ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

   مٹھن خان نے جب کو ٹ مٹھن کی بنیا د رکھی  

          تحریر و تحقیق پروفیسر ڈاکٹر محمد شکیل پتافی

               ترتیب و  تکمیل ۔ خادم شہر، فرید کمال فرید  ملک                                                   

اس با ت کا علم تقریباً ہر شخص کو ہے کہ کو ٹ مٹھن کی بنیا د مٹھن نامی ایک شخص نے رکھی تھی ۔جتو ئی قوم سے تعلق رکھتا تھا اور سیت پور کے ایک قصبہ( یا رے والی )کا رہنے والا تھا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یا رے والی کا رہنے والا یہ شخص اتنی دور دراز کا سفر طے کر کے

 کو ٹ مٹھن کی بنیا د کیسے رکھتا ہے جب کی ان دنوں ذرائع نقل و حمل کی اتنی قلت تھی کہ آدمی اپنے گھر سے نکلے ہو ئے بمشکل چند میلوں کا سفر طے کر پا تا تھا ۔ چنانچہ اس سوال کا حل تلاش کرنے کے لئے ہمیں تاریخ کے اوراق میں جھا نکنا پڑے گا ۔ اس کے علاوہ مٹھن خا ن کی قومیت کے با رے میں جو ابہام پایا جا تا ہے کہ وہ گو پانگ تھا یا جتو ئی ؟ اس معمہ کا حل بھی اس بحث کا حصہ ہے ۔آئیں تاریخ پر ایک نظر ڈالیں ۔ حضرت بہا ؤ لدین زکریا ؒ کی نسبت سے ملتان اور اس کے بیشتر نو احی علاقے سلسلہ سہرورویہ سے منسلک ہو گئے تھے ۔اوچ ،علی پو ر اور سیت پو ر کا خطہ بھی اس کے اثر سے خا لی نہیں تھا ۔مغل شہنشاہ جہانگیر کے زمانے میں سہروردیہسلسلہ کے پیرو کا ر سندھ تک پھیلے ہو ئے تھے ۔چنانچہ حضر ت خواجہ غلام فرید کو ریجہ ؒ کے خا ندان کے ایک بزرگ مخدوم محمد زکریا جو ان دنوں ٹھٹھہ (سندھ)میں قیام پذیر تھے وہاں سے ترک سکو نت کر کے منگلوٹ تحصیل لو دھراں میں آکر آبا د ہو گئے اس خا ندان کے افراد تقریباً تین پشتوں تک منگلوٹ میں آبا درہے۔ حضرت خواجہ فرید ؒ کا یہ خا ندان منگلو ٹ پہنچنے پر سلسلہ سہروردیہ سے منسلک ہو گیا ۔ حتیٰ کہ اسی خا نوادۂ کو ریجہ کے ایک بزرگ خو اجہ شریف محمد ؒ نے سلسلہ تصوف میں درجہ کمال حا صل کر لیا ۔ وہ تبلیغ دین کے داعی تھے اور انہوں نے منگلو ٹ کو چھو ڑ کر اشاعت دین کا فیصلہ کیا ۔ چنانچہ خا ندانِ فرید اٹھا رہویں صدی عیسوی کے آغا ز میں منگلو ٹ کو چھوڑ کر( یا رے والی) میں آکر آبا د ہو گیا ۔ادھر (یا رے والی)کا رئیس مٹھن خا ن بھی اسی سلسلہ تصوف سے متا ثر تھا اور کسی ایسی بر گز یدہ شخصیت کے انتظا ر میں تھا جو اسے روحا نی فیض سے مستفید کرے ۔ چنا نچہ حضرت خواجہ شریف محمد کو ریجہ ؒ جب اپنے خا ندان کے ہمراہ (یا رے والی)تشریف لائے تو مٹھن خا ن آپ کے حلقہ ارادت میں داخل ہو گیا ۔ بقول مولانا غلام جہانیاں ۔ مخدوم محمد شریف نے اپنی سکو نت منگلو ٹ شریف سے بمقام (یا رے والی )منتقل فرمائی ۔آپ کی نسبت سلسلہ سہروردیہ سے تھی ۔ بکثرت لو گ آپ کے سلسلہ ارادت میں داخل ہو ئے ۔ مٹھن خان جو اس علاقے کا رئیس تھا وہ بھی حضر ت محمد شریف کا مرید ہو گیا ۔ ( بحوالہ ہفت اقطاب ۔ ڈیرہ غا زی خان صفحہ نمبر64) ان دنوں سیت پو ر پر نا ہڑ خا ندان کی حکو مت تھی ۔یہ حکو مت ایک طرف تو اوچ،ہڑنڈ اور کوہ سلیمان تک پھیلی ہو ئی تھی اور دوسری طرف اس حکو مت کی سرحد سرزمین کو ٹ مٹھن سے ہو تی ہو ئی بھاگسر ،روجہان ،کشمو راور کند ھ کو ٹ سے جا ملتی تھیں ۔ان علاقوں پر نا ہڑ خا ندان کی یہ حکو مت دہلی میں بہلول لو دھی (1445) کے تخت نشینی کے وقت سے قائم تھی ۔ ناہڑ خا ندان چونکہ ان علا قوں پر ۲۷نسلوں سے حکومت کرتا آرہا تھا ۔اس لئے ان علا قوں کے درمیان ایک بہت بڑی رابطہ سڑک قائم تھی جو دریا کے کنا رے کنارے سیت پو ر کو بھاگسر ،عمر کو ٹ روجہان،کشمور اور کندھ کو ٹ سے ملاتی تھی۔ حضرت خواجہ شریف محمد کو ریجہ ؒ جب منگلو ٹ کو خیر با د کہ کر (یا رے والی)پہنچے تو یہاں کے نا ہڑ فرما نبردار سلام خان خامس نے انکا بھرپو ر خیرمقدم کیا اور انہیں اپنے زیر حکو مت علاقوں میں تبلیغ کرنے کی درخواست کی ۔ چنانچہ 1713 کی ایک صبح کو حضرت خواجہ شریف محمد ؒ اپنے مرید خا ص مٹھن کو ہمراہ لے کر (یا رے والی)سے روانہ ہو ئے اور اس اہم گزرگاہ پر ہو لیئے جو دریا کے کنارے کنارے سیت پو ر کو کشمور اور دیگر شہروں سے ملاتی تھی ۔ مٹھن خا ن اپنے مرشد کی خدمت میں مصروف ان کے ہمراہ رہا۔دو افراد پر مشتمل یہ تبلیغی قافلہ جب سر زمیں کو ٹ مٹھن کے قریب پہنچا تو حضرت خواجہ شریف محمد کو یہ جگہ بہت پسند آئی ۔آپ نے مٹھن خا ن سے قیا م کی بابت اپنا ارادہ ظا ہر کیا ۔ مٹھن خا ن نے عرض کی ۔حضور! “کتنے روز ‘ فرمایا مستقل ۔ مٹھن خا ن نے حیرت سے پو چھا ۔ سرکار میں، حضرت نے یارے والی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تو خود وہاں رہے گا تیرا نام یہاں رہے گا ۔ مٹھن کی آنکھوں سے بے اختیا ر آنسو ٹپک پڑے تاہم اس نے مرشد کے فرمان کی تعمیل کی سیت پور سے کچھ افراد کو منگوا کر خواجہ شریف محمد کے لئے مدرسہ قائم کیا گیا ۔اور کچھ مکا نات تعمیر کر کے ان کے گرد ایک بڑا سا کو ٹ تعمیر کیا گیا جو اسی دن سے کو ٹ مٹھن کہلایا ۔ 1713  کا وہ دن اور آج کا دن یہ شہر کو ٹ مٹھن کے نام سے معروف ہے ۔ کچھ لو گ مٹھن خا ن کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ یہاں کا مقامی با شندہ تھا اور گو پانگ قوم سے تعلق رکھتا تھا ۔ جہاں تک مٹھن خا ن کے مقا می ہو نے کا تعلق ہے تو یہ بات ہر اعتبا ر سے پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ وہ یہاں کا رہنے والا نہیں بلک سیت پو ر کے مو ضع پا رے والی کا رہنے والا تھا ۔اس سلسلے میں ہنو رام کی کتا ب گل بہا ر مولا نا جہا نیاں کی ہفت اقطا ب ، منشی حکم چند کی تواریخ ڈیرہ غا زی خا ن اور مثل حقیقت محکمہ محال 1872 کو ملا خطہ کیا جا سکتا ہے ۔ رہا سوال یہ کہمٹھن خا ن کون تھا ؟ گو پانگ یا جتوئی تو اسضمن میں عرض یہ ہے کہ محکمہ محا ل کا بندوبستی ریکا رڈ مو جو د ہے جو ہر اعتبا ر سے ایک مکمل دستاویزی ثبو ت سمجھا جا تاہے ۔اس میں مو ضع کو ٹ مٹھن پکہ کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے مٹھن خا ن کو جتو ئی بلو چ لکھا گیا ہے ۔ اگر یہاں ایک لمحے کے لئے اسے یہاں کا گو پانگ با شندہ مان بھی لیا جا ئے تو بھی اس کی حمایت میں کو ئی ثبو ت نہیں ملتا ۔ مذکو رہ بالا بندوبستی ریکا رڈ میں مختلف قوموں کے شجرے مو جو د ہیں ۔ان میں شجرہ نمبر 97 میں کو ٹ مٹھن کی گو پانگ قوم کا شجرہ نسب درج ہے ۔اس شجرہ میں حمل نامی شخص کو اس مو ضع کی گو پا نگ قوم کا مو رث اعلیٰ ظا ہر کیا گیا ہے ۔ اور 1872سے قبل سات پشتوں تک کے تقریباً 67 افرادکا زکر کیا گیا ہے ان میں مٹھن نا م کا کو ئی شخص مو جو د نہیں ۔ (بحوالہ مثل حقیقت مو ضع کو ٹ مٹھن پکہ 1876 )البتہ محکمہمحال کے اس ریکا رڈ میں جتو ئی قوم کے شجرے میں مٹھن خا ن ولد کلاں خا ن کا ذکر مو جو د ہے ۔ کو ٹ مٹھن کی بنیا د قائم کر لینے کے بعد حضرت خواجہ شریف ؒ کی ہدایت پر مٹھن خا ن واپس یا رے والی چلا گیا تھا ۔وہاں اس 71 برس کی عمر میں وفا ت پا ئی اور وہیں پر دفن ہو ا ۔ اس کی قبر یا رے والی کے اس قبرستان میں واقع ہے جہاں حضرت خواجہ شریف محمد کے والد خواجہ یعقوب محمد کو ریجہ آسودہ خا ک ہیں ۔ البتہ حضرت خوا جہ شریف محمد کو ٹ مٹھن میں دفن ہیں ۔ المختصر حضرت خو اجہ شریف محمد کے ایما پر مٹھن خان کے ہاتھون کو ٹ مٹھن کی بنیا دپڑی ۔ 1713 میں قائم ہو نے والا یہ شہر 1862 کے دریا ئی سیلا ب میں اس طرح غر قاب ہو اکہ آج صفحہ ہستی پر اس کا نشان تک مو جو د نہیں ۔ تقریباً ڈیڑھ سو سال کے عرصہ پر محیط وہ شہر کیا تھا ؟ کہاں تھا اور کیسا تھا ؟اس سلسلے میں نادر معلو مات  انشااللہ تعالیٰ بہت جلد آپکی اپنی اس سائیٹ پر مہیا کر دی جائیں گی۔

