ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

باب دوم
ترتیب و تدوین
۔(الف) اُردو شاعری           (ب) اُردو نثر             (ج) فارسی شاعری              (د) فارسی نثر                  (ہ) متفرق

۔*۔۔۔ مجموعی جائزہ             ۔*۔۔۔ حوالہ جات و حواشی

ترتیب و تدوین متن بھی اگرچہ بنیادی طور پر تحقیق ہی کی ایک صورت ہے لیکن غالب کی تصانیف کے جامع اور متنوع تدوینی کام نے اس تحقیق کا دائرہ اتنا وسیع کردیا ہے کہ ہمیں اس کے جائزے کے لئے ایک علیحدہ باب کی ضرورت پیش آگئی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح کلامِ غالب کی تفہیم نے لاتعداد شارحین پیدا کیے ہیں‘ اس طرح تصانیفِ غالب کی ترتیب اور پھرترتیبِ نو کی ضرورتوں نے ایک سے زیادہ مرتبین کو میدان میں لاکھڑا کیا ہے۔غالب کی اکثر کتابیں اگرچہ ان کے عہد میں شائع ہوگئی تھیں لیکن ان کی وفات کے بعد خطی نسخوں کی پے در پے دستیابیوں نے ترتیب و تدوین کے کام کو مسلسل جاری رکھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جہاں ایک ہی تصنیف کے کئی خطی نسخے دستیاب ہونے لگ جائیں‘ وہاں اختلاف نسخ ‘ جہل کاتب‘ حرفوں کی صوری مشابہت نقطوں کی تقدیم و تاخیر اور اِملاء کے التباس جیسے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں جس سے ترتیب نو کا جواز خود بخود نکل آتا ہے او رپھر خطی نسخے اگر کاتبوں کے ہاتھ کے لکھے ہوں تو متن میں کئی سقم رہ جاتے ہیں۔ پروفیسر نذیر احمد کے مطابق:
’’کسی کاتب کے نقل کیے ہوئے نسخے پر سوفی صد بھروسہ نہیں کیاجاسکتا۔ اگر اس کاتب کے پیش نظر خود مصنف ہی کا نسخہ ہو تو بھی نقل میں کچھ نہ کچھ فرق ہوجاتا ہے۔ اگرچہ مصنف کے نسخے کی نقل اعتبار کی ضمانت ہے لیکن انسانی طباع کی کمزور نقل کتاب میں ضرور بالضرور ظاہر ہوجاتی ہے‘ اس کم زوری کے نتیجے کی نشاندہی کے بغیر متن قابل قبول نہیں ہوسکتا‘‘۔(1)۔
بعض لوگوں نے اگرچہ تالیفی ضرورتوں کو سامنے نہیں رکھا اور غالب کی تصانیف کو بلا تحقیق شائع کر ڈالا ‘ جن سے کئی تسامحات وقوع پذیر ہوئے لیکن ان کے برعکس کچھ محققین نے تصانیف غالب کی ترتیب و تدوین میں ان تھک محنت کی اور پاکستان میں غالب شناسی کی روایت کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے مرتبین نے ترتیب کے ساتھ ساتھ تحقیق کاکام بھی سرانجام دیا اور ہر عہد میں حقائق تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بقول ڈاکٹر تبسم کاشمیری:
’’ہمارے محققین نے اب تک زیادہ تر حقائق کی تلاش ہی پر انحصار کیا ہے۔ بلاشبہ اس کام کی ماضی میں سخت ضرورت تھی اور اب بھی یہ ضرورت تسلیم کی جاتی ہے‘‘۔(۲)۔
ماضی سے قطع نظر‘ پاکستان میں تصانیف غالب کی ترتیب و تدوین کے کام کو نہایت سنجیدگی اور بڑی عرق ریزی کے ساتھ کیا گیا۔ اس سلسلے میں اوّل:قلمی تصانیف از سرنو مدون کی گئیں۔ دوم: بھارت میں شائع ہونے والی کچھ تصانیف کو پاکستان میں دوبارہ شائع کیا گیا۔ سوم: غالب کی بعض نثری تصانیف جو پہلی مرتبہ غالب کے عہد میں شائع ہوئی تھیں‘ ان کی دوسری اشاعت کا اعزاز پاکستانی مرتبین کو حاصل ہوا۔
زیر بحث باب میں تصانیف غالب کی ترتیب و تدوین کے اس سارے کام کا جائزہ لینے کے لیے جو درجہ بندی کی گئی ہے وہ درج ذیل پانچ حصوں پر مشتمل ہے۔
(الف) اُردو شاعری (ب) اُردو نثر (ج) فارسی شاعری (د) فارسی نثر (ہ) متفرق
غالب کا سارا (اُردو‘ فارسی) تصنیفی مواد کم و بیش بیس (۲۰) چھوٹی بڑی تصانیف پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں بعض تصانیف کو کامل حالت میں بھی شائع کیا گیا اور ان کے انتخاب بھی شائع ہوئے۔بعض اپنے اصل نام سے شائع ہونے کے علاوہ دیگر ناموں کے ساتھ بھی شائع ہوئے۔ ترتیب و تدوین کے اس سفر میں غالب شناسی کی روایت کس طرح پروان چڑھی‘ اس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس میں ہر کتاب کے
مرتب‘ ادارہ اشاعت‘ مقام اشاعت‘ کتاب کے حجم اور اس کی صوری و معنوی حیثیت سے متعلق اجمالاً بحث کی جائے گی۔ابتدا میں زیربحث تصنیف کا تعارف کرایا جائے گا اور پھر نمبروار اس کی پاکستانی اشاعتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس جائزے میں زمانی ترتیب کو قائم رکھا گیا ہے۔ البتہ جن کتب پر سال اشاعت درج نہیں انہیں متعلقہ حصے کے آخر میں شامل کرکے ان پر تبصرہ کیا گیا ہے۔

۔(الف) اُردو شاعری۔
غالب کو اگرچہ اپنی فارسی شاعری پر ناز تھا لیکن جو شہرت انہیں اُردو شاعری کے حوالے سے حاصل ہوئی‘ فارسی شاعری کے حوالے سے نہیں ملی۔ غالب کی اُردو شاعری کا بیشتر حصہ غزلیات پر مشتمل ہے جن کی تعداد اڑھائی سو سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ مختصر شاعری سرمایہ اپنی اثرپزیری ‘ ہمہ گیری‘ مقبولیت اور معیار کے اعتبار سے اُردو کی بڑی بڑی شعری تصانیف پر بھاری ہے۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے غالب کی اُردو شاعری پر تبصرہ ان الفاظ میں کیا ہے:
’’اُردو شاعری کا ایک دور وہ تھا کہ غزل کو معاملات حسن و عشق اور مسائل تصوف کے بیانات تک محدود سمجھا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔لیکن انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں جب مرزا نوشہ اسد اللہ غالب نے یہ آواز بلند کی کہ شاعری قافیہ پیمائی نہیں‘ معنی آفرینی ہے۔ مجذوب کی بَڑ نہیں‘دیدہء بینا کی کسوٹی ہے۔ حمزہ کا قصہ نہیں ‘ قطرہ میں دجلہ کی نمائش ہے۔ قدوگیسو کی آرائش نہیں‘ دارو رسن کی گفتگو ہے۔۔۔۔۔۔ تو اُردو شاعری عموماً اور اُردو غزل خصوصاً ایک نئے جہان معنی سے آشنا ہوئی‘‘۔(3)۔
غالب کا ابتدائی دور کا کلام فارسیت کے اثر سے بہت دقیق اور مشکل ہے۔ بعد میں دوستوں اور اہل قلم کے مشوروں سے صاف و سہل لکھنے کی طرف مائل ہوگئے۔ باوجود مشکل پسندی اور فارسیت کے ان کے کلام میں وہ چاشنی‘ غنائیت اور بلند آہنگ نغمہ ملتا ہے جس سے ان کی انفرادیت مسلم ہوجاتی ہے۔ غالب کی اُردو شاعری میں شیرینی اور تغزل کے ساتھ ساتھ دقیق فلسفیانہ افکار کی آمیزش ہے۔ وہ عام روش سے ہٹ کر اعلیٰ تخیلات کو نظم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شوخی‘ پہلوداری‘ غنائیت‘ پرشکوہ الفاظ اور لطیف تراکیب ان کی شاعری کا طرہء امتیاز ہیں۔ ان کے کلام کا حسن ‘ ان کی گہرائی اور گیرائی دونوں میں مضمر ہے۔ غالب کی اُردو شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبادت بریلوی نے ایک جگہ بحث کو ان الفاظ میں سمیٹا ہے:
’’غالب بڑے پہلودار شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں بڑا تنوع ہے۔ بڑی ہی رنگارنگی ہے۔ بڑی ہی گہرائی اور گیرائی ہے۔ وہ صرف جذبات ہی کو متاثر نہیں کرتی‘ ذہن پر بھی اس کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ وہ خیال انگیز اور فکر خیز بھی ہے۔ وہ انسان‘ زندگی اور کائنات سے تعلق رکھتی
ہے۔۔۔۔۔۔ وہ زندگی سے بیزار نہیں کرتی‘ اس کو بسر کرنا سکھاتی ہے۔ وہ کائنات سے روگردانی کا درس نہیں دیتی‘ کائناتی حقیقتوں کے ادراک کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ماحول سے چشم پوشی اس کا مقصد نہیں۔ وہ تو اس کے مختلف پہلوؤں کا شعو رپیدا کرتی ہے۔ اس میں بڑی زندگی ہے۔ وہ بڑی ہی ہمہ گیر ہے۔ اس میں بڑا حسن ہے بڑی دلآویزی ہے۔ اس لئے اس میں عظمت کا احساس ہوتا ہے اور وہ خود غالب کو بھی عظیم بناتی ہے‘‘۔(۴)۔

غالب نے اُردو شاعری میں دو تصانیف چھوڑی ہیں۔:
                   ۔  قادر نامہ  (ii).             ۔دیوانِ غالب ۔(i)۔
آئندہ صفحات میں ان تصانیف کا الگ الگ تعارف اور ان کی پاکستانی اشاعتوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
 دیوان غالب۔(i )۔
غالب کا اُردو دیوان غزلیات‘ قصائد ‘ قطعات ‘ رباعیات اور مثنویات پر مشتمل ہے۔ یہ دیوان ان کی زندگی میں چھ مرتبہ شائع ہوا (۵)۔ یہ اشاعتیں دہلی کے علاوہ کانپور اور آگرے سے ہوئیں اور مختلف سالوں میں ہوئیں‘ اس لئے ان تمام اشاعتوں میں اشعار کی تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہی ہے۔
غالب کی وفات (۱۸۶۹ء) کے بعد دیوان کی ترتیب و تدوین کاکام مسلسل جاری رہا۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی میں اس متداول دیوان کے بے شمار ایڈیشن شائع ہوئے۔ (۶) غالب کی وفات کے بعد دیوانِ غالب کے جتنے ایڈیشن مدون ہوئے ان میں سے چند ایک کو نہایت عرق ریزی اور مہارت کے ساتھ ترتیب دے کر شائع کیا گیا۔ جن کا ذکر آل احمد سرور نے ان الفاظ میں کیا ہے:
’’غالب کے کلام کے جتنے ایڈیشن شائع ہوئے ہیں ان میں نسخہ حمیدیہ (انوارالحق)‘ ارمغان غالب (اکرام)‘ انتخاب غالب(عرشی)‘ اُردو دیوان غالب (مالک رام) کی خاص اہمیت ہے۔ غالب کے تنقیدی شعور کے مطالعے کے لئے ان نسخوں کا مطالعہ ناگزیر ہے‘‘۔(۷)۔
دیوانِ غالب کی ترتیب و تدوین کا سلسلہ قیام پاکستان کے بعد بھی جاری رہا۔ مرتبین نے برسوں کی محنت کے نتیجہ میں معیاری اور قابل قدر نسخے مدون کیے۔ بعض نے کلام کی تاریخی ترتیب اور صحت ‘ نسخوں کے اختلاف کی نشان دہی ‘شرح اور ضروری حواشی کے ذریعے دیوانِ غالب کو شائع کیا۔ ان نو ترتیب شدہ دواوین کے علاوہ بعض لوگوں نے ’’انتخاب‘‘ شائع کیے‘ کچھ حضرات نے بیاضیں ترتیب دیں‘ بعض نے غالب کے منتخب اشعارکے مجموعے تیار کیے اور بعض اشاعتی اداروں نے بلا تحقیق و تصحیح دیوان شائع کرڈالے۔ ترتیب و تدوین اور اشاعت کا یہ سارا کام جو پاکستان میں ہوا ہے‘ اس کی تفصیل زمانی ترتیب کے ساتھ پیش کی جارہی ہے۔ تاہم جن نسخوں پر سالِ اشاعت درج نہیں ہے‘ انہیں مرتبین کے ناموں کی ابجدی ترتیب کے ساتھ اس جائزے کے آخر میں زیر بحث لایا جاتا ہے‘ معروف پاکستانی مصوروں کے ترتیب دیے ہوئے ’’مرقعوں‘‘ کا جائزہ بھی اس مطالعے میں شامل ہے:
  ۔1۔دیوانِ غالب: تاج کمپنی لمیٹڈ‘ کراچی سے جولائی ۱۹۴۸ء میں شائع ہوا۔ صفحات کی تعداد ۳۳۸ ہے۔ یہ اس دیوان کی دوسری اشاعت ہے(۸)۔ اسے صحت لفظی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں طباعتی دلآویزیاں پیدا کی گئی ہیں۔ اِملائی قواعد و علامات کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ یہ دیوان خوشخطی کا بہترین نمونہ ہے۔ اسے صاف ستھرے اور عکسی رنگین بلاکوں میں شائع کیا گیا ہے۔ چکنا کاغذ‘ موزوں تقطیع اورخوشنما جلد کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ اس دیوان کا تعارف عنایت اللہ نے لکھا ہے۔

۔ 2۔ کلیاتِ غالب (اُردو): خان اصغر حسین خاں نظیر لدھیانوی کا مرتبہ یہ دیوان پہلی مرتبہ ۱۹۴۹ء میں شائع ہوا۔ جبکہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۶۳ء کو مکتبہ کاروان‘ لاہور سے دوسری مرتبہ شائع ہوا۔ صفحات کی تعداد ۲۷۸ ہے۔ یہ دیوان بنیادی طور پر ’’نسخہ حمیدیہ‘‘ کو سامنے رکھتے ہوئے شائع کیا گیا۔ جو غزلیات‘ قطعات اور رباعیات وغیرہ ’’نسخہ حمیدیہ‘‘ میں موجود نہیں تھیں انہیں دوسرے نسخوں سے نقل کرکے بطور ضمیمہ شامل کیا گیا ہے۔ دیوان شروع ہونے سے پہلے ’’غالب اپنے دور کے آئینے میں‘‘, ’’غالب کی شخصیت کا اثر ان کے فن پر‘‘, ’’غالب فکر و فن کے آئینے میں‘‘ , ’’توصیحات غالب‘‘ اور ’’غالب کا اسلوب بیاں‘‘ کے پانچ عنوانات کے تحت غالب کی شخصیت اور فن پر جامع بحث کی گئی ہے۔ جو غالب کے کلام کی خصوصیات پر مکمل روشنی ڈالتی ہے۔ بعض اشعار کے تخلیقی محرکات کی نشاندہی کے لئے حواشی درج کیے گئے ہیں۔ بحیثیت مجموعی یہ دیوان قابل اعتبار ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ذخیرہ غالبیات میں اہم مقام رکھتا ہے۔
 ۔3۔دیوانِ غالب مصور (نقش چغتائی): یہ ایک مرقع ہے۔ عبدالرحمن چغتائی نے اسے مرتب کرکے قبل ازیں ۱۹۳۵ء میں لاہور سے شائع کیا تھا لیکن اس کی مزید دو اشاعتیں قیامِ پاکستان کے بعد عمل میں آئیں۔ چنانچہ جہانگیر بک کلب‘ لاہور نے دوسری بار اسے ۱۹۵۸ء میں اور ایوانِ اشاعت‘ لاہور نے اسے ۱۹۶۷ء میں شائع کیا۔ دونوں پاکستانی اشاعتوں میں چنداں فرق نہیں۔ صفحات کی تعداد ۱۹۲ ہے ۔ دیوان میں جگہ جگہ مصوری کے نادر نمونے موجود ہیں۔ اس دیوان میں چغتائی نے جو مصوری پیش کی ہے وہ ایرانی مصوری سے متاثر ہے۔ ان تصویروں میں ایک طرف تغزل اور لطیف سکوت چھلکتا نظر آتا ہے اور دوسری طرف نسوانی پیکروں سے غالب کے بعض اشعار کی شرح سامنے آتی ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ دیوان غالب شناسی میں اہم مقام رکھتا ہے۔
 ۔4۔انتخابِ غالب: سید اختر عباس کا ترتیب دیا ہوا یہ مجموعہ اشعار غالب بک ڈپو‘ لاہور سے ۱۹۵۲ء میں شائع ہوا۔ (۹) ۳۲ صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ پاکٹ سائز میں ہے اور غالب کے منتخب اشعار پر مبنی ہے۔ ابتداء میں غالب کے حالات دیئے گئے ہیں۔ اس کے بعد ’’انتخابِ اشعار‘‘ کے عنوان سے منتخب اشعار شروع ہوجاتے ہیں۔ اس مجموعے میں عام فہم اور غالب کے زبان زد عام اشعار شامل کیے گئے ہیں۔
 ۔5۔دیوانِ غالب: ملک حسن اختر کا ترتیب دیا ہوا یہ دیوان مکتبہ میری لائبریری‘ لاہور سے پہلی بار ۱۹۶۰ء میں شائع ہوا۔(۱۰). صفحات کی تعداد ‘ ۱۵۲ ہے۔ دیباچہ از غالب بزبانِ فارسی درج ہے۔ اس کے بعد ’’غالب کی شاعری تنقید کی روشنی میں‘‘ کے عنوان سے مرتب نے سولہ (۱۶) صفحات پر مشمل پیش لفظ لکھا ہے۔ جس میں غالب کی شاعری کے فکری اور فنی پہلوؤں کو تنقید کی روشنی میں پرکھا گیا ہے۔ دیوان کے شروع میں غالب کی رنگین تصویر چھپی ہے جس کے نیچے ’’غالب کی آخری تصویر‘‘ لکھا ہوا ہے۔ اس دیوان میں غزلیات کے علاوہ قطعات ‘ مثنویات ‘ قصائد اور رباعیات شامل ہیں۔ بحیثیت مجموعی یہ دیوان ترتیب و تدوین کی ماہرانہ کوشش ہے اور ذخیرہ غالبیات میں اہم اضافہ ہے۔
 ۔6۔کلامِِ غالب (نسخہ ء قدوائی): جلیل قدوائی نے اسے مرتب کرکے ادارہ نگارش و مطبوعات کراچی سے اگست ۱۹۶۰ء میں شائع کیا۔(۱۱) .صفحات کی تعداد ‘ ۱۰۵ ہے۔ یہ دیوان غالب کی صرف اُردو غزلوں پر مشتمل ہے‘ اس میں بھی انہوں نے وہ اشعارشامل کیے ہیں جو اپنے تخیل ‘ فسوں کاری‘ صداقت‘ ندرت اور اندازِ بیاں کی وجہ سے مشہور زمانہ ہوچکے ہیں۔ البتہ غزلوں کے جو اشعار اپنی غرابت‘ حد درجہ فارسیت ‘ خشکی ‘ بے نمکی اور الجھاؤ کی وجہ سے صرف کتاب کی صخامت بڑھانے کا کام دیتے ہیں‘ التزام کے ساتھ ترک کردیے ہیں اور انہیں دیوان میں جگہ نہیں دی۔ جلیلؔ نے کلام کی ترتیب اگرچہ ردیف وار کی ہے لیکن غزلوں کی مروجہ ترتیب کو بدل دیا ہے۔ مثلاً ردیف’’الف‘‘ کی بہترین غزل‘ اس کے بعد اس سے کم بہتر غزل اور پھر اس سے بھی کم بہتر غزل کو منتخب کیا ہے۔ یہ ساری ترتیب انہوں نے اپنے ذوقِ غالب شناسی کی مدد سے کی ہے۔ ابتدا میں ’’عرض مرتب‘‘ کے عنوان سے انہوں نے شعری انتخاب‘ ان کے اصول و ضوابط‘ ضرورت و اہمیت اور اپنے اختیار کردہ طریقہ انتخاب پر اصولی بحث کی ہے۔ بحیثیت مجموعی اس دیوان کی ترتیب اچھی کاوش فکر کا نتیجہ ہے۔ اس نسخے کو ہر دل عزیز بنانے کی کوشش کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔
 ۔7۔دیوانِ غالب (مصور): یہ ایک مرقع ہے۔ آذر زوبی نے اسے مرتب کرکے ادارہ نگار پاکستان‘ کراچی سے ۱۹۶۱ء میں شائع کیا۔ یہ دیوان مصوری کا شاہکار ہے۔ اس میں جگہ جگہ خوبصورت رنگوں سے تصویریں بنائی گئی ہیں۔ غالب کے بعض اشعار کے مطالب کو خوشنما تصویروں کی مدد سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ دیوان بھی پاکستان میں ذخیرہء غالبیات میں نادر اضافہ ہے۔
 ۔8۔دیوانِ غالب: اُردو اکیڈمی سندھ‘ کراچی نے اسے ۱۹۶۱ء میں شائع کیا۔(۱۲) اس سے قبل یہ دیوان ہندوستان میں بھی شائع ہوچکا ہے۔(۱۳) صفحات کی تعداد ‘ ۱۶۰ ہے۔ یہ دیوان ’’طاہر ایڈیشن‘‘ کو سامنے رکھ کر مرتب کیا گیا ہے۔ ابتداء میں غالب کی تحریر کا عکس دیا گیا ہے۔ ازاں بعد غالب کا مختصر تعارف اور پھر ان کے کلام کی خصوصیات گنوائی گئی ہیں۔ اس دیوان میں غزلیات کے ساتھ ساتھ قصائد‘ قطعات‘ رباعیات اور ایک مثنوی شامل کی گئی ہے۔ اس دیوان کی طباعت معیاری اور کاغذ عمدہ ہے۔
 ۔9۔دیوانِ غالب: آئینہ ادب ‘ لاہور نے ترتیب دے کر اسے ۱۹۶۴ء میں شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ‘ ۱۴۴ ہے۔ کلام سے پہلے بیس (۲۰) مختلف عنوانات کی شکل میں غالب کی زندگی کے اہم واقعات پیش کیے گئے ہیں۔ جن میں غالب کی پیدائش‘ تعلیم و تربیت‘ شادی‘ مطالعہ کتب‘ سفر‘ قید‘ حالات غدر‘ خوارک‘ آخری عمر اور وفات وغیرہ کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ’’غزلیات‘‘ , ’’قطعہ‘‘ , ’’مرثیہ‘‘ اور ’’قصائد‘‘کے عنوانات کے ساتھ کلام پیش کیا گیا ہے۔ گویا یہ بھی غالب کے اُردو کلام کا مکمل دیوان ہے۔ کتابت عمدہ اور کاغذ معیاری ہے۔
 ۔10۔دیوانِ غالب (مصور): حنیف رامے کا مرتبہ یہ دیوان نیا ادارہ‘ لاہور نے پہلی بار ۱۹۶۵ء میں شائع کیا۔ حنیف رامے کا عمدہ مصوری نے اس دیوان کے حسن کو دوبالا کردیا ہے۔۳۲۰ صفحات پر مشمل اس دیوان کا انتخاب مظفر علی سید نے کیا ہے۔ اس ایڈیشن کی خوبی یہ ہے کہ ایک تو اس میں غالب کا تمام مروجہ کلام آگیا ہے اور دوسرا یہ کہ رنگ بیدل سے متعلق اور وہ کلام جو غالب کی وفات کے بعد وقتا فوقتاً اِدھر اُدھر سے دستیاب ہوتا رہا ہے‘ وہ بھی شامل کردیا گیا ہے۔ یہ دیوان ایک طرف تو خوبصورت خطاطی کا عمدہ نمونہ ہے اور دوسری طرف رامےؔ کی سادہ رنگوں اور کُھبتی ہوئی لکیروں کی مدد سے غالب کے اشعار کے باطن کی چہرہ کشائی ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ دیوان تجریدی آرٹ اور رنگ شناسی کا عمدہ شاہکار ہے جس کی ترتیب میں نئے ذوق کی وسیع النظری بھی ہے اور غالب کے ساتھ انصاف کی کوشش بھی۔
 ۔11۔دیوانِ غالب: یہ دیوان مولانا غلام رسول مہر کا مرتبہ ہے جسے شیخ غلام علی اینڈ سنز نے پہلی بار ۱۹۶۷ء میں لاہور سے شائع کیا(۱۴)۔ ۴۰۳ صفحات پر مشتمل اس دیوان میں غزلیات‘ قصائد‘ سہرا‘ مثنوی‘ قطعات اور رباعیات شامل ہیں۔ ان کے علاوہ تین ضمیمے دیے گئے ہیں ‘ ضمیمہ اوّل کے تحت وہ اشعار جو دیوان میں شامل نہ ہوسکے ‘ دیے گئے ہیں‘ ضمیمہ دوم میں انتخاب ’’نسخہ حمیدیہ‘‘ اور ضمیمہ سوم (۱۵) میں’’قادر نامہ‘‘ اور ’’پنج آہنگ‘‘ شامل کیے گئے ہیں۔ اس طرح اس دیوان میں غالب کا مروجہ اور کمیاب و نایاب سارا کلام جمع ہوگیا ہے۔ یہ دیوان حواشی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جس میں کلام کی صحیح تاریخیں اور مستند مآخذ کی تفصیل درج ہے۔ ابتداء میں چودہ صفحات پر مشتمل مقدمہ ہے۔ جس میں کلامِ غالب کے ادوار قائم کرکے خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ دیوان کی چھپائی اور کاغذ کا معیار دونوں عمدہ ہیں۔ جلد سیاہ رنگ کی ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ دیوان ذخیرہ غالبیات میں اہم اضافہ ہے۔
 ۔12۔دیوانِ غالب: قیوم نظامی نے اس دیوان کو ترتیب دیا اور دارالادب ‘ لاہور نے ۱۹۶۷ء میں اسے شائع کیا۔ یہ غالب کا دیوان اور اس کے ساتھ ساتھ غالب کی شاعری پر تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس لیے اس کا اصل نام ’’دیوان غالب اور غالب کی غزل پر تنقیدی مضامین‘‘ ہے۔ غالب کا کلام ’’غزلیات‘‘ , ’’قطعہ‘‘, ’’مرثیہ‘‘ اور ’’قصیدہ‘ کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے۔ کلام کے آخر میں مختلف اہل قلم کے پانچ مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ ان کی تفصیل یہ ہے

