقصد کی تکمیل کے لئے کمال فرید ملک ، مولوی صاحب کی کاوشیں بے شک قابل ستائیش ہیں لیکن اعجاز احمد منگی اے سی راجنپور کی بھر پور توجہ اور معاونت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مولوی صاحب عمر کے اس حصہ میں بھی اسقدر فعال تھے کے عملی طور پر نہ صرف اس جدوجہد میں شامل رہے بلکے خود پڑھاتے تھے۔ 30 ماچ 1987 کو آپ نے وفات پائی اور اس جہان فانی میں اہم ترین فرائض سرانجام دیکر اس انداز سے رخصت ہوئے کہ آج تک آپ کی یادیں ہم سب کے دلوں میں زندہ ہیں۔

خلیل احمد خان بزدار (مرحوم) ولد مولوی غلام حیدر خان بزدار

خلیل احمد خان بُزدار 1939میں پیدا ہوئے اور 2001 میں اُنہوں نے 70 سال کی عمر میں وفات پائی۔ اور کوٹ مٹھن ہی اُن کی جائے مدفن بنی۔ دارڈ نمبر1کے محلہ خلیفان میں رہائش پزیر خلیل خان تعلیم کے شعبہ سے منسلک رہے۔ اُن کا تعلیمی معیار بی اے تھا اور شہر فرید کوٹ مٹھن کے اکلوتے مڈل بوائیز سکول کے اہم اُساتذہ میں اُن کا شمار ہوتا تھا۔ اور بعد ازاں اس سکول کو ہائی کا درجہ ملاتو بھی اس ادارہ میں خدمات سر انجام دیتے رہے ۔ اُس دور میں انگلش پڑھانے کے لئے سب سے قابل اُساتزہ کرام میں ان کا شمار ہوتا تھا۔اُن کے شاگردوں میں شامل طلباء آج اُن کے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی اُن کی کامیاب زندگی کی دلیل ہیں۔ملازمت سے ریٹائیرمنٹ کے بعد بھی اُن کی مسکن گاہ درس وتدریس کا مرکز بنی رہی اُن کے والد محترم مولوی غلام حیدر بھی تعلیم کے شعبہ سے منسلک رہے اور آخری عمر میں بھی وہ خادم شہر فرید کمال فرید ملک کے ہمراہ تعلیم بالغاں کے لئے عملی طور پر کوشان رہے۔ جن کی گراں قدر خدمات کا ہر خاص وعام معترف تھا اور آج بھی ہے۔تاہم مولوی غلام حیدر خان صاحب جس قدر ٹھندے مزاج کی طبعیت کے مالک تھے اُسی قدر ماسٹر خلیل خان صاحب حساس طبعیت رکھتے تھے اور خاص طور پر اپنے آخری ایام میں وہ کسی بھی قسم کی ناانصافی اور برائی کو برداشت نہ کرتے تھے۔اور ہر ایسے معاملہ جس میں کسی بھی شخص سے ناانصافی ہوتی دیکھتے تو ماسٹر صاحب بر سرعام اُس کے لئے نہ صرف آواز اُٹھاتے بلکے اُس کی حق رسی کے لئے سر توڑ کوشش کرتے ، اسی طرح سماجی کاموں کے کئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے سماجی کاموں میں بے انتہاہ دلچسپی اور عوامی طرز عمل کی وجہ سے اُنہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور پی پی پی کے ضلعی صدر لیبر بیورو رہے۔ آپ کی اولاد میں ۸بیٹے اور ۴بیٹیاں ہیں۔آپ کے سب سے بڑے بیٹے شوکت خان بزدار ہیں جو آج کل بطور ایس ڈی او انہار صوبہ بلوچستان کے ضلع جعفرآباد میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔جبکہ دوسرے بیٹے رفعت خان بزدار اُن کی زندگی سے ہی کاروباری زندگی بسر کر رہے ہیں اور سماجی کاموں میں اپنے والد کا کرادر ادا کر رہے ہیں اسی طرح اُن کے 2چھوٹے بیٹے شفقت خان اور رفاقعت بزدار نہ صرف اپنا کاروبار(بُزدار ٹینٹ ہاوس) چلاتے ہیں بلکے محکمہ اوقاف کے ٹھیکہ جات بھی حاصل کرتے ہیں اسی طرح یہ دونوں فرزندان بھی دینی ، سماجی ، سیاسی اور ثقافتی کاموں میں نمایاں انداز میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔جو اُن کے والد محترم کی تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

عبدالعزیز خان پتافی (مرحوم) ولد اللہ بخش خان پتافی
پتافی صاحب (مرحوم) 1938 میں پیدا ہوئے ، مڈل تک تعلیم حاصل کی اور محکمہ محال میں بطور پٹواری کے اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ وارڈ نمبر۱ میں رہائیش پذیر تھے ۔ ملازمت سے ریٹائیرمنٹ کے بعد اُنہوں نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا اور وارڈ نمبر5میں اپنی ذاتی دوکان میں کاروبار شروع کیا۔ اور 1984 میں وفات پانے تک وہ اسی شعبہ سے منسلک رہے ۔ سماجی ، دینی اور ثقافتی کامون میں بڑھ چڑھ کر حسہ لیتے تھے،ہر طبقہ فکر کے لوگ اُن کی خدمات کے معترف ہیں ۔ان کا خاندان موجودہ تحصیل جام پور کے علاقہ لعل گڑھ سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے۔گورچانی اور کوریجہ خاندان سیقریبی رشتہ داری کی بدولت ہر دو خاندانوں میں پتافی خاندان عزت سے دیکھا جاتا ہے۔ پتافی صاحب نے اپنے وارثان میں5بیٹے اور6بیٹیاں چھوڑیں۔آپ کے بڑے بیٹے رحمت اللہ پتافی نہ صرف اپنا کاروبار کرتے ہیں بلکے کاشتکاری کے شعبہ سے بھی منسلک ہیں اسی طرح ان کے چھوٹے بیٹے عنایت اللہ خان پتافی بھی اپنے ذاتی کاروبار اور کاشتکاری میں مصروف ہیں ۔ ان کے خاندان کا شمار تعلیم یافتہ خاندانوں میں ہوتا ہے جبکہ سماجی کاموں میں ان کی شمولیت کسی بھی تعارف کی محتاج نہیں۔

