ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

  حضرت خواجہ قاضی محمد عاقل ؒ جد امجدخواجہ فریدؒ
کوٹ مٹھن شریف کے سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ کے بانی حضرت خواجہ قا ضی محمد عاقل ؒ ہیں۔آپؒ قبلہ عالم خواجہ نورمحمد مہارویؒ سے شرف بیعت لینے کے بعد بہت ہی کم عرصہ میں سلوک کے تمام مراحل طے کرکے اپنے شیخ سے خرقہ خلافت کے حصول میں کامیاب ہوئے۔آپ زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت کی بنا پراس بلند مقام کے حامل تھے کہ آپ کے مرشد قبلہ عالم مہاروی ؒ نے اپنی موجودگی میں اپنے فرزند میاں نورحسنؒ کو آپ کی بیعت کر ایا۔اپنے مرشد کریم کی نظر میں دیگر معتبر خلفاء یعنی حضرت نورمحمد نارووالہؒ ،حضرت حافظ جمال اللہ ملتانیؒ اورحضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی کی نسبت زیادہ مقرب تھے۔آپ کے دور میں ایک بہت بڑی اسلامی یونیورسٹی تھی جس میں شاہ سلیمان تونسوی ؒ جیسی شخصیات علم حاصل کرتی تھیں اور طلباء کی تعداد اتنا تھی کہ تقریباً 15من اناج روزانہ پکا کرتاتھا ۔آپ کا وصال 8رجب المرجب 1229ھ کو ہوا۔


حضرت خواجہ خدابخش محبوب الٰہی والد محترم خواجہ فریدؒ

محبوب الٰہی حضرت خواجہ خدابخش ؒ ایک متبحرعالم دین اور بلند مقام درویش تھے۔ آپ بہت اچھے استا د اور مدرس بھی تھے۔ آپ نے اپنے والد بزرگوار کی قائم کرد ہ جامعہ کو بطریق احسن جاری رکھا اور ہندوستان کے کونے کونے سے تشنگانِ علم آپ کی درسگاہ کا رخ کیاکرتے تھے۔آپ کے دو فرزند تھے ۔حضرت خواجہ فخرالدین ؒ اور حضرت خواجہ غلام فریدؒ ۔آپ نے 12ذولحجہ 1269ھ کو وصال فرمایا۔

                                                                                                                سلطان العاشقین حضرت خواجہ غلام فریدؒ  

  بادشاہ    جہاں دردوسوز خواجہ خواجگان سلطان العاشقین حضرت خواجہ غلام فریدؒ 1261 ھ بمطابق 1845ء کو چاچڑاں شریف میں پیداہوئے ۔ آپؒ کا سلسلہ نسب 34واسطوں سے خلیفہ دوم امیرالمؤمنین سید نا حضرت عمر بن الخطابؓ سے ملتا ہے ۔ اس لحاظ سے آپؒ کا تعلق فاروقی قریشی خاندان سے ہے۔آپؒ کے آباؤاجداد عرب سے سندھ اور وہاں سے سرزمین ملتان میں آباد ہوئے آپؒ کے والد بزرگوار حضرت خواجہ خدابخش محبوب الہٰی ؒ علمی اور روحانی مقام کے لحاظ سے ہندوستان بھر میں جانے پہچانے جاتے تھے۔  علم کے اس سر چشمہ کو اپنا فیض اور بہاو جاری رکھنے کے لئےفریدؒ کی صورت میں ایک سہارامل چکاتھا۔آپ کی سرائیکی شاعری دنیا کے ادب میں ایک نمایاں حیثیت کی حامل ہے جس میں اظہار حقیقت ، حمدو نعت،فلسفہ ، اظہارمحبت ومعرفت ،معاملاتِ ہجرو وصال،موسموں کے رنگ اور سرائیکی کلچر کے جیتے جاگتے مناظر ملتے ہیں ۔آپ ؒ کی شاعری کا بنیادی نکتہ عشق تھا۔

جڈاں عشق فریدؔ استاد تھیا سب علم عمل برباد تھیا
پرحضرت دل آبادتھیا سو وجد کنوں لکھ حال کنوں