۔۱۔     غالب کی شاعری میں حسن و عشق              از                     حمید احمد خان
۔۲۔    غالب کی عظمت                                    از                     آل احمد سرور
۔۳۔    غالب کا نظریہ شعر                                 از                      وحید قریشی
۔۴۔    غالب کی مقبولیت کے اسباب                    از                      شیخ اکرام
۔۵۔    غالب اُردو غزل کے آئینے میں                  از                      قیوم نظامی

ان مقالات سے غالب کے فکر و فن پر روشنی پڑتی ہے جس سے اس دیوان کی افادیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
-13. غالب ‘ حالات و انتخاب: یہ دیوان فیروز سنز لمیٹڈ نے ۱۹۶۸ء میں لاہور سے شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ۸۰ ہے۔ ابتداء میں ادارے کی طرف سے ایک دیباچہ ہے۔ اس کے بعد ’’حالاتِ زندگی‘‘ کے عنوان سے غالب کے اہم حالات درج کیے گئے ہیں۔ آخر میں ’’انتخاب کلام‘‘ کا عنوان دے کر منتخب غزلیں شامل کی گئی ہیں۔ یہ کتابچہ پاکٹ سائز میں ہے۔ اس میں غالب کی مشکل غزلیں اور اشعار شامل نہیں کیے گئے۔ صرف ایسی غزلیں اور اشعار شامل کیے گئے ہیں جو نہ صرف مقبول ہیں بلکہ زبان زد عام ہیں‘ ادارے نے اس انتخاب کے کئی ایڈیشن شائع کیے ہیں‘ جن کی تفصیل یہاں تحصیل حاصل ہے۔ تاہم ان اشاعتوں سے اس کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
-14. سرودِ غالب: یوسف بخاری دہلوی کا مرتبہ یہ دیوان شیخ مبارک علی نے فروری ۱۹۶۷ء میں لاہور سے شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ‘ ۲۰۸ ہے۔ اس دیوان کا مقدمہ سید مرتضی حسن فاضل لکھنوی نے تحریر کیاہے۔ اس دیوان کی انفرادیت یہ ہے کہ غالب کے متداول کلام کے جملہ اشعار کو ان کے مرکزی مفہوم کے مطابق جامع عنوانات کے تحت تقسیم کیا گیا ہے۔ اگرچہ کلامِ غالب کے بے شمار موضوعات ہیں لیکن اس مجموعے میں قرین قیاس اور ممکنہ موضوعات کو سات عنوانات کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ عنوانات یہ ہیں:
۔(۱)۔ موجِ عرفان    (۲) شمع ہدایت      (۳) سوزو ساز      (۴) حریم ناز      (۵) روداد غم        (۶) رنگ و بو        (۷)در حدیثِ دیگراں
ان عنوانات کو متعلقہ اشعار کی کوئی اجمالی شرح تو نہیں کہا جاسکتا‘ البتہ ان عنوانات سے قاری کے فکر و خیال کو ایک سمت ضرور ملتی ہے۔ بحیثیت مجموعی دیوان کی یہ ترتیب اچھوتی اور منفرد ہونے کے ساتھ ساتھ پُرکشش بھی ہے۔ مرتب نے اس دیوان کی ترتیب میں خاصی عرق ریزی سے کام لیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ دیوان ذخیرہ غالبیات میں منفرد مقام رکھتا ہے۔

 ۔15۔دیوانِ غالب (نسخہ ء طاہر): گوہر نوشاہی اس دیوان کے دوسرے مرتب ہیں۔ غالب کی صد سالہ برسی کے موقع پر پاکستان میں غالب پر جو کام ہوا اس میں ’’نسخہ طاہر‘‘ کی ترتیب و تدوین اپنا مقام رکھتی ہے۔ اس دیوان کو سنگِ میل پبلی کیشنز کی طرف سے فروری ۱۹۶۹ء میں لاہور سے شائع کیا گیا(۱۶)۔ اس دیوان کو دراصل پہلی مرتبہ آغا محمد طاہر نبیرہ آزاد نے ۱۹۳۶ء میں دہلی سے شائع کیا تھا(۱۷)۔ آغا طاہر نے اسے اُس مخطوطے کی بنیاد پر مرتب کیا تھا جو ان کے پرنانا جناب حسین مرزا (۱۸) کے کتاب خانے میں محفوظ تھا۔ چنانچہ آغا طاہر نے اسے ترتیب دے کر شائع کردیا‘ اس بنیاد پر اسے ’’نسخہ طاہر‘‘ کہا جاتا ہے۔ زیر نظر دیوان دوبارہ فروری ۱۹۶۹ء میں غالب صدی کے موقع پر لاہور سے شائع کیا گیا۔ گوہر نوشاہی نے تمہید و تعارف لکھا ہے۔ کلام سے پہلے ’’حیاتِ غالب سنین کے آئینے میں‘‘ کے عنوان سے غالب کے اہم واقعات درج کیے گئے ہیں۔ دیباچہ طبع اوّل اور غالب کے ایک خط کا عکس بھی اس اشاعت میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ دیوان ۱۹۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ وضاحت طلب نکات کے لئے حواشی کا استعمال کیا گیا ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ دیوان پاکستان میں غالب شناسی کی روایت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
-16. غالب کا منسوخ دیوان: مسلم ضیائی کا مرتبہ یہ دیوان اپنی انفرادیت کا حامل ہے۔ ادارہ یادگارِ غالب نے مارچ ۱۹۶۹ء میں اسے کراچی سے شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ۳۴۴ ہے۔ اس مجموعے میں غالب کی وہ تمام غزلیں‘ قصیدے ‘ قطعے‘ مخمس ‘ مسدس‘ مرثیے ‘ سلام‘ مثنویاں‘ رباعیاں ‘ متفرق اشعار اور مصرعے جگہ شامل ہیں جو ان کے دواوین ‘ تذکروں اور خطوں میں جگہ جگہ بکھرے پڑے تھے حواشی میں مآخذ کی تفصیل دی گئی ہے تاکہ غالب کے کلام پر آئندہ کام کرنے والوں کے لئے آسانی پیدا ہو۔ متن میں اشعار اپنی ابتدائی شکل میں درج کیے گئی ہیں اور حاشیے مین وہ ترمیمیں درج کردی گئی ہیں جو مختلف اوقات میں کی گئی تھیں۔ ساتھ ہی متعلقہ نسخوں کے حوالے بھی دیے گئے ہیں۔ اسی طرح مختلف نسخوں سے خارج شدہ اشعار جو کسی متداول دیوان میں درج نہیں تھے لیکن خطی نسخوں میں موجود تھے‘ ان سب کو ترتیب دے کر شامل کیا گیا ہے۔ تاکہ غالب کے قلم سے نکلنے والے اشعار کو تلاش کرنے میں کوئی مشکل نہ آئے۔ دیوان کی ابتداء میں مرتب کا لکھا ’’مقدمہ‘‘ ہے۔ جس میں دیوان کی انفرادی خصوصیات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ دیوان بلاشبہ انفرادی خوبیوں کا حامل ہے۔ جس کی بنا پر اسے ذخیرہ غالبیات میں اہم مقام دیا جاتا ہے۔
-17. غالب البم: معروف مصور صادقین کا ترتیب دیا ہوا یہ ایک مرقع ہے جسے ایلیٹ پبلیشرز لمیٹڈ‘ نے غالب صدی کے موقع پر ۱۹۶۹ء میں کراچی سے شائع کیا۔ اس البم کو جگہ جگہ خوش رنگ اور خوشنما تصاویر سے مزین کیا گیا ہے۔ تصویروں کی مدد سے اشعار کے مفاہیم کو اجاگر کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ اس کتاب میں کاغذ کی بجائے مضبوط گتہ استعمال ہوا ہے۔ ابتداء میں ’’گنج معانی‘‘ کے عنوان سے فیض احمد فیض نے ایک جامع تبصرہ لکھا ہے۔ انہوں نے صادقین اور غالب کے تعلق کو ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صادقین کے اشعار سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس طرح غالب نے تصور کے آبگینے کو پگھلا کر الفاظ کے ساغر میں انڈیلا ہو اسی طرح صادقین نے الفاظ کے آبگینے کو گداز کرکے رنگ و خط کے ساغر میں ڈھالا ہے۔ بلاشبہ یہ خوش رنگ تصویریں غالب کے اشعار کی واضح تصویر کشی کرتی ہیں۔ اس اعتبار سے یہ مجموعہ بھی ذخیرہ غالبیات میں اہم مقام رکھتا ہے۔
-18. دیوانِ غالب (نسخہء حمیدیہ): پروفیسر حمید احمد خاں نے اس دیوان کو مرتب کیا ہے‘ جسے مجلس ترقیِ ادب‘ لاہور نے جولائی ۱۹۶۹ء میں شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ‘ ۲۹۰ ہے۔ اس دیوان کی کہانی یہ ہے کہ غالب کی وفات کے تقریباً پچاس سال بعد بھوپال کےکتب خانہ حمیدیہ میں دیوانِ غالب کا سب سے پہلا نسخہ ایک خوشنما مخطوطے کی صورت میں دستیاب ہوا۔ اس دریافت نے اس زمانے کے ادبی حلقوں میں ہلچل پیدا کردی‘ کیونکہ غالب کا پہلا دیوان بے دریغ قطع برید کے باعث محض ایک ادبی حکایت بن کر رہ گیا تھا۔ اب جو یہ دیوان میسر آیا تو اہل ذوق نے اس کی طباعت کا خیر مقدم کیا۔ مفتی محمد انوارالحق (۱۹) نے اسے ترتیب دے کر شائع کردیا(۲۰) والی بھوپال محمد حمید اللہ خان کی نسبت سے یہ ’’نسخہ حمیدیہ‘‘ کہلایا۔ اس دیوان کی اشاعت کے ساتھ یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آگئی کہ یہ مطبوعہ نسخہ‘ قلمی نسخے کی نقل نہیں ہے۔ چنانچہ صحیح صورت حال کی دریافت کے لیے پروفیسر حمید احمد خاں نے اصل نسخے کا معائنہ ضروری سمجھا اور وہ ۱۹۳۸ء میں ہندوستان روانہ ہوگئے۔ وہاں مطبوعہ اور قلمی نسخے کے مندرجات کو نہایت عرق ریزی سے دیکھا۔ اس موازنے میں یہ بات عیاں ہوگئی کہ حواشی اور متن میں فرق کے علاوہ قلمی نسخے میں غزلیات کی ترتیب مطبوعہ نسخے تک پہنچتے پہنچتے کچھ کی کچھ ہوگئی ہے۔ چنانچہ حمید احمد خان نے قلمی نسخے کے مندرجات کی صحیح ترتیب معین کی اور حاشیے و متن کے اندراج کے سلسلے میں قلمی اور مطبوعہ نسخوں میں اختلاف کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے ازسر نو مرتب کی‘ جسے زیر نظر دیوان کی صورت میں مجلس ترقی ادب نے غالب صدی کے موقع پر لاہور سے شائع کیا(۲۱)۔ اس دیوان میں ابتداً چار قصائد اس کے بعد ردیف وار دو سو پچھترغزلیات اور آخر میں گیارہ رباعیات شامل ہیں۔ یہ نسخہ ٹائپ میں چھپا ہے۔ آخر میں غلط نامہ بھی شائع کیا گیا ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ دیوان ذخیرہ غالبیات میں ایک اہم اضافہ ہے۔
-19. دیوانِ غالب (نسخہ ء شیرانی): ڈاکٹر وحید قریشی نے اسے مرتب کیا اور مجلس ترقی ادب نے اگست ۱۹۶۹ء میں لاہور سے شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ‘ ۲۱۸ ہے۔ اس نسخے کی انفرادیت یہ ہے کہ اصل قلمی نسخے کو من و عن فوٹو آفسٹ کی شکل میں شائع کردیا گیا ہے۔ اس نسخے کا اصل مخطوطہ نہایت اہم اور نایاب ہے اور صرف پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری میں محفوظ ہے۔ یہ نسخہ لائبریری میں موجود حافظ محمود شیرانی کے ذخیرہ کتب میں شامل ہے‘ اس لئے اسے ’’نسخہ شیرانی‘‘ کہا گیا ہے۔ یہ مخطوطہ کب کا ہے؟ اس بارے میں ڈاکٹر وحید قریشی نے ایک جگہ قاضی عبدالودو کی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے:
’’نسخہ شیرانی کی کتابت ۱۲۳۱/۱۲۳۵ ہجری سے قبل نہیں بعد میں ہوئی اور یہ کہ ۱۲۴۵ ہجری کے بعد اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا‘‘۔(۲۲)۔
رہا یہ سوال کہ یہ مخطوطہ کس کی ملکیت تھا؟ لکھتے ہیں کہ:
’’اس بارے میں قطعی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ یہ نسخہ کسی ایسے شخص کی ملکیت ہا ہے جس سے غالب کے اتنے تعلقات تھے کہ انہیں سفر کے دوران میں کلام بھیجتے رہے‘‘۔(۲۳)۔
تاہم اس کا شمار اُردو دیوان کے قدیم ترین مخطوطات میں ہوتا ہے۔ اس کی ترتیب و تدوین میں انتہائی احتیاط اور عرق ریزی سے کام لیا گیا ہے۔ پاکستان میں غالب شناسی کی روایت کو آگے بڑھانے میں ’’نسخہ شیرانی‘‘ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
-20. دیوانِ غالب: حامد علی خاں کا مرتبہ یہ دیوان مجلسِ یادگارِ غالب پنجاب یونیورسٹی نے غالب کی صد سالہ برسی کے موقع پر ۱۹۶۹ء میں لاہور سے شائع کیا(۲۴)۔ اس دیوان کا ’’پیش لفظ‘‘ پروفیسر علاؤ الدین صدیقی نے ’’تعارف‘‘ پروفیسر حمید احمد خان نے اور ’’حرف آغاز‘‘ حامد علی خاں نے تحریر کیا ہے۔ دیباچہ از غالب بزبانِ فارسی شائع کیا گیا ہے۔ اس نسخے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس صحت متن ‘ صحتِ ترتیب اور حسنِ کتابت کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ یہ دیوان ۲۲۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ اہم نکات کی وضاحت کے لئے حواشی کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ دیوان عمدہ طباعت اور معیاری کاغذ کا حامل ہے۔ اسے ذخیرہ غالبات میں اہم مقام حاصل ہے۔
-21. انتخابِ غالب :   مشرف انصاری نے اسے ترتیب دیا اور سنگ میل پبلی کیشنز نے لاہور سے پہلی بار غالب صدی کے موقع پر ۱۹۶۹ء میں شائع کیا(۲۵)۔ صفحات کی تعداد ‘ ۹۶ ہے۔ ابتداء میں ’’برسبیل تذکرہ‘‘ کے عنوان سے مرتب نے غالب کے اُردو اور فارسی کلام کا موازنہ کرتے ہوئے ان کی شاعری کی نمایاں خصوصیات بیان کی ہیں۔ اس کے بعد علی الترتیب منتخب غزلیات‘ قطعات ‘ مراثی‘ قصیدہ‘ رباعیات شامل کی گئی ہیں۔ آخر میں چند غزلیات (نسخہ حمیدیہ) بھی درج کی گئی ہیں۔ اس انتخاب میں غالب کی نمائندہ شاعری شامل کی گئی ہے تاکہ یہ انتخاب مقبولِ عام ہوجائے۔
-22. دیوانِ غالب:  ملک حسن اختر نے اس دیوان کو مرتب کیا اور یہ مکتبہ میری لائبریری کی طرف سے ۱۹۷۵ء میں لاہور سے شائع کیا گیا۔ اگرچہ یہ دیوان پہلے بھی ۱۹۶۰ء میں شائع کیا گیا تھا(۲۶)‘ لیکن اس مرتبہ ملک حسن اختر نے اس میں اضافے کیے ہیں‘ ان اضافوں کے باعث پچاس (۵۰) صفحات بڑھ گئے ہیں۔زیر نظر دیوان ۲۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ ابتداء میں ’’غالب تنقید کی نظر میں‘‘ کے عنوان سے مختلف نقادوں کے نظریات کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ غالب کی شاعری کی اہم خصوصیات نمایاں ہوگئی ہیں۔ اس باب میں عظمتِ غالب‘ ظرافت اور شوخی‘ تصوف‘ عقلیت ‘ رومانیت‘ انانیت‘ دردو غم‘ عشق و محبت‘ انسانی نفسیات اور انسانی فطرت کی عکاسی‘ غالب اور بیدل‘ انداز بیاں اور لب و لہجہ جیسے عنوانات پر روشنی پڑتی ہے۔ دیوان میں غزلیات ‘ قطعات‘ مثنویات‘ قصائد‘ رباعیات اور آخر میں کلام منسوخ کا انتخاب بھی دیا گیا ہے۔ سابقہ دیوان کی اغلاط کو دور کرکے اس دیوان کو صحت و ترتیب کے ساتھ معیاری خظوط پر شائع کیا گیا ہے جو پاکستان میں ذخیر غالبیات میں اہم اضافے کا باعث ہے۔
-23. دیوانِ غالب مکمل (آثار نسخہ):   مکتبہ آثار ‘ لاہور نے جولائی ۱۹۷۷ ء میں یہ دیوان ترتیب دے کر شائع کیا۔ مرتب کا نام درج نہیں ہے۔ اس دیوان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی ترتیب میں متعدد نسخوں کو سامنے رکھا گیا ہے‘ اختلاف کی صورت میں ’’نسخہ عرشی‘‘ کی پیروی کی گئی ہے۔ ایسے اشعار جن پر تمام مستند نسخوں کا اتفاق نہیں ہوا اور کسی وجہ سے ان کی صحت مشکوک تھی‘ ان اشعار کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس اعتبار سے اسے مستند بنانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے‘ اس سلسلے میں صحت و کتابت کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ مکتبہ آثار کی نسبت سے اسے (نسخہ آثار) کہا گیا ہے۔ اس میں غزلیات کے علاوہ قصائد‘ رباعیات‘ قطعات اور مثنویات شامل کی گئی ہیں۔ -24. دیوانِ غالب: مالک رام کا مرتبہ یہ دیوان نسیم بک ڈپو‘ نے پاکستان میں پہلی بار ۱۹۷۸ء میں لاہور سے شائع کیا۔ یہ دیوان مطبع نظامی (کانپور ۱۸۲۶ء) والے دیوان کے سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا۔ مالک رام نے اُردوئے معلی کے حوالے سے ردیف ’’ی‘‘ کی ایک غزل ’’صنم کیا ہے‘‘ , ’’قلم کیا ہے‘‘ میں چار اشعار کا اضافہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ’’نسخہ نظامی‘‘ میں متن کی بعض اغلاط موجود تھیں جنہیں درست کیا گیا ہے اور املا کے پرانے طریقے کو بدل کر نئی املا کا قاعدہ اپنایا گیا ہے۔ ہر جگہ ’’مجکو‘‘ , ’’اوس‘‘ جیسے الفاظ کو صحتِ املا کے ذریعے ’’مجھ کو‘‘ اور’’اُس‘‘ کی شکل میں بدل دیا گیا ہے۔ یہ دیوان ۲۱۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا ایک ایڈیشن ہندوستان میں بھی شائع ہوا ہے (۲۷)۔
-25. دیوانِ غالب:   رخسانہ نگہت کی تحقیق و ترتیب کے ساتھ یہ دیوان مکتبہ عالیہ نے یکم مارچ ۱۹۷۹ء کو لاہور سے شائع کیا۔صفحات کی تعداد ۱۸۴ ہے۔ یہ غالب کے مکمل اردو کلام کا مجموعہ ہے جس میں غزلیات‘ قطعات‘ رباعیات ‘ قصائد ‘ سہرا اور متفرقات شامل ہیں۔ حسبِ ضرورت حواشی بھی دیے گئے ہیں۔ آخر میں فرہنگ دیوانِ غالب بھی دی گئی ہے‘ جس سے اس دیوان میں انفرادیت پیدا ہوگئی ہے۔ چھپائی اور کاغذ کا معیار عمدہ ہے۔ حتی المقدور صحت املا کا خیال رکھا گیا ہے۔ یہ دیوان بھی سلسلہ غالبیات کی اہم کڑی ہے۔
-26. نودریافت بیاضِ غالب ‘ بخطِ غالب:    محمد طفیل کی ادارت میں شائع ہونے والا ادبی مجلہ ’’نقوش‘ ‘ غالب نمبر (حصہ دوم) اس اعتبار سے انفرادیت کا حامل ہے کہ غالب کا ایک نودریافت شدہ دیوان ’’بیاضِ غالب‘‘ پہلی مرتبہ اس جریدے میں شائع ہوا۔ ادارہ فروغ اُردو‘ لاہور نے اسے جولائی ۱۹۸۴ء میں شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ۳۷۲ ہے۔ یہ شمارہ بنیادی طو رپر دس نادر تحریروں پر مشتمل ہے جن میں سے ایک ’’بیاضِ غالب‘‘ کی اشاعت ہے جسے نثار احمد فاروقی نے ترتیب دیا ہے۔ فہرست مشمولات یہ ہے۔
۔۱۔ غالب کی یاد میں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  جسٹس سجاد احمد جان
۔۲۔ بیاض غالب   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  نثار احمد فاروقی
۔۳۔ دیوان غالب کا ایک نادر انتخاب  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  امتیاز علی عرشی
۔۴۔ گل رعنا۔ بخط غالب   ۔۔۔۔۔۔ (عکسی)   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید معین الرحمن
۔۵۔ غالب کے نام دو غیر مطبوعہ خطوط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر سید حامد حسن
۔۶۔ غالب اور غنیۃ الطالبین  ۔۔۔۔۔ (عکسی)  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلال الدین
۔۷۔ میخانہ آرزو سرانجام (عکسی)   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مسلم ضیائی
۔۸۔ غالب کے سات فارسی خطوط  ۔۔ (عکسی)   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیدوزیر الحسن عابدی
۔۹۔ غالب کے اشعار پر صادقین کی ۱۳ غیر مطبوعہ تصویریں
۔۱۰۔ صادقین    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلم کمال