نواب خان پتافی (مرحوم) ولد سردار خدا یار خان پتافی

نواب خان صاحب پتافی وارد نمبر ۳ میں رہائیش پزیر تھے ، 1934 میں پیداہوئے اُن کا آبائی علاقہ لعل گڑھ تھا ،گورچانی قبلے سے ان کی قریبی رشتہ داری ہے۔لعل گڑھ موجودہ ضلع راجن پور کی تحصیل جام پور کا علاقہ ہے۔ پتافی قوم بھی دراصل بلوچ ہیں۔ ان کی کوریجہ خاندان سے بھی رشتہ داری ہے۔ پتافی خاندان کے سربراہ کی حیثیت رکھتے تھے ۔نہایت سادہ طبعیت ،خوش مزاج لیکن خاموش طبعیت کے حامل تھے۔ تعلیمی معیار ایف اے تھا 29 ماچ 2001 میں وفات پائی اور کوٹ مٹھن میں ہی مدفن ہوئے۔اولاد میں 2بیٹے اور4 بیٹیاں ہیں۔

سید غلام علی شاہ صاحب بخاری(مرحوم)ولد سید جندوڈا شاہ بخاری
شاہ صاحب 1905 میں پیدا ہوئے اور آپ نے 1971 میں وفات پائی، کوٹ مٹھن کے وارد نمبر 2میں رہائیش تھی اور مڈل تک تعلیم حاصل کی سادات گھرانے کے سربراہ تھے اور بے شمار مرتبہ میونسپل کمیٹی کے کونسلر بنے،سیاسی طور پر نہایت بصیرت رکھتے تھے اور اجتماعی کاموں میں ہمیشہ سرگرم عمل رہتے تھے۔زمینداری کے پیشہ سے منسلک رہے ۔

سید فتح محمد شاہ بخاری (مرحوم) ولد سید نور شاہ بخاری
فتح شاہ صاحب 1920 میں پیدا ہوئے ،۔ اور64 سال کی عمر میں 25 مئی 1984 میں انتقال کیا اور خالق حقیقی سے جا ملے۔ محکمہ محال میں بطور پٹواری فرائض سر انجام دئیے۔ وارڈ نمبر9 سرکلر روڈ کے کنارے ان کی آبائی رہائیش گاہ تھی جو آج بھی ہے۔زیادہ تر ملازمت روجہان کے علاقہ میں کی۔ اس علاقہ کے مزاری سردار اُن کا بے حد احترام کرتے تھے۔ اس علاقہ میں عرس کے موقعہ پر تقریبات میں شامل ہونے والے تمام قوال زیادہ تر انہی کے ہاں قیام کرتے تھے۔ اسی طرح اکثر زائرین بھی انہی کے ہاں قیام کرتے تھے۔ان کی سخاوت بھی پورے علاقہ میں مشہور تھی۔ شاہ صاحب نے اپنی خاندانی جائیداد اسی سخاوت کے نظر کی۔فقہ جعفریہ سے گہری وابستگی رکھتے تھے لیکن ہر مسلک اور مکتبہ فکر کے لوگوں سے بہترین تعلق ہمیشہ قائم رکھا۔ انتہایہ ملنسار اور خوش اخلاق تھے۔

