ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

احا طہ مزا ر فریدؒ              .................................................               تحقیق ڈا کڑپروفیسر شکیل پتا فی
ترتیب و اشاعت . کمال فرید ملک ، خادم شہر فرید

          
صو بہ پنچاب کے جنوب مغر بی ضلع راجن پور مین وا قع کوٹ مٹھن کا چھوٹا سا شہر اپنی تا ریخی اہمیت کے اعتبار نے ملک بھر میں مشہور ہے۔ قیام پاکستان سے قبل ہندوستان کے کو نے کو نے سے لوگ یہاں آتے اوریہاں کے دینی مدارس میں داخل ہو کر علم کی پیا س بجھاتے تھے۔ یہ شہر خا ندا ن کوریجہ کی آ خری آرام گا ہ ہے جسں میں خواجہ غلا م فریداور ان کے خا ندان کے کئ نامور بزرگ آسودہ خاک ہیں ۔ خواجہ فر ید کا نام کسی تعارف کا محتا ج نہیں ہے۔ ان کی وفات کو ایک سو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے لیکن مزار فرہد آ ج بھی مر جع خلائق بنا ہوا ہے ۔
جسں احا طے مین مزار فریدقا ئم ہے وہاں گنبد نما دو مقبرے ہیں جسے مقا می زبان میں بڑ ی خا نقاہ کہا جاتا ہے ۔ایک مقبر ے میں حضرت خواجہ فر ید اپنے بھائی ،با پ، داد اور اپنے بیٹے ،پوتے اور پڑ پوتے کے ساتھ دفن ہیں جسکہ دوسرے مقبرے کے نیچے خواجہ فرہد کے نواسے خواجہ فیض احمد اپنے قریبی بزرگوں کے ساتھ آ سودہ خاک ہیں ۔ان دو مقبروں کے علاوہ اس پورے احاطے میں سماع خا نہ، زنا ن خانہ، مسجد،محل باغیچہ قبرستان اور دفتر اوقاف موجود ہے ۔ذیل میں ان تمام عمارات کے قیام وتعمیر کا ایک تحقیقی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے جسں سے احاطہ مزار فرید کا ایک تعارف ممکن ہو سکے گا۔تفصیل اس طرح سے ہے۔
مقبرہ خواجہ غلام فرید

 ؒ


یہ مقبرہ 24مربع فٹ کی پیما ئش سے بنا ہوا ایک چوکور کمرہ ہے جسں کی چھت گنبد نما گول دائرے کی شکل میں ہے کمرے میں داخل ہوتے ہی پہلی قبر خواجہ معین الدین کی ہے،جوحضرت خواجہ فریدؒ کے پوتے ہیں۔اس کے ساتھ علی الترتیب خواجہ نازک کریم (خواجہ فرید کے بیٹے)خواجہ عاقل محمد(خواجہ فرید کے پڑدادا) خواجہ خدا بخش(والد) خواجہ فخر جہاں (بڑے بھائی)اور خواجہ غلام فرید کی قبریں ہیں۔جبکہ ساتویں قبر خواجہ معین الدین کے بیٹے خواجہ قطب الدین کی ہے۔جو کم و پیش گیارہ برس کی عمر میں وفات پا گئے تھے۔اور انہیں خواجہ عاقل محمد کے قدموں میں دفن کیا گیا۔ان کے پہلو میں خواجہ احمد علی (نواسہ خواجہ نازک کریم )اور خواجہ نظام الدین (نواسہ خواجہ معین الدین)کی دو مزید قبریں بنی ہوئی ہیں۔اس طرح خواجہ فرید کے اندر کل نو قبریں ہیں۔جنوری 1872ء میں اس مقبرے کی تعمیر کا کام مکمل ہوا۔