اس شمارے میں ’’بیاض غالب‘‘ کی اشاعت یہاں قابل ذکر ہے۔ نثار احمد فاروقی نے ابتداء میں ’’دریافت کی کہانی‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ غالب کی یہ بیاض۱۸۵۷ء میں کم ہوگئی تھی۔ بالآخر توفیق احمد قادری نے بھوپال کے کسی آدمی سے یہ نسخہ خریدا۔ یہ نادرمخطوطہ ۶۳ صفحات پر مشتمل تھا اور اس کا سائز ساڑھے پانچ x ساڑھے سات تھا۔ صفحہ ۶۱ تک غزلیات اور اس کے بعد رباعیات درج تھیں۔ جن میں تیرہ ۔(۱۳) ۔فارسی اور گیارہ (۱۱) اُردو میں تھیں۔ نثار احمد فاروقی نے اس بیاض کو بڑے سلیقے اور ہنرمندی کے ساتھ ترتیب دیا ہے۔ اہم نکات کی وضاحت کے لئے حواشی دیے گئے ہیں۔ اس بیاض کو ایک صفحے پر بخطِ غالب اور دوسرے صفحے پر خوبصورت کتابت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے تاکہ قارئین تک آسانی کے ساتھ ابلاغ ہوسکے۔ اس بیاض کی اشاعت ادارہ نقوش کا ایک اہم کارنامہ ہے۔ پاکستان میں ذخیرہ غالبیات میں یہ دستاویز اہم مقام رکھتی ہے۔
-27. دیوانِ غالب:    مکتبہ علم و فن نے ۱۹۸۴ء میں اسے لاہور سے شائع کیا۔ مرتب کا نام درج نہیں ہے۔ یہ دیوان ۱۶۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں غزلیات کے علاوہ قصائد‘ قطعات اور ایک مثنوی شامل ہے۔ یہ مثنوی آموں کی تعریف میں لکھی گئی ہے۔ یہ دیوان اچھی اور عمدہ طباعت کا حامل ہے۔
-28 دیوانِ غالب:   فیروز سنز‘ لاہورکی طرف سے پہلی بار ۱۹۸۹ء میں شائع ہوا۔ ۲۸۳ صفحات پر مشتمل یہ دیوان عام کتابی سائز سے کچھ بڑا ہے۔ سرورق پر غالب کی تصویر چھپی ہے۔ہلکے گلابی رنگ کے کاغذ پر خوبصورت لکھائی سے مزین ہے۔ ہر صفحے پر حاشے کے اطراف میں نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔ ابتداء میں غزلیات ہیں ان کے بعد علی الترتیب قصائد‘ مثنوی‘ قطعات‘ سہرا اور رباعیات شامل کی گئی ہیں۔خوبصورت چھپائی اور عمدہ معیار کے پیش نظر ایک اچھا دیوان ہے۔
-29. دیوانِ غالب:   الحمدپبلی کیشنز‘ لاہورسے پہلی مرتبہ ۱۹۹۰ء میں شائع کیا گیا۔ صفحات کی تعداد ۱۹۳ ہے۔ عمدہ کاغذ اور خوبصورت جلد میں شائع کیا گیا ہے۔ کہیں کہیں کتابت کی اغلاط موجود ہیں۔ مرتب کا نام درج نہیں ہے۔
-30. دیوانِ غالب کامل:   کالی داس گپتا رضا کا ترتیب دیا ہوا معروف دیوان ہے۔اگرچہ یہ دیوان اولاً بھارت سے شائع ہوا(۲۸)‘ لیکن پاکستان میں اسے پہلی مرتبہ انجمن ترقی اُرو نے ۱۹۹۰ء میں شائع کیا۔ یہ دیوان ‘ ۴۳۱ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں غالب کا آج تک کا دریافت شدہ سارا اُردو کلام تاریخی ترتیب کے ساتھ شائع کردیا گیا ہے۔ اس نسخے میں اعراب‘ املا اور روایت اشعار کے لئے ’’نسخہ عرشی‘‘ کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اس نسخے میں حواشی کثرت کے ساتھ درج ہیں۔ ’’توقیتِ غالب‘‘ کے عنوان سے غالب کے حالاتِ زندگی تاریخ وار درج کیے گئے ہیں ‘ تاکہ اشعار کے زمانہ فکر کے ساتھ اگر کوئی صاحب شاعر کی نجی سرگرمیوں کا موازنہ کرنا چاہے تو اسے کوئی مشکل نہ ہو۔ بحیثیت مجموعی یہ دیوان اچھی اور عمدہ طباعت کا شاہکار ہے جسے نہایت عرق ریزی کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے۔پاکستان میں ذخیرہ غالبیات میں یہ دستاویز اہم مقام رکھتی ہے۔
-31. دیوانِ غالب (نسخہ ء عرشی):  امتیاز علی خان عرشی نے اس دیوان کو مرتب کرکے اولاً بھارت سے شائع کیا(۲۹)۔ اس دیوان کی اہم خصوصیت جو اسے باقی تمام دیوانوں سے ممتاز کرتی ہے‘ یہ ہے کہ کلام کی ترتیب اور اختلاف نسخ کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ضروری حواشی دیے گئے ہیں۔ عرشی نے اس نسخے کو بڑی محنت سے مرتب کیا ہے اور حسبِ ضرورت الفاظ پر اعراب بھی لگائے ہیں۔ امتیاز علی عرشی نے مختلف عنوانات کے تحت کلام غالب کو درج کیا ہے۔ تفصیل اس طرح ہے:
.(۱). گنجینہ معنی:           اس حصے میں قصائد ‘ غزلیات اور رباعیات شامل ہیں۔
.(۲). نوائے سروش:     اس حصے میں قصائد ‘ قطعات‘ غزلیات‘ مثنوی اور رباعیات شامل ہیں۔
.(۳). یادگار نالہ:          یہ حصہ قطعات‘ مثنویات‘ مخمس‘ قصائد ‘ غزلیات‘ سلام پر مشتمل ہے۔
.(۴). شرح غالب:        اس حصے میں گنجینہ معنی‘ نوائے سروش اور یادگارِ نالہ کے اشعار میں موجود اہم نکات

کی وضاحت ہے۔
آخر میں اشخاص‘ کتب‘ رسائل ‘ مقامات وغیرہ کا اشاریہ دیا گیا ہے۔ یہ دیوان ۵۰۲ صفحات پر مشتمل ہے۔
-32. دیوانِ غالب: مکتبہ فیاض لاہور سے پہلی بار اکتوبر ۱۹۹۳ء میں شائع ہوا۔ ۲۴۰ صفحات پر مشتمل یہ دیوان غزلیات‘ قطعات اور رباعیات پر مشتمل ہے۔ ابتداء میں ’’تعارف‘‘ کے عنوان سے غالب کی اُردو شاعری پر مختصراً بحث کی گئی ہے۔ مرتب کا نام درج نہیں ہے۔ اس کے بعد مرزا غالب کے خود نوشت حالات(بہ خطِ غالب) کا عکس دیا گیا ہے۔ آخر میں ایک ضمیمہ ہے۔ دیوان کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیشِ نظر اسے شائع کیا گیا ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ ایک قابلِ قدر کوشش ہے۔

  ۔33۔دیوانِ غالب:   حامد علی خان کا مرتبہ یہ دیوان اگرچہ ۱۹۶۹ء میں مجلس یادگار غالب نے لاہور سے شائع کیا تھا‘ لیکن زیر نظر دیوان الفیصل نے اپریل ۱۹۹۵ء میں لاہور سے شائع کیا۔ اس دیوان کی بنیاد پہلے والے دیوان پر ہے۔ البتہ اس ایڈیشن میں بعض تسامحات کی تصحیح کردی گئی ہے۔ اس طرح یہ ایڈیشن معیار طباعت کے اعتبار سے نادر چیز ہے اور کئی خوبیوں کا حامل ہوگیا ہے۔ یہ دیوان حواشی کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ ’’حرفے چند‘‘ محمد فیصل کی تحریر ہے۔ ’’حرف آغاز‘‘ حامد علی خان کا اور دیباچہ از غالب بزبان فارسی شائع کیا گیا ہے۔ اس دیوان میں صفحات کی تعداد ۲۲۰ ہے۔
-34. دیوانِ غالب:   فضلی سنز(پرائیویٹ) لمیٹڈ کی طرف سے ۲۷؍ دسمبر ۱۹۹۷ء کو کراچی سے شائع کیا گیا۔ یہ دیوان چھوٹے یعنی پاکٹ سائز میں ہے۔ یہ دیوان غالب کے دو صد سالہ یوم ولادت کے موقع پر شائع کیا گیا۔ اس نسخے میں اشعار کی تعداد ۲۱۶۵ ہے۔ یہ دیوان غالب کی زندگی میں شائع ہونے والے دیوان طبع چہارم (۳۰) کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔وہ دیوان ۱۸۰۲ اشعار پر مشتمل تھا لیکن زیر نظر دیوان میں استفادہ کا دائرہ وسیع کرنے کے لئے نسخہ حمیدیہ میں سے ۳۶۳ ‘ اشعار کا انتخاب شامل کرلیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ دیوان اپنی الگ اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔ کاغذ اور طباعت کا معیار عمدہ ہے۔
-35. دیوانِ غالب(نسخہ ء خواجہ):     ڈاکٹرسید معین الرحمن نے متنی تحقیق و تنقید کے ساتھ مکتبہ اعجاز‘ لاہور سے ۱۹۹۸ء میں اسے شائع کیا۔ یہ دیوان ۳۵۲ صفحات پر شتمل ہے۔ اس دیوان میں غزلیات‘ قصائد ‘ قطعات اور رباعیات شامل کی گئی ہیں۔ ’’حرفے چند‘‘ ڈاکٹر سید معین الرحمن نے اور ’’تقدیمات‘‘ آل احمد سرور ‘ ڈاکٹر نذیر احمد اور ڈاکٹر عبادت بریلوی کی تحریر شدہ ہیں۔ کلام غالب سے قبل ’’مخطوطے کا تعارف‘‘ کے عنوان سے نسخہ خواجہ کی ملکیت اور نسخہ لاہور کے متنازعہ ہونے کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔ بنیادی طور پر یہ دیوان نسخہ لاہور کا عکس ہے۔ یہ نسخہ پنجاب یونیورسٹی لائبریری میں موجود تھا۔ اس کا پہلا تعارف ڈاکٹر سید عبداللہ نے کرایا تھا (۳۱) ۔ تاہم یہ نسخہ یونیورسٹی لائبریری سے چوری ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ زیرِ نظر ’’نسخہ خواجہ‘‘ وہی نسخہ ہے۔ بہرحال اس بحث سے قطع نظر نسخہ کی طباعت نہایت نفیس اور خوبصورت ہے۔ دیوان غالب کے عکسی صفحات مختلف رنگوں میں دیے گئے ہیں۔ اس نسخہ کو پروفیسر خواجہ منظور حسین کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ نسخہ خواجہ کہلاتا ہے۔ حال ہی میں اس کا ’’ڈیلکس ایڈیشن‘‘ شائع کیا گیا ہے جو تعارف‘ توضیحات اور اضافات کے ساتھ منظرِ عام پر لایا گیا ہے(۳۲)۔
-36. انتخاب دیوان:   احمد جاویدنے اس انتخاب کو ترتیب دیا اور الحمرا پبلشنگ ‘ اسلام آباد نے ۲۰۰۰ء میں اسے شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ‘ ۱۲۰ ہے۔ اس انتخاب میں غالب کا منتخب کلام شامل کیا گیا ہے۔ غزلیں اگرچہ تمام شامل ہیں لیکن مکمل نہیں۔عام فہم اور زبان زد عام اشعار درج کیے گئے ہیں۔ ابتداء میں ’’تعارف‘‘ کے عنوان سے اس انتخاب کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ساتھ ہی غالب کی شاعری پر جامع تبصرہ کیا گیا ہے۔ سرورق پر غالب کی تصویر چھپی ہے۔ کاغذ اور طباعت کا معیار بہتر ہے بحیثیت مجموعی اچھا انتخاب ہے۔ قصائد ‘ قطعات اور رباعیات وغیرہ کو شامل نہیں کیا گیا۔
-37. دیوانِ غالب:   ارسلان پبلشر ز نے ۲۰۰۰ء میں اسے لاہور سے شائع کیا۔ صفحات کی تعداد‘ ۳۲۰ ہے۔ مرتب کا نام درج نہیں۔ تاہم یہ دیوان ابو اسید کے زیراہتمام شائع ہوا۔ ابتداء میں ’’غالب ایک نظر میں‘‘ کے عنوان سے دو صفحات پر مشتمل ایک تبصرہ ہے جس میں غالب کے مختصر حالات درج کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد غزلیات‘ قصائد‘ قطعات‘ رباعیات اور آخر میں ’’انتخاب نسخہ حمیدیہ‘‘ کے عنوان سے نو (۹) غزلوں کے منتخب اشعار دیے گئے ہیں۔ یہ دیوان عام کتابی سائز سے قدرے چھوٹا ہے۔ کاغذ معیاری اور کتابت خوبصورت ہے۔ سرورق پر غالب کی تصویر شائع کی گئی ہے۔
-38. دیوانِ غالب:    فکشن ہاؤس‘ لاہور نے اسے ۲۰۰۰ء میں شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ۲۸۳ ہے۔ ظہور احمد خان اور رانا عبدالرحمن نے اسے ترتیب دیا ہے۔ شروع میں ’’پہلی بات‘‘ کے عنوان سے راشد حسن رانا نے دیوان کی غرض و غایت اور ضرورت و اہمیت کے بارے میں روشنی ڈالی ہے۔ اس کے بعدمرزا غالب کے خود نوشت حالات (بہ خطِ غالب) کا عکس دیا گیا ہے۔ ازاں بعد کلام درج کیا گیا ہے جس میں غزلیات‘ قصائد ‘ ایک مثنوی ‘ قطعات اور رباعیات شامل ہیں۔ یہ دیوان معیار اور عمدہ طباعت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ اسے پاکستان میں ذخیرہ غالبیات میں اہم مقام حاصل ہے۔
-39. دیوانِ غالب (جرمن ایڈیشن) (۳۳):     ڈاکٹرسید معین الرحمن نے اسے مرتب کیا اور آغا امیر حسن (ناشر) نے جنوری ۲۰۰۱ء میں اسے کلاسک لاہور سے شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ۳۰۶ ہے۔ یہ دیوان عام سائز سے قدرے چھوٹا ہے جسے معیاری کاغذپر شائع کیا گیا ہے۔ ابتداء میں فاضل مرتب کی طرف سے آٹھ صفحات کا ایک دیباچہ ہے جس میں انہوں نے دیوان کی اہمیت اور پاکستان میں اس کی اشاعت کی ضرورت کو واضح کیا گیا ہے۔ اس کے بعد فارسی دیباچہ از غالب اور اس کا اُردو ترجمہ شائع کیا گیا(۳۴) ۔ ازاں بعد آخر تک غالب کا کلام درج ہے جس میں غزلیات‘ قصائد‘ مثنوی‘ قطعات اور رباعیات شامل ہیں۔ یہ دیوان نہایت معیاری اور دیدہ زیب کتابت اور خوبصورت نقش و نگار کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ذخیرہ غالبیات میں اسے اہم مقام حاصل ہے۔
-40. دیوانِ غالب:   یہ دیوان خزینہ علم و ادب ‘ لاہور سے ۲۰۰۱ء میں شائع ہوا۔ یہ غالب کے متداول کلام کا مجموعہ ہے جس میں غزلیں ‘ قصیدے ‘ رباعیاں اور قطعے شامل ہیں۔ کہیں کہیں کتابت کی غلطیاں موجود ہیں۔ کاغذ عمدہ اور حاشیہ دار ہے۔ صفحات کی تعداد ۱۹۰ ہے۔
-41. دیوانِ غالب:   یہ دیوان مکتبہ جمال ‘ لاہور سے ۲۰۰۳ء میں شائع ہوا۔ مرتب کا نام درج نہیں۔ چھپائی خوبصورت اور کاغذ معیاری ہے۔ اس میں علی الترتیب غزلیات‘ قصائد‘ قطعات اور رباعیات شامل ہیں۔
-42. دیوانِ غالب(فرہنگ کے ساتھ):    میاں مختار احمد کھٹانہ نے اسے مرتب و مدون کرکے مکتبہ جمال‘ لاہور سے ۲۰۰۴ء میں شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ۴۷۱ ہے۔ ’’عرض مرتب‘‘ میں فاضل مرتب نے ’’دیوان غالب‘‘ فرہنگ کی ساتھ شائع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اگرچہ تفہیم غالب کے لئے کئی شرحیں اورفرہنگیں لکھی گئی ہیں لیکن دیوانِ غالب مع فرہنگ ایک ایسا کام تھا جسے وقت کی ضرورت خیال کرتے ہوئے انہوں نے سرانجام دیا ہے۔ ہر غزل کے بعد جامع فرہنگ دی گئی ہے جسے معروف غالب شناسوں کی شروح سے مرتب کیا گیا ہے۔ اس دیوان کو طلباء اور عام قارئین کے لیے آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہی اس دیوان کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ اس کے بعد ’’حیاتِ غالب پر ایک نظر‘‘ کے عنوان سے غالب کے حالاتِ زندگی بیان کیے گئے ہیں۔ اس دیوان کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اسے رموز و علائم اور اعراب و اوقاف کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے۔ کاغذ معیاری اور چھپائی دیدہ زیب ہے۔ اس اعتبار سے یہ دیوان پاکستان میں ذخیرہ غالبیات میں اہم مقام رکھتا ہے۔
___________________      

پاکستان میں ترتیب دیے گئے اب ایسے دیوان زیر بحث لائے جارہے ہیں جن پر سال اشاعت درج نہیں ہے۔ لہذا یہاں انہیں مرتبین یا اداروں کے ناموں کی ابجدی ترتیب کے ساتھ درج کیا جاتا ہے۔
              ___________________            