۔ 21شوال 1292ھ کو آپؒ حج بیت اللہ کیلئے تشریف لے گئے سفرحجاز کے دوران آپؒ نے مقامات مقدسہ پر وارداتِ ہائے قلبی کا تذکرہ جس خوبصورتی سے اپنی کافیوں میں کیاوہ اپنی مثال آپ ہے ۔آپؒ کی تصانیف میں ’’دیوان فرید(اردو)،دیوانِ فرید(سرائیکی )،مناقب محبوبیہ ،فوائد الفریدیہ شامل ہے ۔
آپ ؒ 7ربیع الثانی 1319ھ بمطابق 24جولائی 1901بعمر تقریباً57سال کو اس دارِ فانی سے عالم بقا کی طرف رحلت فرماگئے ۔
خلقت کوں جیندی گول ہے ہردم فریدؔ دے کول ہے


حضرت خواجہ محمد بخش نازک کریم ؒ فرزند خواجہ فریدؒ


قطب المواحدین حضرت خواجہ محمد بخش نازک کریم ؒ کی ولادت باسعادت 1283ھ میں ہوئی۔چونکہ آپؒ خواجہ فریدؒ کی اکلوتی نرینہ اولاد تھے لہٰذا آپؒ کی تعلیم وتربیت پر خاص زوردیاگیا۔آپؒ مستجاب الدعوٰۃ تھے۔مخلوق خداپر سخاوت و عنایات کا جوسلسلہ آپ ؒ کے آباء نے شروع کیا تھا آپؒ نے کمال خوبی سے اسے نہ صرف باقی رکھا بلکہ اس میں اضافہ بھی کیا ۔انتہائی نفیس اور خوبصورت شخصیت کے مالک تھے جو دیکھتا ،دیکھتا رہ جاتا۔آپؒ نے 21رمضان المبارک 1329ھ کو وصال فرمایا۔

 


حضرت خواجہ محمد معین الدین ؒ پوتا خواجہ فریدؒ


حضرت خواجہ محمد معین الدین کی ولادت باسعادت 27رمضان المبارک 1301ھ کو ہوئی ۔اپنے والد بزرگوار حضرت خواجہ نازک کریم ؒ کے وصال کے وقت آپؒ کی عمر 28سال تھی۔ایک مخصوص گروہ جو سجادگی کا طلب گارتھااس نے حضرت خواجہ نازک کریم ؒ کی زندگی میں سازشیں شروع کر دی تھیں۔جس کی وجہ سے حضرت خواجہ نازک کریم ؒ کے وصال کے چالیس دن بعد آپ ؒ کا سجادگی کا نوٹیفیکیشن ریاست بہاولپور سے جاری ہوا لیکن وہ گروپ اپنی شکست تسلیم کرنے کو تیا ر نہ تھا لہٰذا موقع ملتے ہی فریدؒ محل کوٹ مٹھن شریف ٹھنڈائی (بادام کی شربت) میں زہر ملاکر آپ ؒ کو شہید کردیا۔ تقریباً 34سال کی عمر میں آپ ؒ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔آپ ؒ نے جید علماء کرام اور مستند اساتذہ سے علومِ ظاہری اوراپنے والد گرامی سے باطنی فیوض و برکات حاصل کیے تھے۔والدبزرگوار کی طرح پیکر حسن و جمال تھے۔ شریعت کی پابندی پر بہت زیادہ زوردیتے تھے۔2جمادی الاول کو آپ کو شہید کیا گیا۔