حضرت خواجہ فخر جہاں نے اپنی نگرانی میں اسے تعمیر کرایا تھا۔اور اپنے والد بزرگ وار خواجہ خدا بخش اور اپنے والد کے دادا خواجہ عاقل محمد کی کسی اور جگہ اما نتا" رکھی ہوئی صندوقوں کو اپنے ہاتھوں اس مقبرے میں دفن کیا تھا۔جس سال اس مقبرے کی تعمیر مکمل ہوئی اسی سال فروری1872ء میں خواجہ فخر جہاں بھی انتقال کر گئے۔جنہیں ان کے چھوٹے بھائی خواجہ غلام فریدؒ نے اس مقبرے میں اپنے والد کے دائیں پہلو میں دفن کر دیا۔منشی حکیم چند کے مطابق 1872ء میں اس مقبرے کی تعمیر پر خواجہ فخر جہاں نے بیس ہزار روپے (20,000)خرچ کئے تھے۔(بضوالہ :تواریخ ڈیرہ غازیخان،صفحہ نمبر 47)
مقبرے کے دروازے پر چاندی سے بنے ہوئے خوبصورت نقش و نگار سجے ہوئے ہیں۔اور کہیں کہیں سونے سے بنے ہوئے پھول پتوں سے اس دروازہ کو مزین کیا گیا ہے۔اس دروازے پر سونے اور چاندی کا یہ کام چاچڑاں کے ایک زرگر حاجی قادر بخش نے خواجہ نازک کریم کے عہد میں مکمل کیا تھا۔
مقبرے کا یہ دروازہ مشرق کی سماع خانے میں کھلتا ہے۔جبکہ مقبرے کا دوسرا دروازہ جنوب میں واقع خواجہ فیض احمد کے مقبرے سے جڑا ہے۔
مقبرہ خواجہ فیض احمد
مزار فرید کے میں 21مر بع فٹ کا یہ مقبرہ خوا جہ غلام فرید کے مقبرے کے ساتھ جڑا ہواہے ۔یہ مقبرہ بھی اگر چہ ایک ہی طرز تعمیر کا شا ہکار لیکن خواجہ فرہد کے مقبرے سے قدر چھوٹا اور تنگ ہے ۔اس مقبرے کی تعمیر کا کام 1935ء میں مکمل ہوا جسے خواجہ فیض احمد نے اپنی نگرانی میں تعمیر کرایا تھا۔اس وقت کی تعمیر پر تیس ہزار روپے کی لاگت آئی تھی۔ اسے مستی اللہ بخش ملتانی نے نے تعمیر کیا تھا ۔اس وقت اس مقبرے میں پانچ قبریں بنی ہوئی ہیں اند داخل ہوتے ہی پہلی قبر خواجہ عبدالکریم کی ہے، جنہیں اُن کی وفات پر 9نومبر 1992 ؁ء میں یہاں دفن کیا گیا ۔ ان کے ساتھ علی الترتیب خواجہ فیض احمد ، خواجہ امام بخش ، خواجہ نور محمد اور خواجہ فیض فرید کی قبریں ہیں اِس مقبرے کا بھی ایک دروازہ مشرق میں سماع خانے کے اندر کھلتا ہے۔
سما ع خانہ

 
دونوں مذکورہ مقبروں کے ساتھ مشرقی جانب محلق سماع خانے کو مجلس خانہ بھی کہتے ہیں ۔ اِ س کی لمبائی 67فٹ اور چوڑائی 31فٹ ہے۔ آٹھ بڑ ے بڑے شہتیروں پر مشتمل بڑا سا کمرہ خاصا کشادہ اور اور کافی ہوا دار ہے۔ اِ س کے ساتھ دروازے مشرق کی طرف مجلس خانے کے صحن میں اور چار دروازے جنوب میں مسجد کے صحن میں کھلتے ہیں ۔ تین فٹ موٹی موٹی دیوار پر کھڑا ہوا یہ سماع خانہ 1890 ؁ء میں تعمیر ہوا تھا ۔جسے نواب آف بہاولپور نواب صادق خاں چہارم نے تعمیر کرایا تھا ۔ چھت پر نصب شدہ لکڑی کے شہتیر دریائے سندھ میں بہا کر لائے گئے تھے ۔ جو نواب آف کالا باغ سے مہیا کیے تھے۔ سماع خانے کی اندرونی دیوار پر خوب صورت رنگوں میں قرآنی آیات اور خوب صورت فارسی کے اشعار لکھے ہوئے ہیں ۔ اِ س طرھ چھت سمیت دیواروں پر بیل کاری اور نقش نگاری کی گئی ہے۔ یہ ساری منبت کاری ملتانی طرز تعمیر کا عمدہ نمونہ پیش کرتی ہیں ۔ اِس سماع خانے کی تعمیر مستری غلام ےٰسین ملتانی نے کی تھی۔ جبکہ تمام کام خلیفہ احمد یار اول کی نگرانی میں مکمل ہوا تھا ۔ سماع خانے کی مشرقی دیوار جس میں ساتھ دروازے نصب ہیں اِن کے دائیں اور بائیں لکڑی کی دو سادہ دریاں بھی دیوار میں نصب شدہ ہیں جن کے بارے میں روایت ہے کہ یہ کوٹ مٹھن قدیم میں واقع مقبرہ کوریجہ کی کسی دیوار میں لگی ہوئی تھیں ۔ 1862 ؁ء کے سیلاب میں اُس شہر کی غرقابی کے بعد اِن دریوں کو اُکھاڑ کر بہا لایا گیااور جب موجودہ سماع خانہ تعمیر ہونے لگا تو خواجہ غلام فریدؒ نے پُرانے شہر کی نشانی کے طور پر اِن دریوں کو سماع خانے کی مشرقی دیوار میں کرا دیا جو آج بھی 1713 ؁ء میں قائم ہونے والے کوٹ مٹھن قدیم کی یاد کو تازہ کر رہی ہیں ۔محکمہ اوقاف کی زیر نگرانی 1987 ؁ء میں سماع خانے کے کام کو تازہ کیا گیا ۔ جس کے تحت سماع خانے کا اندرونی فرش اُکھاڑ کر نیا سنگِ مرمر کا فرش تیار کیا گیا ۔اِ س کام کیلئے کاریگر چنیوٹ سے منگوائے گئے۔
زنان خانہ
خواجہ غلام فرید کے مقبرے کی شمالی دیوار کے ساتھ ملحق ایک کمرہ ہے جو زیارت کیلئے آنے والی عورتوں کیلئے بنایا گیا ہے۔ اِس کمرے اور مقبرے میں کی درمیانی دیوار میں سنگِ مر مر کی ایک جالی نصب ہے، جہاں سے عورتیں کمرے میں موجود قبروں کا نظارہ کرتی ہیں ۔اور فاتحہ پڑھتی ہیں زنان خانے کی لمبائی 26فٹ اور چوڑائی 13فٹ ہے۔ اِ س کمرے کی شمالی دیوار میں نصب تین دروازے زنان خانے میں کُھلتے ہیں ۔ زنان خانے کی تعمیر کا کام 1875 ؁ء میں مکمل ہوا ۔ بقول منشی حکم چند اِس کو امام بخش بزدار (مہریوالہ ) نے بنوایا تھا۔(بحوالہ : تواریخِ ڈیرہ غازیخان صف 47)
مسجددربار فریدؒ
مزارِ فرید کے احاطے میں واقع ایک دیم مسجد بھی ہے جسے حاجی محمد مسو خاں نے تعمیر کرایا تھا۔ اور ساتھ ہی وضو کرنے کیلئے پانی ایک حوض نھی بنوایا تھا جسے مقامی زبان میں چمن کہتے ہیں ۔ لوگ آج بھی اس چمن سے پانی بوتلوں میں بھر کر اِسے تبرکاً اپنے گھر لے جاتے ہیں ۔ حاجی محمد مسو خاں ، منگروٹھہ تحصیل تونسہ کے نتکانی قبیلے کا فرد تھا ، نواب لعل خاں نتکانی کا بیٹا تھا۔ابتداء میں مسو خاں انگریزی حکومت میں تحصیلدار کے عہدے پر فائز تھا۔وہ نہایت سخی ،مہمان نواز اور حق گو آدمی تھا۔اُس نے مختلف مقامات پر کئی مساجد تعمیر کرائی جن میں دائرہ دین پناہ، منگروٹھہ اور کوٹ مٹھن کی مذکورہ مسجد قابلِ ذکر ہیں ۔