ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

مختصر تاریخی جائزہ شہر فرید کوٹ مٹھن

 تحقیق و تحریر ڈاکٹر پروفیسر شکیل پتافی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ترتیب و تکمیل۔۔۔ خادم شہر فرید کمال فرید ملک
ناہٹر لودھی حکومت:  ۔ 1713 میں جب کوٹ مٹھن کا قدیم شہر قائم ہوا تو اُس وقت تختِ دہلی پر مُغلو ں کی حکومت تھی جبکہ سیت پُور کی ریاست ناہڑ لودھی خاندان کے قبضے میں تھی۔  یہ ریاست تختِ دہلی پر بہلول لودھی کے قبضے کے بعدعمل میں آئی اور اس پر ناہٹر حکمران 1445 سے حکو مت کرتے چلے آ رہے تھے۔سیت پُور کی یہ ریاست اُچ سے کشمور تک پھیلی ہوئی تھی ۔کوٹ مٹھن نے بھی اِسی ریاست کی گود میں آنکھ کھولی۔ابتداء میں ریاست کا نظم و نسق چلانے اوراِس میں موجودتمام شہروں اور قصبوں کا آپس میں رابطہ جوڑنے کے لئے ایک سڑک قائم ہوئی جو سیت پُور کو کشمورسے ملاتی تھی۔یہ سڑک دریائے سندھ کے کنارے کنارے آگے بڑھتی تھی۔1713 میں اِسی سڑک کے کنارے کوٹ مٹھن قدیم کا چھوٹا سا قصبہ قائم ہوا۔اُن دنوں دریائے سندھ سیت پُور کے مشرق میں بہتا تھا ۔ اِس لیئے سیت پُورسے کوٹ مٹھن کا فاصلہ بُہت کم تھا۔اِس عام گزرگاہ کی وجہ سے کوٹ مٹھن میں مُختلف لوگوں کی آباد کاری میں تیزی کے ساتھ اِضافہ ہوا۔ اُس زمانے میں امُورِسلطنت میں عدم دلچسپی اور باہمی ناچاقی کی بِناء پر ناہڑ حکومت زوال پذیر ہونا شُروع ہو گئی تھی۔بالآخرمُحمد خان ناہڑ کے تین لڑکوں طاہر خان،اسلام خان اور قاسم خان نے اِس ریاست کو آپس میں تقسیم کر لیا۔( حوالہ نمبر۱:سجاد حیدر پرویز ، تاریخِ مظفر گڑھ صف 54) طاہر خان کے حصہ میں سِیت پُور،اسلام خان کے حصے میں بھاگسراور قاسم خان کے حصہ میں کِن اور کشمور کے علاقے آئے۔اسلام خان کے حصہ میں آنے والی بھاگسر کی حکومت میں کوٹ مٹھن اور رُجھان بھی شامل تھے۔ اِس حکومت کا صدر مقام بھاگسر تھا۔ جہاں کبھی کبھاراسلام خان رہائش پذیر ہوتا تھا۔اسلام خان اِنتہا درجہ کا سادہ لوح تھا اور اپنی اِس سادگی کی وجہ سے علاقہ میں “بھولا بادشاہ” مشہورتھا۔ (حوالہ نمر ۲: غلام علی نتکانی مرقع ڈیرہ غازیخان صف 90) ایک دفعہ سردیوں کی سخت رات تھی۔جنگل کے گیدڑوں نے بھا گسر کے قریب آکرچلانا شروع کر دیا۔اسلام خان نے حیرت سے پوچھا گیدڑکیوں چیخ رہے ہیں؟ مُصاحبوں میں سے ایک نے کہا سخت سردی کے مارے گیدڑگرم کپڑے اور رضائیاں مانگ رہے ہیں۔اِس پر اسلام خان نے کافی رقم اپنے مُصاحِبوں کے حوالے کر دی تاکہ گیدڑوں کی حاجت پوری ہو ۔ وہ رات کٹ گئی تو حسبِ معمول دوسری رات گیدڑوں نے پھر چیخنا چِلانا شُروع کردیا۔اب اسلام خان نے شور سُنا تو کہا کہ گیدڑ آج کیوں شور مچا رہے ہیں ۔مُصاحبین نے ایک زُبان ہو کر جواب دیا کہ حضورِوالا گیدڑ آج آپ کا شُکریہ ادا کرنے کے لئیے آئے ہیں۔یہ سُن کر اسلام خان بہت خوش ہوا۔

حوالہ نمبر3:رائے ہتو رام ، گلِ بہار صف 6 اِس واقعہ کو کشَفی مُلتانی نے یوں نظم کیا ہے

۔  حوالہ نمبر 4 :اقتباسِ منظوم قصہ از قشفی ملتانی،مطبو عہ 24 جنوری 1963 ہفت روزہ بشارت مظفر گڑھ
 

روایت ہے آئی جو اک سرد رات  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ٹھٹھرنے لگی ٹھنڈ سے کائنات  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    بہر سمت شورِ شغا لاں اُٹھا  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔     کچھ ایسا کہ سر پر بیا باں اُٹ
سُنی شاہ نے بھی یہ چیخ وپُکار  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔          ہوا شورِشیطان سے بے قرار  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔  کہو ،کیا ہے ہنگامہ ہاؤ ہؤ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔       تُراچہ تُراچہ ہے کیا کوُ بہ کوُ
وزیر ایسا ہُشیار اور کار داں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                   جسے مانتے تھے بڑے پہلواں  ۔۔۔۔۔۔۔        ذرا سوچ کر پھر کہا صاف صاف  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  شغالوں میں لو بانٹتا ہوں لحاف
کوئی ٹھنڈ سے پھر نہ ہو گا نزار        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  دُعا دیں گے، زندہ رہے تاجدار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مگر گیدڑوں کا جو تھا شور و شر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔      وہ بڑھتا گیا اور بھی الحذر
جو پُو چھا کبھی شاہ نے اے وزیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مچاتے ہیں کیوں شورِشیطاں شریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  وزیر اُس کا چونکہ تھا حاضر جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ادب سے پُکارا کہ عالی جناب
نہیں گیدڑوں کا یہ شورِنشوُر  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔        ادا شُکریہ کر رہےحضور

ناہڑوں کے دورِحکومت میں کوٹ مٹھن کے لیے کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔اسلام خان نے صِرف بھاگسر میں ایک نالہ بھاگسری کھُدوایا تھا جو بھاگسر، بنگالہ اورسبزانی کے کُچھ علاقوں کو سیراب کرتا تھا ۔یہ نالہ دریائے سندھ کے دہانے سے نکالاگیا تھا۔   حوالہ نمبر 5:ریاست بہاولپور گزیٹئیر1904 صفحہ 412