حضرت خواجہ قطب الدین ؒ  پڑپوتا خواجہ فریدؒ

مادرزاد ولی کامل حضرت خواجہ قطب عالم خواجہ قطب الدین ؒ کا سن ولادت 1231ھ ہے ۔ آپؒ نے کم سنی میں اس بات کو ثابت کردیا تھا کہ’’ بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال‘‘ ۔ علمائے کرام کی محفل ہو یا درویشوں سے گفتگو ،آپؒ کا انداز بیان منفرد اور مدلل ہوتا۔آپؒ کے والد کی وفات کے بعد بھی سازشی طبقہ آرام سے نہ بیٹھا۔ کیونکہ خواجہ قطب الدینؒ کی سجادگی سے ان کے ناپاک عزائم ادھورے رہ گئے تھے۔اس لیے انہوں نے چاچڑاں شریف کے فریدؒ محل میں کورٹ آف آرڈر کے منیجر عطامحمد کی وساطت سے آپؒ کوبھی زہر دے کر شہید کر دیااور آخرکار وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو گئے اور تمام جائیداد،محلات پر قبضہ کر لیااور سجادگی کے حصول کیلئے ان کا برسوں کا خواب پورا ہوگیا۔(شہادتوں کی یہ داستان تفصیل کے ساتھ کتاب ’’کون فریدؒ فقیر‘‘ از حضرت خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ سئیں میں ملاحظہ کیجئے)۔
صرف 12سال کی عمر میں آپؒ کو زہردے کر شہید کردیا گیا23رجب 1243ھ میں وصال فرماگئے۔آپؒ کے وصال سے پورے فریدی حلقے میں کہرام مچ گیا کیونکہ خواجہ فریدؒ کا سلسلہ نسب یہاں اختتام پذیر ہوگیا تھا۔آپ ؒ کے پسماندگان میں دوہمشیرگان اور ایک والدہ محترمہ تھیں جن کو ریاست بدرکردیا گیا۔