تا ریخ کو ٹ مٹھن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کو ٹ مٹھن قدیم

تحقیق ڈاکٹر پروفیسر شکیل پتافی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مختلف قوموں کی آباد کا ری  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ترتیب وتکمیل ،خادم شہر فرید کمال فرید ملک 

 تاریخی حقائق سے یہ بات پہلے ہی سے ثا بت ہو چکی ہے کہ حضرت خوا جہ شریف محمدؒ ولد حضرت خواجہ یعقوب محمد قوم کوریجہ اور مٹھن خان ولد کلا ن خا ن قوم جتوئی نے 1713 میں کو ٹ مٹھن کی بنیا د رکھی تھی ۔ اس طرح کو ریجہ اور جتو ئی اقوام کو ت مٹھن کی بانی قومیں قرار پا ئی ہیں ۔ حا لا نکہ اس سے پہلے بھی اس علا قے میں چند قو میں آبا د تھیں لیکن ان کی آباد ی سے کسی بستی یا گا ؤں کے تقا ضے پو رے نہیں ہو تے تھے اور وہ قومیں چھدری آبادی کی صورت میں اس پو رے علا قے میں پھیلی ہو ئی تھیں ۔ مگر جب مٹھن خا ن نے حضرت خو اجہ شریف محمدؒ کے لئے ایک مدرسہ اور قیا م گا ہ کی تعمیر مکمل کی تو اس علا قے میں پہلے سے آباد شدہ کچھ لو گ بھی اپنے عارضی مسکن ترک کر کے اس نئے ( کوٹ ) میںآباد ہو نے شروع ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ آبادی ایک بست اور قصبے کی صورت اختیا ر کرتی گئی اور اسے (کو ٹ مٹھن )کے نا م سے پکا را جا نے لگا اگرچہ مختلف شہر اور قصبوں میں آبا د کا ری کا عمل ہر دور میں جا ری رہتا ہے۔مگر کو ٹ مٹھن میں آبا دکا ری کی تا ریخ میں تین مو اقع ایسے گزرے ہیں ۔ جن میں با ہر کے لو گو ں نے اس شہر میں آبا د ہو نے کے لئے اپنے اابائی تھکانو ں کو چھو ڑ کر قصداً یہاں کا رخ کیا ۔ اس سلسلے میں آباد کا ری کا پہلا موقع وہ تھا جب کو ٹ مٹھن کا قیا م عمل میں آیا چونکہ وہ شہر پہلے دن سے ہی ایک مستقل بستی کے قیا م کی صورت اختیا ر کر گیا اس لئے جو لو گ عارضی ٹھکانوں سے گریزاں تھے اور انہیں مستقل سکونت کے لئے کسی منا سب جگہ کی تلا ش تھی تو وہ ترکِ سکو نت اختیا ر کر کے بطور خا ص کو ٹ مٹھن میں آبا د ہو ئے ۔ان میں زیا دہ تر مقامی سطح پر پہلے سے مو جو د قوموں کے افراد تھے ۔ جوحضرت خواجہ شریف محمد ؒ اور مٹھن جتوئی کے آبا دہو نے کے ساتھ ہی کو ٹ مٹھن میں آبا د ہو گئے ۔کو ٹ مٹھن میں قومو ں کی آبا د کا ری کا دوسرا اہم مو قع حضرت خواجہ عا قل محمد ؒ کی ذات گرامی نے فرا ہم کیا جنکی پر کشش شخصیت نے لو گو ں کو اپنی طرف ما ئل کیا اور انکی روحا نیت سے کسبِ فیض حا صل کرنے کے لئے لو گ دور دراز سے ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہو نے کی غرض لے کر کو ٹ مٹھن میں آبا د ہو ئے ۔آبا دکا ری کایہ سلسلہ 1713 سے شروع ہو کر 1810 تک پھیلا ہوا ہے۔ تیسرا مو قع کو ٹ مٹھن کی تجا رتی اہمیت کا مرہون منت ہے جس نے مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے تجا رت پیشہ افراد کو کو ٹ مٹھن میں سکو نت حا صل کرنے پر مجبو ر کیا ۔ ان افراد میں ہندوؤں کی اکثریت تھی اور یہ آباد کا ری 1820 کے بعد شروع ہو ئی ۔ مختلف اوقات میں جو قومیں کو ٹ مٹھن قدیم میں آبا د ہو ئیں ۔انکی تفصیل درج ذیل ہے ۔