المختصر ،ناہڑ حُکمرانوں کی امورِ سلطنت میں عدم دلچسپی اور سُست روی کی بِنا پر سلطنت دن بدن کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی گئی اور بُہت جلد اِس علاقے پر ناہڑ حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
مخادیم سِیت پُور اور والیانِ خراسان و کابِل
جب سیت پور اور اس میں شامل دیگر علاقوں میں ناہڑ لودھی حکومت کمزور پڑ گئی تو سیت پور میں مُقیم مخدوم شیخ محمو د جو اِس وقت ناہڑوں کی طرف سے امیرِریاست مُقرر تھا ،چند قطعاتِ مُملکت پر قابض ہو گیا۔ اِس کے بعد اُس کا بیٹا شیخ محمد راجو (راجن شاہ) اِس کا جانشین ہوا۔ اُن دنوں والیخراسان نادر شاہ دُّرانی نے ہندوستان پر چڑھائی کر رکھی تھی۔ اُس زمانے میں شیخ مُحمد راجو ( راجن شاہ) نے اپنے علاقے میں بڑا اثرورسوخ حاصل کر لیا تھا اور کافی دولت جمع کر رکھی تھی ۔ اُس نے اپنے اثرو رسوخ اور ذاتی قابلیت کی بِنا پر نادرشاہ سے سیت پور کی حکومت کا پردانہ اپنے نام لکھوا لیا اور ناہڑوں کو وہا ں سے ہمیشہ کے لیے بے دخل کر دیا ۔
          حوالہ نمبر6:رائے ہتو رام گلِ بہار صفحہ 102
مخدوم راجن نے 1830 میں علی پور ، کوٹلہ مُغلاں ، بھاگسر ، کوٹ مٹھن اور عمر کوٹ کے علاقوں پر مکمل طور پر قبضہ حاصل کر کے اپنی حکومت قائم کی اور 1832 میں اُس نے راجن پور کی بُنیاد رکھی۔ اُن دِنوں ڈیرہ غازی خان کا علاقہ ایک علیحدہ ریاست کا درجہ رکھتا تھا جس پر میرانی قوم کی حُکمرانی تھی ۔ نادر شاہ کے حملوں سے دہلی کا تخت تو اُس کے قبضے میں نہ آ سکا البتہ اُس نے مُغلیہ تخت میں شامل کچھ ریاستوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا تھا۔اِن میں سیت پور اور ڈیرہ غازی خان کی ریاستیں بھی شامل تھیں جو ایک عرصہ تک والیخراسان کے زیرِتسلط رہیں۔ البتہ مقامی طور پر سیت پور کی ریاست میں مخادیمِ سیت پور اور ڈیرہ غازی خان میں گُجر حُکمرانوں کا عمل دخل رہا جبکہ اہم فیصلوں کے لیے والی خراسان سے رُجوع کرنا پڑتا تھا۔ مخادیمِ سیت پور نے مُختلف اوقات میں اپنے علاقوں کی ترقی کے لیئے بہُت زیادہ ترقیاتی کام کیئے۔ اِن میں نالوں کی کھودائی زیادہ اہم ہے۔والی خراسان کی اجازت سے اُنہوں نے درج ذیل نالے کھُدوائے۔ نالہ دھندی، نالہ قُطب ، نالہ بہشتی اور رسول واہ ، اِن نالوں کی کھُدائی کے بعد نہ صِرف یہاں کی کاشت میں اضافہ ہوا بلکہ اِن ندی نالوں کے کِنارے بُہت سارے قصبے بھی آباد ہوئے۔مثلاً دُنیا پور ، کوٹلہ جندہ ، شاہ پور ، غوث پور ، رسول پور ، کوٹلہ گیان ، کوٹلہ احمد ، مُحمد پور ، کوٹلہ بابل ، سُلطان پور ، بستی لشاری ،کوٹلہ دلیل اور تھل باقر وغیرہ۔ اُس زمانے میں نالہ قادرہ کھدائی کا کام بھی عمل میں آیا۔ جس کے کنارے کوٹلہ نصیر ، کوٹلہ نورمحمد ،کوٹلہ سید خان،ڈھگو ،بستی پھلی،بھا گ ،مُر غا ئی،قاد رہ،کوٹلہ حسن جا مٹرہ ،کو ٹلہ حسن شا ،کو ٹلہ غلا م مرتضیٰ آبا د ،ہو ئے۔ نالہ حامد اور نالہ پہاڑ بھی قادرہ کی شا خوں میں شا مل تھے ۔1847 میں نا در شا ہ کی و فا ت ہوئی تو اُ س کی جگہ ا حمد شا ہ ابد ا لی نے لی اُ س نے فوج تیا ر کر کے مختلف او قا ت میں پنجاب پر کئی حملے کئے او ر لاہور اور ملتا ن پر قبضہ حا صل ک 

  ( حو الہ نمبر 7:ڈاکٹر جمیل جالب تاریخ ادب اُردو ، جلد دوم ، مجلسِ ترقی ادب، لاہور 1987صفحہ 4)
اُس کے ز ما نے میں بھی سیت پور اور ڈیرہ غازی خان کی ریاستیں کابل کے ساتھ ملحق رہیں۔ احمد شاہ ابدالی کی وفات 1783میں ہوئی اور اُس کے بعد اُس کا بیٹا تیمور شاہ تختِ کابل پر متمکن ہوا۔ تیمور شاہ نے بھی مخادمِ سیت پورکو علاقوں کی آباد کاری کے لیے مناسب مواقع فراہم کرنے کا عمل جاری رکھا ۔ البتہ آبیانے کے طور پر ٹیکس کی ادائیگی سخت کر دی گئی۔
اُس زمانے میں قاضی عاقل محمد کوریجہ کے بڑے بھائی قاضی نور محمد کو زمینوں کی سیرابی کا بہت شوق تھا اور اُس وقت کو ئی ایسا نالہ بھی موجود نہں تھا جس سے کوٹ مٹھن کی بنجر اراضی کو قابلِ کاشت بنایا جاتا۔ چُنانچہ قاضی نور محمد نے 1791 میں مخدوم صاحب کے توّسط سے آبپاشی کے لئے تیمور شاہ سے اجارہ لیا اور دریائے سندھ سے ایک نالہ کھودوایا جو قاضی واہ کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ نالہ موضع ونگ کے شمال مشرقی جانب دریائے سندھ سے نکالا گیا جس سے موضع ونگ ، بستی محب علی،کوٹلہ حُسین ،کوٹ مٹھن قدیم اور رکھ قادرہ تک کے علاقے سیراب ہوتے تھے۔لیکن شومئی قسمت اِس اجارہ (ٹھیکہ) میں قاضی نور محمد کو سخت خسارہ ہوا۔ اس ٹھیکہ کی مُقررہ رقم تیمور شاہ کے خزانے میں جمع نہ ہو سکی جس کے باعث قاضی نور محمد کو جیل کا سامنا کرنا پڑا۔(حوالہ نمبر۸:غلام علی نتکانی مرقع ڈیرہ غازیخان صفحہ152) اُس زمانے میں حکومتِ خراسان کی طرف سے ڈیرہ غازی خان کا ناظم جُمعہ خان تھا اور اِس اجارہ میں قاضی نور محمد کے ضامن اُن کے بھائی قاضی عاقل مُحمد تھے۔ اِس لیئے جُمعہ خان نے اُن کو بھی جیل میں بھیج دیا۔