حضرت خواجہ احمد علی صاحب نواسے حضرت خواجہ نازک کریمؒ صاحب فرزند خواجہ غلام فریدؒ

۔1925 ء کا سال عقیدت مندان فریدؒ کی زندگی کا سب سے مشکل سال تھاکیونکہ اسی سال حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی اولاد نرینہ کا سلسلہ خواجہ قطب الدین ؒ کی شہادت پر ختم ہوا۔فریدی بھائی ابھی تک اس سانحے کو فراموش نہیں کر سکے تھے خواجہ قطب الدین کے پسماندگان میں دوہمشیر گان اور ایک والدہ تھیں۔جن میں سے بڑی صاحبزادی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔چھوٹی صاحبزادی کی شادی خواجہ احمد علیؒ نواسہ فرزند فریدؒ سے ہوئی ۔جہاں سے پہلی اولاد1935ء میں خواجہ نظام الدین ؒ کی شکل میں پیدا ہوئی تو تمام پیربھائیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ایک طویل عرصے بعد لوگوں کو خوش ہونے کا قدرت نے موقع عطاکیاتھا۔اس لیے قرب و جواراور دوردراز علاقے سے لوگوں نے چاچڑاں شریف کا رخ کرنا شروع کر دیا تھا اور ایک جشن کا سماں بندھ گیا۔دنوں ،ہفتوں اور مہینوں تک بچے کی پیدائش کی خوشیاں منائی جاتی رہیں۔چاچڑاں شہر کے حلوائی مٹھائیاں بناتے بناتے تھک گئے لیکن لوگوں کی طلب ختم نہ ہوئی ۔آپ ؒ کا چھٹی کانام خواجہ قطب الدین ؒ رکھاگیااور دوسرانام خواجہ نظام الدین ؒ تجویزہوا۔ جوبعد میں آپؒ کی شخصیت کا لازمی جز بن گیااور اصل نام لوگوں کو یادنہ رہا۔شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نام کے ساتھ ایک بہت بڑا المیہ اور سانحہ ہواتھا۔اس لیے لوگ اس نام سے پکارتے ہوئے شاید دکھ محسوس کرتے ہوں گے۔ابھی آپؒ چوتھے سال ہی میں داخل ہوئے تو واقعہ کربلا کی سنت کی ادائیگی کا وقت آگیا اور فریدی خاندان اپنی آبائی رہائش گاہوں اور اپنے شہر سے جلاوطن کر دیے گئے ۔جلاوطن ہونے والوں میں کم سن خواجہ نظام الدین ؒ ، آپؒ کے ایک بھائی خواجہ ٖفخرالدین ،ہمشیرہ ،والدہ محترمہ اوروالد صاحب  حضرت خواجہ احمد علی ، جو خواجہ فریدؒ کی اصل اولاد تھی اور دادا حضرت خواجہ شریف محمد صاحب  دربدرجلاوطنی کے دھکے کھاتے ہوئے محمد پور دیوان پہنچے۔جلا وطنی کی داستان ایک ایسا حادثہ تھا کہ جس کے ظلم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ جب فریدی مستورات کوچاچڑاں شریف سے نکالاگیا تو کسی بھی مرد کو گھر سے باہر نکلنے ،سامان اٹھانے اورسواریاں مہیا کرنے کی اجازت نہیں تھی اس لیے خاندان کی یہ مستورات اپنے آبائی شہر کوپیدل چھوڑ نے پر مجبور ہوگئیں۔(جلاوطنی کی یہ داستان تفصیل کے ساتھ آپ کتاب ’’کون فریدؒ فقیر‘‘ازحضرت خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ سئیں ملاحظہ فرمائیں)۔ حضرت خواجہ شریف محمد سائیں درویش صفت ،نہایت ملنسار ،خوش اخلاق اور خاندان فریدؒ کی اعلیٰ وصف رکھتے تھے ۔ اپنے لٹے پٹے قافلے کے ہمراہ انہوں نے افکار فریدؒ کی روشنی میں درس فرید کا ایسا سلسلہ شروع کیا کے محمد پور دیوان اور پھر یہاں سے شہر فرید کوٹ مٹھن مین آباد ہونے کے اس صبرآزما اور تکلیف دہ عرصہ میں انہوں نے نہ صرف اس پورے علاقہ بلکہ اس پورے خطے میں اپنے مرئدین اور معتقدین کا بہت بڑا اور موثر ترین حلقہ بنا لیا ۔اور بہت جلد اُن کا یہ حلقہ ضلع ڈیرہ غازیخان سے ہوتا ہوا ضلع مظفر گڑھ اور ضلع ملتان تک جا پہنچا۔اس تمام عرصہ میں اُن کے فرزند ارجمند حضرت خواجہ احمد علی سائیں اُن کے عملی طور پر رفیق کار رہے جس کی بدولت حضرت خواجہ شریف محمد صائیں کی وفات کے بعد حضرت خواجہ احمد علی سائیں نے اس سلسلہ کو نہاےت احسن اور خوبصورتی سے تیزی سے آگے بڑھایا اور اُن کے دور میں ان تمام اضلاع کے عوام الناس اور اہم طبقہ فکر کے لوگ ہی نہیں بلکے ، دریشک ، مزاری ، گورچانی ، لغاری ، کھوسے سرداروں اور تمنداروں نے بھی اُن سے اپنی پختہ نیازمندی اور عقیدت قائیم کی اور اسی سلسلہ کی کڑی میں ملتان کے گیلانی ، نون ، گھلو ، دستی ، لانگ اور علماٗ کرام نے بھی اسی سلسلہ سے تعلق اور وابستگی کو قائیم کیا اور پھر چاچڑاں شریف سے نکالے گئے اس خاندان کے کی محنت ،انسان دوستی ،اور درس فرید اور فکر فرید کی اصل حقیقت اُس وقت لوگوں نے دیکھی جب حضرت خواجہ احمد علی سائیں ایک طویل ترین عرصہ کے بعد براستہ احمد پور شرقیہ اور اُچ شریف کی زیارت کے بعد چاچڑاں شریف کی خدود میں داکل ہوےئ تو اُن کے استقبال کے لئے لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا اور وہ لوگ جن کی بدولت اس خاندان کو علاقہ بدر کیا گیا تھا اُن لوگوں کو نہ اپنے گھروں سے باہر نکلنے کا راستہ ملتا تھا اور نہ گھروں میں داخل ہونے کا راستہ ملتا تھا اور اس تمام تر سفر میں اےک ہمراہی کی سعادت مجھے حاصل تھی اور میں اس طویل سفر کا عینی شاید بھی تھا۔جس کی تفصیل انشااللہ تعالیٰ مفصل انداز میں دی جائیگی۔اور پھر اللہ کی قدرت نے رنگ دیکھایا اورحضرت خواجہ احمد علی سائیں جن کی بطور سجادہ نشین دربار عالیہ دستار بندی تو1986 میں ہو چکی تھی لیکن دربار فرید پر مجالس پر روحانی رسومات کی اجازت نہ دی جاتی تھی بلا آخر 1995۔1996 میں اس فریضہ کی ادائیگی کا بھی تاریخی موقعہ حاصل ہوا اور ہزاروں عقیدتمندان کے جھرمٹ میں خاندان فرید  کے علاقہ بدر کئے گئے اہل اور حقیقی وارثان حضرت خواجہ احمد علی سائیں ، حضرت خواجہ نظام الدین سائیں ، حضرت خواجہ فخرالدین سائیںدربار فریدؒ پر عرس فریدؒ کے تاریخی موقعہ پر مسند سجادگی بپر عملی طور پر جلوہ افروز ہوئے۔  