1882 ؁ء میں مسو خاں کی وفات ہوئی اُسے اُس کی وصیت کے مطابق مزارِفریدؒ کے احاطے میں واقع قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔مذکورہ مسجد کی تعمیر کا کام 1871میں مکمل ہوا ۔ پختہ اینٹوں سے بنی ہوئی یہ مسجد پُرانی طرزِ تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے۔حاجی مسوخاں کا تعمیر کردہ مسجد کا کمرہ شرقاً غرباً موجودہ پیمائش کا نصف تھا یعنی وہ کمرہ صرف اندر کے ستونوں تک محدود تھا۔بعد ازاں 1947 ؁ء میں دیوان سید عبداللہ شاہ بخاری نے مسجد کی تنگی کو محسوس کرتے ہوئے اِس کی غربی دیوار کو شہید کرکے اِس جگہ ستون کھڑے کر دئے اور کمرے کو مغرب کی طرف وسیع کر دیا جس سے کمرے کی لمبائی اور چوڑائی برابر ہو گئی ۔اب اِ س کی پیمائش 33*33فٹ ہے۔اندر چار بڑے بڑے ستون ہیں سامنے کی طرف تین دروازے مسجد کے صحن میں کھلتے ہیں ۔ اِس مسجد میں سب سے پہلے امامت کا فریضہ شیخ عبدالعزیز نے انجام دیاتھا۔اِس سے پہلے وہ غیر مسلم تھے لیکن حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کے ہاتھوں مشرف بہ اِسلام ہوئے تو اُنہیں دینی خدمت کے جذبے سے مسجد کی امامت سونپ دی گئی۔اُن کی وفات کے بعد اُن کے بیٹے شیخ عطا محمد چشتی نے طویل عرصے تک مسجد میں امامت کا فریضہ انجام دیا۔ مزارِ فریدؒ کا اوقاف کی تحویل میں آجانے کے بعد اب اِس مسجد میں تنخواہ دار ملازمین امامت کا فریضہ اداکرتے ہیں ۔
محل فریدؒ
خانقاہ کے جنوب مغربی کونے میں پختہ اینٹوں سے تعمیر ایک رہائشی مکان ہے جو اِس خانقاہ کے سجاد گان کی رہائشی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے تعمیر کیا گیا تھا۔ مقامی زبان میں اسے محل کہتے ہیں اِس کی تعمیر بھی سماع خانے کے ساتھ 1890 ؁ء میں مکمل ہوئی ۔ جسے نواب آف بہاوالپور نے تعمیر کیا تھا ۔ تقریباً چھوٹے بڑے آٹھ کمروں پر مشتمل یہ سادہ مکان آج بھی موجود ہے۔
باغیچہ فریدؒ
محل کی تعمیر ہو چکی تو اس کے بائیں پہلو میں ایک باغیچہ قائم کیا گیا جس میں رنگا رنگ کے پھولوں کے ساتھ ساتھ موسمی پھلوں کے پودے بھی لگائے گئے پودوں کی سیرابی کیلئے خانقاہ کے احاطے میں ایک کنواں احلاث کیا گیاجو محکمہ محال کے ریکاڑد میں" چاہ روضہ والا"کے نام سے درج ہے یہ کنواں چند سال پہلے بند کر دیا گیا ۔ البتہ باغیچہ کے اثار باقی ہیں ۔ ملک سنہاڑا لعل اِس باغیچہ کا مالی رہا ہے۔ جو اپنے آپ کو خواجہ فیض احمد کا مرید ظاہر کرتا ہے۔
قبرستان