(حوالہ نمبر 9:مرزا احمد اختر ،مناکب فریدی ،صفحہ 53 ) 
“مناقبِ محبوبین” میں اِس واقعہ کا ذکر یوں ملتا ہے۔
” وقتی قاضی نور محمد کو ریجہ برادرِحقیقی قاضی صاحب عاقل محمد،چند دیہات از نواب جمعہ خان خراسانی کہ صوبہ دار ڈیرہ غازی خان بود۔از جانب سلاطینِ خراسان اجارہ گرفتہ بود و قاضی صاحب مرحوم ضامن او شدبود۔چوں در اجارہء وی خسارہ افتاد و مبلغان وصول نشدند، آن مردک قاضی صاحب عاقل محمد جی و برادر ایشاں را گرفتار نمودہ محبوس کرد۔                  (حوالہ نمبر ۱۰:نجم الدین ، مناکبِ محبوبین ، اسلامک بک فاؤنڈیشن ، لاہور ، 1979  صفحہ124 )”قاضی نور محمد و قاضی عاقل محمد کی گرفتاری کا علم جب حافظ محمد جمال ملتانی (حوالہ نمبر 11 : حافظ محمد جمال ملتانی ، قاضی عاقب محمد صاحب کے پیر بھائی تھے،دونون حضرت نور محمد مہاروی کے مُریدانِ خاص تھے ) کو ہوا تو اُنہوں نے قاضی برادران کی رہائی کے لئے جمعہ خان سے رابطہ قائم کیا اور رہائی کے لئے سفارش کی مگر وہ نہ مانا ۔ جس پر حافظ صاحب نے اُسے بد دُعا دی۔جس کے باعث جمعہ خان درد میں مبتلا ہوگیا اور فوراً قاضی نور محمد وقاضی عاقل کو رہا کر دیا لیکن اس کے باوجود جمعہ خاں شدّتِ درد کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو گیا۔ رہائی کے بعد قاضی نور محمد نے قاضی واہ کی اجارہ داری ختم کر دی اور اِس طرح وہ نالہ ویران ہو کر رہ گیا۔ البتہ نالہ کافی عرصہ تک سیلابی نہربِنا رہا ، طغیانی کے موسم میں پانی سے بھر جاتا ورنا سارا سال خُشک رہتا تھا۔(حوالہ نمبر12: نالہ قاضی موجودہ کوٹ مٹھن شہر اور بستی محب علی کے درمیان میں شمالاً جنوباًبہتا تھا اب بھی کوٹ مٹھن جدید کے نقشوں میں اِ س نالہ کی نشاندہی ملتی ہے اب زمینیں ہموار کر لی گئی ہیں ورنہ پچھلے چند سالوں تک کہیں کہیں نالہ کے نشانات باقی تھے  ۔1790 میں دریائے سندھ نے کروٹ بدلی اور سیت پور دریا کے مشرقی کنارے پر چلا گیا جس کے باعث مخادیمِ سیت پور کا کوٹ مٹھن سے رابطہ منقطع ہو گیا۔د ر یا کے ر خ بد لنے سے اُ د ھر ر یا ست بہا و لپور کے نو ا ب نے بڑ ی آسا نی کے سا تھ علی پو ر ،شہر سلطا ن اور خیرپور سا د ا ت کے علاقے مخا دیمِ سِیت پو ر سے ہھتیالئے  (حو ا لہ نمبر13:منشی حکم چند تواریخ ڈیرہ غازیخان صف 136 ۔۔37) صرف اُچ شر یف کا خطہ سا داتِ سیت پو ر کے پا س با قی ر ہ گیا ۔ جسے 1816 میں سکھو ں نے ا پنے قبضہ میں لے کر مخا د یمِ سیت پو ر کی حکو مت کا خا تمہ کر د یا ۔ حو ا لہ نمبر14:سید محمد لطیف تاریخ پنجاب ، سنگِ میل پبلیکیشنز لاہور 1976، صف 132
اُ د ھر 1793 میں تیمور شاہ کا ا نتقا ل ہو ا تو اُکا بیٹا ز ما ن شا ہ کا بل کے تخت پر جلو ہ ا فر و ز ہو ا۔ ز مان شاہ کو پنجاب کے فتح کر نے کا بڑا شو ق تھا اُس نے 1798 میں کے بعد دیگرے دو حملے کر کے لاہور کو فتح کر لیا۔ لا ہو ر سے واپسی پر زمان شاہ کی بھاری تو پیں در یا ئے جہلم میں پھنس گئیں جن کے نکا لنے میں رنجیت سنگھ نے اُسکی بڑی مدد کی جس پر ز ما ن شا ہ نے لا ہو ر حکو مت کی با گ ڈور رنجیت سنگھکے ہا تھ میں دے دی ،جس سے پنجاب پر سکھو ں کو حکو مت کر نے کا موقع مل گیا جس کے حصول کے لئے وہ احمد شا ہ ابدالی کے زمانے سے کو شا ں تھے اور کئی با ر احمد شا ہ ابد الی کے فتح کردہ علا قو ں پر قا بض ہو ئے۔ حو الہ نمبر15: سید نصیر احمد جامعی ، احمد شاہ درانی ، سنگِ میل پبلیکینشز، لاہور 1986صف 125
