ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

ریلوے اسٹیشن کوٹ مٹھن

 شہر کے شما ل مغرب میں تقریبا 2-1/1کلومیٹر کے فا صلے پر کو ٹ مٹھن کا ریلو ے اسٹیشن وا قع ہے ۔ اس اسٹیشن کا قیا م1973ء میں اس وقت عمل میں آیا جب وزارت ریلو ے نے اپنے ایک حکمنامے کیمطا بق ملتا ن ڈویژن میں کو ٹ ادو تا کشمو ر ایک نئی ریلو ے لا ئن بچھا نے کی منظوری دی ۔ابتدا ء میں اس لا ئن پر ایک پیسنجر گا ڑی چلا ئی گئی ۔ جو اس وقت سے اب تک ملتا ن اور جیکب آبا د کے درمیا ن را بطے کا ایک ذریعہ بنی ہو ئی ہے ۔ بعد میں 1980 میں چلتن ایکسپریس کے نا م سے میل گا ڑی چلا ئی گئی جو اب تک چل رہی ہے ۔یہ گا ڑی کو ٹ مٹھن ریلو ے اسٹیشن پہ منٹو ں کے لئے ٹھہرتی تھی اور لاہور سے کوئیٹہ جاتی تھی ۔ اس کے ذریعے لا ہو ر اور کو ئٹہ کے سفر کی سہو لت تا حال مو جو د ہے ۔
 خو شحا ل ایکسپریس کے نا م سے ایک اور گا ڑی 1981 میں اس لا ئن پر چلا ئی گئی جو پشا ور اور کرا چی کے درمیا ن سفر کرتے ہو ئے کو ٹ مٹھن ریلو ے اسٹیشن پر رُکتی تھی ۔ یہا ں اس گا ڑی کا قیا م منٹو ں کے لئے ہو تا تھا ۔
 وفا قی وزیر ریلوے میر ہزار خا ن بجا را نی نے 1990میں ابا سین ایکسپریس کو جو لا ہو ر کو ئٹہ چل رہی تھی ملتا ن ،بہا ولپو ر اور سندھ کے را ستے کو ئٹہ پہنچنے کی بجا ئے ملتا ن ،ڈیرہ غا زی خا ن اور کشمور کی لا ئن پر ڈا ل دیا ۔ یہ گا ڑی کو ٹ مٹھن سٹیشن پر بھی رکتی تھی جس سے عوام کو کا فی سہو لت میسر تھی مگر چند ما ہ بعد ابا سین ایکسپریس کا سا بقہ رو ٹ بحا ل کر دیا گیا ۔ جس سے یہ علا قہ اس سہو لت سے محروم ہو گیا ۔
ریلوے سٹیشن مو ضع رکھ کو ٹ مٹھن میں وا قع ہے جس کا کل رقبہ 155کنا ل 6مرلے ہے ۔اس رقبے میں ایک ا سٹیشن ،بلڈنگ ،ایک مال گو دا م اور چھوٹے بڑے رہا ئشی کو اٹرز مو جو د ہیں ۔ اسٹیشن کی حدو د میں تقریبا 40کنا ل رقبہ جو لا ئن کے قریب قریب ہے ویرا ن پڑا ہے ۔اس پر تھوڑی سی محنت کر کے اس رقبے کو قا بل کا شت بنا یا جا سکتا ہے جبکہ اکثر رقبے پر جوگ ناجائیز قابض ہیں۔ ریلوے کا لو نی کے لئے ایک پرا ئمری سکو ل بستی میا ں صا حب کے نا م سے مو جو د ہے ابھی تک اس سکو ل کی اپنی عما رت تعمیر نہیں ہو ئی تا ہم ایک ریلوے کواٹرز میں بچوں کو تعلیم دینے کا سلسلہ جا ری ہے ۔
ا سٹیشن کا عملہ درجہ سو ئم کے تین اور درجہ چہا رم کے سو لہ سرکا ری ملا زمین پر مشتمل ہے۔ جن کو پا نی ،بجلی،سکو ل اور رہا ئش کی سہو لیا ت میسر ہیں ۔ ریلوے اسٹیشن کوٹ مٹھن کی منظوری کے لئے جد جہد کرنے میں عملی طور پر ملک غلام صابر کا کردار بے شک کسی تعارف کا محتاج نہیں لیکن اُن کی اپنی زبانی یہ گمنام لیکن دلچسپ حقیقت منظر عام پر آتی ہے کہ اُسوقت کے مشہور سوشل ورکر اور معزز عوامی رہنما حاجی رحیم بخش خوجہ کا کردار کسی صورت نطرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک غلام صابر صاحب کا کہنا ہے کہ پہلے کوٹ مٹھن میں ریلوے اسٹیشن کی منظوری کے لئے حاجی رحیم بخش صاحب آئے روز درخواستیں دیتے اور دلواتے اور اس کی پیروی کے لئے کبھی مجھے بھیجتے اور کھبی خود ہمراہ جاتے اور جب اس کی منظوری ہو گئی تو اتفاق ایسا ہوا کہ اس کے قیام کے لئے جگہہ موجودہ جگہ سے بہت دورُ سلیکٹ کی گئی اس پر حاجی رحیم بخش صاحب نہ خود چین سے بیٹھے اور نہ اُنہوں نے مجھے آرام سے بیٹھنے دیا آئے روز کاہور اور ملتان یاترا اور نت نئی درخواست کا سلسلہ جاری رہا ، لیکن بعض ٹیکنیکل وجوہات کی بنا پر ہماری تمام محنت اور کاوش کو آفیسران بالا نظر انداز کر دیتے، مگر حاجی صاحب نے نہ تو خود ہمت ہاری اور نہ ہی مجھے بیٹھنے دیا ، بس اسی سلسلہ کی کڑی میں ایک روز ہم لاہور یاترا پرتھے اور ایک رشتہ دار کی مدد حاصل کرنے پر معلوم ہوا کہ جس متعلقہ آفیسر سے کام ہونا ہے اور جس کے لئے ہم سفارشیں ڈھونڈ رہے ہیں وہ تو خود ہمارا عزیز ہے ۔ چنانچہ بلاآخر حاجی رحیم بخش صاحب کی جدوجہد رنگ لائی اور ہم ریلوے اسٹیشن کی دورُی کو کم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اگر ایسا نہ ہو پاتا تو آج یہ ریلوے اسٹیشن ہم سے بے حد دورُ اور آج بھی جنگل کے ایریا میں ہوتا۔ کو ٹ مٹھن ریلوے سٹیشن کی سا لا نہ آمدنی کیا ہے اس اسلسلہ میں تفصیلات گاہے بگاہے آپ تک پہنچاتے رہیں گ
ے۔