سید فیض احمد شاہ صاحب بخاری (مرحوم) ولد سید جندوڈا شاہ بخاری

شاہ صاحب کا تعلق بھی سادات خاندان سے تھا  آپ 1910 میں پیدا ہوئےاورحسب دستور بلدیہ کوٹ مٹھن میں اس خاندان کی نمائیندگی رہی فیض احمد شاہ ساحب نہ صرف کونسلر منتخب ہوئے بلکے ان کی اہلیہ بھی خواتین کی مخسوص نشست پر کونسلر منتخب ہوئیں ۔جبکہ فیض احمدشاہ صاحب ٹاون کمیٹی کوٹ مٹھن کے وائیس چیرمین بھی بنے۔وارڈ نمبر 2کے محلہ نظام شاہ میں رہائیش رکھنے والے سادات خاندان کے سربراہ نے مڈل تک تعلیم حاصل کی تھی اور محکمہ تعلیم میں مدرس کی حیثیت سے اپنے فرائیض سرانجام دیتے رہے۔ اور بعد از ریٹائیرمنٹ اپنے خاندان کی نمائیندگی سیاست میں کی ملک غلام صابر گروپ سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ اُسی گروپ سے کونسلر اور پھر وائیس چیرمین ٹاون کمیٹی منتخب ہوئے۔سماجی اور اجتماعی ترقیاتی کاموں میں اُن کا کردار نمایاں رہا۔ سیاست میں اپنے گروپ کے مضبوط ترین اہم ساتھی رہے ۔حکومتی اور طاقتور طبقہ کی جانب سے زبردست دباو کے باوجود ثابت قدم رہے اور اپنے گروپ کی کامیابی کا سبب بنے جس کی بدولت اُن کا احترام نہ صرف گروپ بلکے ہر طبقہ فکر کے لوگوں میں کیا جاتا تھا کیونکہ یہ وہ دور تھا جب بڑے بڑے اہم اور عوام کی نگاہ میں مضبوط کونسلر بھی اپنے پاوں کی مٹی زور جبر یا لالچ کی بدولت چھوڑ گئے تھے۔لیکن شاہ ساحب کی ثابت قدمی نے نہ صرف سیاست کا دھارا بدل دیا بلکے ایسے حالات میں بے وفائی کرنے والے اور لالچ کی وجہ سے غداری کرنے والوں کو بھی منہ کی کھانی پڑی ، غالباً یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اس گھرانے کا فرد الیکشن میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ شاہ صاحب انتہاہی خاش اخلاق ، بُرد بار ، ملنسار ، عوام دوست اور شفیق طبعیت کے مالک تھے۔ شاہ صاحب 1989 میں خالق حقیقی سے جا ملے۔اُن کے بعد اُن کی صاحبزادی مس ارشاد بتول بخاری نے بھرپور کامیابی حاصل کی اور کونسلر منتخب ہوئی اور بعد ازاں دوسرے الیکشن میں ضلع اسمبلی کی کونسلر منتخب ہوئیں۔
سید مبارک علی شاہ (مرحوم) ولد سید سردار علی شاہ
۔1938۔میں پیدا ہوئے اور 1988میں وفات پائی،میٹرک تک تعلیم حاصل کی دوکانداری کے پیشہ سے منسلک رہے کچھ زرعی زمین کی آمدن بھی تھی ، اس علاقہ کے نمبددار بھی رہے ۔ وارد نمبر5 کے محلہ سردار علی شاہ میں رہائیش پذیر تھے۔ان کے سٹور پر مختلف ایشاء کے علاوہ درسی اور دیگر کتب دستیاب تھی ، بلکے اگر یوں کہا جائے کہ یہ اس علاقہ کا پہلا کتاب گھر تھا تو بے جا نہ ہو گا۔شاہ صاحب نے اپنے وارثان میں ۲بیٹے اور ۴بیٹیاں سوگوار چھوڑیں۔

سردار احمد بخش خان رند بلوچ(مرحوم) المعروف آمدو خان ولد غلام حسن کان رند
آمدو خان صاحب خواجہ فریدؒ اور اُن کے خاندان سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔ اور اسی در سے فیضیاب ہونے والوں کی فہرست میں ان کا نام بھی شامل تھا۔ ان کی پیدائیش 1905 میں ہوئی ۔تعلیمی معیار مڈل تھا لیکن ادب ،و نیاز ، اخلاقی اقدار ، سے اُن کا قد کاٹھ بہت اُنچا تھا۔ محکمہ ہائی وے میں بطور جمعدار (سپروائیزر) اپنے فرائض ریٹائیرمنٹ تک سرانجام دیتے رہے۔1950 میں انہی کے زیر نگرانی کوٹ مٹھن اور چاچڑاں شریف کے دوران پہلا کشتیوں کا پُل بنایا گیاجس کا افتتاع اُسوقت کے گورنر سردار عبدالرب نشتر نے کیا ۔انہی کے زیر نگرانی بنگلہ اچھا کے مقام پر بھی کشتیوں کا پُل1974 میں بنایا گیا اور اس موقعہ پر مزاری چیف سردار میر بلخ شیر خان مزاری صاحب نے انہیں حسن کارکردگی کا سرٹیفکیٹ دیا ۔1965کی جنگ کے موقعہ پر(طالب والا پُل)سرگودھابھی انہی کے زیر نگرانی ہنگامی طور پر بنایا گیا جو اس حقیقت کا منہ بالتا ثبوت ہے کہ اُن کی قابلیت اور مہارانہ نظروں کے سامنے اور دریا کے پیٹ میں سے راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت کے معترف کون کونسے لوگ تھے۔ ۱۸من وزنی شہتیر اکیلے اُٹھانا اُنکی جسمانی طاقت کو نمایاں کرتا ہے۔ دراز قد ، چوڑی چھاتی اور بڑی مونچھیں اُن کی شخصیت میں جو نکھار اور سحر انگیزی نمایاں کرتی تھیں اُن کی عاجزی اور مسکراہٹ ہر لمحہ اُس حسن کو نمایاں اور دلکش بناتی تھی۔اُن کی بدولت بستی بیانی ملاحان ، بستی منچھری ، بستی دستی ، اور کچہ کے بے شمار علاقوں کے مکینوں کو محکمہ ہائی وے میں ملازمتیں ملی ، جبکہ اس سے قبل محکمہ ہائی وے ان لوگوں کو ملازمت اس بنیاد پر نہ دیتا تھا کہ یہ لوگ کام نہیں کرتے لیکن آمدو خان صاحب نے اپنی ذمہ داری پر نہ صرف ان لوگوں کو ملازمتیں دلوائی بلکے ان سے وہ کام لیا کے دنیا عش عز کر اُٹھی اور آج تک ان علاقہ کے لوگوں کو اس شعبہ میں ملازمتوں پر رکھا جاتا ہے۔سرردار احمد بخش خان ریٹائیرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ تک وارڈ نمبر4 میں ہی مقیم رہے بعد ازاں ڈیرہ غازیخان کے علاقہ غازی گھاٹ چلے گئے جو کہ ااُن کا آبائی علاقہ تھا۔ اُس علاقہ میں بھی اُن کے عوامی روابط بے حد موئثر اور مظبوط تھے ۔ کھر ، گورمانی اور دیگر اہم سیاسی لوگوں نے اُن کی عوامی وابستگی کی بدولت بے حد پذیرائی کی لیکن کوٹ مٹھن سے محبت اُنہیں ورثہ میں ملی تھی اسی لئے جلد ہی وہ واپس آگئے اور کافی عرصہ یہاں قیام پذیر رہے اور 2005 میں وفات پائی لیکن آج بھی اُن سے لوگوں کی محبت اور لگاو اُنہیں دلوں میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔

صوفی محمد شریف زرگر (مرحوم) ولد محمد رمضان
بہت کم لوگ یہ جانتے تھے کہ صوفی شریف صاحب پٹھان قوم سے تعلق رکھتے تھے ۔کیونکہ پیشہ کے لحاظ سے وہ سُنار کا کام کرتے تھے اسی لئے عام لوگ اُنہیں زرگر کہتے تھے۔ اور اس سے بھی حیران کنُ بات یہ کہ صوفی صاحب کا شمار بہت کم پڑھے لوگون میں ہوتا تھا۔اور ایسا اُن کی سادہ اور خاموش طرز زندگی کی وجہ سے لیکن حقیقت اس سے بلکل مختلف تھی صوفی صاحب نہ صرف پڑھے لکھے تھے بلکے اگر میں یہ کہوں کے خاص طور پر اُنہیں دینی علوم اور ہر مکتبہ فکر اور مسلک کے علوم پر عبور حاصل تھا۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے یقیناعام لوگ تسلیم نہیں کریں گے مگر میں بذات خود ( کمال فرید ملک) اس کی گوہی کے لئے بیان کر رہا ہوں کہ مجھے بھی اس حقیقت کا علم ۱۹۸۲ میں ہوا اور میں اُن کے اس علم اور تدبر سے اُن کی زندگی تک استفادہ حاصل کرتا رہا۔ اُن کے بدولت نہ صرف مجھے دینی علوم سے رغبت ہوئی بلکے کئی معاملات میں نے اُن سے اور مرحوم فیاض احمد شاہین صاحب ایڈووکیٹ سے استفادہ حاصل کیا ۔ کئی کئی گھنٹے اُن سے گفتگو میرا روزانہ کا معمول تھا ان دونوں صاحبان سے گفتگو میں ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے یہ لوگ علم کا ایسا سمندر ہیں جس میں طغیانی کے بغیر اس میں چھپے ہوئے ہیرے اور موتی خود بخود دوسرے کے دامن میں آتے ہیں ۔بظاہر یہ دونوں شخصیات اس علاقہ میں دہرئیے کے طور پر مشہور تھیں اور لوگ ان کی سخت طبعیت کی بدولت ان سے دور رہتے تھے ۔ مجھے اتفاق سے ان دونوں شخصیات سے قربت کا موقعہ ملا۔ تو ان میں جو محبت ، خلوص ، درد ، محبت ،اور اخلاص میں نے پایا اُسے اگر چاہوں بھی تو بھول نہیں سکتا ۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم اور والدین کی دعاوں اور تربیت کے بعد مجھے جو ملا اس میں ایک بہت بڑا حصہ ان دو شخصیات کا ہے۔بعض اوقات صوفی صاحب سے مجھے انتہائی سخت اور تلخ رویہ ملتا تھا ۔جس سے بے شک چند لمحوں کے لئے مایوسی ہوتی تھی لیکن میری تگ ودو اور اُن سے مانوس طبعیت ہمیشہ مجھے ان سے دور جانے سے روک دیتی اور یہی وجہ تھی کہ اُن کے علوم اور فکر مجھے مال ومال کرتے رہے شاید اکثر لوگوں میں قوت برداشت کی کمی تھی یا پھر اُن کی مجھ سے بے انتہا محبت بہر حال میں ان کی محبت ، خلوص ، شفقت ، اور درس کو کھبی بھول نہیں سکتا اور دعا گو ہوں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اُنہیں اعلیٰ مقا عطا فرمائے آمین ۔ ثم آمین۔ صوفی صاحب اس خطے کا اثاثہ تھے اور اس حقیقت کا اظہار بھی یہاں لازمی ہے۔ حضرت خوجہ احمد علی صاحب صوفی شریف صاحب کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ یہ میرا ہی نہیں شہر کا شیر ہے ۔ اور ایسا اُن کی بے باک اور نڈر طبعیت کی وجہ سے کہا جاتا تھا ۔ صوفی شریف صاحب اسقدر بے باک تھے کہ حقیقت بیان کرنے میں وہ کبھی بھی دریخ نہ کرتے تھے اور طاقتور سے طاقتور ہستی بھی اگر اُن کے سامنے ہوتی تو بھی ایک لمحہ میں وہ حقائق سے پردہ اس انداز میں اُتار تے تھے کہ کسی کو جوب کی جرات نہ ہوتی اور میں اس سلسلہ میں نہ صرف اُن کا معتقد تھا ، رہونگا بلکے پیروکار ہونے پر فخر ہے۔
حق گوئی کا تاج سر پر سجائے سفید پوشی میں سہی لیکن خودداری سے جیتے ہوئے اس معاشرہ میں سادگی سے زندگی بسر کی اور اپنے بعد اپنی اولاد کے علاوہ بے شمار گرویدا اور پیروکار چھوڑ کر جانے والے درویش منش انسان دوست صوفی صاحب اکثر و بیشتر سفید لباس میں ملبوس 22 نومبر2001 کواپنے خالق حقیقی سے جاملے اور وہ سفید چادر اوڑی جس کا نصیب ہونا سب کی دعا ہوتی ہے۔صوفی شریف صاحب 1930 میں پیدا ہوئے تھے اور اُن کا آبائی گھر تحصیل جام پور کا علاقہ تھا لیکن اُن کی شفقت ، محبت ، خلوص اور چاہتیں اس دھرتی کا مقدر تھیں۔ دارڈ نمبر ۱ میں اُن کی رہائیش تھی اور اُن کے جانے کے بعد سے کم ازکم مجھے یہ علاقہ ہمہ وقت سوگوار نظر آیا۔