ر نجیت سنگھ نے 1799 میں لا ہو ر پر قا بض ہو نے کے بعد،قصو ر،ہو شیا رپور ،سا ہیوال،ملتا ن اور 1719 میں ڈیرہ غا زیخا ن کو ا پنے قبضہ میں لیا۔ ڈیر ہ غازیخا ن پر قبضہ کے بعداُ سنے یہ علا قہ بہا و لپور کے نو ا ب کو تین لا کھ روپے سا لانہ ا جارہ پر دے دیا۔    حو ا لہ نمبر 16:عبدالقادر لغاری ، تاریخِ ڈیرہ غازیخان (حصہ اول)1987صف 32
نو ا ب بہا و لپو ر 1830 تک ڈ یر ہ غازی خاں پر اجارہ دار رہا۔
اُدھر زما ن شاہ کا بھا ئی شاہ شجاع 1803  سے تخت کا بل پر قا بض تھا اور دریا ئے سندھ کے دو نو ں کنا رو ں پر وا قع کچھ علاقے اُ سکے قبضے میں تھے جن میں کوٹ مٹھن بھی شا مل تھا۔ رنجِیت سنگھ چا ہتاتھا کہ کسی طرح شاہ شجاع سے وہ سا ر ے علا قے ہتھیا لے ۔ 1813  میں شاہ شجا ع کے بھا ئی محمدشام اور اُس کے بھتیجے کا مر ا ن شا ہ نے مل کر شا ہ شجا ع کو شکست دی اوراُس سے کا بل کا اقتدارچھین لیا۔البتہ دریائے سندھ کے دو نوں کناروں پر واقع کچھ علاقے ا بھی تک شاہ شجا ع کے اپنے قبضے میں تھے۔ جنہیں ر نجےِت سنگھ ہڑپ کرنے کا موقع تلاش کر رہا تھا۔1832 میں جب شاہ شجاع سندھ کے علا قے شکار پور کو فتح کرتا ہوا قندھار پہنچا تو امیر دوست محمد خان نے اُ سے بُر ی طرح شکست دے دی۔ کا بل کی حکو مت پہلے ہی سے اُس کے بھا ئی اور بھتیجے نے چھین لی تھی۔ اد ھر قند ھا ر میں امیر دوست محمد خا ن سے شکست کھا نے کے بعد شاہ شجاع نے بر صغیر کا رخ کیا اور لدھیانہ میں جا کر مقیم ہو گیا۔جہاں وہ رنجِیت سنگھ کے دام و فریب میں پھنس گیا۔ رنجِیت سنگھ نے اُ س سے کوہِ نو ر ہیرا بھی ہتھیا لیا اور ما رچ1833 میں ایک تحریری معاہدے کی رو سے دریا ئے سندھ کے مقبوضہ علاقے بھی اُس سے بٹو رلئے ۔اِس طرح اِس خطے پر احمد شاہ ابدالی کی اولاد کا تسلط ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔
جس معاہدے کے تحت رنجِیت سنگھ نے شاہ شجاع سے دریائے سند ھ کے علا قے(بشمو ل کو ٹ مٹھن) حا صل کئے وہ مارچ 1833 میں ضا بطہء تحریر میں لایا گیا جس پر رنجِیت سنگھ اور شاہ شجا ع کے دستخط ثبت ہوئے۔ اس تحریری مُعاہدے کی رو سے دریائے سندھ کے جو علاقے رنجیت سنگھ نے حاصل کئے اُن کی تفصیل جاننے کے لئے اس معاہدہ کی دفعہ نمبر ۱ ملاحظہ ہو ترجمہ)
“شاہ شجاع المُلک اپنی طرف سے ، اپنے وارثوں ، جانشینوں اور تمام سدوزائیوں کی طرف سے ان تمام علاقوں سے بحق مہاراجہ دستبردار ہوتا ہے اور اُن پر مہاراجہ کا قبضہ ہو گا جو دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر واقع ہیں۔یعنی کشمیر بشمول حدود مشرق ،مغرب ، شمال اور جنوب بمعہ قلعہ اٹک چھاچھ،ہزارہ ، کھبل ،امب ، اس کے ماتحت علاقے یعنی پشاور ،علاقہ ہائے یوسف زئی ،خٹک ، ہشت نگر ،کوہاٹ ،ہنگو اور تمام علاقے جو پشاور کے ماتحت ہیں جن میں درہء خیبر ،بنوں اور علاقہ وزیری شامل ہیں۔مزید براں ٹانک ،گروانگ ، کالا باغ ، خوشحال گڑھ ،ڈیرہ اسماعیل خان اور ماتحت علاقے سنگھڑ ، ہڑند و داجل ، حاجی پور ،راجن پور ، کوٹ مٹھن ،عُمر کوٹ ، کچھی بمعہ منکیزہ اور ضلع و صوبہ ملتان جو بائیں کنارے پر واقع ہے۔ یہ علاقے اور شہر مہا راجہ کی جائیداد اور ملکیت تصوّر ہوں گے اور شاہ شجاع کو ان علاقوں سے کوئی تعلق اب نہ ہے۔اور نہ کبھی ہو گا بلکہ یہ علاقے مہاراجہ اور اُسکی اولاد کی ملکیت نسل در نسل ہوں گے۔