 سیلاب کے بعد  کہاں آباد ہوئے آبادی کا سال سربراہ جو کوٹمٹھن قدیم میں آباد ہوئے نام   قوم نمبرشمار
کو ٹ مٹھن   جدید 1713 خو اجہ   شریف محمد کو ریجہ   قریشی 1
1720   میں پیا رے والی چلے گئے 1713 مٹھن خا ن جتو ئی 2
کو ٹ مٹھن   جدید قبل از   1713 مزار خان دریشک 3
کو ٹ مٹھن   جدید ایضاً اصغر خان گو پا نگ 4
کو ٹ مٹھن   پکہ ایضاً یقوب خان ارائیں   چوغطہ 5
علا قہ   روجھان ایضاً تھا ز خا   ن مزاری 6
کو ٹلہ   حسین ایضاً مو الی خا   ن کڈن 7
کو ٹ مٹھن   جدید 1750 بندے شاہ سید بخاری 8
کو ٹ مٹھن   جدید 1770 قبول خا ں ارائیں   پٹھان 9
کو ٹ مٹھن   جدید 1770 میاں   برخوردار قریشی 10
بستی گو   لہ 1775 نہال   خا ن گولہ 11
بستی گنو   کھانی 1795 سومرا خا ن دریشک 12
ایضاً ایضاً تھوجن خا   ن ایضاً 13
ایضاً ایضاً پنیر خا ن ایضاً 14
کو ٹ مٹھن   جدید 1898 رحمت   اللہ اعون 15
نا معلوم 1800 فتو خان ارائیں   بھوانہ 16
ڈیرہ غا   زی خا ن 1805 جلالہ جٹ چوہان 17
ایضاً 1810 محمد جمال جٹ کھرل 18
نامعلوم ایضاً خلیفہ عمر بھایہ 19
کوٹ مٹھن   جدید 1820 محرم شاہ سید   قریشی ہاشمی 20
کوٹ مٹھن   جدید 1825 مقبول لاکھا 21
کوٹ   مٹھن جدید 1825 غلام رسول خو جہ 22
کوٹ مٹھن   جدید 1835 محمد خوجہ   عرف چاولہ 23
کوٹ مٹھن   جدید 1850 جندو   ڈہ خو جہ 24
نا معلوم 1825 محمو د جٹ   ایری 25
عمر کو ٹ    تحصیل روجہان 1825 بکھو خا ن جانگلہ 26
بستی کلر 1825 بندو خان جٹ کلر 27
ایضاً 1825 ملو   ک خا ن جٹ کلر 28
مو ضع کو   ٹ مٹھن پکہ 1825 دریم ما چھی 29
کو ٹ مٹھن   جدید 1830 خلیفہ   احمد یا ر کھو کھر 30
کو ٹ مٹھن   جدید 1830 محمد کلا سرہ 31
کو ٹ مٹھن   جدید 1835 خیر محمد سیال 32
کو   ٹ مٹھن جدید 1835 فتح محمد لو ہار 33
کو ٹ مٹھن   جدید 1840 بخشن درکھان 34
کو ٹ مٹھن   جدید 1850 اللہ   جوایا گاذر 35

مندرجہ بالا تفصیل میں مسلمانو ں کی جن قومقں کا ذکر کیا گیا ہے ۔وہ کو ٹ مٹھن کے قدیم شہر میں آبا د تھیں ۔ 1826 کے سیلاب میں وہ شہر غرق ہوا تو مسلمانوں کی ۳۵ میں سے ۱۷ قوموں کے لو گ کو ٹ مٹھن کے جدید شہر میں آبا د ہو ئے ۔البتہ کچھ قومقں کے لوگ جو زیا دہ تر زراعت پیشہ تھے انہوں نے کو ٹ مٹھن جدید میں رہنے کی بجا ئے اس کے گرد ونو اح میں اپنی الگ چھو ٹی چھو ےٹی بستیاں آبا د کرلیں ۔ ان بستیوں میں بستی گو لہ ،بستی میانی ،بستی گنو کھانی اور بستی کلر قابلِ ذکر ہیں۔ مسلمانوں کی ایسی قومیں جن کا ذکر مندرجہ با لا تفصیل میں نہیں آیا لیکن مو جو دہ کو ٹ مٹھن میں وہ قومیں آج بھی آبا د ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا تعلق کو ٹ مٹھن قدیم سے نہیں تھا اوروہ قومین مو جو دہ شہر کے قیام کے بعد یہاں آبا د ہو ئیں تھیں ۔ جن کا ذکر آگے کو ٹ مٹھن جدید کے حصے میں آئے گا ۔         