 ۔43۔دیوانِ غالب:    اسلامیہ پریس‘ لاہور کا مطبوعہ یہ دیوان ۳۰۵ صفحات پر مشتمل ہے۔ شروع میں غالب کی تصویر دی گئی ہے۔ اس کے بعد ابتدائی حالت درج ہیں۔ دیباچہ از غالب بزبانِ فارسی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے بعد کلام شروع ہوجاتا ہے۔ یہ دیوان پاکٹ سائز میں ہے‘ جسے شیخ الہٰی بخش‘ محمد جلال الدین کی فرمائش پر شائع کیا گیا ہے۔
-44. دیوانِ غالب(تاج ایڈیشن):    تاج کمپنی لمیٹڈ نے یہ دیوان کراچی سے شائع کیا۔ اس میں غزلیات‘ قصائد‘ قطعات اور رباعیات شامل ہیں۔ یہ دیوان عام سائز سے قدرے چھوٹا ہے۔ کتابت معیاری ہے اور اسے خوبصورت منقش کاغذ پر شائع کیا گیا ہے۔ ہر صفحے پر حاشیے سے باہر نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔ سرورق پر غالب کی تصویر سے اسے آراستہ کیا گیا ہے۔
-45. کلیاتِ غالب:    رابعہ بک ہاؤس نے اسے لاہور سے شائع کیا۔ خورشید اے شیخ اس کے ناشر ہیں۔ مولوی عبدالغنی نے فلیپ لکھا ہے جس میں انہوں نے کلام غالب پر مختصراً تبصرہ کیا ہے۔ صفحات کی تعداد ۲۱۶ ہے۔ اس میں غزلیات سمیت تمام متداول کلام موجود ہے۔ خوبصورت کاغذ میں بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔
-46. دیوانِ غالب:   رحمن برادرز نے کراچی سے شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ۱۱۲ ہے۔ اس میں غزلیات شامل کی گئی ہیں۔ اس دیوان کو غالب کے مستند نسخوں کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ کاغذ عمدہ اور چھپائی معیاری ہے۔
-47. دیوانِ غالب:   علم و عرفان پبلشرز نے اسے لاہور سے شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ۴۸۶ ہے۔ ابتداء میں ’’حیات غالب پر ایک نظر‘‘ کے عنوان سے دو صفحات کا ایک شذرہ ہے جس میں غالب کی خانگی زندگی پر بحث کی گئی ہے۔ اس کے بعد کلام درج کیا گیا ہے۔ اولاً غزلیات اور اس کے بعد منقبت ‘ قصائد‘ مثنوی‘ قطعات اور رباعیات شامل کی گئی ہیں۔ بعض مقامات پر اہم نکات کے لئے حواشی بھی دیے گئے ہیں۔ عمدہ کاغذ‘ خوبصورت چھپائی اور دیدہ زیب سرورق کے ساتھ اسے شائع کیا گیا ہے۔ یہ دیوان ذخیرہ غالبیات میں اہم اضافہ ہے۔ مرتب کا نام درج نہیں ہے۔ البتہ سرورق کے اندونی صفحے پر گل فراز احمد کے اہتمام سے اس کا شائع ہونا لکھا ہوا ہے۔
-48. دیوانِ غالب:    گوشہ ادب کی طرف سے یہ دیوان لاہور سے شائع ہوا۔ یہ دیوان خوبصورت رنگین ٹائٹیل کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ اس میں غزلیات‘ قصائد‘ قطعات اور ایک مثنوی جو آموں کی تعریف میں کہی گئی تھی‘ شامل ہیں۔ یہ دیوان جاذبِ نظر اوردیدہ زیب نقش و نگار سے مزین ہے۔ کاغذ خوبصورت اور چھپائی عمدہ ہے۔ مرتب کا نام درج نہیں ہے۔ ابتداء میں کلام کی فہرست ہے۔ اس کے بعد کلام شروع ہوجاتا ہے۔ صفحات کی تعداد ۲۲۳ ہے۔
-49. دیوانِ غالب:   ماورا پبلشرز‘ لاہور نے اس دیوان کو شائع کیا ہے۔ صفحات کی تعداد ۱۹۲ ہے۔ یہ دیوان مختلف نسخوں کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں غزلیات‘ قصائد‘ رباعیات‘ قطعات اور ایک مثنوی شامل ہے۔ یہ غالب کے اُردو کلام کا مکمل دیوان ہے۔ کاغذ معیاری اور چھپائی عمدہ ہے۔
-50. دیوانِ غالب:    محمد شفیع قریشی کا مرتبہ یہ دیوان تخلیقات‘ لاہور نے شائع کیا ۔ صفحات کی تعداد ۲۴۰ ہے۔ فاضل مرتب نےاسے دیوان غالب ’’نظامی ایڈیشن‘‘ (۳۵) کو پیش نظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا ہے۔ ابتداء میں ’’تعارف‘‘ کے عنوان سے چار صفحات دیے گئے ہیں‘ جس میں غالب کی زندگی اور شاعری کے بارے میں مختصر تعارف ہے۔ اس کے بعد دیباچہ غالب از قلم غالب درج کیا گیا ہے۔ ازاں بعد کلام شروع ہوجاتا ہے۔ جس میں غزلیات‘ قصائد‘ مثنوی‘ رباعیات اور قطعات شامل ہیں۔ آخر میں ایک ضمیمہ بھی دیا گیا ہے جو غالب کے غیر متداول کلام کے نمائندہ انتخاب پرمشتمل ہے‘ یہ غیر متداول کلام ’’نسخہ عرشی‘‘ سے ماخوذ ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ دیوان پاکستان میں غالب شناسی کی روایت میں اہم مقام رکھتا ہے۔
-51. دیوانِ غالب:   مدینہ پبلشنگ کمپنی نے اسے کراچی سے شائع کیا۔ ۳۰۴ صفحات پر مشتمل یہ دیوان دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں غالب کے حالات زندگی دیے گئے ہیں۔ جو پیدائش ‘ تعلیم و تربیت ‘ شادی و مسکن ‘ شاعری ‘ مطالعہ ‘ سفیر کلکتہ‘ سرکاری ملازمت سے انکار‘ قید‘ حالات غدر‘ خوراک‘ آخری عمر اور وفات کا بیان کے عنوانات کے تحت غالب کی زندگی کے بعض گوشوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اس کے بعد دیوان شروع ہوجاتا ہے۔ کاغذ اور طباعت کا عمدہ معیار ہے۔ یہ کلام غالب کا مکمل دیوان ہے۔
-52. دیوانِ غالب:    مقبول اکیڈمی ‘ لاہور نے اسے شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ۳۱۸ ہے۔ مرتب کا نام درج نہیں ہے۔ فہرست کے بعد علی الترتیب غزلیات‘ قصائد‘ مثنوی‘ قطعات اور رباعیات شامل ہیں۔ کاغذ عام اور جگہ جگہ کتاب کی اغلاط ہیں۔
-53. دیوانِ غالب:   مکتبہ جہانِ اُردو‘ لاہور نے اسے شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ۱۶۸ ہے۔ مرتب کا نام درج نہیں ہے۔ دیوان میں شامل غزلیات‘ قصائد‘ مثنوی ‘ قطعات اور رباعیات کو متداول نسخوں کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ کاغذ کا معیار اور طباعت عمدہ ہے۔
-54. دیوانِ غالب:   نواب سنز پبلی کشنز نے اسے راولپنڈی سے شائع کیا۔ اعجاز احمد نواب ناشر ہیں۔ صفحات کی تعداد ۱۵۱ ہے۔ اس میں بعض غزلیں مکمل اور بعض کے منتخب اشعار شامل کیے گئے ہیں۔ غزلوں کے علاوہ صرف قصائد اور رباعیات شامل کی گئی ہیں۔ ایک لحاظ سے یہ غالب کا مکمل دیوان نہیں‘ محض انتخاب ہے۔ طباعت اور کاغز کا معیار بہتر ہے۔ 

                                         (ii).۔ قادر نامہ
یہ بچوں کو زبان سکھانے کے لئے ایک منظوم رسالہ ہے جسے غالب نے ’’خالقِ باری‘‘ اور ’’آمد نامہ‘‘ کی طرح تصنیف کیا تھا۔ اس میں غالب نے فارسی اور عربی کے تقریباً ایسے چار سو ہم معنی لغات ذہن نشین کرانے کی کوشش کی جو بالعموم اُردو میں مستعمل ہیں(۳۶)۔ قادر نامہ میں غالب نے بارہ اشعار کی دو غزلیں بھی شامل کی ہیں۔اس تصنیف کا نام کے بارے مولانا غلام رسول مہر اور مالک رام کا خیال ہے کہ چونکہ اس کا پہلا شعر :
قادر اللہ اور یزداں ہے خدا                          ہے نبی مرسل‘ پیمبر رہنما
لفظ ’’قادر‘‘ سے شروع ہوتا ہے ‘ اس لئے اس کا نام ’’قادر نامہ‘‘ رکھا گیا(۳۷)۔ غالب کا یہ رسالہ ان کی وفات کے تیرہ سال قبل شائع ہوگیا تھا(۳۸)۔ اس مجموعے میں اشعار کی تعداد ۱۳۳ ہے۔ غالب کی زندگی میں’’قادر نامہ‘‘ کے تین ایڈیشن شائع ہوئے (۳۹) ۔ غالب کی وفات کے بعد بھی اس رسالے کی تدوین وترتیب کاکام مسلسل جاری رہا(۴۰)۔ مختلف اداروں اور نامور مرتبین نے اس کی تدوین میں حصہ لیا۔ترتیب و تدوین کی یہ روایت بالآخر پاکستان کے حصے میں آئی۔ یہاں اس کے تین ایڈیشن ترتیب دیے گئے جن کی تفصیل یہ ہے:
-1. قادر نامہ:     پاکستان میں پہلی مرتبہ تحسین سروری نے اس مجموعے کو مرتب کرکے مکتبہ نیاز راہی‘ کراچی سے ۱۹۵۹ء میں شائع کیا۔ یہ ایک کتابچے کی شکل میں ۶۳ صفحات پر مشتمل ہے۔ اشعار سے پہلے آٹھ عنوانات کے تحت تحقیقی و تنقیدی بحث کی گئی ہے جس میں ’’تاریخ تصنیف‘‘ اور ’’وجہ تصنیف‘‘ کے عنوانات سے اس کتابچے کی غرض و غایت اور اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔نیز اس خیال کو بھی رد کردیا گیا ہے کہ یہ غالب کی اپنی تصنیف نہیں ہے۔ اس بحث کے بعد ’’قادرنامہ‘‘ کے ۱۳۳‘ اشعار اور آخر میں غالب کی دو غزلیں شامل کی گئی ہیں۔ غالب کا یہ منظور رسالہ اپنے اندر بے ساختگی اور سلاست و روانی رکھتا ہے۔ بچے تو کیا بوڑھے بھی اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ اس رسالے کی تدوین میں تحقیقی اصولوں کو مدنظر رکھا گیا ہے ۔ا س سے پاکستان میں غالب شناسی کی روایت کو پروان چڑھنے میں بڑی مدد ملی ہے۔
-2. قادر نامہ:     ڈاکٹر محمد باقر کا مرتبہ یہ کتابچہ مجلسِ یادگار غالب‘ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے غالب کی صد سالہ برسی کے موقع پر ۱۹۶۹ ء میں شائع ہوا۔ یہ کتابچہ ۱۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ ابتدائی پانچ صفحات کا پیش لفظ ہے جس میں مرتب نے بحث چھیڑ کر اس خیال کو رد کیا ہے کہ ’’قادرنامہ‘‘ غالب کی تصنیف نہیں ہے۔ اس کے بعد اشعار اور غزلیں درج کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر محمد باقر کا مرتبہ ’’قادرنامہ‘‘ عمدہ طباعت اور معیاری کتابت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔
-3. قادر نامہ:    ڈاکٹر محمود الرحمن نے اس از سر نو ترتیب دے کر نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد کی طرف سے پہلی بار ۱۹۹۲ء میں شائع کیا۔ صفحات کی تعداد‘ ۲۰ ہے۔ اس کتابچے میں اشعار کی تعداد بھی وہی ہے اور آخر میں حسبِ روایت دو غزلیں بھی شامل ہیں۔

                                                           .(ب). اُردو نثر
غالب شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ عظیم نثر نگار بھی ہیں۔ ان کی تصانیف ان کی شخصیت کی آئینہ دار ہیں۔ نظم و نثر دونوں میں ان کی شخصیت کی بنیادی خصوصیت کے اثرات نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ نظم میں یہ اثر بالواسطہ طور پر نمایاں ہوتا ہے جبکہ نثر میں ان کی شخصیت براہ راست اپنا اثر دکھاتی ہے۔ اُردو خطوط ان کی نثری فتوحات کا وقیع سرمایہ ہیں۔ان کو سامنے رکھ کر ان کی زندگی کی حالات‘ ان کے اخلاق و عادات‘ ان کے افکار و خیالات کو بڑی خوبی کے ساتھ ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ غالب کی زندگی کا ہر پہلو اور ان کے مزاج کی ہر خصوصیت ان کے خطوط میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اعتبار سے یہ خطوط ان کی شاعری کے مقابلے میں بلند تر درجہ رکھتے ہیں۔ مولانا حالی نے ٹھیک لکھا ہے:
’’مرزا کی عام شہرت جس قدر ان کی اُردو نثر کی اشاعت سے ہوئی‘ ویسی نظم اُردو اور فارسی سے نہیں ہوئی(۴۱)‘‘۔
غالب کے خطوط کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں بے پناہ خلوص اور بے اندازہ صداقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان خطوط میں ایک مانوس فضا ملتی ہے‘ ایک دلکش ماحول نظر آتا ہے۔ یہ خطوط ایک ایسے انسان کے قلم سے نکلے ہیں جو کسی بات کو چھپا نہیں سکتا تھا۔ جس میں مبالغہ آرائی نام کو نہ تھی۔ تصنع سے جس کو کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اس لیے یہ خطوط جہاں حقیقت نگاری کا منہ بولتا ثبوت ہیں وہاں غالب کی نثر نگاریکی جملہ خصوصیات کے بھی غماز ہیں۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی نے غالب کے خطوط کے حوالے سے ان کی نثری خصوصیات کا جائزہ ان الفاظ میں لیا ہے:
’’یہ خطوط جمالیاتی اور فنی اعتبار سے بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں‘ ان میں نہ صرف خطوط نویسی کے فن کا ایک نیا اور اچھوتا انداز ملتا ہے بلکہ ادبی نثر کو بھی ان میں ایک نئی صورت شکل نظر آتی ہے۔۔۔۔۔۔اس نثر میں سادگی اور صفائی ہے‘ روانی اور بہاؤ ہے ‘ اس میں سادگی کا حسن بھی ہے اور حسن کی سادگی بھی(۴۲)‘‘۔
اسلوب اور مزاج کے اعتبار سے منفرد خصوصیات کی حامل ہیں۔ ان میں انہوں نے اس دور کی زبان اور اس لب و لہجہ کو برتا ہے جو اُن کے زمانے میں مقبول اور رائج تھا۔یعنی قافیہ پیمائی اور عبارت آرائی ہے۔ تاہم ان کی زبان شُستہ اور شگفتہ اسلوب کی بناء پر ٹھوس اور ثقیل موضوعات کو جاذبِ نظر بنادیتی ہے۔ وہ ادق مسائل کو بھی رنگین اور پُرکاری سے بیان کرتے ہیں اور غالباً یہی ان کی اُردو نثر کی باکمال خصوصیت ہے۔ مولانا حامد حسن قادری نے ٹھیک فرمایا ہے:
’’نثر اُردو میں غالب کی اُولویت اور اوّلیت ۔۔۔۔۔۔ نے جو طریقہ ایجاد کیا اور اس میں جو جدتیں پیدا کیں اور ان کو جس التزام ‘ اہتمام اور کمال کے ساتھ برتا‘ اس میں غالب اوّل بھی ہیں اور آخر بھی(۴۳)‘‘۔
غالب کا نثری سرمایہ خطوط کے مجموعوں ‘ تحقیقی و تنقیدی کتابوں اور متفرق نثر پاروں پر مشتمل ہے۔ ذیل میں ان کا الگ الگ تعارف اور پاکستان میں ان کی قابل ذکر اشاعتوں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ اُردو میں غالب کا نثری سرمایہ درج ذیل تصانیف پر مبنی ہے۔
(i)عود ہندی    (ii) اُردوئے معلٰی      (iii) نکات و رقعات غالب      (iv)لطائف غیبی      (v) سوالات عبدالکریم     (vi)نامہ غالب       (vii) تیغِ تیز
        .(i). عود ہندی
غالب کے اُردو خطوط کا پہلا مجموعہ ہے جو ان کی وفات کے ایک سال پہلے شائع ہوا(۴۴)۔ اگرچہ غالب ان خطوط کے شائع ہونے کی خواہش نہیں رکھتے تھے اور انہوں نے اپنے مختلف خطوط کے ذریعے اس کے محرکین ‘ منشی شیونرائن آرام اور ہرگوپال تفتہ کو لکھا بھی تھا کہ :
رقعات کے چھاپے جانے میں ہماری خوشی نہیں ہے‘ لڑکوں کی سی ضد نہ کرو اور اگر تمہاری اس میں خوشی ہے تو صاحب مجھ سے نہ پوچھو‘ تم کو اختیار ہے۔ یہ امر میرے خلاف رائے ہے(۴۵)‘‘۔
لیکن چودھری عبدالغفور سرور کے ہاتھوں یہ تجویز عملی شکل اختیار کرگئی اور ۱۸۶۸ء میں یہ تجویز حقیقت بن کر سامنے آگئی۔ ۱۸۸ صفحات پر مشتمل اس مجموعہ خطوط کی دو فصلیں ہیں۔ پہلی فصل میں چودھری عبدالغفور سرور کے مرتب کردہ ۱۴ خطوط ہیں جن میں سے چودھری عبدالغفور کے نام چھبیس (۲۶) ‘ صاحب عالم کے نام بارہ (۱۲) ‘ شاہ عالم کے نام دو (۲) ور ایک خط شیفتہ کے نام ہے جو فارسی میں ہے۔
’’عود ہندی‘‘ کی دوسری فصل ۱۳۵ خطوط پر مشتمل ہے۔ اس میں سب سے زیادہ خطوط میر مہدی مجروح کے نام ہیں جن کی تعداداکتیس (۳۱) ہے۔ اس کے بعد بے خبر کے نام پچیس (۲۵) ‘ شفیق کے نام بیس (۲۰) ‘ مہر کے نام سترہ (۷۱) شاکر کے نام دس (۱۰)‘ مرزا یوسف عزیز اور مردان علی رضا کے نام دو‘ دو اور علائی‘ سرفراز حسین ‘ تفتہ‘ نساخ‘ شیفتہ‘ مولوی عزیز الدین اور مفتی عباس کے نام ایک ایک خط شامل ہے۔ عود ہندی میں خطوط کے علاوہ کچھ کتب پر تبصرہ بھی شامل ہیں۔ یہ تبصرے تقریظات غالب پر مبنی ہیں۔ ’’عودِہندی‘‘ کی پہلی اشاعت میں ان کی تفصیل یہ ہے(۴۶)
۱۔ تقریظ بر مثنوی مہر             صفحہ ۱۷۹۔۔۔۔۔۔۱۸۰
۲۔ تقریظ بر ’’گلزارِ سرور‘‘       ۱۸۰۔۔۔۔۔۔۱۸۲
۳۔ دیباچہ ’’حدائقِ انظار‘‘       ۱۸۳۔۔۔۔۔۔۱۸۴
۴۔ ’’قواعد تذکیر و تانیث‘‘ کا دیباچہ      ۱۸۴۔۔۔۔۔۔۱۸۵
۵۔ دیباچہ مجموعہ قصائد نادر                 ۱۸۵