 :History of Sikh by I.D.Cunningham Pag # 195

سکھوں کا دورِ حکومت
متذکرہ بالا معاہدے کی رو سے مارچ 1833 میں سکھوں نے دریائے سندھ کے دیگر علاقوں کے ساتھ کوٹ مٹھن کو اپنے قبضے میں لیا اور اُسے ملتان کی گورنر ی میں شامل کر دیا جہاں پر دیوان ساون مل گورنر مقررتھا۔ سکھوں کادورِ حکومت اہلِ کوٹ مٹھن کیلے بدامنی،انتشار اور عدم تحفظ کا موجب بنا ۔اِس وقت اِس انتشار کی دو اہم و جو ہات ہما رے سامنے مو جو د ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ سکھ حکمران کو ٹ مٹھن کی فتح کے بعد سندھ کے علاقوں کو اپنی حکومت کا حصہ بنانے کی فکر میں تھے۔وہاں تک پہنچینے کیلئے روجہان کے مزاری اُن کے راستے کی سب سے بڑ ی رکاوٹ تھے اور وہ اس علا قے میں ایک جنگجو قو م کی حیثیت سے پہچانے جا تے تھے۔دیوانِ ساون مل اس علاقے کا گورنر تھا اُ سکو جنگجوئی کے معا ملے میں مزاریوں کا انفرادی تشخُص پسند نہیں تھا۔مزاریوں سے نبردآزما ہونے کے لیے دیوان ساون مل نے کوٹ مٹھن میں بھاری فوج متعین کردی۔ساتھ ہی کوٹ مٹھن کو ضلع کا درجہ دے کر اس کو اضلاع ڈیرہ فتح خان میں شا مل کر لیا۔ حوالہ نمبر18:عبدالقادر لغاری تاریخِ ڈیرہ غازیخان حصہ اول 1987صفحہ 285
سکھوں کے اس اقدام سے جہاں کوٹ مٹھن کی تارِیخی اہمیت میں اضا فہ ہوا وہاں مزاریوں سے جنگ کے لئے سکھ فوج کی تغیانی سے کوٹ مٹھن کے پُرامن ماحول پر خوف و ہراس کے سا ئے منڈلانے شروع ہو گئے۔یہ پہلا موقع تھا۔جب کوٹ مٹھن کو ایک فوجی چھاو نی کی حیشیت حا صل ہوئی۔ سکھ حکمران چاہتے تھے کہ کسی طور مزاریوں کو ا پنا تا بع فرمان بنا کر یاطا قت کے زریعے اُن کو اپنے راستے سے ہٹا کر تیزی کے سا تھ سندھ کی طرف بٹر ھیں۔ چنانچہ 1839 میں دیوانِ ساون مل سات ہزار کا لشکر لے کر مزاریوں پر چٹرھ دوڑا۔روجہان کے قریب بدلی کے مقام پر سکھوں اور مزاریوں کے درمیاں خوں رِیز جنگ ہوئی۔دونوں طرف سے کافی خون ضا ئع ہوا۔ آخر کار توپ خانے کے آگے مزاریوں کو پسپا ہونا پٹرا۔سکھوں نے اُ ن سے مال مویشی چھین کر اُن کو پہاڑ کی طرف بھگا دیا۔ اِس فتح کے بعد سکھ بھی تازہ دم ہو کر سندھ فتح کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ مزاریوں نے رات کی تاریکی میں کوٹ مٹھن پر حملہ کر کے سکھ فوج کو شکست دے دی اور اُنہیں کوٹ مٹھن میں قلع بند کر کے شہر کو لوٹ لیا۔                                                                                                                          حوالہ نمبر19:غلام رسول کورائی تاریخِ بلوچیاں ، امرتسر صفحہ 47
اِس حملے کے جواب میں رنجیت سنگھ نے اپنے ایک اطالوی جنرل ونتورہ  (حوالہ نمبر20:رائے ہتو رام گلِ بہار صصفحہ213) کو بھاری توپ خانے اور جدید اسلحہ سے لیس چھ ہزار کی کمک کے ساتھ مزاریوں کی سر کو بی کے لئے روانہ کیا۔جب مزاریوں کو اس لشکر کی آمد کا علم ہوا تو وہ اپنی جنگی قوت میں اضافہ کرنے کے لئے کوٹ مھٹن کو چھوڑ کر روجہان کی طرف روانہ ہوگئے لیکن ونتورہ اآندھی کی طرح آیا اور کوٹ مٹھن سے پندرہ میل دور عمر کوٹ کے مقام پرمزاریوں کو گھیر لیا۔شدید جنگ کے بعد نہتے مزاریوں کو روجہان کی طرف پسپا ہونا پڑا جہاں ایک اور خوفنا ک جنگ کے بعد مزاری روجہان چھوڑ کر پہا ڑ کی طرف بھاگ نکلے۔سکھوں نے انتقام میں سارے شہر کو آگ لگا دی اور ، ر روجہان میں قتل عام بھی کیا۔                                                                                             حوالہ نمبر21:بعضمورخین نے منتورہ کی بجائے کھڑک سنگ کا نام بھی لکھا ہے۔
اِس فتح کے بعد سکھ فوجیں کوٹ مٹھن میں اکٹھی ہوئیں اور تازہ دم ہو کر سندھ کی طرف روانہ ہو گئیں۔سکھوں کو یقین تھا کہ عمر کوٹ اور روجہان کی شکست کے بعد مزاریوں کے پاس اب لڑائی کا حوصلہ نہیں ہوگا۔لیکن سندھ جاتے ہوئے سکھوں کے لشکر پرکن کے مقام پر مزاریوں نے دھاوا بول دیا۔مزاری ایک مرتبہ پھر صف آرا ہوئے اور سکھوں کے سا تھ ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن توپ خانے کے آگے انہںِ ایک مرتبہ پھر بے بس ہو نا پڑا۔ اِس کے بعد مزاریوں نے میر دوست علی اور میر بہرام خان مزاری کی قیادت میں سکھوں کے خلاف گوریلا جنگ جاری رکھنے کا فصلہ کیا۔اِس جنگ میں اگرچہ مزاریوں کو بھاری جانی نقصان برداشت کرنا پڑا لیکن مزاریوں کے ساتھ متواتر جنگوں نے سکھوں کی کمر توڑ کر رکھ  دی۔دِیوانِ ساوَن مل اِس ہنگامے میں مارا گیا اور سکھ فوج اِس قابل نہ رہی کہ سندھ پر قبضہ حاصل کر سکے