غلام عباس فریدی صاحب (مرحوم) ولد محمد بخش
شہر فرید ؒ کی تاریخ میں غلام عباس فریدی صاحب ایک اہم کردار تھے۔ فریدی صاحب کی گراں قدر تعلیمی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی فریدی صاحب 1941میں دریا کے پار چاچڑاں شریف (ضلع رحیم یار خان)میں
  پیدا ہوئے۔ آپ نے ایک غریب خاندان میں آنکھ کھولی پنجاب سے مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد حصول تعلیم کے لئے صوبہ بلوچستان کا رخُ کیا۔ وہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بطور ٹیچر فرائض کی ادائیگی شروع کی جہاں کافی عرصہ تک ملازمت کے بعد حکومتی سطع پر اعلان کی بدولت آپ نے اپنے علاقہ میں واپسی کو اولیت دی اور اس سلسلہ میں آپ نے چاچڑاں شریف کے بجائے شہر فریدؒ کوٹ مٹھن کو ترجیع دی اور وارڈ نمبر ۱ میں دربار کے نزدیک رہائیش اختیار کی۔اچھے ٹیچر کی حیثیت سے آپکی پہچان کو زیادہ وقت نہ لگا اور بہت جلد علم کی روشنی پھیلانے والے قلیل اُساتذہ میں فریدی صاحب کا شمار ہونے لگا ۔بطور شاگرد فریدی صاحب کی تعلیمات سے استفادہ حاصل کرنے کا موقعہ مجھے(کمال فرید ملک) کلاس نہم اور دہم میں ہوا۔انگلش اور مطالعہ پاکستان یہ دونوں مضامین خاص طور پر آپ کلاس نہم اور دہم میں پڑھایا کرتے تھے۔ آپ کے لیکچر دینے کا انداز اس قدر دلچسپ اور دوستانہ تھا کہ کلاس میں سے باہر جانے کا من نہ ہوتا تھا۔ درسی کتب سے ہٹ کر مطالعہ پاکستان ، اسلامیات اور انگلش کا پڑھانا اور سیدھا دل میں اُتار دینا ، شاید یہی ہمارے کام آرہا ہے۔کچھ عرصہ تک نطور اسٹینٹ ایجوکیشن آفیسر اور پھر ڈپٹی ڈی ای او کے فرائض بھی سر انجام دئیے ۔شاید یہ دور اُن کی زندگی میں اُن کی ترقی کا دور ہو لیکن ہائی سکول کوٹ مٹھن کے لئے اُن کا یہان سے باہر جانا بے شک تنزلی کا دور شمار ہوتا ہے۔ بہر حال فریدی صاحب جلد ہی دوبارہ ہائی سکول واپس آئے اور کچھ ہی عرصہ بعد انہوں نے بطور پرنسپل چاج سمبھالہ اور اس عرصہ میں ایک مرتبہ پھر ہائی سکول کی ترقی کی جانب پیش رفت ہوئی ۔بعد ازاں فریدی صاحب کچھ عرصہ ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن اور پھر ڈائیریکٹر ایجوکیشن کے عہدے پر فائز رہے ۔ترقی کا یہ سفر ایک سفید پوش فرد کے لئے بے شک مشکل ضرور تھا لیکن ہمت اور قابلیت ایک ایسا طوفان ہے جس کے آگے کوئی بند نہیں باندھ سکتا اور پھر جب یہ طوفان اُٹھتا ہے تو ترقی اور خوشحالی کی راہیں دوسروں کے لئے بھی استوار کر تا ہے۔ بطور ٹیچر آپ کی طبعیت میں سختی قابل برداشت حد تک تھی فریدی صاحب ڈانٹ کے بعد پیار اور پھر طریقہ سے سمجھانے کے عمل پر یقین رکھتے تھے۔ بھر پور زندگی گزارنے کے بعد رئٹائرمنٹ حاصل کی اور اس کے بعدکسی کاروبار یا کام سے اجتناب کیا ۔ ڈی سی راجن پور نے راجنپور پبلک سکول کے پرنسپل کے عہدے کی پیش کش کی لیکن آپ نے قبول نہ کی۔ سادگی پسند تھے ،خلوص اور انکساری لیکن طبعیت میں خوداری اُن کی زندگی کا خاص حسن تھا۔زمانہ طالب علمی کے بعد فریدی صاحب سے اکثر و بیشتر میری طویل ملاقاتیں ہوتی تھیں اور علمی ادبی اور دینی گفتگو میں اُن سے بے شمار استفادہ حاصل کرنے کا نادر ترین موقعہ ملتا رہتا تھا۔ ۲۰۰۴ میں اپنے بیٹے کے ہمراہ راجن پور سے آتے ہوئے اُن کی کار کو حادثہ پیش آیا اس حادثہ میں اُن کے بیٹے موقعہ پر جان بحق ہوگئے اور فریدی صاحب شدید زخمی ہوئے۔ کافی عرصہ علاج کے بعد بحالی تو ممکن ہوئی لیکن جوان بیٹے کی جدائی کا صدمہ بہت گہرا تھا اسی کشمکش کے عالم میں زندگی کا بسر ہونا کیسا ہو گا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔بلا آخر 20 اگست 2005 کو اس جہان فانی کو خیر باد کہا اور اللہ کے حضور حاضری ہوئی۔