یہ مجموعہ خطوط غالب کی زندگی میں صرف ایک مرتبہ شائع ہوا۔ ان کی وفات پر اس کی ترتیب و تدوین کا کام جاری رہا اور مختلف مقامات سے اس کے پندرہ ایڈیشن شائع ہوئے (۴۷)۔ پاکستان میں اس کی اشاعتوں کی تفصیل یہ ہے:
-1. عودِ ہندی:     مرتضیٰ حسین فاضل لکھنوی نے یہ مجوعہ ترتیب دیا اور اسے مجلس ترقی ادب‘ لاہور نے پہلی مرتبہ ۱۹۶۷ء میں شائع کیا۔ اس مجموعے کی خصوصیت یہ ہے کہ فاضل لکھنوئی نے مفید حواشی کے ساتھ خطوط کو از سرِ نو ترتیب دے کر شائع کیا۔ جس سے اس مجموعے کی قدرو منزلت دو چند ہوگئی ہے۔ صفحات کی تعداد‘ ۵۸۸ ہے۔ یہاں ایک غلطی کا ازالہ ضروری ہے وہ یہ کہ فاضل لکھنوی نے کتاب کے آخر میں ’’فہرست مکتوب الیہم‘‘ کے تحت خطوط کی کل تعداد ۱۲۷ ظاہر کی ہے(۴۸)۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’’عود ہندی‘‘ میں شامل خطوط کی کل تعداد ۱۸۸ ہے۔ ۱۴ پہلی فصل میں اور ۱۳۶ دوسری فصل میں۔ دوسری فصل میں ایک خط دراصل منشی غلام غوث بے خبر کا لکھا ہوا ہے اور غالب کے ایک خطوط کے جواب میں ہے۔ اسے شمار سے خارج کرتے ہوئے ’’عودِہندی‘‘ میں غالب کے خطوط کی تعداد ۱۷۶ بنتی ہے۔ لیکن زیر نظر مجموعے میں کتابت کی غلطی سے ۱۷۶ کی بجائے ’’۱۶۷‘‘لکھا گیا ہے۔ بحیثیت مجموعی ‘ عود ہندی کا یہ مجموعہ خالصتاً تحقیق کی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ بہترین طباعت اور معیاری کاغذ کے ساتھ اسے چھاپنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ مجموعہ خطوط پاکستان میں ذخیرہ غالبیات میں نادر اضافہ ہے۔
-2. عودِ ہندی:     مطبع کریمی‘ لاہور کی طرف سے یہ مجموعہ شائع ہوا۔ سالِ اشاعت اور مرتب کا نام درج نہیں۔ اس مجموعے میں غالب کے خطوط کی تعداد‘ ۱۷۱ ہے۔ حسبِ روایت دو فصلیں ہیں اور آخر میں خاتمہ کے عنوان سے تقریظات شامل ہیں۔
                                           .(ii). اُردومعلٰی (حصہ اوّل ‘ دوم)
’’عود ہندی‘‘ کی اشاعت اور پذیرائی سے حوصلہ پاکر غالب کے احباب نے ایک اور مجموعہء مکاتیب کا ڈول ڈال دیا۔ یہ دوسرا مجموعہ ’’اُردوئے معلی‘‘ ہے جس کی جمع و ترتیب غالب کی زندگی میں عمل میں آئی اور اس کی طباعت کا بڑا حصہ بھی ان کی زندگی ہی میں انجام پاگیا‘ لیکن کتابی صورت میں اس کی باقاعدہ اشاعت غالب کے انتقال کے انیس (۱۹) دن بعد ممکن ہوئی(۴۹)۔ ’’اُردوئے معلی‘‘
(حصہ اوّل ) میں پچاس مختلف افراد کے نام غالب کے ۴۸۰ خط شامل ہیں۔ پرتھوی چندر نے ’’اُردوئے معلی‘‘ میں خطوں کی تعداد ۴۷۷ بتائی ہے(۵۰)۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ ’’اُردوئے معلی‘‘ حصہ اوّل کا دیباچہ میر مہدی مجروح کا لکھا ہوا ہے۔ انہوں نے اس مجموے کے جامعین کی نشاندہی کرتے ہوئے منشی جواہر سنگھ جوہر‘ مطبع کے مہتمم میر فخر الدین اور مطبنع کے منشی اور غالب کے شاگرد لاللہ بہاری لال مشتاق کے نام لیے ہیں۔ خطوط کا یہ مجموعہ ضخامت کے اعتبار سے ۴۶۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ اُردوئے معلی (حصہ اوّل ) کی اشاعت کے تیس (۳۰) برس بعد ۱۸۹۹ء میں مولانا الطاف حسین حالی نے اُردوئے معلی (حصہ دوم)کے عنوان سے خطوطِ غالب کا ایک اور مسودہ فراہم کیا جسے اُردوئے معلی (حصہ اوّل) سمیت ایک ہی جلد میں شائع کردیا گیا(۵۱)۔ یہ دوسرا حصہ ۵۳ نئے خطوط پر مشتمل ہے۔ جن میں تفتہ ؔ کے نام ۳۴‘ ذکاؔ ا ور سیاحؔ کے نام پانچ پانچ ‘ شہزادہ بشیرؔ ‘ سرورؔ ‘ ہشیارؔ ‘ کرامت علیؔ ‘ جوہرؔ ‘ ہیرا سنگھؔ اورپیارے لال شاکرؔ کے نام ایک ایک خط اور آخر میں مجروح کے نام دو خط شامل ہیں۔ ۱۸۹۹ء کے بعد ’’اُردوئے معلی‘‘ کے دونوں حصے ایک ساتھ شائع ہوتے رہے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا(۵۲) پاکستان میں اس کی دو اشاعتیں عمل میں آئی ہیں۔ تفصیل اس طرح ہے:
-1. خطوطِ غالب اُردوئے معلی:    جنوری ۱۹۶۴ء میں یہ مجموعہ پہلی مرتبہ لاہور اکیڈمی ‘ لاہور سے شائع ہوا۔ صفحات کی تعداد‘ ۴۰۰ ہے۔ ’’حرف آغاز‘‘ مرزا ادیب کا تحریر کردہ ہے‘ اس میں انہوں نے اولاً غالب کے مختصر سوانح حیات پیش کیے ہیں اور بعد ازاں خطوط کے حوالے سے غالب کی شخصیت اور ان کی نثری خصوصیات کا جائزہ لیا ہے۔ ’’حرف آغاز‘‘ کے بعد میر مہدی مجروح کا لکھا دیباچہ شامل کیا گیا ہے۔ اس مجموعے میں اُردوئے معلی (دونوں حصوں) کے تمام خطوط کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خطوط کو نہ تو زمانی ترتیب سے شامل کیا گیا ہے اور نہ ہی حواشی و تصحیح متن کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس طرح کتابت کی غلطیاں بھی خاصی ہیں۔
-2. خطوطِ غالب اُردوئے معلی(تین جلدیں):    سید مرتضیٰ حسین فاضل لکھنوی نے یہ مجموعہ تین جلدوں میں مرتب کیا جسے مجلس ترقی ادب نے لاہور سے شائع کیا۔ پہلی دو جلدیں غالب صدی کے موقع پر ۱۹۶۹ء میں شائع ہوئیں جبکہ تیسری جلد ایک سال بعد ۱۹۷۰ء میں شائع ہوئی۔’’جلد اوّل‘‘ ۴۳۲ صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں ۱۹ افراد کے نام ۱۹۲ خطوط شامل کیے گئے ہیں۔ اس مجموعے کو حواشی کے ساتھ مدون کیا گیا ہے۔ اس مجموعہ کی ترتیب میں ’’اکمل المطابع‘‘ , طبع اوّل (۱۸۶۹ء) اور ’’مطبع مجتبائی‘‘, طبع دوم (۱۸۹۹ء) کے نسخوں کو مدِنظر رکھا گیا ہے۔ ان دونوں نسخوں کے اختلافِ کو معتبر روایات کے ساتھ حاشیے میں بیان کیا گیا ہے۔ اس حصے میں حواشی مولانا حالیؔ یا کسی اور صاحب نے لکھے ہیں وہ بھی نقل کردیے گئے ہیں۔ اس جلد کی ابتداء میں تیس (۳۰) صفحات کا مقدمہ ہے جس میں غالب کے فکر و فن کے ساتھ ساتھ خطوں کی اہمیت و افادیت اور ان کی ترتیب و تدوین کے بارے میں روشنی ڈالی گئی ہے۔
’’جلد دوم‘‘ بھی پہلے حصے کے ساتھ شائع ہوئی(۵۳)۔ یہ جلد ۴۱۶ صفحات (۴۳۳ تا ۸۴۸) پر مشتمل ہے۔ اس میں ۳۲ افراد کے نام غالب کے ۲۴۰ خطوط شامل کیے گئے ہیں۔ اس جلد کے خطوط کا اندازہ خالصتاً ادبی ہے اور فارسی الفاظ کا بھرپور استعمال ہے۔ اس جلد میں بھی حواشی کا اندراج کیا گیا ہے اور اسے بھی ترتیب و تدوین کے تحقیقی اصولوں کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس جلد کے ساتھ ہی ’’اُردوئے معلی‘‘ طبع اوّل (اکمل المطابع ‘ ۱۸۶۹ء) کامتن اور مواد یکجا ہوگیا ہے۔
’’جلد سوم‘‘۲۹۷ صفحات (۸۴۹ تا ۱۱۴۵) پر مشتمل ہے۔ اس جلد میں اُردوئے معلی حصہ دوم (۵۴) کے تمام خطوط شامل کیے گئے ہیں۔ اس میں گیارہ افراد کے نام غالب کے ۵۳ خطوط شامل کیے گئے ہیں۔ اس جلد کا ابتدائی حصہ (صفحہ ۸۴۹ تا ۹۷۳) اُردوئے معلی کے حصہ دوم کی تقریظات اور مکاتیب پر مشتمل ہے جبکہ اسی جلد میں صفحہ ۹۷۵ سے ۱۰۴۵ تک فاضل لکھنوی نے ’’اُردوئے معلی‘ حصہ دوم‘‘ کے عنوان سے ایک جداگانہ سیکشن قائم کیا ہے جس میں غالب کی ۹۳ متفرق تحریر یکجا کردی گئی ہیں۔ اس میں پچیس (۲۵) وہ خطوط بھی شامل ہیں جو سرخوش نے اُردوئے معلی (ہر دو حصہ) میں ’’ضمیمہ‘‘ کے طور پر شائع کیے تھے(۵۵)۔ اس سیکشن کے آخر میں ایک تحریر ولیم کولڈ اسٹریم کے لئے ایک سپاس نامے پر مشتمل ہے جس کے مقابل اصل سپاس نامے کا عکس بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس جلد کی مذکورہ ۹۳ تحریریں ۱۸۵۲ء اور.۱۸۶۸ء کی زمانی مدت پر پھیلی ہوئی ہیں۔
بحیثیت مجموعی اُردوئے معلی کی ان تینوں جلدوں کو بڑے محققانہ انداز میں بڑی مہارت کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ البتہ کہیں کہیں کتابت کی اغلاط موجود ہیں۔ باایں ہمہ یہ جلدیں پاکستان میں ذخیرہء غالبیات میں نادر اضافہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’عود ہندی‘‘ اور ’’اُردوئے معلی‘‘ کی الگ الگ اشاعتوں کے ذکر کے بعد اب خطوط کے اُن مجموعوں کا جائزہ لیا جارہا ہے جو یا تو نو دریافت شدہ ہیں یا پھر لوگوں کے ’’انتخاب‘‘ یا ’’کلیات‘‘ کے طور پر مختلف ناموں سے شائع کیے ہیں۔ خطوط کے ان نئے پرانے مجموعوں کا یہ جائزہ پاکستانی اشاعتوں پر مشتمل ہے‘ جسے زمانی ترتیب کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
-1. نادرات غالب:   میر مہدی مجروحؔ اور میرنؔ صاحب نے منشی نبی بخش حقیرؔ اور ان کے بیٹے منشی عبداللطیف کے نام غالب کے کچھ خطوط (۵۶) دستیاب کرکے اشاعت کی غرض سے ترتیب دیے تھے لیکن یہ مجموعہ بوجوہ شائع نہ ہوسکا۔ میرن صاحب کے نواسے آفاق حسین آفاقؔ نے اس مجموعے کو مرتب کیا اور ’’نادراتِ غالب‘‘ کے نام سے ادارہ نادرات‘ کراچی سے ۱۹۴۹ء میں شائع کردیا۔ صفحات کی تعداد ۳۳۹ ہے۔یہ مجموعہ خطوط دو حصوں پر مشتمل ہے۔ حصہ اوّل میں دو صفحات پر مشتمل بابائے اُردو مولوی عبدالحق کا لکھا ’’سرنامہ‘‘ ہے۔ اس کے بعد صفحہ ۱۷۹ تک آفاق ؔ کا تحریر کردہ ایک وقیع مقدمہ ہے جس میں حقیرؔ کا تعارف کرایا گیا ہے اور غالب کی نثری خصوصیات کے بارے میں سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ حصہ دوم ۱۶۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ ابتدائی ۹۰ صفحات مکتوبات پر مبنی ہیں اور بقیہ صفحات میں حواشی درج کیے گئے ہیں۔ یہ مجموعہ تلاش و تحقیق کی نہایت عمدہ کوشش ہے۔ حواشی کے اضافے سے بہت سی کارآمد معلومات بہم پہنچائی گئی ہیں۔ بحیثیت مجموعی یہ مجموعہ پاکستان میں غالب شناسی کی روایت کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
-2. خطوطِ غالب (دوجلدیں):     مولانا غلام رسول مہرؔ نے ’’خطوطِ غالب‘‘ کے نام سے دو جلدوں میں ایک مجموعہ مرتب اور شائع کیا۔ جلد اوّل ۱۹۵۱ء میں اور جلد دوم ایک سال بعد ۱۹۵۲ء میں کتاب منزل‘ لاہور سے شائع ہوئی۔ جلد اوّل ۳۶۱ اور دوم ۴۳۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ جلداوّل کے آغاز میں ۴۹ صفحات کا مقدمہ شامل ہے۔
اس مجموعے میں غالب کے وہ تمام خطوط آگئے ہیں جن کا مرتب کو سراغ مل سکا یعنی ’’عودِ ہندی‘‘ اور ’’اُردوئے معلی‘‘ کے سارے خطوط۔ صرف دو مجموعوں کو چھوڑا گیا۔ ایک مکاتیبِ رام پور کا مجموعہ (۵۷) ‘ دوسرا منشی نبی بخش حقیر و ابنِ حقیر کے نام خطوط کا وہ مجموعہ جو ’’نادرات غالب‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ مولانا مہرؔ کے اس مجموعہ خطوط کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ تمام خطوط تاریخ وار ترتیب دیے گئے ہیں‘ جن خطوں پر تاریخیں ثبت نہیں تھیں‘ ان کے بارے میں داخلی شہادتوں کی بنا پر قیاساً فیصلہ کیا گیا کہ وہ کس زمانے کے ہوں گے۔ ’’خطوطِ غالب‘‘ کا دوسرا ایڈیشن ‘ دونوں جلدوں کو ملا کر ایک جلد میں ’’کتاب منزل‘‘ لاہور سے شائع ہوا۔ اس پر طباعت کا سال درج نہیں اور یہ ۶۵۶ صفحات پر مشتمل تھا۔ ’’خطوطِ غالب‘‘ کا تیسرا ایڈیشن ۱۹۶۲ء میں شیخ غلام علی اینڈ سنز‘ لاہور سے شائع ہوا جو ۵۸۴ صفحات پر مشتمل تھا۔ ۱۹۶۸ء میں اس ادارے نے اس کا چوتھا ایڈیشن بھی شائع کیا۔ اس میں چند اضافے کیے گئے‘ جن کے بارے میں مولانا مہرؔ لکھتے ہیں:
’’خطوطِ غالب کا یہ چوتھا ایڈیشن ہے۔ اس میں ان خطوط کی بھی خاصی بڑی تعداد شامل کی گئہے‘ جو پہلے ایڈیشنوں کے وقت دستیاب نہیں ہوسکے تھے۔ تصحیح اور ترتیب و تحشیہ کے اہتمام میں بھی حتی الامکان کوئی دقیقہ سعی اُٹھا نہیں رکھا گیا(۵۸)‘‘۔
فروری ۱۹۶۹ء میں غالب کی صد سالہ برسی کے موقع پر مجلس یادگارِ غالب‘ پنجاب یونیورسٹی لاہور کی جانب سے یہ مجموعہ پانچویں ایڈیشن کے طور پر دو جلدوں میں شائع کیا گیا۔ جلد اوّل ۵۱۸ صفحات اور جلد دوم ۴۹۳ صفحات (۵۱۹ تا ۱۰۱۱) پر مشتمل ہے۔ دونوں جلدوں میں خطوط کی تعداد پونے سات سو تک ہے۔دو جلدوں پر مشتمل اس مجموعے کو متن کی تصحیح ‘ تاریخ وار ترتیب ‘ ہر مکتوب الیہ کے احوال و سوانح اور بعض مشکل الفاظ و تراکیب کی توضیح کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں تاریخی‘ جغرافیائی ‘ علمی اور ادبی تلمیحات و اشارات کی مناسب تشریح بھی کردی گئی ہے۔ دوسری جلد کے آخر میں غالب کی دیگر نثری تحریریں ‘ تقریظیں اور دیباچے شامل ہیں۔ اس مجموعے میں آٹھ دیباچے‘ تین تقریظیں اور وہ تحریریں ہیں جو غالب کے خطوط میں شامل کرنے کے علاوہ اور کہیں شامل نہ کی جاسکتی تھیں۔
بحیثیت مجموعی مولانا غلام رسول مہرؔ کا مرتبہ یہ مجموعہ خطوط ترتیب و تدوین کی عمدہ مثال ہے اور یہ خدمت بلاشبہ غالب شناسی کے باب میں منارہء نور کی حیثیت رکھتی ہے۔ ۱۹۹۳ء میں شیخ غلام علی اینڈ سنز ‘ لاہور سے اس کا ایک اور ایڈیشن بھی شائع ہوا جو بار سوم (۱۹۶۲ء) والے ایڈیشن کے مطابق ۵۸۴ صفحات پر مشتمل ہے۔
-3. نگارشاتِ غالب:    یہ خطوطِ غالب کا ایک جزوی انتخاب ہے جسے پروفیسر عبدالرزاق جمالی نے مرتب کرکے تاج بک ڈپو ‘ لاہور سے ۱۹۵۲ء میں شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ۱۲۸ ہے۔ اس میں دس افراد کے نام خطوط شامل کیے گئے ہیں۔ خطوط سے پہلے مکتوب الیہان کا تعارف اور نمونہ ء کلام بھی دیا گیا ہے۔ آغاز میں ’’غالب کی نثر اُردو‘‘ کے عنوان سے ایک مقالہ شامل کیا گیا ہے جس میں غالب کی خطوط نگاری کی ابتداء اور فارسی زبان سے رغبت کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔ جن افراد کے نام خطوط اس مجموعے میں شامل کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں۔
صاحبِ عالمؔ ‘ مرزا یوسف علی عزیزؔ ‘ نواب مصطفی خان شیفتہ‘ؔ مرزا رحیمؔ بیگ‘ مولوی عبدالرزاق شاکرؔ ‘ منشی ہرگوپال تفتہؔ ‘ سیف الحق سیاحؔ ‘ میر غلام حسنین قدرؔ بلگرامی‘ مولوی کرامتؔ علی‘ چودھری عبدالغفور سرورؔ ۔بحیثیت مجموعی یہ مجموعہ پاکستان میں ذخیرہ غالبیات میں اہم اضافہ ہے۔
-4. انتخابِ خطوطِ غالب:     ڈاکٹر عبادتؔ بریلوی اور مشرفؔ انصاری اس انتخاب کے مرتبین ہیں۔ اُردو اکیڈمی سندھ نے مارچ ۱۹۶۷ء میں اسے کراچی سے شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ۱۹۲ ہے۔ اس انتخاب کی انفرادیت یہ ہے کہ غالب کے خطوط کو عنوانات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ یعنی غالب نے یہ خطوط جن احباب کو لکھے‘ جس مقصد کے لئے لکھے‘ ان سب باتوں کو مخلف عنوانات کی شکل دے کر خطوط شامل کیے گئے ہیں۔ اس درجہ بندی سے اس عہد کے سیاسی‘ تاریخی اور تہذیبی حالات پر روشنی پڑتی ہے۔ اسی طرح تعلیم و تربیت ‘ خانگی زندگی‘ شادی‘ سکونت‘ دربار سے تعلق‘ فکرِ معاش‘ دربارِ رام پور‘ بزمِ احباب‘ سخن دانی و سخن فہمی‘ تصانیف اور پنشن جیسے موضوعات سے غالب کی زندگی اور اس کے شب و روز کا احاطہ ہوتا ہے۔ اس طرح یہ مجموعہ خطوطِ غالب اور عہدِ غالب کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
-5. محاسنِ خطوطِ غالب (مع انتخابِ خطوطِ غالب):     ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقارؔ کا مرتبہ یہ مجموعہ مکتبہ خیابانِ ادب‘ لاہور سے ۱۹۶۹ء میں شامل ہوا۔ صفحات کی تعداد‘ ۲۲۰ ہے۔ اس کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں ’’خطوط غالب کے مجموعے‘‘ , ’’غالب  کی اُردو نثر‘‘ ,’’محاسنِ خطوطِ غالب‘‘ اور ’’غالب کا اجتماعی احساس‘‘ کے عنوان سے جامع مقالات شامل کیے گئے ہیں‘ جن کے ذریعے سے غالب کے مجموعہ ہائے خطوط کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ غالب کی نثر کا فنی جائزہ لینے‘ نثر کے مختلف محاسن بیان کرنے کے بعد دوسرے حصے میں غالب کے ۱۱۸ خطوط شامل کیے گئے ہیں۔ ان خطوں میں خطوطِ غالب کے جملہ محاسن دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس مجموعے میں ۱۹ افراد کے نام خطوط درج کیے گئے ہیں۔ بحیثیت مجموعی یہ کتاب غالب کی خطوط نگاری کے فکری اور فنی پہلوؤں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نیز خطوط کے انتخاب میں بھی غالب کی نثری خصوصیات کو واضح کرنے کا پہلو سامنے رکھا گیا ہے۔
-6. خطوط غالب (پانچ جلدیں): خلیق انجم ؔ کے مرتبہ یہ خطوط اولاً بھارت میں شائع ہوئے(۵۹)۔ لیکن بعد میں پاکستان میں بھی ان کی اشاعت عمل میں آئی۔ان جلدوں کو مرتب کرنے کی بنیادی مقصد غالب کے تمام خطوط کو یکجا کرنا تھا۔ چنانچہ خلیق انجمؔ نے ’’عود ہندی‘‘ , اُردوئے معلی , ’’مکاتیب غالب‘‘ (مرتبہ: عرشی) اور نادراتِ غالب (مرتبہ: آفاق) کے تمام خطوط کو یکجا کردیا ہے۔ پاکستان میں یہ کام اگرچہ پہلے غلام رسول مہرؔ بھی کرچکے تھے لیکن انہوں نے صرف ’’عودہندی‘‘ اور ’’اُردوئے معلی‘‘ کے خطوط کو یکجا کیا تھا جبکہ خلیق انجمؔ نے بقیہ دو مجموعوں کو بھی ان میں شامل کرلیا ہے۔ پاکستان میں تمام جلدیں انجمن ترقی اُردو ‘ کراچی نے وقتاً فوقتاً شائع کی ہیں۔ تفصیل اس طرح ہے:
’’جلد اوّل‘‘ ۱۹۸۹ء میں شائع ہوئی جس کے صفحات کی تعداد ۴۸۲ ہے۔ اس جلد کے ابتدائی صفحات (۱۳ تا ۲۲۸) میں خلیق انجمؔ نے خطوط غالب کی تدوین کے بہت سے پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ مثلاً انہوں نے متن کی تصحیح‘ بنیادی نسخے‘ تاریخ وار ترتیب‘ املائے متون‘ اوقات کی علامتیں‘ خطوطِ غالب کے مختلف ایڈیشنز‘ تقابلی مطالعے او ر املائے غلالب کی خصوصیات جیسے تقریباً ستر (۷۰) چھوٹے بڑے ذیلی موضوعات کے تحت پر مغز گفتگو کی ہے۔ انہوں نے تمام خطوط کو تاریخ وار ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے۔ لیکن جن خطوط کی تاریخ تحریر کا تعین نہیں ہوسکا انہیں متعلقہ مکتوب الیہ کے نام خطوط کے آخر میں درج کردیا ہے۔ اس جلد میں صرف دو افراد یعنی منشی ہر گوپال تفتہ اور علاء الدین علائیؔ کے نام سارے خطوط شامل کیے گئے ہیں۔ مکتوب الیہم کی مختصر تعار ف کے ساتھ ساتھ ان کے نام خطوط کے عکس اور ان کی تصاویر بھی دی گئی ہیں۔
’’جلد دوم‘‘ بھی جلد اوّل کے ساتھ ۱۹۸۹ء میں شائع کی گئی۔ یہ جلد ۴۸۹صفحات (۴۸۳ تا ۹۷۰) پر مشتمل ہے۔ اس جلد میں ۲۸ افراد کے نام خطوط شامل کیے گئے ہیں‘ جنہوں زمانی ترتیب کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ اس جلد کی خاص بات یہ ہے کہ ۲۲‘ افراد ایسے ہیں جن کی نام خطوط غالب کے قلمی عکس کے ساتھ شائع ہوئے ہیں۔ یہ خطوط متن کے ساتھ مرتب کیے گئے ہیں جو ایک قابل قدر کوشش ہے۔
’’جلد سوم‘‘ پاکستان میں ۱۹۹۰ء میں شائع ہوئی۔ یہ جلد ۴۲۶ صفحات (۹۷۷ تا ۱۴۰۳) پر مشتمل ہے۔ اس جلد میں سترہ (۱۷) مکتوب الیہم کے نام خطوط شامل ہیں۔ جن میں نواب یوسف علی خاں ناظمؔ ‘ نواب کلبؔ علی خان (نوابانِ رام پور) اور منشی بنی بخش حقیر کے نام تمام خطوط شامل کیے گئے ہیں۔ یہ جلد گویا ’’مکاتیب غالب‘‘ (مرتبہ: عرشی) اور ’’نادرات غالب‘‘ (مرتبہ: آفاق) کے خطوں پر مشتمل ہے۔ خطوط کے عکس ‘ متن کے مآخذ اور حواشی کو خاص اہتمام کے ساتھ پیش کیا گیا ہے‘ عکسوں میں اغلاط در آئی تھیں‘ انہیں حواشی میں واضح کردیا ہے۔ اس جلد میں خطوط کے بیشتر عکس پرتھوی چندرؔ کی کتاب ’’مرقع غالب‘‘ سے لیے گئے ہیں۔
’’جلد چہارم‘‘   ۱۹۹۵ء میں شائع ہوئی۔ یہ جلد ۳۷۹ صفحات (۱۴۰۷ تا ۱۷۸۶) پر مشتمل ہے۔ اس جلد میں غالب کے اُردو خطوط کی مجموعی تعداد بھی بتائی گئی ہے اور متن کے مآخذ اور حواشی کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ اس جلد میں ۳۱مکتوب الیہم کے نام خطوط شامل ہیں‘ حسبِ سابق خطوط کے عکس بھی دیے گئے ہیں۔ نیز غالب کے خطوط میں جن شخصیتوں‘ رسالوں‘ کتابوں‘ اخباروں اور بعض مقامات کا ذکر آیا ہے‘ اُن کا اشاریہ شامل کیا گیا ہے اس جلد میں خطوط اختتام پذیر ہوجاتے ہیں۔ آخر میں کتابیات کے عنوان سے مآخذ کی فہرست شامل کی گئی ہے‘ جن سے اس کام کے اعلیٰ تحقیقی معیار کا بیّن ثبوت سامنے آتا ہے۔
’’جلد پنجم‘‘ ۲۰۰۰ء میں شائع ہوئی صفحات کی تعداد ۱۶۵ ہے۔ یہ جلد سابقہ جلدوں میں موجود تمام خطوط کا اشاریہ ہے۔ پہلا خط .۱۸۴۷ء کا محررہ ہے اور یہ ہرگوپال تفتہ کے نام جلد اوّل (صفحہ ۲۳۳ تا ۲۳۶) میں شامل ہے۔ اس اشاریے کا آخری خط خان صاحب جمیل المناقب کے نام ہے۔ اس خط کا سال تحریر درج نہیں اور یہ جلد چہارم (صفحہ ۱۵۹۶ تا ۱۵۹۷) میں موجود ہے۔ یہ اشاریہ تاریخی ترتیب کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے جس میں تحقیقی اصولوں کو سامنے رکھا گیا ہے۔
بحیثیت مجموعی خلیق انجم ؔ کا یہ تحقیقی کام اگرچہ بھارت کے اشاعتی سلسلے کی ایک کڑی ہے ‘لیکن پاکستان میں اس کی اشاعتیں بلاشبہ ذخیرہ ء غالبیات میں اہم اضافہ ہیں۔ اس سلسلے میں انجمن ترقی اُردو‘ کراچی کی خدمات لائقِ ستائش ہیں۔
-7. انتخاب خطوط غالب:   پروفیسر ایوب صابرؔ نے یہ انتخاب مرتب کرکے ملٹی بکس‘ لاہور سے ۱۹۹۳ء میں شائع کیا۔ صفحات کی تعداد‘ ۱۶۰ ہے۔ پیش لفظ کے بعد ’’خطوط غالب ایک مطالعہ‘‘ کے عنوان سے جامع مقدمہ موجود ہے۔ اس کے بعد غالب کے اکیاسی (۸۱) خطوط شامل کیے گئے ہیں۔ خطوط کے بعد مکتوب الیہم کا تعارف کرایا گیا ہے۔ آخر میں ’’تعلیقات و حواشی‘‘ اور پھر ’’مآخذ‘‘ کی فہرست شامل کی گئی ہے۔ ’’پیش لفظ‘‘ میں خطوط غالب کے چار مجموعوں کا ذکر کیا گیا ہے‘ علاوہ ازیں مختلف رسائل میں شائع ہونے والے خطوط کا تذکرہ کرتے ہوئے مرتبین کا تعارف کرایا گیا ہے۔ ۲۲ صفحات پر مشتمل مقدمہ میں فاضل مرتب نے غالب کے خطوط کے اقتباسات کی روشنی میں ان کے فکر و فن پر جامع تبصرہ کیا ہے۔ یہ انتخاب پشاور یونیورسٹی سے متعلق ایم‘ اے‘ اُردو کے طلبہ کی نصابی ضرورت کے تحت مرتب کیا گیا ہے۔ تاہم یہ کوشش غالب شناسی کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔
-8. انشائے غالب :     رشید حسن خان نے اس مجموعے کو مرتب کیاجسے ادارہ یادگارہ غالب نے ۲۰۰۱ء میں کراچی سے شائع کیا۔ صفحات کی تعداد ۱۸۰ ہے۔ اس میں غالب کے خطوط کا وہ انتخاب ہے جو غالب نے اپنی زندگی میں ’’تازہ واردان ولایت‘‘ کی نصابی ضروریات کے لیے خود ترتیب دیا تھا(۶۰) ۔اس مجموعے کو ’’انتخاب غالب‘‘ کے نام سے اولاً محمد عبدالرزاق نے ترتیب دے کر شائع کیا(۶۱) ۔ لیکن اس ایڈیشن میں بے شمار اغلاط تھیں۔ دریں اثناء ڈاکٹر عبدالستار صدیقی نے اس کا متین مرتب کیا اور حواشی لکھے۔ مقدمہ لکھنے کی نوبت نہ آئی تھی کہ وہ بیمار ہوگئے۔ اس کے بعد مالک رام نے اس پر مقدمہ لکھا اور مزید حو اشی قلم بند کیے مگر اشاعت کی صورت پھر بھی پیدا نہ ہوئی۔ بالآخر اس سارے لوازمے کو رشید حسن خان نے مرتب کیا اور ’’عرض مرتب‘‘ کے اضافے کے ساتھ ۱۹۹۴ء میں بھارت سے شائع کردیا(۶۲) ۔ کتاب کی اشاعت کے بعد رشید حسن خان کو مزید معلومات حاصل ہوئیں اور انہوں نے ’’عرض مرتب‘‘ بہت سارے اضافوں کے ساتھ از سر نو لکھی۔ اس طرح یہ مجموعہ زیر نظر کتاب کی صورت میں پہلی مرتبہ پاکستان سے شائع ہوا۔ اس مجموعے کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ ’’خطوط غالب‘‘ کا پہلا مجموعہ ہے ‘ وہ بھی غالب کا مرتب کردہ ۔ ’’عود ہندی‘‘ اور ’’اُردوئے معلی‘‘ دونوں متداول مجموعے بعد میں ۱۸۶۸ء اور .۱۸۶۹ء میں شائع ہوئے۔ ترتیب و تدوین کے حوالے سے بھی اسے بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اُردو کے تین ممتاز ترین محققین ڈاکٹر عبالستار صدیقی ‘ مالک رام اور رشید حسن خان اس کی ترتیب میں شریک ہوئے۔ کتاب میں فہرست مشمولات اس طرح ہے۔
عرضِ مرتب          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔    رشید حسن خاں
مقدمہ           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مالک رام
متن انشائے غالب   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ڈاکٹر عبدالستار صدیقی
حواشی       ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ڈاکٹر عبدالستار صدیقی
حواشی        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مالک رام