اب ملا خطہ ہو کو ٹ مٹھن قدیم میں ہندو قوموں کی آبا د کا ری کی تفصیل ۔

کو ٹ مٹھن قدیم میں ہندوؤں کی اکثریت چو نکہ تجا رت پیشہ افراد پر مشتمل تھی اس لئے1826؁ء کے سیلاب میں تقریباًآدھے ہندو کو ٹ مٹھن کے مو جو دہ شہر میں آبا د ہو نے کی بجا ئے دوسرے مقا مات پر چلے گئے لیکن بعد میں اور بہت سارے ہندو دوسرے علا قوں سے نقل مکانی کر کے کو ٹ مٹھن کے مو جو دہ شہر میں آبا دہو گئے ۔ اس طرح کو ٹ مٹھن جدید کے قیام کے بعد اس نئے شہر میں ہندوؤں کی قومیں آبا د ہو ئیں انکے نام درج ذیل ہیں ۔

۱۔ ۱۔ لکھی ۲۔  کٹارہ ۳۔ مردلہ ۴۔  گا ڈی ۵۔  دھنگڑہ ۶۔ ڈیلہ ۷۔ اہوجہ ۸ ۔ لنڈ

  سیلا ب کے بعد کو ت مٹھن قدیم کی آبا دی کو جب مو جو دہ شہر میں بسایا جانے لگا تو ہندوؤں کی 24 میں سے14چھوٹی بڑی قومیں مختلف علا قوں سے نقل مکانی کر کے نئے شہر میں آبا دہو ئیں (جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے)اس طرح کو ٹ مٹھن جدید میں ہندوؤں کی کل 22 قومیں آباد  تھیں جو قیام پاکستان کے بعد ہندوستان کیطرف کوچ کر گئیں 

وہ شہر کہا ں تھا

میں کو ٹ مٹھن کا قدیم شہر آبا د ہو ا او1862کے دریا ئی سیلا ب میں اس طرح غرقا ب ہوا کہ آج ڈھو نڈنے سے بھی اس شہر کا نشان نہیں ملتا تقریباً چا ر ہزار      نفو س پر مشتمل وہ شہر کہا ں تھا ؟ 
اہلِ علم کے لئے یقیناًً یہ ایک معمہ ہے جسے آئندہ سطور میں حل کرنے کی کو شش کی جا ری ہے