ملک غلام اکبر الراعی صاحب (مرحوم) ولد ملک غلام حیدر صاحب
سانولہ رنگ ، گول چہرہ ، درمیانہ دراز قد ، طبعیت میں انکساری ، شخصیت میں سحر انگیزی اور عاجزی و انکساری سختی کے ساتھ یہ سب ایک ہی شخصیت میں دیکھنے کا موقعہ ملا جب اپنے پہلے بلدیاتی الیکشن کی کمپین کے لئے ایک ایسی شخصیت کے پاس گیا جن سے دراصل میں ڈر یا خوف یا پھر احترام کا رشتہ رکھتا تھا ۔ طالب علمی کے زمانہ میں کھبی انتہائی سخت اور کھبی انتہائی خوشگوار مزاج کے مالک اُستاد محترم سے روزانہ ہی ملاقات ہوتی تھی۔ لیکن کب کس مزاج میں ہوں اس کا اندازہ نہ تھا ۔ اکثر وبیشتر سخت مزاجی کی بدولت شاید ڈر اور خوف کا رشتہ قائم ہوا ۔ لیکن اسقدر سخت مزاجی کے بعد بھی سکول میں بار بار ہر طالب علم کا اُن سے بار بار ملنا اور ملتے رہنا شاید احترام کا رشتہ قائم کرتا تھا ۔ یہ شخصیت تھی اُستاد محترم ملک غلام اکبر صاحب کی جنہیں عام طور پر مولوی غلام اکبر کے نام سے کہا سُنا جاتا تھا۔مولوی صاحب کوٹ مٹھن کے بوائیز سکول کی جان تھے ۔ سکول کا حال کمرہ اُس وقت تک آباد رہا جب تک مولوی صاحب ملازمت میں رہے آپ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہم نے اس حال کو کھبی نہ آباد دیکھا نہ کھبی شاد۔اس سکول میں تمام تر ادبی سرگرمیاں صرف انہی کی بدولت تھیں ۔ بزم ادب ، ڈرامے ، تقاریر ، کھیلیں ، مضمون نگاری ، جمناسٹک ،اور تعلیمی سرگرمیاں ان سب میں توازن کے ساتھ کام کرنا اور طلباء کو بھی متوازن کردار ادا کروانا اور نہایت کامیابی سے یہ گُر نہ اُن سے پہلے کسی میں تھا اور نہ اُن کے بعد کسی میں دیکھنے کو ملا۔ایک ہی لمحہ میں نرمی اور سختی کا یہ امتزاج کسی شفقت پدری سے کسی طور کم نہ تھا شاید یہی وجہ تھی کہ طالب علموا8 کو اُن کی سختی سے بھی اپناہیت اور پیار ملتا تھا اور اسی بدولت ڈر اور خوف اپنی اہمیت کھو بیٹھتا اور احترام کا رشتہ اس انداز سے جنم لیتا کہ کھبی ختم نہ ہوتا۔مولوی صاحب نے ایم اے ہسٹری ، ایم اے اسلامیات اور ایم اے پنجابی کیا ہوا تھا۔ آرٹیسٹک ذہن کے مالک تھے ادب سے بے حد لگاو تھا تعلیمی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۳۴ بس تک شعبہ تعلیم سے منلک رہے ۔وزیر اعظم پاکستان ( محمد خان جونیجو) کی جانب سے بہترین ٹیچر کا ایوارڈ حاصل کیا ۔آج سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں اُن کے شاگرد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ۔خواجہ غلام فریدؒ سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے باقاعدگی سے دربار کی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لئے جاتے تھے ۔ کلام فرید ؒ پر عبور رکھتے تھے۔رمضان شریف میں باقاعدگی سے دربار کی مسجد میں اعتکافکی سعادت حاصل کرتے تھے۔ محکمہ اوقاف کی مذہبی امور کی کمیٹی کے تا حیات ممبر رہے۔ عمر کے آخری سالوں میں گھٹنوں کے درد کی بدولت بے شک دیگر عوامی سماجی تقریبات میں شمولیت سے گریز کرتے تھے لیکن نماز کی ادائیگی باجماعت ادا کرتے تھے ۔اور کھبی کھبی بازار کی جانب نکل پڑتے تو بے شمار لوگ اُن سے ملتے۔22اکتوبر2007 کو اس جہان فانی سے رخصت ہونے والی یہ سحر انگیز شخصیت 1933 میں پیدا ہوئی اور 74 سالہ اس زندگی کے سفر میں بے شمار یادیں اور اچھے شہری اس خطے اور ملک کو دیکر خود خالق حقیقی کے حضور جا پہنچے۔آپ ارائیں قوم سے تعلق رکھتے تھے اور وارڈ نمبر ۱ میں آپ کی رہائیش گاہ دربار کے قریب تھی اور اب بھی وہی آپ کا خاندان رہائیش پذیر ہے،
ملک غلام مرتضیٰ صاحب (مرحوم) ولد ملک غلام نبی
ملک مرتضیٰ صاحب 1933 میں کوٹ مٹھن میں پیدا ہوئے اور 70 سال کی عمر میں 14جنوری 2003 میں وفات پائی ۔شعبہ تعلیم سے منسلک رہے ،اور پرائیمری سکول کے قابل ترین اُساتزہ میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ نماز پنجگانہ کی ادائیگی کے شروع سے ہی پابند تھے ۔ سادہ طبعیت اور مزاج میں انکساری تھی۔آپکی اولاد میں ۴بیٹیاں اور ۳ بیٹے ہیں جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ۔ان کے شاگردوں میں شامل سینکڑوں افراد اعلیٰ عہدوں  پر فائز ہیں اور اس علاقہ کی خدمت میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔


سید سردار علی شاہ(مرحوم)ولد سید محمد شاہ
سردار علی شاہ صاحب 1904 میں پیدا ہوئے اور 1974 میں وفات پائی تعلیمی معیار مڈل تھا محکمہ محال میں پٹواری کی حیثیت سے فرائض سرانجام دئیے اور ریٹائر ہونے کے بعد دس سال تک نمبردار کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اور علاقائی سیاست میں بھی مثبت کردار ادا کرتے رہے ۔ کوٹ مٹھن کے وارڈ نمبر5کے رہائیشی تھے اور ان کے محلے کا نام انہی سے موسوم کیا گیا تھا جو کہ آج بھی محلہ سردار علی شاہ کے نام سےہے۔

غلام شبیر وئینس (مرحوم) ولد غلام حسن وئینس
غلام شبیر خان وئینس 1925 میں پیدا ہوئے اور 1994 میں اس جہان فانی سے رخصت ہوئے ۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد بطور کانسٹیبل پنجاب پولیس میں شمولیت اختیار کی اور اپنی خدمات کے بل بوتے پر اے ایس آئی کے عہدے پر سلسلہ ملازمت چھوڑا۔ محکمہ میں ان کی کارکردگی کو ہر دور میں سراہا گیا۔ عام لوگوں سے ان کا رویہ نہایت شفیقانہ تھا ، ملنسار اور خوش اخلاق تھے ۔ملازمت سے ریٹائیرمنٹ کے بعد اُن کی بقیہ زندگی خدمت خلق اور سماجی کاموں میں بسر ہوئی۔اپنے پسماندگان میں اُنہوں نے اپنی زوجہ کے علاوہ 2بیٹے اور2  بیٹے چھوڑے۔
کریم بخش پنوار (مرحوم) ولد فیض محمدپنوار
پنوار خاندان سے تعلق رکھنے والے کریم بخش صاحب 1942 میں پیدا ہوئے اور 1997 میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ مڈل تک تعلیم حاصل کی اور پٹوار کا کورس کرنے کے بعد محکمہ محال میں بطور پٹواری بھرتی ہوئے
تحصیل راجن پور اور روجہان کے مختلف علاقوں میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ وارڈ نمبر 5 محلہ قصابان میں رہائیش پذیر تھے ۔اولاد میں 4بیٹے اور 5 بیٹیاں چھوڑیں ۔ عام لوگوں سے ملنا جُلنا اور اُن کی شادی غمی میں شمولیت کی بدولت ہر دلعزیز تھے۔اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

منطوراحمد پنوا     (مرحوم) ولدفیض محمدپنوار

ان کا تعلق بھی پنوار خاندان سے تھا۔1941 میں پیداہوئے اور 1993 میں دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں محکمہ محال میں بطور پٹواری بھرتی ہوئے اور بعدازاں قانونگو اور پھر نائب تحصیلدار بنے۔ زیادہ تر ملازمت تحصیل روجہان کے علاقوں میں کی۔اپنے خاندان کی ترقی کے لئے ہمیشہ سرگرم عمل رہے،اپنے وارثان میں 1 بیٹا اور 6 بیٹیاں چھوڑیں۔