غالب کے مرتبہ خطی نسخے کا عکس
بحیثیت مجموعی یہ مجموعہ جہاں تحقیق و تدوین کا اعلیٰ نمونہ ہے وہاں پاکستان میں ذخیرہ ء غالبیات میں اہم اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔
-9. رہنمائے طالب‘ خلاصہ مکاتیب غالب :   یہ ایک چھوٹا سا مجموعہ خطوط ہے جسے ریاض ؔ نے مرتب کرکے ایم فرمان علی ‘ لاہور سے شائع کیا۔ سال اشاعت درج نہیں ہے۔ صفحات کی تعداد‘ ۷۱ ہے۔ اس چھوٹے سے انتخاب میں مکاتیبِ غالب کا خلاصہ دیا گیا ہے۔ خطوط کے یہ ٹکڑے تین عنوانات کے ذیل میں منتخب کیے گئے ہیں۔
.(۱). مرزا کے تلامذہ          .(۲) . انگریزی تعلقات اور           (۳) متعلقاتِ انشاء
اس کتابچے کے آخر میں ’’فرہنگِ متن‘‘ کے عنوان سے مشکل الفاظ اور ان کے معانی کی فہرست درج کی گئی ہے۔
                                                                    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خطوط کے علاوہ غالب نے کچھ اور نثری سرمایہ بھی ورثے میں چھوڑا ہے۔ ان میں سے بعض تصانیف خود غالب کے عہد میں شائع ہوئیں اور کچھ ان کی وفات کے بعد دریافت کرکے منظرِ عام پر لائی گئیں۔ ان میں سے اکثر ’’قضیہ برہان‘‘ کے تناظر میں تصنیف ہوئیں جن کا اسلوب زیادہ تر مناظرانہ اور معاندانہ مبحث پر مبنی ہے‘ البتہ بعض نثر پارے غالب کے لکھے دیباچوں‘ تقریظوں‘ تنقیدی جائزوں اور کچھ تاثراتی تحریروں پر مشتمل ہیں‘ جنہیں کلی یا جزوی طور پر شائع کیا جاتا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ ان تمام نثری تصانیف کی اشاعت کا کام مسلسل جاری رہا۔ ذیل میں پاکستانی اشاعتوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔اس جائزے میں ہر کتاب کے تصنیفی و تخلیقی محرکات کا الگ سے تعارف نہیں کرایا جائے گا۔ بلکہ پاکستانی اشاعتوں کے ذکر میں ان کتب کے تصنیف کیے جانے کی ضرورت پر اجمالاً بحث کی جائے گی۔ یہ سارا جائزہ اشاعتوں کی زمانی ترتیب کے ساتھ پیش کیاجارہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
-1. مجموعہ نثر غالب اُردو:     خلیل الرحمن داؤدی ؔ کی مرتبہ یہ کتاب غالب کی نثری تصانیف کا مجموعہ ہے۔ ۴۲۱ صفحات پر مشتمل یہ کتاب مجلس ترقی ادب ‘ لاہور سے نومبر ۱۹۶۷ء میں شائع ہوئی۔ اس مجموعہ نثر میں غالب پانچ تصانیف کے علاوہ اٹھائیس (۲۸) متفرق نثر پارے بھی ہیں‘ کتاب کے دو اجزاء ہیں۔ جزو اوّل ’’رسائل غالب‘‘ کے عنوان سے ہے‘ اس کے ترتیب اس طرح ہے۔
.۱۔           نکات غالب و رقعاتِ غالب                ۔۔۔۔۔۔       صفحہ ۱ تا ۔57۔
۔۲۔          لطائف غیبی                                   ۔۔۔۔۔۔۔   صفحہ ۵۹ تا ۱۲۳
۔۳۔         سوالات عبدالکریم                         ۔۔۔۔۔۔۔۔۔    ۱۲۵ تا ۱۴۶
۔۴۔          نامۂ غالب                                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۱۴۷ تا ۱۷۳     
۔۵۔           تیغ تیز                                      ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۱۷۵ تا ۲۱۷

جزو دوم میں ’’متفرق نثر پارے‘‘ ہیں جن کی تعداد ۲۸ ہے۔ یہ حصہ ۲۱۹ سے ۴۲۱ تک پھیلا ہوا ہے۔ تفصیل یوں ہے:
۔۱۔    دیباچہ     ’’سراج المعرفت‘‘       ۔۲۔ دیباچہ     ’’حدائق انظار‘‘        ۔۳۔ دیباچہ      ’’رسالہ تذکر و تانیث‘ ‘        ۔۴۔ تقریظ بر کتاب     بہادر شاہ ثانی
۔۵۔    تقریظ      بر گلزار سرور             ۔۶۔   دیباچہ     ’’انتخابِ غالب‘‘          ۔۷۔ خاتمہ     ’’انتخاب غالب‘‘        ۔۸۔     پیش لفظ         ’’خاش و خماش‘‘
۔۹۔    دیباچہ       ’’دیوانِ سخن‘‘       ۔۱۰۔   دیباچہ     ’’قصائد مرزا کلب حسین خان‘‘    ۔۱۱۔    خاتمہ     ’’شعاعِ مہر‘‘    ۔۱۲۔  اُردوئے   معلی کا حق تصنیف
۔۱۳۔     سرٹیفیکیٹ      (سید محمد زکریا خاں کو دیا گیا)     ۔۱۴۔     تصدیق      (انشائے فارسی کے خاتمے پر)     ۔۱۵۔       شہادت        (مولوی حید رعلی کے مباہلے سے متعلق)      ۔۱۶۔     رائے      (بحث تاریخ گوئی سے متعلق)     ۔۱۷۔    عرض داشت بخدمت مہاراجہ الور   ۔۱۸۔ دہلی سوسائیٹی کے جلسے میں مرزا کا مضمون        ۔۱۹۔    پیارے لال آشوب سے متعلق ایک تاثیر        ۔۲۰۔       مرزا غالب کے خود نوشت حالات زندگی    ۔۲۱۔    ازالہ حیثیتِ عرفی کی نالش میں غالب کی تحریریں          ۔۲۲۔        دو فارسی شعروں کے مطالب        
۔۲۳۔     مثنوی لواء الحمد پر غالب کی اصلاح کے الفاظ     ۔۲۴۔    موہبت عظمیٰ پر تنقیدی حواشی           ۔۲۵۔      دو نقلیں اور ایک لطیفہ         ۔۲۶۔      مکتوب الیہم کے پتے بخط غالب     ۔۲۷۔         ایک تشریح (قاطع برہان کے قضیے کے دوران)     ۔۲۸۔       مرزا غالب کی آخری تحریر برائے اخبارات
جزو اوّل کے پانچ رسائل کو داؤدیؔ نے حواشی کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ ہر رسالے کے آغاز میں ’’تمہید‘‘ کے عنوان سے ضروری باتیں بیان کردی ہیں۔ پہلا رسالہ ’’نکات و رقعات غالب‘‘ کے عنوان سے ہے۔ غالب نے قواعدِ زباں میں کچھ صفحات تحریر کیے تھے اور
پنج آہنگ میں سے اپنے چندخطوط شامل کرکے دو حصوں پر مشتمل ایک مجموعہ تیار کیا تھا۔ پہلے حصے کا عنوان ’’نکاتِ غالب‘‘ اور دوسرے حصے کا ’’رقعاتِ غالب‘‘ رکھا گیا۔ جس وقت یہ مجموعہ میجر فلر‘ ناظم تعلیمات پنجاب کے ہاں پہنچا تو حد درجہ پسندکیا گیا اور مدارس میں تدریس کے لیے اس کی اشاعت کا حکم دے دیا گیا۔ چنانچہ ماسٹر پیارے لال آشوب کے اہتمام سے یہ دونوں حصے پانچ سو کی تعداد میں شائع ہوئے(۶۳)۔ پہلی اشاعت کے بعد ایک طویل عرصے تک اسے دوبارہ شائع کرنے کا اہتمام کسی نے نہیں کیا۔ البتہ اس کا ایک نسخہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کی لائبریری میں محفوظ تھا جسے داؤدی ؔ نے مرتب کرکے زیرِ نظر مجموعے میں شامل کیا ہے۔
’’لطائفِ غیبی‘‘ غالب کا دوسرا کتابچہ ہے۔ ۱۸۶۲ء میں غالب نے محمد حسین تبریزی کی ایک فارسی لغت ’’برہانِ قاطع‘‘ کی اغلاط کو بہ عنوان ’’قاطع برہان‘‘ شائع کیا تھا(۶۴)۔ غالب کے جواب میں سید سعادت علی نے ’’محرق قاطع برہان‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب شائع کر ڈالی(۶۵)۔ جواب میں غالب نے یہ رسالہ بہ عنوان ’’لطائفِ غیبی ‘‘ خود لکھا لیکن اسے اپنے عزیز شاگرد میاں داد ذخاں سیاحؔ کے نام سے شائع کیا۔ غالب پر تحقیق کرنے والا تقریباً ہر شخص اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یہ تصنیف واقعی غالب کی اپنی کاوشِ فکر کا نتیجہ ہے۔ ’’لطائفِ غیبی‘‘ ۴۴ صفحات کا ایک رسالہ ہے جو صرف غالب کی زندگی میں ایک مرتبہ شائع ہوا(۶۶)۔ اس کے بعد اس کی دوسری اشاعت پاکستان کے حصے میں آئی ہے‘ خلیل الرحمن داؤدی نے اسے مرتب کرکے زیرِ نظر کتاب میں شائع کیا ہے۔ البتہ اسے الگ کتابی شکل میں بھی شائع کیا گیا ہے جس کی تفصیل آگے درج ہے۔
’’سوالاتِ عبدالکریم‘‘ بھی ’’قضیہ برہان‘‘ کی ایک کڑی ہے۔ ’’محرق قاطع برہان‘‘ کے جواب میں غالب نے دو رسالے شائع کرائے تھے۔ ایک ’’لطائف غیبی‘‘ دوسرا ’’سوالات عبدالکریم‘‘۔ یہ رسالہ مرزا نے ایک مفروضہ طالب علم ’’عبدالکریم‘‘ کے نام سے شائع کرایا۔ غالبیات کے محققین نے ثابت کیا ہے کہ ’’لطائفِ غیبی‘‘ کی طرح یہ رسالہ بھی غالب کی اپنی تصنیف ہے۔ آٹھ صفحات کے اس رسالے پر مطبع کا نام اور سنِ طباعت درج نہیں ہے۔ مالک رام کا خیال ہے کہ یہ مطبع اکمل المطابع‘ دہلی سے ۱۸۶۵ء (۱۲۸۱ھ) میں شائع ہوا تھا(۶۷)۔ اس رسالے میں ۱۶‘ سوالات ہیں جو سید سعادت علی کے دعاوی سے متعلق ہیں جو انہوں نے ’’محرق قاطع برہان‘‘ میں کیے تھے۔ غالب کی وفات کے بعد اس رسالے کی دوسری اشاعت‘ قاضی عبدالودو کی سعی سے عمل میں آئی(۶۸)۔ پاکستان میں داؤدی ؔ نے مرتب کرکے اسے زیر نظر کتاب میں شامل کیا ہے۔
غالب کی کتاب’’قاطع برہان‘‘ کی تردید میں ایک اور کتاب منظر عام پر آئی۔ اسے مرزا رحیم بیگ نے ’’ساطع برہان‘‘ کے نام سے شائع کیا(۶۹)۔ جواب میں غالب نے مصنف کے نام ۱۶ صفحات کا ایک خط تحریر کیا اور ’’نامہ غالب‘‘ کے نام سے اس کے تین سو نسخے شائع کرائے(۷۰)۔ اس کے بعد یہی خط ’’اودھ اخبار‘‘ , لکھنو کی دو اشاعتوں (۱۰؍اکتوبر‘ ۱۷؍اکتوبر ۱۸۶۵ء) میں شائع ہوا۔ بعد میں یہ خط عودِ ہندی میں شامل کرلیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود چونکہ یہ خط علیحدہ ایک رسالے کی صورت میں شائع ہوچکا ہے اس لیے اس کی حیثیت غالب کی ایک تصنیف کی سی ہوگئی ہے۔ لہذا داؤدی نے اسے علیحدہ تصنیف کی حیثیت سے مرتب کرکے زیرِ نظر کتاب میں شائع کیا ہے۔
’’تیغ تیز‘‘ غالب کا پانچواں رسالہ ہے۔یہ کتابچہ بھی سلسلہ ’’قاطعِ برہان‘‘ کی ایک کڑی ہے۔ غالب کے رد میں دیگر مخالفین کے علاوہ آغا احمد علی نے بھی ’’موید برہان‘‘ تصنیف کی(۷۱)۔ اس کتاب کو دیکھ کر غالب نے جواباً ۳۲ صفحات کا ایک مختصر رسالہ بہ عنوان ’’تیغِ تیز‘‘ شائع کیا(۷۲)۔ اس کی ۱۷ فصلیں ہیں۔ اولین ۱۶ فصلوں میں مولوی احمد علی کے اعتراضات ایک ایک کرکے لیے ہیں اور ساتھ ہی ان اعتراضات کے جواب بھی دیے ہیں۔ آخری فصل میں ’’برہانِ قاطع‘‘ پر چند اور اعتراضات کیے ہیں۔ جو غالب کی تصنیف ’’قاطعِ برہان‘‘ میں درج ہونے سے رہ گئے تھے۔ آخری صفحے پر ایک ’’غلط نامہ‘‘ بھی ہے۔ گویا یہ آخری اُردو رسالہ ہے جو غالب کے قلم سے نکلا۔ ان کی وفات کے بعد طویل عرصے تک اس کی کوئی اشاعت منظرِ عام پر نہیں آئی۔ تاہم پاکستان میں اس کی اشاعت کا سہرا خلیل الرحمن داؤدی کے سر ہے۔
’’مجموعہ نثرِ غالب اُردو‘‘ کا ’’جزودوم‘‘ غالب کے ۲۸ متفرق نثرپاروں پر مشتمل ہے۔ فاضل مرتب نے مختلف مآخذ سے انہیں فراہم کیا اور ہر تحریر کے شروع میں ’’تمہید‘‘ کے عنوان سے وہ باتیں کہہ دیں جو ضروری تھیں۔ اس طرح اُردو ادب کے یہ جواہر پارے نہ صرف حوادثِ زمانہ کی دست بُرد سے محفوظ ہوگئے بلکہ ان کے ذریعے مرزا کی زندگی کے کئی ایسے گوشے سامنے آگئے‘ جو اب تک نظروں سے اوجھل تھے۔ ’’تمہید‘‘ کے عنوان سے جو معلومات بہم پہنچائی گئی ہیں وہ بڑی افادیت کی حامل ہیں۔ ان کے ذریعے سے تحریر کے پس منظر اور دیگر ضروری باتوں کا علم ہوجاتا ہے۔ بحیثیتِ مجموعی داؤدیؔ کا یہ کام اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ غالب کی اُردو تصانیف جو صرف غالب کے عہد میں ایک مرتبہ شائع ہوئی تھیں‘ دوبارہ محفوظ کر لی گئی ہیں جو پاکستان میں غالب شناسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ کیونکہ اپنی اولین اشاعت کے بعد یہ نادر و نایاب تحریریں دوبارہ اشاعت کے لیے پاکستان کے ورثے میں آئی ہیں۔
-2. افاداتِ غالب :      سید وزیرالحسن عابدیؔ کی مرتبہ یہ کتاب بھی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ مطبوعات مجلس یادگارِ غالب‘پنجاب یونیورسٹی لاہور سے غالب صدی کے موقع پر ۱۹۶۹ء میں شائع ہوئی۔ صفحات کی تعداد ۱۷۴ ہے۔ یہ کتاب غالب کی تین نثری تصانیف کا مجموعہ ہے۔
.(۱) .لطائفِ غیبی        (۲) سوالاتِ عبدالکریم           (۳) تیغِ تیز
’’قاطع برہان‘‘ کے قضیہ سے متعلق جواب آں غزل کے تحت غالب اور دشمنانِ غالب کے درمیان جو تصنیفی سلسلہ چلتا رہا‘ مذکورہ تین رسالے اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ عابدیؔ نے ان تینوں رسالوں کو نہایت عمدگی سے مدون کرکے شائع کیا ہے۔ انہوں نے تصحیح اور تحقیق کے بعد ان رسالوں کے علیحدہ علیحدہ متن دے کر ضروری حواشی بھی رقم کیے ہیں۔ اس تحقیقی کام سے اس کتاب کی اہمیت دوبالا ہوگئی ہے۔ بعض مقامات پر عابدیؔ نے مدلل مباحث رقم کیے ہیں۔ مثلاً ’’سوالاتِ عبدالکریم‘‘ سے متعلق یہ رائے کہ غالب کی تصنیف ہے یا نہیں۔ عابدی نے افاداتِ غالب کے دیباچے میں برکاتی ؔ کے مؤقف پر جو محاکمہ کیا ہے وہ فیصلہ کن ہے (۷۳)۔ بحیثیت مجموعی ’’افاداتِ غالب‘‘ ترتیب و تدوینِ متن کی عمدہ کاوش اور کامیاب کوشش ہے۔ پاکستان میں غالب شناسی میں اسے اہم مقام حاصل ہے۔
-3. لطائفِ غیبی (ترتیب‘ تعارف‘ مقدمہ):      ڈاکٹر سید معین الرحمن نے اسے ازسرِ نو ترتیب دے کر الوقار پبلی کیشنز‘ لاہور سے پہلی بار ۱۹۹۵ء میں شائع کیا۔ ۱۱۴ صفحات پر مشتمل یہ کتاب تین اجزاء پر مشتمل ہے۔ شروع میں ’’عرض مرتب‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر معین الرحمن نے اس کی غرض و غایت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس کے بعد مقدمہ میں جس میں ’’لطائفِ غیبی‘‘ کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آخر میں ’’لطائفِ غیبی‘‘ کا متن شامل کیا گیا ہے۔ اگرچہ خلیل الرحمن داؤدی (۷۴)۔ اور سید وزیرالحسن عابدی (۷۵) نے ضخیم مجموعوں میں اس کا متن شائع کیا ہے لیکن اسے علیحدہ کتابی شکل میں ڈاکٹرسید معین الرحمن ہی نے شائع کیا ہے۔ انہوں نے پہلی تمام اشاعتوں کو سامنے رکھ کر یہ کام مکمل کیا۔ ’’لطائفِ غیبی‘‘ آیا غالب ؔ کی تصنیف ہے یا سیاحؔ کی۔ ڈاکٹر معین الرحمن نے مولانا غلام رسول مہرؔ ‘  مالک رامؔ ‘ مولانا عبدالمجید سالکؔ اور دیگر محقیقن کی آراء کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ یہ کتاب واقعی غالب کی ہے۔ فاضل مرتب نے اس کتاب کی تدوین و ترتیب میں نہایت محنت اور عمدگی سے کام کیا ہے۔ قاضی عبدالودو نے ’’لطائفِ غیبی ‘‘ کا صرف دیباچہ شائع کیا ہے (۷۶)۔
                                                                                                  *۔۔۔*O*۔۔۔
      (ج)         ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔      فارسی شاعری
غالب کو اُردو کی بجائے اپنی فارسی شاعری پر بہت ناز تھا۔ ایک جگہ انہوں نے کہابھی ہے کہ: ؂
                                                            فارسی بین تاببینی نقشہائے رنگ رنگ                                   بگزر از مجموعہء اُردو کہ بے رنگِ من است 
غالب کو بچپن ہی سے فارسی میں بڑی گہری دلچسپی تھی۔ مولانا حالی کے بقول‘ انہوں نے طالب العلمی کے دور میں فارسی شعر کہنا شروع کردیے تھے۔ اس زمانے میں انہوں نے ایک غزل کہی جس کی ردیف ’’کہ چہ‘‘ تھی۔ ان کے استاد شیخ معظم نے ’’کہ چہ‘‘ پر انہیں ٹوکا اور کہا:
’’کیا مہمل ردیف اخیتار کی ہے۔ ایسے بے معنی شعر سے کچھ فائدہ نہیں۔ مرزا یہ سن کر خاموش رہے۔ ایک روز ملا ظہوریؔ کے کلام میں ایک شعر ان کی نظر پڑ گیا جس کے آخر میں لفظ ’’کہ چہ‘‘ تھا۔ وہ کتاب لے کر دوڑے ہوئے استاد کے پاس آئے اور وہ شعر دکھایا۔ شیخ معظم ؔ اس کو دیکھ کر حیران رہ گئے اور مرزا سے کہا تم کو فارسی زبان سے خدادا مناسبت ہے‘ تم ضرور فکرِ شعر کیا کرو اور کسی کے اعتراض کی کچھ پرواہ نہ کرو‘‘(۷۷)۔
غالب ؔ نے لڑکپن میں زیادہ تر بیدلؔ کا کلام دیکھا تھا۔ چنانچہ جو روش بیدلؔ نے فارسی میں اختراع کی تھی اسی روش پر غالب ؔ نے فارسی بلکہ اُردو میں بھی چلنا اختیار کیا۔ بیدلؔ کے علاوہ وہ کئی اور فارسی شعراء سے بھی متاثر تھے‘ اس لیے ان کے فارسی کلام میں کئی اہل کمال کے رنگ جھلک رہے ہیں۔ غالب ؔ کی بہت سی مشہور غزلیں حافظؔ ‘ عرفیؔ ‘ نظیریؔ ‘ صائبؔ ‘ کلیمؔ ‘ ظہوریؔ ‘ حزیںؔ اور بیدلؔ کی زمینوں میں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود غالب ؔ کی غزلیں اپنے مخصوص مزاج اور منفرد اسلوب کی بناء پر ان سب سے منفرد نظر آتی ہیں۔ سید عابد علی عابدؔ کے بقول:
     ’’غالب ؔ کو فارسی پر واقعاً یہ قدرت حاصل ہے کہ جس رنگ میں چاہے شعر کہے اور اس کے باوجود اپنی انفرادیت قائم رکھے‘ اور ہر شعر پر گویا اپنی چھاپ لگا دے‘‘(۷۸)۔
غالبؔ دو زبانوں کے شاعر ہیں جیسا کہ اس زمانے میں اکثر شعراء ہوا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر حسرتیؔ ‘ شیفتہؔ ‘ مومنؔ ‘ امام بخش صہبائیؔ وغیرہ کے نام لیے جاسکتے ہیں‘ لیکن فارسی کے شاعر ہونے کی حیثیت سے ان لوگوں میں اور غالب میں ایک بڑا فرق ہے۔ غالبؔ نے اپنی شاعری کے صوری و معنوی حسن سے ہندوستان کے فارسی ادب کی پرانی عظمت کا چراغ ایسے وقت میں دوبارہ روشن کردیا جب وہ بجھنے کے قریب تھا۔ غالبؔ کے اس شاعرانہ کمال کا ایک ٹھوس نتیجہ یہ تھا کہ انہوں نے فکر و خیال اور جمالیات کی وہ زمین تیار کردی جس پر بعد میں اقبالؔ نے فارسی شاعری کے پھول مہکائے۔ غالب اگرچہ فارسی کی کلاسیکی شاعری سے متاثر تھے لیکن اکثر صورتوں میں یہ اثرات قصائد اور غزلیات کی بیرونی مماثلت تک محدود رہے‘ یعنی بحر‘ اوزان‘ ردیف و قافیہ وغیرہ کی حد تک۔ لیکن ان کے اسلوب کے تعین میں یہ بات نمایاں نظر آتی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ نئے طرزِ احسا س کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ کلاسیکی شعراء کے اسلحہء شعری سے کوئی چیز انہیں رجعت پسند نہیں بناسکی بلکہ غالب ؔ کے کلام میں متقدمین کی روایات نئی زندگی لے کر جلوہ افروز ہوئی ہیں۔ غالب ؔ کی فارسی شاعری ان کی خود پرستی کا شاخسانہ ہے وہ اپنے آپ کو اہل ہند سے جدا اور منفرد مانتے تھے‘ انہیں اس امر پر ناز تھا کہ ان کی زبان خالص ایرانی ہے۔ اس اعتبار سے انہوں نے ہندی محاورے اور روزمرے کا کوئی اثر قبول نہیں کیا۔ اُردو کی طرح فارسی شاعری میں بھی ان کی شوخ نگاری جابجا نظر آتی ہے جو انہیں اپنے اہل سبک میں قدرے نمایاں کردیتی ہے۔ اسی طرح فارسی دانی کے بہت سے اوصاف ان کی اُردو شاعری میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کی اکثر غزلوں کے اکثر اشعار متنوع اور بلند خیال ہوتے ہیں اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ ان کے اکثر اشعار پر کوئی ایک چھاپ نہیں ہوتی۔یہی اسلوب ان کی اُردو شاعری میں بھی موجود ہے۔ شیخ محمد اکرم ؔ کا خیال بھی یہی ہے کہتے ہیں:
’’اگرچہ ان کے ابتدائی اشعار اُردو میں ہیں لیکن مضمون اور زبان کی تمام خصوصیات فارسی شاعری کی ہیں۔ مرزا اپنے اُردو اور فارسی کلام میں وہ حدِ فاصل نہیں رکھتے تھے جو اس زمانے میں فارسی سے عوام کی ناواقفیت کی وجہ سے ہوگئی تھی۔ وہ ’’گل رعنا‘‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ میں نے اُردو شعر گوئی میں بھی وہی طریقہ اختیار کیا‘ جو فارسی شاعری میں روا رکھا تھا (۷۹)۔
غالب نے فارسی شاعری میں چھوٹی بڑی پانچ تصانیف ورثے میں چھوڑی ہیں۔
(i) دیوان (کلیات) فارسی    (ii) ابرِ گہربار     (iii) سبد چیں       (iv) دعائے صباح       (v) قطعہء غالب
ان میں سے پہلی تین تصانیف پاکستان میں مدون و مرتب ہوکر الگ حیثیت سے شائع ہوتی رہی ہیں (تفصیل آگے آرہی ہے) آخری دو میں ’’دعائے صباح‘‘ کو مولانا مرتضیٰ فاضل لکھنوی نے ’’کلیاتِ غالب فارسی‘‘ میں شامل کرکے شائع کیا ہے‘ اسی طرح ’’قطعہ غالب‘‘ کو سید وزیرالحسن عابدی نے ’’باغِ دودر‘‘ میں شامل کیا ہے۔ذیل میں ان تصانیف کی تدوین کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