(بقول وکیل انجم)
"مزاریوں کیساتھ جنگوں میں سکھ فوجیں جو شکار پور فتح کرنے نکلی تھیں مکمل طور پر برباد ہوگئی۔ اور رنجیت سنگھ کے سمندر تک پہنچنے کے خواب ادھورے رہ گئے (حوالہ نمبر22: وکیل انجم، سیاست کے فرعون ، (بار اول)فیروض سنز لمیٹڈ لاہو1992 صفحہ112)" اسطرح سکھ اور مزاریوں کی آپس میں متواتر جنگیں کوٹ مٹھن کے پُر امن ماحول کے لئے انتشار کا سبب بنی ۔
اس انتشار اور بد امنی کی دوسری وجہ یہ تھی کہ سکھوں کی اسلام دشمن سرگرمیاں روز بروز تیز تر ہوتی جارہی تھی جسے ملکی سطح پر محسوس کیا جارہا تھا ۔ اور سکھوں کی ان اسلام دشمن سرگرمیوں کو دبانے کیلئے "سِکا شاہی "کیخلاف تحریکِ مجاہدین پہلے سے ہی سرگرم عمل تھی(حوالہ نمبر23سرگشزت مجاہدین ، از غلام رسول مہر ، صفحہ 1178) ۔ مسلمان علماء اور مذہبی رہنماؤں کے لئے عرصہء حیات تنگ کر دینا بھی سکھوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں میں شامل تھا جب سکھوں نے کوٹ مٹھن کو اپنے قبضے میں لیا تو اس وقت کوٹ مٹھن میں حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کے والد خواجہ خدابخشؒ اپنے دادا قاضی عاقل محمد کی مسندِ خلافت پر بیٹھ چکے تھے ۔وہ کوٹ مٹھن میں سلسلۂ چشتیہ کے اہم ستون سمجھے جاتے تھے۔زہدو تقویٰ اور اپنی درویشانہ زندگی کے سبب اہلِ کوٹ مٹھن کا دل جیت چکے تھے۔جب سکھوں کو خواجہ خدا بخش کی اِس گراں قدر اہمیت کا علم ہوا تو اُنہوں نے اسلام دشمنی کی بنا ء پر سکھہ شاہی کے آگے سرخم کرنے کیلئے خواجہ خدا بخش پر سخت دباؤ ڈالا ۔تا کہ اہلِ کوٹ مٹھن کو مکمل طور پر تابع فرمان بنایا جائے۔حضرت خواجہ خدا بخش کے انکار پر سکھوں نے اُن پر طرح طرح کے مظالم ڈھانے شروع کر دئے۔اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ارکانِ اسلام کی ادائیگی تک اُن کیلئے مشکل کر دی(حوالہ نمبر24:مسعود حسن شہاب ، اولیاء بہاولپور، اُردو اکیڈمی ، بہاولپور1976 صفحہ135)چنانچہ آپ نے ہجرت کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔اور نواب بہاولپور کی دعوت پر چاچڑاں شریف میں رہائش اختیار کر لی ۔خواجہ خدابخش پر سکھوں کے مظالم سے اہلیانِ کوٹ مٹھن کی سخت دل آزاری ہوئی اور اُنہوں نے سکھوں کا زمانہ نہایت بے چینی اور کرب کے عالم میں گزارا۔
1844میں دیوان ساون مَل کی وفات ہوئی تو اُس کا بیٹا مولراج باپ کی جگہ ملتان کا گورنر بنا ۔باپ کی وفات کے بعد اُس کی صوبہ داری مغرب میں کوہ سلمان ،مشرق میں چیچہ وطنی اور جنوب میں سندھ کی سرحد تک محیط تھی۔جبکہ لاہور اور پنجاب کے اکثر علاقوں پر انگریزوں کا مکمل قبضہ تھا ۔مولراج بڑا اکھڑاور مطلق العنان گورنر تھا ۔اگرچہ ملتان میں مولراج کی سکھ حکومت انگریزوں کے تابع قائم تھی لیکن انگریزوں کو اُس کی مطلق العنانی ہر گز پسند نہ تھی۔چنانچہ انگریزوں نے کاہن سنگھ کو روانہ کیا کہ وہ مولراج سے فوراً ملتان کا چارج سمبھال لے ۔ اُس وقت دو انگریز مشیر ، وان اگینو اور اینڈرسن بھی کاہن سنگھ کیساتھ تھے چارج دیتے وقت مولراج کسی بات پر الجھ پڑا اور کاہن سنگھ کے انگریز مشیروں پر حملہ آور ہوا جس سے وہ بری طرح زخمی ہو گئے۔ جب کہ مولراج نے انگریزوں کیطرف سے نامزد صوبیدار کاہن سنگھ کو گرفتار کر لیا ۔ اس پر انگریز سخت برہم ہوئے اور مولراج کو اس حکم عدولی کا مزا چھکا نے کی ٹھان لی ۔ ادھر مولراج نے مقامی طور پر مسلمانوں ہندؤں اور سکھوں سے مشورہ کر کے بیس اپریل1848 کو انگریزوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا ۔ انگریزوں نے ملتان ،ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازی خان سے بھاری تعداد میں فوج بھرتی کی اور اُسے سکھوں کے خلاف لے آئے ۔سکھوں اورانگریزوں کی جنگ میں نواب بہاول پور نے انگریزوں کا بھر پور ساتھ دیا ۔ آخر مولراج کو ہتھیار ڈالنے پڑے اسطرح1849میں ان علاقوں پر انگریزوں کے ہاتھوں سکھ حکومت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گیا ۔ اور انگریز پورے پنجاب پر قابض ہو گئے۔
 (حوالہ نمبر 25: مولراج کی فوج میں غدار جنرل کورٹ لینڈ ڈیرہ غازیخان کا پہلا ڈپتی کمشنر تھا) 
رنجیت سنگھ کے زمانے میں کوٹ مٹھن میں موجود سکھ فوجیوں اور دیگر ملازمین کی ماہوار تنخوائیں درج ذیل تھی ۔        (حوالہ نمبر26: عبالقادر لغاری ، تاریخِ ڈیرہ غازیخان (حصہ اول)صفحہ303)
 

انتہائی تنخواہ روپے

ابتدائی تنخواہ روپے

عہدہ

نمبر شمار

روپے 50/=

روپے25/=

میجر

1

روپے 20/=

روپے 15/=

جمعدار

2

روپے 16/=

روپے 12/=

حوالدار

3

روپے 12/=

روپے 10/=

نائیک

4

12/=

9/=

سرجن (سارجنٹ)

5

روپے 8 1/2/=

روپے 7/=

سپاہی

6

روپے 6/=

روپے 5/=

مستری

7

روپے 6/=

روپے 5/=

بیلدار

8

5/=

4/=

ساربان

9

4/=

روپے 3/=

سقہ

10

روپے 4/=

روپے 3/=

گھڑیال

11

روپے 4/=

روپے 3/=

لانگری

12

روپے 4/=

روپے 3/=

خلاصی

13

 