مزارِ فریدؒ کت احاطے میں واقع ایک چھوٹا سا قبرستان بھی ہے جس میں خاندانِ کوریجہ کے علاوہ خلفائے کوریجہ اور مریدانِ کوریجہ کی قبریں ہیں ۔ اِن میں دورانی ، جکھڑ ، بزدار،ماڑھا اور خوجہ خاندان کے افراد شامل ہیں ۔ خاندانِ کوریجہ میں خواجہ فخر جہان کی دو صاحب زادیاں ، خواجہ فرید ؒ کی دو بیویاں قابلِ ذکر ہیں۔ ایک حصے میں خلیفہ احمد یار اول ، خلیفہ اللہ دتہ اور خلیفہ واحد بخش کی قبریں ہیں، خواجہ فریدؒ کے عہد کے معروف سِتار نواز میاں برکت قوال بھی اپنی سِتار سمیت اِس قبرستان کے ایک کونے میں دفن ہیں ۔ اشاراتِ فریدی کا مصنف مولانا رکن الدین کی قبر بھی یہاں موجود ہے۔ دیوان عبداللہ شاہ بخاری اور دیوان محمد پیر شاہ بخاری بھی اِسی قبرستان میں 9*9فٹ کے ایک چھوٹے سے کمرے میں دفن ہیں ۔
سماع خانے کے مشرق میں 22مربع فٹ کا ایک اور کمرہ بنا ہوا ہے جسے "مقبرہ بی بی صاحب"کے نام سے پُکارا جاتا ہے۔ اِس میں تین بیبیاں آسودۂ خاک ہیں جن میں ایک خواجہ نازک کریم اور دو خواجہ معین الدین کی صاحب زادیاں شامل ہیں ۔ اِس کمرے میں مرد حضرات کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔ اِس کمرے کے جنوب میں ملحق 20*30فٹ کا ایک احاطہ موجود ہے جس میں خواجہ نظام الدین کے بیٹے خواجہ نعیم الدین ( 34سال ) کی قبر بنی ہوئی ہے۔یکم جنوری 1993 ؁ء کو کار کے ایک حادثے میں اِ ن کا انتقال ہو گیا تھا ۔ مسو خاں ، پیر حسن شاہ اور قاضی ابوالخیر کی قبریں بھی اِسی قبرستان میں موجود ہیں

چمن دربار فرید

خانقاہ کے مرکزی دروازے میں داخل ہوتے ہیں ۔دائیں ہاتھ پر وضو کرنے کے لیے پانی کا حوض بنا ہوا ہے۔جسے مقامی زبان میں چمن کہا جاتا ہے۔اس چمن کی تاریخ زبھی اتنی ہی پرانی ہے۔جتنا کہ خانقاہ کے احاطے میں موجود مسجد کی ۔کیونکہ اس چمن کا سن تعمیر بھی وہی ہے۔جو مسجد کا ہے1871 میں محمد مسو خان نتکانی نے مسجد کی تعمیر کے ساتھ ساتھ وضو کے لئے پانی کا یہ حوض بھی تعمیر کرادیا تھا۔منشی حکم چند نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے ۔کہ اس چمن کی تعمیر محمد مسو خان نتکانی نے کرائی تھی۔چمن کی پیما ئش اکیس مربع فٹ ہے۔اور یہ اب تک درست اور قابل استعمال حالت میں ہے کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی مرمت اور جدید تقاضوں کے عین مطابق بحالی کا کام کرایا جاتا رہا ہے اور اب اس میں سفید ماربل کا فرش بھی بنایا جا چکا ہے تاکہ صاف ستھرا پانی وضو کے لئے آسانی سے مہیا کیا جا سکیاسی مقصد کے لئے صاف پانی کی فراہمی کے لئے محکمہ اوقاف کی جانب سے بجلی کی موٹرز لگائی گئی تھی اب خاندان فرید کے اہم ترین اور سماجی شخصیت نے سولر انرجی سے چلنے والی پانی کی موٹرز لگوا کر مزید آسانی پیدا کر دی ہے جس کی بدولت ہمہ وقت صاف ستھرا پانی دستیاب رہتا ہے ۔ بے شک قدیم دور میں پانی کا یہ حوض جسے عقیدتمند چمن کا نام بھی دیتے ہیں زائرین کے لئے پانی کی فراہمی کا یہ واحد زریعہ تھا اور اسی پانی سے وضو اور دیگر ضروریات کو پورا کیا جاتا تھا لیکن اکثر زائرین اس حوض کے پانی کو بطور تبرک ساتھ لے جاتے تھے اور اسے مختلف بیماریوں میں شفا ء کا زریعہ سمجھ کر استعمال کرتے تھے ۔اور بعض اب بھی ایسا کرتے ہیں حالانکہ اس بارے میں ایسی کوئی روایت یا دلیل نہ ملتی ہے ۔ اس حوض کے اُوپر چھت کے طور پر دیار کی لکڑی کا نہایت نفیس اور خوبصورت شیڈ نصب تھا جس پر استعمال ہونے والی لکڑی میں ہی باریک کشیدہ کاری اور لکڑی ہی کی جھالر نے اسے نہایت دلکش اور جازب نظر بنایا ہوا تھا اس چھت نما شیڈ کو درمیان میں سے خالی رکھا گیا تھا تاکہ سورج ی روشنی اور تازہ ہوا کی بدولت اس میں بھرے پانی کو ترو تازہ رکھا جائے۔مختلف اوقات مین جہاں دربار کے بقیہ حصوں کی بحالی کا کام ہوتا رہا وہاں اس حوض پر بھی توجہ دی جاتی رہی ۔ یہاں اس حقیقت کا ذکر کرنا بے حد ضروری ہے کہ پورے دربار کی بحالی اور تزئین کا کام گورنر غلام جیلانی کے دور میں شروع ہوا اور اس پراجیکٹ کو منظور کرانے میں اُسوقت کے چیئر مین بلدیہ ملک غلام صابر کی خصوصی توجہ اور یہاں دورے کے دوران گورنر کو دی گئی بریفینگ خاص اہمیت کی حامل ٹھہری اور اس سلسلہ میں اُسوقت کے کمیشنر ڈیرہ غازیخان چوہدری محمد اشرف کی بھر پور حمایت کارگر ٹھہری۔اسی پراجیکٹ کے دوران اس حوض میں سفید سنگ مر مر کا فرش لگایا گیا اور اس کے شیڈ کو بھی اُسی حالت میں نیا بنایا گیا اور باقی دربار کا کام بھی ہوا لیکن آثار قدیمہ کے ماہرین کی زیر نگرانی۔
 

دفتر اوقاف

منیجر اوقاف کا دفتر بھی اسی مزار کے احاطے میں موجود ہے ۔ محکمہ اوقاف نے ایک منصوبے کے تحت مورخہ 12اکتوبر 1960 ؁ء کو دربار خواجہ غلام فرید ؒ اور انکے نام زرعی اراضی کو "وقف چاچڑاں"کے نام سے اپنی تحویل میں لے لیا ۔جائداد کا بیشتر حصہ چونکہ ضلع رحیم یار خان میں تھا اس لئے ابتداً منیجر اوقاف کا دفتر رحیم یار خان میں قائم ہوا ۔ بعد ازاں محسوس کیا گیا کہ مزارِفریدؒ کوٹ مٹھن میں واقع ہے جس کا نظم ونسق سمبھالنے اور اسے اوقاف کی زیرِ نگرانی رکھنے کے لئے موقع پر دفتر کا ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ 1967 ؁ء منیجر اوقاف کا دفتر کوٹ مٹھن منتقل ہوا ۔ اس وقت مزار کے احاطے میں زائرین کے لئے اوقاف کی طرف سے تعمیر شدہ رہائشی کمروں کے علاوہ ایک ڈسپینسری بھی ہے جس میں کوئی دوائی موجود نہیں اور ایک لائیبرری بھی ہے جس میں کوئی کتاب موجود نہیں ۔