خواجہ نظام الدین صاحبؒ بھانجے خواجہ قطب الدین

خواجہ نظام الدین صاحبؒ کا بچپن محمد پور دیوان میں گزراجوایک ویران جگہ تھی۔ مچھروں کی بہتات،جنگلی درختوں کی کثرت اور میٹھے پانی کی قلت تھی۔پینے کیلئے پانی دس کلومیٹر دورسے منگوایاجاتاتھا۔وہ ایام ا گرچہ بہت تکلیف دہ تھے مگر گشکوری خاندان کی خدمات اور جبروستم سے بچ آنے کی خوشی نے ان مسائل میں کمی کر دی۔آپؒ کیلئے دو علمائے کرام تفویض کیے گئے جن میں مولانا رسول بخش صاحب اور دوسرے مولانا نظام الدین صاحب تھے۔یہ علماء کرام اپنے وقت کے مشہور اور جید علمائے کرام تھے۔اسی طرح آپ ؒ کی تربیت کا آغاز محمد پور دیوان میں ان علماء کی نگرانی میں شروع ہوا۔آپؒ نے بہت کم عمری میں عربی اور فارسی کی تمام کتب پڑھ لی تھیں اور سولہ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوگئے تھے ۔علم کی تکمیل کے فوراً کے بعد آپ ؒ کی گورچانی قبیلہ میں شادی ہوئی جس میں سے اللہ تعالیٰ نے آپ ؒ کو چار فرزند اور دو دخترعطافرمائیں۔موجودہ سجادہ نشین خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ سئیں آپؒ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ایام جوانی سے آپ ؒ کا معمول تھا کہ جمعۃالمبارک کی نمازمحمد پور دیوان سے کوٹ مٹھن شریف آکر پڑھتے تھے۔بعد میں 1957ء میں مستقل طورپر کوٹ مٹھن شریف منتقل ہوگئے۔آپؒ ایک درویش صفت انسان تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی نیاز ،عاجزی ،خدمت خلق اورخواجہ فریدؒ کی محبت میں گزاردی ۔ان کے ساتھ بے شمار کرامات وابستہ ہیں جو آج بھی مریدین بیان کر تے نظرآتے ہیں۔1997ء میں عمرے سے واپسی پر11فروری کی رات مقامی ہسپتال میں صبح 5سے 5:30کے درمیان آپؒ خالق حقیقی سے جاملے ۔آج بھی لوگوں کی محبت کایہ عالم ہے کہ جب بھی آپؒ کا ذکر آتاہے لوگوں کی آنکھیں آنسو سے تر ہوجاتی ہیں۔آپکی درویشی کی مثالیں آج بھی زبان زد عام پر ہیں اورآپ کے ڈیرے پر لنگر فریدؒ کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا اور یہ آپ کو خاندانی ورثہ کے طور پر ملا ۔حضرت خواجہ ثریف محمد سائیں اور حضرت خواجہ احمد علی سائیں کا لنگر آج بھی عوام الناس کو اس انداز میں یاد ہے کہ لوگ برملا اس کا اظہار کرتے ہئں کہ اس انداز میں لنگر اس عہد میں نہ کوئی چلاسکا ہے اور نہ کوئی چلائے گا۔لیکن حضرت خواجہ نظام الدین سائیں نے اس سلسلہ کو اس انداز سے جاری رکھا کہ آج بھی اُن کے وارثین اور موجودہ سجاداہ نشین حضرت خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ اس رسم کو اُسی خوبصورتی اور درویشانہ انداز میں چلا رہئ ہیں اور روزانہ سینکڑوں ہزاروں زائرین اور ضروت مند اس سے مستفید ہوتے ہیں۔