(i).۔ دیوانِ فارسی غالب
غالب کی فارسی شاعری کا اولین دیوان اُن کی زندگی میں پہلی بار ۱۸۴۵ء میں شائع ہوا (۸۰)۔ ۵۰۶ صفحات کا یہ دیوان ۶۶۸۱ اشعار پر مشتمل ہے۔یہ دیوان دیباچے سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد صفحہ ۲۱ سے منظومات کا آغاز ہوتا ہے۔ ترتیب اس طرح ہے۔
۱۔.......قطعات............۴۱............. .۳۸۶ اشعار
۲۔.......مثنویات...........۵..................۶۵۵
۳۔.......فاتحہ...............۳..................۷۶
۴۔.......نوحہ...............۳..................۴۰
۵۔......ترکیب بند ..........۲..................۱۴۶
۶۔.......قصائد..............۳۱.................۱۸۶۱
۷۔......غزلیات...........۳۰۹..................۳۳۴۹
۸۔.....رباعیات..........۸۴.................۱۶۸

خاتمہ دیوان پر تین صفحات کی غالب کے ہاتھ کی لکھی تقریظ ہے۔ غالب کا یہ دیوان ان کی زندگی میں صرف ایک مرتبہ شائع ہوا۔ اس کے بعد یہ دیوان اپنی اولین حالت میں کبھی شائع نہیں ہوا‘ اور نہ ہی اسے اپنی حالت میں ترتیب دیا گیا۔
اس کے بعد جو فارسی کلام فراہم ہوا‘ بجائے اس کے کہ اسے الگ دیوان کی حیثیت دی جاتی ۱۸۶۳ء میں کلیات کی شکل میں شائع کردیا گیا۔ اس میں پرانا اور نیا کلام جمع کردیا گیا (۸۱)۔ نواب ضیا الدین احمد نیر ؔ رخشاں خاں کلیات کے مرتب تھے اور اسے ’’کلیات غالب فارسی‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ ۵۶۰ صفحات پر مشتمل اس کلیات میں اشعار کی تعداد ۱۰۵۱۶ہے۔ کلیات کی ترتیب اس طرح ہے:
.۱۔............دیباچہ............ایک عدد............۱۵۲ اشعار
.۲۔............قطعات............۵۹................۶۷۲
.۳۔............فاتحہ (۸۲) ۲..................۶۵
.۴۔............نوحہ................۵.................۶۲
.۵۔............مخمس..............ایک................۲۵
.۶۔............ترکیب بند..........۳.................۲۳۰
.۷۔............ترجیع بند............ایک................۵۶
.۸۔............منثویات............۱۱................
۱۶۸
خاتمہ دیوان پر تین صفحات کی غالب کے ہاتھ کی لکھی تقریظ ہے۔ غالب کا یہ دیوان ان کی زندگی میں صرف ایک مرتبہ شائع ہوا۔ اس کے بعد یہ دیوان اپنی اولین حالت میں کبھی شائع نہیں ہوا‘ اور نہ ہی اسے اپنی حالت میں ترتیب دیا گیا۔
اس کے بعد جو فارسی کلام فراہم ہوا‘ بجائے اس کے کہ اسے الگ دیوان کی حیثیت دی جاتی ۱۸۶۳ء میں کلیات کی شکل میں شائع کردیا گیا۔ اس میں پرانا اور نیا کلام جمع کردیا گیا (۸۱)۔ نواب ضیا الدین احمد نیر ؔ رخشاں خاں کلیات کے مرتب تھے اور اسے ’’کلیات غالب فارسی‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ ۵۶۰ صفحات پر مشتمل اس کلیات میں اشعار کی تعداد ۱۰۵۱۶ہے۔ کلیات کی ترتیب اس طرح ہے:
.۱۔............دیباچہ............ایک عدد............۱۵۲ اشعار
.۲۔............قطعات............۵۹................۶۷۲
.۳۔............فاتحہ (۸۲) ۲..................۶۵
.۴۔............نوحہ................۵.................۶۲
.۵۔............مخمس..............ایک................۲۵
.۶۔............ترکیب بند..........۳.................۲۳۰
.۷۔............ترجیع بند............ایک................۵۶
.۸۔............منثویات............۱۱................
۲۰۴۳

.۹۔۹۔............قصائد..............۶۴............۳۶۵۸
.۱۰۔............غزلیات............۳۲۲............۳۴۹۵
.۱۱۔............رباعیات............۱۰۵..............۲۱۰

کلیات کی اولین اشاعت میں اغلاط بہت تھیں‘ اگرچہ غالب کو اغلاط طباعت پر بے اطمینانی تھی لیکن اس کے باوجود وہ اسے اپنی عمر بھر کی پونجی تصور کیا کرتے تھے۔ غالبؔ کی وفات کے بعد کلیات کی ترتیب و تدوین کاکام مسلسل جاری رہا۔ لکھنو سے اس کی مزید تین اشاعتیں منظرِ عام پر آئیں (۸۳) اور یہی سلسلہ قیام پاکستان کے بعد بھی جاری رہا۔پاکستان میں کلیات کو بھی مدون کیا گیا اور کچھ انتخاب بھی ترتیب دے گئے۔ ذیل میں ترتیب و تدوین کا یہ سارا جائزہ پیش کیا جارہا ہے جسے اشاعتوں کی زمانی ترتیب کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے۔
-1. کلیاتِ غالب (فارسی):     پاکستان میں پہلی مرتبہ غالب کے کلامِ فارسی کی کلیات کو مرتب کرنے کا اعزاز مولانا غلام رسول مہرؔ کو حاصل ہوا۔ انہوں نے یہ کلیات پہلی مرتبہ ۱۹۶۵ء میں شیخ مبارک علی تاجر و ناشر کتب‘ لاہور سے شائع کی۔ صفحات کی کل تعداد ۶۶۷ ہے۔ ابتدائی ۱۴ صفحات میں ’’احوال‘‘ کے عنوان سے مولانا مہرؔ نے کلیات کی غرض و غایت اور غالب کے فارسی کلام کی ضرورت و اہمیت پر تبصرہ کیا ہے۔ اس میں انہوں نے غالب کے مختصر سوانح کے بعد ان کی فارسی شاعری کی خصوصیات بیان کی ہیں۔ اس کے بعد کم و بیش نوے (۹۰) صفحات (صفحہ ۱۵ تا ۱۰۴) پر ’’غالب کے فارسی کلام پر ریویو‘‘ کے عنوان سے مولانا الطاف حسین حالی کا جامع تبصرہ پھیلا ہوا ہے۔ ازاں بعد غالب کے ہاتھ کا لکھا فارسی دیباچہ شامل کیا گیا ہے‘ اور اس سے آگے غالب کا فارسی کلام شروع ہوجاتا ہے۔ غالب کی فارسی شاعری جو اس کلیات میں شامل ہے اس کی ترتیب اس طرح ہے۔
.(۱) قطعات    (۲) مخمس    (۳) ترکیب بند     (۴) مثنویات     (۵) قصائد      (۶) غزلیات      (۷) رباعیات
ان سات شعری اصناف میں موجود اشعار کی تعداد دس ہزار پانچ سو سولہ (۱۰۵۱۶) ہے۔ کلیات کے آخر میں غالب کی اپنی تقریظ ہے‘ اس کے بعد مجروحؔ کی تحریر کردہ ایک تقریظ شامل کی گئی ہے۔ مولانا مہرؔ کا یہ کلام ترتیب و تدوین کے ضمن میں بیش بہا کارنامہ ہے۔ کہیں کہیں کتابت کی اغلاط در آئی ہیں۔ بحیثیت مجموعی کتابت اور طباعت معیاری ہیں۔
-2. کلیاتِ غالب فارسی (تین جلدیں):      سید مرتضیٰ حسین فاضل لکھنوی نے غالب کے فارسی کلام کو تین جلدوں میں مرتب کرکے شائع کیا ہے۔ یہ کلیات مجلس ترقی ادب‘ لاہور سے ۱۹۶۷ء میں شائع ہوئی۔
’’جلد اوّل‘‘ میں قطعات ‘ مثنویات‘ فاتحہ‘ نوحہ‘ مخمس‘ ترکیب بند‘ ترجیع بند اور کچھ غزلیات وغیرہ یکجا کرکے شائع کی گئی ہیں۔ اس جلد میں صفحات کی تعداد ۵۱۲ ہے۔ ابتداء میں (صفحہ ۱ تا ۳۲) ’’پیش گفت‘‘ کے عنوان سے فاضل مرتب نے غالب کے خاندان ‘ ولادت‘ شاعری کے آغاز اور فارسی شعر گوئی کے بارے میں لکھنے کے ساتھ ساتھ ترتیبِ کلام فارسی کے مراحل بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد سید عابد علی عابدؔ کا ۱۴۰ صفحات پر پھیلا ہوا ’’مقدمہ‘‘ ہے جس میں غالب کی شخصیت اور فن پر اُردو میں مفصل بحث کی گئی ہے۔ اس جلد میں غالب کا جو کلام شامل کیا گیا ہے اس کی متداول ترتیب کے ساتھ ساتھ دَوری ترتیب کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ یعنی پہلے ۱۸۲۳ ء سے ۱۸۴۵ء تک کاکلام‘ اس کے بعد ۱۸۴۵ء سے ۱۸۶۳ء تک کا کلام اور آخر میں ۱۸۶۳ء سے ۱۸۶۹ء تک کا کلام شامل کیا گیا ہے۔ اس کلیات میں قابلِ وضاحت باتوں کو حاشیے میں جگہ دی گئی ہے۔