 بحیثیت مجموعی سکھوں کا دورِ حکومت دیگر علاقوں کی طرح یہاں کے لوگوں کے لئے بھی بدامنی اور بے چینی کا موجب بنا رہا ۔ ہر طرف لاقانونیت اور طوائف الملوکی کی کیفیت پائی جاتی تھی ۔بقول سرجاج سٹریچی (ترجمہ)
"سکھوں کے وقت کوئی تحریری قانون نہیں تھا مگر سادہ اور اَکھڑ قسم کا انصاف برتا جاتا تھا ۔ ذاتی جائیداد ، اراضی ،زمیندار اور مزارع کے حقوق ،دیہادتی پنچایت کے حقوق تسلیم کئے جاتے تھے ۔ مقامی حکام ذاتی رائے سے فیصلہ کرتے تھے ۔
               (حوالہ نمبر:72:"INDIA its Adminstrations and progress" by Sir Jonh starchy pag# 136)                
20اپریل 1848ء کو جب ملتان کے سکھ حکمران مولراج نے انگریزوں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تو وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے لوگ جن پر وہ ایک عرصہ سے حکومت کر رہا تھا اس کا مکمل طور پر ساتھ دیں گے حالانکہ سکھوں کے مظالم کی وجہ سے یہاں کے لوگ بہت زیادہ تنگ تھے اوراندرونی طور پر سکھوں کے خلاف لوگوں میں بہت زیادہ نفرت پائی جاتی تھی چنانچہ جب مولراج کے حامیوں نے ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے علاقوں میں عوام کو انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کے لئے اشتہارات اور اعلانات جاری کئے تو عوام نے کوئی دلچسپی نہ لی                   (حوالہ نمبر 27: عبدالقادر خان لغاری ، تاریخ ڈیرہ غازیخان (حصہ اول) صفحہ 319)۔بلکہ لوگوں کے دلوں میں سکھوں کے خلاف جو نفرت پائی جاتی تھی اس کا براے راست فائدہ انگریزوں کو پہنچا۔ اس سلسلہ میں جان سٹریچی لکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  (ترجمہ)

" جب تک ہم صحیح طور یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ وسیع و عریض ہندوستانی مملکت کس طرح ہمارے ہاتھ آئی اور کسطرح مٹھی بھر انگریزوں نے قابو میں رکھا تو ہم حقیقتِ حال کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے ۔ پروفیسر نیسلے کے الفاظ میں یہ ایک اندرونی انقلاب تھا جس کی انگریزوں نے رہنمائی کی اور اسکی تکمیل زیادہ تر باشندگانِ ہندوستان نے کی ۔

(حوالہ نمبر 28:"INDIA its Adminstrations and progress" by Sir Jonh starchy pag# 5)"

چنانچہ دیگر علاقوں کی طرح کوٹ مٹھن کی عوام میں بھی سکھوں کے خلاف بہت زیادہ نفرت پائی جاتی تھی اور وہ سکھوں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کر نے کیلئے موقع کے انتظار میں تھے ۔ 1848ء میں جب انگریزوں اور سکھوں کے درمیان جنگ جاری تھی تو اس دوران کشتیوں پر انگریزوں کا کچھ جنگی سامان دریائے سندھ کے راستے فیروز پور جا رہا تھا کوٹ مٹھن کے سکھ کاردار نے ان کو پکڑ کر سارا سامان مولراج کیطرف روانہ کر دیا ۔ تھوڑے سے فاصلے پر کوٹ مٹھن ہی کے ایک زمیندار نے حملہ کر کے سارا سامان سکھوں سے چھین کر انگریز حکمران کی طرف بھجوا دیا ۔(حوالہ نمبر :29:عبدالقادر خان لغاری ،تاریخ ڈیرہ غازیخان (حصہ اول) صف323) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے اہلِ کوٹ مٹھن کے دلوں میں جہاں سکھوں کی لاکھ نفرت پائی جاتی تھی وہاں ان کے دلوں میں انگریزوں کے لئے نرم گوشا تھا ۔ یہ نرم گوشا صرف اور صرف سکھوں کے خلاف ردِعمل کے طور پر اہلِ کوٹ مٹھن کے دلوں میں پیدا ہو گیا تھا ۔ اس سلسلہ میں میجر ایڈورڈز ایک جگہ لکھتا ہے ۔ ترجمہ

" کوٹ مٹھن کے کچھ بڑے زمینداروں نے مجھے لکھا کہ وہ سکھوں کے خلاف بغاوت پر تیار ہیں اور کوٹ مٹھن میں مقیم مولراج کے سکھ کاردار کو بھگا دینا چاہتے ہیں ۔ جہاں اس نے تین چار سو آدمی اپنی حمایت میں جمع کر رکھے ہیں ۔وہاں وہ مالیہ بھی وصول کرر ہا ہے میں نے انہیں لکھا کہ وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں مگر اس کار دار کو کسی حالت سے وہاں سے نہ جانے دیں ۔

(حوالہ نمبر 30:"Political Diaries of HB Adwards 1911 pag#120")"

کوٹ مٹھن کے علاوہ ملتان اور ڈیڑہ غازیخان کے تمام شہروں اور قصبوں میں جہاں سکھ حکومت قائم رہی وہاں کے   ۔  ۔ لوگوں میں سکھوں کے خلاف جو بغاوت پیدا ہوئی اُس کا نتیجہ اِس صورت میں سامنے آیا کہ

دیوان مولراج نے کافی خون ریزی کے بعد ہتھیار ڈال دئے او1849میں یہ علاقے انگریزوں کے قبضے میں آگئے جس سے یہاں کے لوگوں کو آسودگی اور امن حاصل ہوا۔(حوالہ نمبر31: رائے ہتو رام ، گلِ بہار ، تبع دوئم صصفحہ14

1853میں انگریزوں کے عہد میں کوٹ مٹھن کو تحصیل کا درجہ ملا جس میں وقتاً فوقتاً 12 انگریز اسسٹنٹ کمشنر تعنات رہے۔(حوالہ نمبر32:رائے ہتو رام ، گلبہار ، تبع دوئم صف 15)1862کے سیلاب کے بعد تحصیل ہیڈ کوارٹر کوٹ مٹھن سے راجن پور منتقل ہو گیا اور سیلاب سے بچی کھچی آبادی کو بسانے کیلئے 1865میں انگریزوں کی زیرِنگرانی موجودہ شہر کی بنیاد پڑی ۔1875 میں تھانہ کوٹ مٹھن کا قیام عمل میں آیا۔ جبکہ1876 میں مردانہ پرائمری سکول کا اجراء ہوا اسی دوران کوٹ مٹھن میں ڈاکخانہ کی بنیاد بھی پڑی۔1887 میں کوٹ مٹھن کو میونسپل کمیٹی کادرجہ عطاء ہوا جس سے کوٹ مٹھن میں بلدیاتی نظام متعارف ہوا ۔انگریزوں کی زیرِ 1872،1897 او1917 میں تین بندوبست اراضی مکمل ہوئے1962 میں کوٹ مٹھن میں مردانہ مڈل سکول کا قیام عمل میں آیا ۔ جبکہ1947کے عوائل میں زنانہ پرائمری سکول قائم ہوا ۔
المختصر انگریزوں کا سو سالہ دورِ حکومت سِکھ شاہی کی نسبت قدرِے بہتر تھا۔لیکن انگریزوں کے خلاف اہلِ کوٹ مٹھن کا ردِ عمل اُتنا ہی تھا جتنا کہ تحریکِ پاکستان کے مرکزی قائدین کا تھا ۔ کوٹ مٹھن میں ہندؤں اور مسلمانوں کی تعداد تقریباً برابر تھی اور بلدیہ کوٹ مٹھن میں بھی ہندؤں اور مسلمانوں کو یکساں نشستیں حاصل تھی اس لئے سیاسی اختلافات ہونے کے باوجود کوٹ مٹھن میں کبھی بھی ہندؤں مسلم فساد برپا نہیں ہوا۔14 اگست1947کو قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی انگریز حکومت کے ساتھ ساتھ اہلِ کو ٹ مٹھن کو ہندؤں سے بھی نجات مل گئی۔