عبدالعزیز غوری (مرحوم) ولد میاں محمد حسین غوری

عبدالعزیز غوری خاندانکے انتہاہی اہم اور سرکردہ فرد تھے جنہیں اللہ ڈیوایا خان غوری کی وفات کے بعد اس خاندان کے سربراہ کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ 1954 میں پیدا ہوئے پرائمری تک تعلیم حاصل کر سکے لیکن تعلیم کی کمی اُن کی زندگی کی راہوں میں رکاوٹ پیدا نہ کرسکی۔پیشہ سے کاروباری تھے اور بعد ازاں سعودی عرب کافی عرصہ تک رہے لیکن لوگوں سے گہری وابستگی اُنہیں زیادہ عرصہ تک وہاں نہ رکھ سکی اور وہ واپس اپنے علاقہ اور قوم کی خدمت کے جذبہ سے سرشار کوٹ مٹھن آگئے اور عومی ، سماجی کاموں میں سرگرم عمل ہوگئے ۔ اُن کے دوستوں اور ساتھیوں میں الحاج مریدحسین زرگر صاحب اور الحاج خادم حسین زرگر سر فہرست تھے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے گہری نظریاتی وابستگی رکھتے تھے لیکن مقامی سیاسی گروپینگ میں ملک غلام صابر گروپ کے اہم ترین ساتھیوں میں ان کا شمار ہوتا تھا ۔ بے باک شخصیت اور نہایت اعلیٰ ظرف رکھتے تھے۔ خوش اخلاقی اُن کی شخصیت کا اہم حصہ اور جدوجہد خاصہ تھا منفرد انداز سے زندگی بسر کرنے والے عبدالعزیز حقیقت میں انسان دوست اور یار باش تھے ۔ اپنے دیرینہ ساتھیوں حاجی مرید حسین اور حاجی خادم حسین کی وفات کے بعد ادھورے سے تھے لیکن اُنہی کے ساتھیوں سے ہمراہی رکھی۔ معاشی طور پر اچھے حالات نہ ہونے کے باوجود اُنہوں نے اپنی سفیدپوشی کا بھرم ہمیشہ قائم رکھا اورسماجی ،خدمات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے رہے۔ نام کی طرح حقیقت میں ہر دل عزیز تھے ،ہر محفل کی جان تھے ،اور اپنے خاندان ، گروپ ہی نہیں اس پورے وسیب کی پہچان تھے ۔ زندگی کے آخری ایام میں کینسر کا مرض لاحق ہوا تو بھی اُن کی خوش مزاجی اور سحر انگیز طبعیت نے کسی کو افسردہ نہ ہونے دیا اور نہایت دلیری اور حوصلہ سے اس مرض کا مقابلہ کرتے رہے لیکن موت برحق ہے اور اسی کشمکش میں اُنہوں نے اپنی جان 2010 میں اپنے خالق حقیقی کے حوالے کی اور اس پورے علاقہ کو اداس کر گئے مگر اپنی خوبصورت یادیں اور اپنی محبت کی ایسی خوشبو ہم سب میں بکھیر گئے کہ ہمیشہ اُن کی یادیں ہم سب کو مہکائے رکھیں گی۔اپنی اولاد میں اُنہوں نے 2یٹے اور 3 بیٹیاں سوگوار چھوڑیں ۔


عبدالغفور جھلن (مرحوم) ولد الہیٰ بخش
۔1947 میں پیدا ہوئے ۔ تعلیمی معیار ایم اے ایم ایڈ تھا ، بطور ایس ایس ٹی ٹیچر کے بوائیزہائیر سکنڈری سکول کوٹ مٹھن میں خدمات سر انجام دیں کچھ عرصہ بطور اے ای او مرکزکوٹ مٹھن بھی فرائض سر انجام دیئے۔ نہایت شریف النفس اور خوش مزاج تھے ۔ شعبہ تعلیم میں اُن کی خدمات ہمیشہ قابل ستائیش رہینگی۔ 2009 میں خالق حقیقی سے جا ملے ۔ اولاد میں 7 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں۔

ڈاکٹر محمد افتخار احمد خان صاحب غوری پٹھان(مرحوم) ولد عبدالرحمٰن خان غوری

کوٹ مٹھن میں پہلے ڈاکٹر تھے ۔ ان  کےوالد عبدالرحمٰن خان غوری بڑے وضع دار اور خوش اخلاق طبعیت کے مالک تھے اس شہر مین اُن کی دینی خدمات بھی ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ڈاکٹر صاحب یکم اگست 1934  کو پیدا ہوئے ۔ وارڈنمبر 9 میں اُن کی آبائی رہائیش گاہ ہے، جبکہ وارڈ نمبر 4میں اُنہوں نے بعد میں نئی رہائیش گاہ بنائی۔ گول مارکیٹ کے ساتھ ہی اُن کا کلینک تھا جہاں ہمہ وقت مریضوں اور اُن کے دوستوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ سیاسی معاملات میں محدود مداخلت رکھتے تھے ۔لیکن آپکے دوستوں میں ہر طبقہ فکر اور سیاسی جماعت اور گروپ کے لوگ شامل تھے ۔ سیاست اور دینی راہیں جدا ہونے کے باوجود اُن کے تعلقات اصولوں اور اخلاقیات کے معیار پر پورا اُترتے تھے اور اُن کے پاس سخت مخالف بھی آپس میں شیر وشکر ہو کر بیٹھتے تھے اورمحو گفتگو رہتے اور کسی قسم کا تناوء یا ٹکراو نہ ہوتا۔موجودہ وارڈ نمبر 4میں اور اس کے ملحقہ علاقہ میں ان کی آبائی زرعی جائیداد تھی جس کی آبپاشی ایک کنویں سے کی جاتی تھی اور یہ کنواں ایک اُونٹنی سے چلایا جاتا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے دو شادیاں کی تھیں ۔ڈاکٹر صاحب بی ایس سی کے بعد نشترمیڈیکل کالج میں پڑھے اور تحریک ختم نبوت کے دوران عطا اللہ شاہ بخا ری صاحب ؒ کے قریبی ساتھی بھی رہے۔ سیاسی زندگی میں پی پی پی کے سکریٹری جنرل بھی رہے ۔ بعد ازاں پی پی پی کو چھوڑ کر پی این اے میں شامل ہوئے اور اس کے سکریٹری جنرل بنےاور پھر تاحیات پاکستان مسلم لیگ میں شامل رہے ۔ ملک غلام صابر سابقہ چیرمین ، رانا بشیر احمد (مرحوم) سابقہ چیر مین ، پروفیسر تاج محمد ، ان کے قریبی دوست تھے۔ڈاکٹر صاحب 3 مئی 2011 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