’’جلد دوم‘‘    ۴۰۱ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں صرف قصائد شامل کیے گئے ہیں‘ جن کی تعداد اکہتر (۷۱) ہے۔ یہ قصائد بہادر شاہ ظفر‘ سرکاری افسران‘ ملک وکٹوریہ ‘ نوابوں‘ مہاراجوں اور دیگر افراد کی مدح میں لکھے گئے ہیں۔ قابلِ وضاحت باتوں کو حاشیے میں درج کیا گیا ہے۔ اس جلد کی ترتیب میں اہم کتاب اور مقالات و مضامین کے علاوہ معاصر اخبارات و رسائل کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کلیات‘ طبع اوّل (۸۴)۔ سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔
’’جلد سوم‘‘ بھی پہلی دوجلدوں کے ساتھ شائع ہوئی۔ اس جلد میں کلام ۴۱۸ صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ مزید پانچ صفحات تقریظ از غالب اور تاریخ اختتام دیوان از میر مہدی مجروح پر مشتمل ہیں۔ اس جلد میں غالب کی ۳۳۴ غزلیات‘ ۱۳۲ رباعیات اور ان کے علاوہ ابیات وغیرہ شامل ہیں۔ کلیات کی یہ جلد دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا غزلیات پر مبنی ہے جبکہ دوسرے حصے میں رباعیات اور دوسری اصناف شامل ہیں۔ اس جلد کی ترتیب معاصر نسخوں کے علاوہ مقالات‘ مضامین ‘ رسائل اور متفرقاتِ غالب کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے۔ فاضل مرتب نے ضروری وضاحتیں حواشی میں درج کردی ہیں۔
بحیثیت مجموعی مولانا فاضل لکھنوی کا یہ کام ترتیب و تدوین کے عمدہ معیار پر مبنی ہے۔ اب تک فارسی کلیات پر جو کام ہوا ہے‘ ان سب میں زیر نظر کام نہایت جامع اور ہر اعتبار سے قابلِ اعتبار ہے۔
-3. کلیاتِ غالب(غزلیاتِ فارسی):     سید وزیرالحسن عابدیؔ کی مرتبہ یہ کلیات صرف غالب کی فارسی غزلیات کا مجموعہ ہے‘ جسے پہلی مرتبہ مکتبہ میری لائبریری‘ لاہور سے غالب کی صد سالہ برسی کے موقع پر ۱۹۶۹ء میں شائع کیا گیا۔ یہ کلیات ۵۱۳ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ ایک لحاظ سے غالب کی فارسی غزلوں کا تحقیقی مجموعہ ہے‘ اس میں غالب کی غزلیات کو سات ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حواشی میں متنی اغلاط کی نشاندہی کی گئی ہے اور جہاں ممکن ہوسکا ہے غزل کی تاریخ بھی درج کردی گئی ہے۔ حاشیوں کے حوالے زیادہ تر ’’گلِ رعنا‘‘ کے ہیں۔ کلام سے پہلے ایک جامع شذرہ قلم بند کیا گیا ہے‘ جس میں علائم و رموز‘ ضمیموں کی تفصیل ‘ اختلافِ نسخ‘ اشاراتِ غالب‘ انتقاداتِ غالب‘ فرہنگِ غالب‘ عروضِ غالب وغیرہ جیسے عنوانات کے تحت سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ آخر میں اشخاص و اماکنِ غزلیات اور مآخذ کی تفصیل درج ہے۔
بحیثیت مجموعی یہ کلیات نہایت عرق ریزی اور محنت کے ساتھ مدون کی گئی ہے جس میں تحقیقی اصولوں کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کاوش پاکستان میں ذخیرہء غالبیات میں ایک اہم اضافہ ہے۔
-4. غزلیاتِ فارسی (غالب):    سید وزیرالحسن عابدیؔ کا مرتبہ یہ وہی مجموعہ ہے جسے مکتبہ میری لائبریری نے لاہور سے شائع کیا۔ اسے دوبارہ کچھ تبدیلیوں کے ساتھ (جس میں نام کی تبدیلی بھی شامل ہے) مجلسِ یادگارِ غالب‘ پنجاب یونیورسٹی‘ لاہور سے ۱۹۶۹ء میں شائع کیا گیا۔ یہ مجموعہ بھی غالب کی فارسی غزلیات پر مشتمل ہے۔ اس میں فارسی کلام ۴۵۵ صفحات پر مشتمل ہے۔ ابتداء میں ۴۸ صفحات پر غالب کی زندگی اور اُن کے فن کا فکری جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اسے غالب کی صد سالہ برسی کے موقع پر ترتیب دے کر شائع کیا گیا ۔ بحیثیت مجموعی طباعت اور کاغذ کے معیار کو بطورِ خاص ملحوظ رکھا گیا ہے۔
-5. قصائد و مثنویاتِ فارسی (غالب):   مولانا غلام رسول مہرؔ نے یہ مجموعہ ترتیب دیا اور مجلسِ یادگارِ غالب‘ پنجاب یونیورسٹی لاہور نے ۱۹۶۹ء میں اسے شائع کیا۔ اس مجموعے میں غالب کے تمام فارسی قصائد اور مثنویات کو یکجا کردیا گیا ہے۔ صفحات کیتعداد ۴۸۰ ہے۔ اس میں غالب کے قصیدوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حصہ اوّل میں قصائد کی تشبیبیں یکجا کردی گئی ہیں‘ جو مختلف عنوانات پر مشتمل ہیں مثلاً توحید‘ تصوف و حکمت‘ موسموں اور منظروں کی تصویر کشی وغیرہ۔ حصہ دوم میں قصائد کے ان اشعار کا انتخاب شامل ہے جن میں غالب نے اپنے غیر معمولی کمالات کی داستاں سرائی اور زمانے کی قدر ناشناسی کی دلآویز تصویریں پیش کی ہیں۔ اس حصے میں خاندانی عظمت کی طرف اشارے بھی کیے گئے ہیں۔ قصائد کا تیسرا اور آخری حصہ مدحیہ اشعار پر مشتمل ہے۔حصہ مثنویات میں غالب کی وہ گیارہ مثنویاں جو کلیاتِ فارسی میں شامل ہوچکی تھیں‘ شامل کی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ وہ مثنویاں بھی لی گئی ہیں جو کلیات کی طباعت کے بعد کہی گئی تھیں۔ اسی طرح کلیاتِ نثر فارسی سے بھی بعض مثنویاں لی گئی ہیں۔ یوں اس جلد میں مولانا مہرؔ نے نہایت تحقیق اور بصیرت کے ساتھ غالب کے قصائد اور مثنویات کو ادھر اُدھر سے اکٹھا کرکے یکجا کردیا ہے۔بحیثیت مجموعی یہ کتاب ترتیب و تدوین کا عمدہ شہکار ہے اور پاکستان میں غالب شناسی کی طرف اہم قدم ہے۔
-6. قطعات ‘ رباعیات‘ ترکیب بند‘ ترجیع بند‘ مخمس: مولانا غلام رسول مہرؔ کی مرتبہ یہ کتاب کلامِ غالب کے فارسی کلیات کا ایک اہم جزو ہے۔ جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے‘ اس میں غالب کی فارسی غزلیات‘ قصائد اور مثنویوں کے سوا باقی تمام اصناف کو یکجا کردیا گیا ہے۔ غالب کی صد سالہ برسی کے موقع پر مجلسِ یادگارِ غالب‘ پنجاب یونیورسٹی ‘ لاہور نے ۱۹۶۹ء میں اسے شائع کیا۔ صفحات کی تعداد‘ ۲۵۲ ہے۔ اس مجموعے میں سب سے پہلے کلیاتِ فارسی کے قطعات ہیں اور اس کے بعد ’’سبدچیں‘‘ اور ’’باغِ دودر‘‘ کے قطعات اور آخر میں وہ قطعات شامل کیے گئے ہیں جو کلیاتِ نثرِ فارسی میں جا بجا بکھرے پڑے تھے یا دیگر مآخذ سے فراہم ہوئے تھے۔ اس مجموعے میں جو قطعات تاریخی تھے یا اگر کسی قطعے میں کوئی معنوی پیچیدگی موجود تھی‘ تو ایسے مشکل مقامات اور مشکل الفاظ و تراکیب کی اختصار کے ساتھ حاشیے میں تشریح بھی کردی گئی ہے۔ قطعات کے علاوہ باقی اصناف کے سلسلے میں بھی یہی اصول کارفرما نظر آتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ مجموعہ زیادہ جامع اور وقیع ہوگیا ہے۔ مولانا مہرؔ کا یہ کام ذخیرہ غالبیات میں اہم اضافہ ہے۔ بلاشبہ اس سے غالب شناسی کی روایت پروان چڑھتی نظر آتی ہے۔
-7. حافظ و غالب:   چوہدری نبی احمد باجوہؔ کی یہ کتاب آکسفورڈاینڈ کیمبرج پریس ‘ لاہور سے ۲۲؍فروری ۱۹۷۴ء کو شائع ہوئی۔ ۳۰۲ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں حافظؔ و غالب ؔ کے فارسی اشعار کا انتخاب شامل کیا گیا ہے۔ حافظ ؔ و غالبؔ کا یہ انتخاب دونوں شعراء کی شخصیت میں شعر و حکمت اور تصوف کے امتزاج کا مظہر ہے۔ اس انتخاب میں کہیں کہیں ہم وزن اور ہم قافیہ و ردیف غزلوں کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس انتخاب میں ہم طرح غزلیں بھی ہیں اور متنوع مضامین پر مشتمل دونوں شعراء کے اشعار بھی درج کیے گئے ہیں۔ ان اشعار کو موضوعاتی ترتیب کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ متفرق اشعار سو صفحات پر مشتمل ہیں۔ اس طرح دونوں شعراء کے کل دو ہزار اشعار ہیں‘ جن میں معارفِ حافظؔ اور افکارِ غالب ؔ درخشاں اور نمایاں ہیں۔ پاکستان میں غالب شناسی کے باب میں یہ ایک منفرد کوشش ہے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب ذخیرہء غالبیات میں ایک نادر اضافہ ہے۔ کتاب کی طباعت اور کاغذ کا معیار قابلِ ستائش ہے۔
ابرِ گہربار.....(ii). .
یہ مثنوی اگرچہ کلیاتِ فارسی میں شامل ہے لیکن غالب کی زندگی میں علیحدہ کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکی ہے(۸۵)۔ اس اعتبارسے اسے غالب کی الگ شعری تصنیف بھی تصور کیا جاتا ہے۔اشعار کی تعداد ۱۰۹۸ ہے۔ غالب نے اس مثنوی کو کتابی شکل میں لانے کے لے ایک مختصر فارسی ’’دیباچہ‘‘ اور بطور خاتمہ ایک مختصر ترین ’’تقریظ‘‘ لکھی تھی۔ اس مثنوی کے لکھنے کا بنیادی مقصد رسول اکرم حضرت محمد ﷺکے غزوات کو احاطہء نظم میں لانا تھا لیکن بوجوہ یہ مثنوی ناتمام رہی اور اسی ناتمام حالت میں شائع کردی گئی۔ غالب کی زندگی میں یہ مثنوی صرف ایک بار شائع ہوئی۔ ان کی وفات کے بعد اسے علیحدہ کتابی شکل میں شائع کرنے کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ البتہ پاکستان میں اس کی ترتیب و تدوین کاکام ہوا ہے‘ تفصیل یوں ہے:
-1. مثنوی ابرِ گہربار:    شیخ اصغر علی اسے مرتب کرکے اورینٹل کالج میگزین‘ لاہور کی اشاعت مئی ۱۹۵۸ء میں شائع کرایا۔ پاکستان میں یہ اس مثنوی کی پہلی اشاعت تھی۔ فاضل مرتب نے یہ مثنوی حواشی کے ساتھ شائع کی جسے ادبی دنیا میں بہت سراہا گیا۔ یہ کاوش ترتیب و تدوینِ متن کا عمدہ شہکار ہے۔
-2. مثنوی ابرِ گہربار:  سید مرتضیٰ حسین فاضل لکھنوی اس کے دوسرے مرتب ہیں۔ انہوں نے ۱۹۶۶ء میں اولاً اسے ایک سہ ماہی رسالے میں چار قسطوں میں شائع کیا (۸۶)۔ اور پھر علیحدہ کتابی شکل میں اسے منظرِ عام پر لائے۔ انہوں نے اس کی
ترتیب و تدوین میں نہایت محنت اور عرق ریزی سے کام لیا ہے۔
-3. مثنوی ابرِ گہربار:   سید مرتضیٰ حسین فاضل لکھنوی نے ترتیب و مقدمہ کے ساتھ اسے کتابی شکل میں شائع کیا۔ سال اشاعت اور مقام اشاعت درج نہیں۔ اس کا ابتدائیہ تحسین ؔ سروری نے لکھا اور مقدمہ فاضل لکھنوی کا لکھا ہوا ہے۔ اس میں انہوں نے اس مثنوی کی خصوصیات اور اس کے اہم ادبی نکات کو اجاگر کیا ہے۔ قبل ازیں یہ مثنوی چار اقساط میں کراچی کے ایک سہ ماہی رسالے (اُردو) میں بھی شائع ہوچکی ہے۔
سَبَدچیں. (iii).
مثنوی ابرِ گہربار کی جداگانہ اشاعت (دہلی:۱۸۶۴ء) کے آخر میں دو قصائد‘ کچھ قطعات اور رباعیات کا اضافہ کردیا گیا تھا۔ یہی غیر مرتب کلام ’’سبدچیں‘‘ کی اشاعت کا باعث بنا۔ غالب کی زندگی میں اس کا صرف ایک ایڈیشن شائع ہوا (۸۷)۔ سبدچیں میں غالب کا وہ کلام شامل ہوا ہے‘ جو کچھ تو کلیات فارسی کی ابتدائی اشاعت کے بعد تخلیق ہوا اور پھر کچھ غالب کے احباب کے پاس غیر مطبوعہ حالت میں موجود تھا۔ اس مجموعے میں اشعار کی تعداد ۷۵۳ ہے۔ سبدچیں کی پہلی اشاعت کے ستر برس بعد تک اسے نہ تو الگ شائع کیا گیا اور نہ ہی ’’کلیاتِ فارسی‘‘ کے کسی ایڈیشن میں شامل کیا گیا۔ چنانچہ مالک رام نے ۱۹۳۸ء میں اسے ازسرِنو ترتیب دے کر شائع کیا (۸۸)۔ پاکستان میں اس کی صرف ایک اشاعت عمل میں آئی ہے‘ جس کی تفصیل اس طرح سے ہے:
-1. سبَدچیں (تصحیح وتحقیق):   اسے سید وزیرالحسن عابدیؔ نے پہلی بار غالب صدی کے موقع پر ترتیب دے کر مجلسِ یادگارِ غالب‘ پنجاب یونیورسٹی‘ لاہور سے ۱۹۶۹ء میں شائع کیا۔ ابتداء میں فاضل مرتب کی طرف سے ایک دیباچہ ہے جس میں انہوں نے اس تصنیف کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی ہے اس کے بعد دیباچہ از غالب اور آگے کلام درج ہے۔ سبدچیں میں چار قصائد‘ ایک ترکیب بندایک ترجیع بند‘ ایک مثنوی (بصورت قطعہ) انیس قطعات‘ دس غزلیں‘ تیرہ فردات اور آٹھ رباعیاں شامل ہیں۔ اس طرح عابدی نے اشعار کی کل تعداد ۷۵۳ بتائی ہے (۸۹)۔ یہ مجموعہ ۱۷۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کی ترتیب و تدوین میں تحقیق کے اصولوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ کتاب پاکستان میں غالب شناسی میں اہم مقام رکھتی ہے۔
*۔۔۔*    ۔۔۔*                                            
.(د). فارسی نثر
غالب ایک موجد اور معمار انشاء پرداز تھے۔ اُردو کے ساتھ ساتھ انہوں نے فارسی نثر میں بھی کمال حاصل کیا۔ فارسی میں ان کے خطوط اپنی انفرادیت کی بناء پر ان کی ادبی شخصیت کو سنوارنے میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ فارسی خطوط میں زبان و بیان اور موضوع کی جو برجستگی نظر آتی ہے وہ ایک نابغہ فنکار کی مہارت ہے۔ نثری اسلوب میں انہوں نے قافیہ پیمائی بھی کی ہے۔ سہل نثر بھی لکھی ہے۔ مدلل نثر بھی تحریر کی ہے‘ مکالمہ‘ ڈراما اور داستان گوئی کا رنگ بھی پیدا کیا ہے۔ ان کی فارسی مکاتیب موضوعاتی تکرار کے باوجود اعلیٰ نثری خصوصیات کے حامل نظر آتے ہیں۔ خطوط میں ان کی شخصیت کی جھلکیاں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہیں ‘ یعنی ان کے مجمل سوانح‘ پسند و ناپسند‘ سوزوساز‘ تصورات و تعصبات اور ان کے عہد کی مجلسی ‘ تہذیبی اور کسی قدر تاریخی صورت حال کے کئی پہلو واضح ہوتے ہیں۔ سید وزیرالحسن عابدیؔ نے غالب کی فارسی خطوط نگاری کے بارے میں جامع تبصرہ ان الفاظ میں کیا ہے:
’’غالب۔۔۔۔۔۔انیسویں صدی کے ربع اوّل میں فارسی نامہ نگاری میں صاحبِ طرز تھے‘ ان کا اسلوب ’’القاب و آدابِ متعارفہء رسمیہ‘‘ والے روایتی اور رائج الوقت اسلوب کے خلاف تھا اور اس کی بنیاد اس ادبی عقیدے پر تھی کہ القاب و آداب خیریت گوئی اور عافیت جوئی ‘ حشوِ زائد ہے۔ وہ اپنے اس روایت شکن اسلوب میں پوری اثر آفرینی پر قادر تھے جسے انہوں نے ’’ساحری‘‘ کہا ہے‘‘(۹۰)۔
ان کا اسلوب نامہ نگاری جو عام روایتی روش سے بالکل مختلف تھا معاشرے میں جانا پہچانا جاتا تھا اور ان کے اسلوبِ بیاں کے ادا شناس ان کی اس خصوصیت سے واقف تھے۔
خطوط کے ساتھ ساتھ دیگر نثری فتوحا ت بھی غالب کی فارسی دانی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اُردو کے مقابلے میں فارسی کو ترجیح دینے کا پندار ان کی فارسی نثر میں جگہ جگہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فارسی نثر کا اسلوب ان کی اُردو تحریروں پر فائق تر نظر آتا ہے۔ یہ اسلوب روانی‘ سلاست‘ بے ساختہ پن‘ غیر معمولی ظرافت اور حسن بیاں سے مزین ہے۔ اس لحاظ سے فارسی زبان پر ان کا حاکمانہ عبور حیرت انگیز ہے۔
بحیثیت مجموعی غالب کی فارسی نثر نگاری میں مکالماتی انداز‘ شاعرانہ پیرایہء بیان اور مقفٰی و مسجع عبارت آرائی کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے ہاں تراکیب‘ تشبیہات اور استعارات کی ندرت موجود ہے۔ انہوں نے فارسی محاورات کو بھی کثرت سے برتا ہے‘ یہ دراصل ان کے غیر شعوری طور پر پھیلے ہوئے اجتماعی لسانی تجربے میں مشارکت کا نتیجہ تھا کیونکہ ان کے فارسی اسلوبِ نثر پر ’’سہ نثر ظہوری‘‘ اور ’’انشائے ابوالفضل‘‘ کے اثرات بخوبی دیکھے جاسکتے ہیں۔فارسی نثر میں غالب کی چار باقاعدہ تصانیف ہیں۔‘

ا) پنج آہنگ    (۲)   مہر نیم روز         (۳) دستنبو        (۴) قاطع برہان / درفشِ کاویانی۔
ذیل میں ان کتب کا علیحدہ علیحدہ تعارف اور پاکستان میں ان کی ترتیب و تدوین کی تفصیل بیان کی جارہی ہے۔ یہ جائزہ اشاعتوں کی زمانی ترتیب کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے۔
پنج آہنگ...(i).
یہ پانچ حصوں پر مشتمل غالب کی متفرق فارسی تحریروں کا مجموعہ ہے۔ ان حصوں کا تعارف یوں ہے:
آہنگِ اوّل: مرزاعلی بخش خاں نے فرمائش کی کہ اس کے لیے ایسے تمام کلمات جمع کردیں جو رسمی القاب و آداب‘ شکرو شکوہ اور شادی و غم کے موقوں پر خطوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس پر غالب نے آہنگِ اوّل مرتب کیا اور القاب و آداب‘ تعزیت و تہنیت ‘ شکر و شکوہ‘ دعا و عتاب وغیرہ کے لیے فقرے درج کردیے۔
آہنگِ دوم:   یہ حصہ چار زمروں پر مشتمل ہے۔ زمرہ اوّل میں مختصراً مصادر کی حقیقت اور صَرف کے چھ اصول بیان کیے گئے ہیں۔ زمرہء دوم میں زمرہء اوّل کی توضیح و تشریح ہے اور مثالاً ۱۵۰ فارسی مصادر کی تعریف کی گئی ہے۔ زمرہء سوم میں بعض مصادر و مصطلحات دے کر ان کی تشریح کی گئی ہے۔ اور ان کے محلِ استعمال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ زمرہء چہارم میں الفاظ کے معنی دیے گئے ہیں۔
آہنگِ سوم:   اس حصے میں غالب نے اپنے دیوانِ فارسی سے ایسے اشعار منتخب کیے ہیں جو خطوط یا دوسری نثری تحریروں میں آرائش کلام کے لیے مفید اور کارآمد ہوسکتے تھے۔ ہر شعر کے عنوان میں لکھ دیا گیا ہے کہ یہ کس موقع پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
آہنگِ چہارم:   اس حصے میں وہ نثر پارے ہیں جو غالب نے خود اپنی تصانیف کے آغاز اور خاتمے میں یا دوسرے احباب کی کتابوں کے دیباچے یا تقریظ کے طور پر قلم بند کیے۔
آہنگِ پنجم:   یہ حصہ ۷۱ احباب کے نام فارسی خطوط پر مشتمل ہے۔
غالب کی زندگی میں ’’پنج آہنگ‘‘ دو مرتبہ شائع ہوئی (۹۱)۔ ترتیب و تدوین کا یہ سلسلہ غالب کی وفات کے بعد بھی جاری رہا لیکن اسے ’’کلیاتِ نثرِ غالب‘‘ کے عنوان سے شائع کیا جاتا رہا (۹۲)۔ اسی طرح ’’پنج آہنگ‘‘ کے ’’آہنگِ پنجم‘‘ کے خطوط کچھ مدت کے لیے سلطنت آصفیہ (دکن) کے امتحاناتِ علوم شرقیہ کے نصاب میں شامل رہے ہیں اس لیے اسے الگ کتابی شکل میں بھی شائع کیا گیا (۹۳)۔ پاکستان میں اس کی ایک اشاعت ہوئی ہے جس کی تفصیل اس طرح ہے۔
-1. پنج آہنگ(تدوین نو وتصحیح وتحقیق):   سید وزیر الحسن عابدی نے اسے مرتب کیا اور غالب کی صد سالہ برسی کے موقع پر مجلسِ یادگارِ غالب‘ پنجاب یونیورسٹی‘ لاہور نے ۱۹۶۹ء میں اسے شائع کیا۔ ۷۱۴ صفحات پر مشتمل یہ مجموعہ نہایت عرق ریزی اور تحقیق کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ حسبِ ضرورت حواشی کا اہتمام بھی کیا گیا ہے اور کہیں کہیں مشکل الفاظ کے معنی بھی دیے گئے ہیں۔ فہرست مندرجات کے بعد فاضل مرتب کی طرف سے ایک دیباچہ ہے جس میں انہوں نے غالب کی فارسی نثر اور انشاء پردازی کی خصوصیات بیان کی ہیں۔ ساتھ ہی کتاب کی اہمیت و افادیت کے بارے میں سیر حاصل تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد دیباچہ از مرزا علی بخش رنجور شامل کیا گیا ہے۔ بحیثیت مجموعی عابدی کی تدوین اور تصحیح و تحقیق سے اس کتاب کی اہمیت میں چنداں اضافہ ہوگیا

۔۔ مہر نیم روز.(ii).
تیموری خاندان کی تاریخ ہے جو غالب نے بہادر شاہ ظفر کی فرمائش پر رقم کی۔ غالب نے اس تاریخ کو دو حصوں میں شائع کرنے کا قصد کیا تھا۔ پہلے حصے کو نصیر الدین ہمایوں کے عہد تک مرتب کرکے ’’مہرنیم روز‘‘ کے نام سے شائع کیاگیا۔ جبکہ دوسرے حصے کو اکبر اعظم سے بہادر شاہ ظفر تک کے حالات کے ساتھ ’’ماہِ نیم ماہ‘‘ کے عنوان سے ترتیب دینا چاہتے تھے لیکن شاید جنگِ آزادی کے بعد کے حالات سے مایوس ہوکر وہ نہ تو یہ حصہ لکھ سکے اور نہ ہی منظر عام پر آسکا۔ ’’مہر نیم روز‘‘ کا اولین ایڈیشن غالب کی زندگی میں شائع ہوا (۹۴)۔ اور یہی سلسلہ ان کی وفات کے بعد بھی جاری رہا۔ قیامِ پاکستان سے قبل اس کے تین ایڈیشن شائع ہوئے (۹۵) ۔ اسی طرح ’’کلیاتِ نثرِ غالب‘‘ میں بھی ’’مہرِ نیم روز‘‘ کو شامل کرکے شائع کیا گیا (۹۶)۔ پاکستان میں اس کی ایک اشاعت ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں اس کتاب کے کچھ اُردو تراجم بھی شائع ہوئے جنہیں متعلقہ باب میں زیرِ بحث لایا گیا ہے۔
-1. مہرِنیم روز:   عبدالشکوراحسن نے نہایت احسن طریقے سے اسے مرتب کرکے غالب کی صد سالہ برسی کے موقع پر مجلسِ یادگارِ غالب‘ پنجاب یونیورسٹی‘ لاہور سے ۱۹۶۹ء میں شائع کیا۔ ۲۰۸ صفحات پر مشتمل اس کتاب کو حواشی کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ آغاز میں فاضل مرتب کی طرف سے ایک ’’مقدمہ‘‘ ہے جس میں انہوں نے غالب کی تاریخ نویسی کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے اسلوبِ بیاں کی خصوصیات واضح کی ہیں۔ نیز کتاب کے محاسن اور چیدہ چیدہ نکات پر بھی سیر حاصل تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ’’زمزمہء نعت‘‘ اور ’’ترانہء مدح‘‘ سے کتاب کا آغاز ہوتا ہے۔ اختتام پر ’’فہرست افراد‘‘ , ’’فہرست اماکن‘‘ اور ’’فہرست کتب و رسائل‘‘ کے عنوانات کے تحت اشاریے دیے گئے ہیں۔ اس کے بعد ’’فہرست اشایرِ طبقات و فرقِ اقوام و ملل‘‘ درج ہے۔ پھر ’’فہرست سلطنت ہاوخانوادہ ہا‘‘ شامل کی گئی ہے۔ اس طرح ’’فہرست ادوار‘‘ , ’’فہرست زبانہا‘‘ , ’’فہرست رودخانہ ہا‘‘ اور آخر میں ’’فہرست منابع و مآخذ‘‘ شامل کرکے کتاب کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ بحیثیت مجموعی فاضل مرتب نے کتاب کی تصحیح و تدوین میں عرق ریزی سے کام لیا ہے۔ اس طرح یہ کتاب ذخیرہء غالبیات میں اہم اضافہ ہے۔
دستنبو.(iii).
یہ کتاب غالب نے ۱۸۵۷ء کے خونی ہنگامے کے تناظر میں ایک مختصر روزنامچہ کی حیثیت سے رقم کی تھی۔ غالب کی زندگی میں اس کے تین ایڈیشن شائع ہوئے (۹۷)۔ اس کتاب کی غرضِ تصنیف غالب کے نزدیک قلعہ معلی سے اپنے تعلق کے داغ کو مٹانا اور تحریکِ آزادی کو ’’رستخیزِ بے جا‘‘ قرار دے کر انگریز حکام کی نظر میں سرخرو ہونا تھا۔ اس لیے ’’دستنبو‘‘ میں غالب نے جگہ جگہ انگریزوں کی چیرہ دستیوں کے لئےعذر وضع کیے ہیں او ران کے مظالم کے لیے جواز پیدا کرکے انہیں معصوم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ اس کتاب سے ایک طرف غالب کے کچھ سوانح پر روشنی پڑتی ہے اور دوسری طرف ان کے افتادِطبع کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ غالب کی وفات کے بعد اسے الگ سے نہیں بلکہ ’’کلیاتِ نثرِ غالب‘‘ میں شامل کرکے شائع کیا گیا (۹۸)۔ البتہ پاکستان میں اس کتاب کی کچھ الگ اشاعتیں منظرِ عام پر آئی ہیں‘ جن کی تفصیل یہ ہے۔