تحریک پاکستان اور خواجہ فرید

اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریکِ پاکستان کیلئے جو جدوجہد تحریک کے مرکزی قائدین نے شروع کر رکھی تھی اُس کے اثرات کوٹ مٹھن کے دور افتادہ علاقے میں بھی محسوس کئے جا سکتے ہیں ۔سر سید احمد خان نے دو قومی نظریہ کا نعرہ بلند کر کے حکومت برطانیہ کو یہ احساس دلایا تھا کہ مسلمانوں اور ہندؤں کا اب آپس میں اکٹھے رہنا قطعاً نا ممکن ہو گیا ہے ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ سر سید احمد خان نے برِصغیر کے مسلمانوں کو انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے سے روک دیا تھا ۔اگرچہ اِس سیاسی جماعت کی بنیاد انگریزوں نے رکھی تھی اور اِس کے دائراۂ کار کو ہندوستان میں رہنے والے تمام افراد تک پھیلا دیا گیا تھا ۔ لیکن سر سید احمد خان انگریزوں کی ہندؤنواز پالیسی کو سمجھتے تھے اور بہت جلد بھانپ گئے تھے کہ انگریز حکومت کی ہر پالیسی ہندؤں کے مفادات کو تحفظ دینے کے مترادف ہے۔ایسے میں برِ صغیر کے مسلمان جہاں ہندؤں کے ساتھ اکٹھا رہنا پسند نہیں کرتے تھے وہاں اُن کے دلوں میں برطانوی سامراج کے خلاف بھی نفرت پائی جاتی تھی۔انگریزوں کے خلاف اِس نفرت کا اظہار ہر اُس شخص نے کیا جو برِصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا خواہش مند تھا اِس سلسلہ میں خواجہ غلام فریدؒ نے بھی کہا ہے کہ

 

سہجوں ،پھلوں ،سیجھ سہاتوں
بخت تے تخت کوں جوڑ چکھا توں
اپنے ملک کوں آپ وسا توں
پٹ انگریزی تھانے

سرائیکی کے علاوہ خواجہ غلام فرید ؒ کے اُردو کلام میں ایسے اشعار موجود ہیں جن میں اُنہوں نے انگریزی تسلط سے نجات  اور مکمل خود مختاری کی تمناء کا اظہار کیا ہے۔                                                                                                    

(حوالہ نمبر33: کلامِ خواجہ فریدؒ ، مرتبہ صدیق طاہت ، خواجہ فریدؒ بک فاؤنڈیشن ، رحیم یار خان 1988 ؁ئصفحہ83)

بہار آئی کہو صیاد سے حکمِ خزاں دیوے

مَرے ہاتھو ں میں اب بہرِ خدا میری عناں دیوے
نہ گل ، نہ لالہ وریحاں ،نہ نسرین چاہتا ہوں میں
مگر رخصت مجھے اک بار طرفِ آشیاں دیوے

خواجہ غلام فریدؒ اپنے عہد میں ایک صاحبِ کمال شاعر اور مدبر عالمِ دین کا درجہ رکھتے تھے جو لوگ ہر وقت اُن کے حلقہ ء اثر میں رہتے تھے وہ یقیناًاُن کے نظریات اور احساسات کو حرفِ آخر تصور کرتے تھے اس لئے یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ خواجہ صاحب کی طرح اہلِ کوٹ کے ہاں بھی برطانوی سامراج کے خلاف نفرت موجود تھی۔چنانچہ اپنی شاعری میں انگریزی حکومت کے خلاف خواجہ صاحب کے برملا اظہار سے جہاں اُن کے اپنے مزاج کی عکاسی ہوتی ہے وہاں اہلِ کوٹ مٹھن کے نظریات و احساسات کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ لہٰذا یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے قیامِ پاکستان کے سلسلہ میں کی جانے والی کوششوں میں اہلِ کوٹ مٹھن نے بھر پور قردار ادا کیا ہو گا ۔

قیام پاکستان کے بعد کا دور
پاکستانی دور میں کوٹ مٹھن میں سب سے بڑی نعمت اِس شہر سے ہندؤں کا انخلاء تھا۔ جس سے اِس شہر کی مسلم آبادی سو فیصد ہو گئی ۔ علاوہ ازیں کوٹ مٹھن کیلئے جس قدر ترقیاتی کام پاکستانی دور میں مکمل ہوئے تاریخ میں اِس کی مثال نہیں ملتی۔ نشتر گھاٹ ، ریلوے لائن ، سکول،ہسپتال ،بنک،پانی، بجلی،ٹیلی فون، سڑکیں وغیرہ ایسی نعمتیں ہیں جو مختلف اوقات میں پاکستانی حکومتوں کی طرف سے کوٹ مٹھن کے حصے میں آئی۔ وقتاً فوقتاً ایم این اے اور ایم پی اے گرانٹوں سے ملنے والے کروڑوں روپے اِس چھوٹے سے شہر پر خرچ ہوئے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی اُسی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ جولائی1982 سے ضلع راجن پور کا قیام بھی اہلِ کوٹ مٹھن کے بحثِ فخر ہے. کوٹ مٹھن کی تعمیر و ترقی کے منازل کس طرح طے ہوئے ان مراحل کو طے کرنے میں کس کا کیا کردار تھا اس کی تفصیل آپ سب کے لئے دلچسپی کا باعث ہو گی