  مٹھن خا ن نے جس کو ٹ مٹھن کی بنیا د رکھی وہا ں اس سے پہلے کو ئی آبا دی نہیں تھی ۔او ر نہ ہی پا نچ سات میل تک کو ئی ایسا قصبہ مو جو د تھا جس سے کو ٹ مٹھن کا را بطہ استوار ہو تا البتہ مختلف قوموں کے لو گ چھدری آبا دی کی صورت میں اس علا قے میں رہا ئش پذیر تھے کو ٹ مٹھن کی بنیا د جس جگہ پر قا ئم ہو ئی وہ ایک عا م گزر گا ہ تھی جو دریا کے کنارے کنا رے سیت پو ر کو کشمور سے ملا تی تھی ۔تاریخی حقائق سے یہ بات پہلے ہی سے ثا بت ہو چکی ہے کہ حضرت خوا جہ شریف محمدؒ ولدحضرت خواجہ یعقوب محمد قوم کوریجہ اور مٹھن خان ولد کلا ن خا ن قوم جتوئی نے 1713 میں کو ٹ مٹھن کی بنیا د رکھی تھی ۔ اس طرح کو ریجہ اور جتو ئی اقوام کو ٹ مٹھن کی بانی قومیں قرار پا ئی ہیں ۔ حا لا نکہ اس سے پہلے بھی اس علا قے میں چند قو میں آبا د تھیں لیکن ان کی آباد ی سے کسی بستی یا گا ؤں کے تقا ضے پو رے نہیں ہو تے تھے اور وہ قومیں چھدری آبادی کی صورت میں اس پو رے علا قے میں پھیلی ہو ئی تھیں ۔ مگر جب مٹھن خا ن نے حضرت خو اجہ شریف محمدؒ کے لئے ایک مدرسہ اور قیا م گا ہ کی تعمیر مکمل کی تو اس علا قے میں پہلے سے آباد شدہ کچھ لو گ بھی اپنے عارضی مسکن ترک کر کے اس نئے ( کوٹ ) میںآباد ہو نے شروع ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ آبادی ایک بستی اور قصبے کی صورت اختیا ر کرتی گئی اور اسے (کو ٹ مٹھن )کے نا م سے پکا را جا نے لگا اگرچہ مختلف شہر اور قصبوں میں آبا د کا ری کا عمل ہر دور میں جا ری رہتا ہے۔مگر کو ٹ مٹھن میں آبا دکا ری کی تا ریخ میں تین مو اقع ایسے گزرے ہیں ۔ جن میں با ہر کے لو گو ں نے اس شہر میں آبا د ہو نے کے لئے اپنے آبائیٹھکانو ں کو چھو ڑ کر قصداً یہاں کا رخ کیا ۔ اس سلسلے میں آباد کا ری کا پہلا موقع وہ تھا جب کو ٹ مٹھن کا قیا م عمل میں آیا چونکہ وہ شہر پہلے دن سے ہی ایک مستقل بستی کے قیا م کی صورت اختیا ر کر گیا اس لئے جو لو گ عارضی ٹھکانوں سے گریزاں تھے اور انہیں مستقل سکونت کے لئے کسی منا سب جگہ کی تلا ش تھی تو وہ ترکِ سکو نت اختیا ر کر کے بطور خا ص کو ٹ مٹھن میں آبا د ہو ئے ۔ان میں زیا دہ تر مقامی سطح پر پہلے سے مو جو د قوموں کے افراد تھے ۔جوحضرت خواجہ شریف محمد ؒ اور مٹھن جتوئی کے آبا دہو نے کے ساتھ ہی کو ٹ مٹھن میں آبا د ہو گئے ۔کو ٹ مٹھن میں قومو ں کی آبا د کا ری کا دوسرا اہم مو قع حضرت خواجہ عا قل محمد ؒ کی ذات گرامی نے فرا ہم کیا جنکی پر کشش شخصیت نے لو گو ں کو اپنی طرف ما ئل کیا اور انکی روحا نیت سے کسبِ فیض حا صل کرنے کے لئے لو گ دور دراز سے ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہو نے کی غرض لے کر کو ٹ مٹھن میں آبا د ہو ئے ۔آبا دکا ری کایہ سلسلہ 1770سے شروع ہو کر1810 تک پھیلا ہو اہے۔ تیسرا مو قع کو ٹ مٹھن کی تجا رتی اہمیت کا مرہون منت ہے جس نے مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے تجا رت پیشہ افراد کو کو ٹ مٹھن میں سکو نت حا صل کرنے پر مجبو ر کیا ۔ ان افراد میں ہندوؤں کی اکثریت تھی اور یہ آباد کا ری 1820کے بعد شروع ہو ئی ۔اس سلسلہ میں محکمہ محا ل کی طرف سے1855 میں مرتب ہو نے والے ایک نقشے سے مدد ملتی ہے ۔ جو آسنی اور را جن پو رکو کو ٹ مٹھن قدیم سے ملا تی تھیں ۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب کو ٹ مٹھن کی بنیا د پڑی تو اس پو رے خطے میں صرف آسنی کا قدیم قصبہ مو جو د تھا جسکا تا ریخ کو ٹ مٹھن را بطہ قا ئم ہو ا۔ ان دونوں قصبوں کو ملا نے کے لئے جو گزر گا ہ استعما ل میں لا ئی گئی ۔ وہاں بعد میں بستی دھیگن اور بستی پھلی آبا د ہو ئے اس طرح 1732میں جب مخدوم را جن شا ہ نے را جن پو ر کی بنیا د رکھی تو کو ٹ مٹھن سے اس کا را بطہ نا گزیز ہو گیا ۔ چنا نچہ کو ٹ مٹھن سے را جن پو ر کا را بطہ جس سٹرک سے ہو ااس پر بعد میں کو ٹلہ نصیر اور ڈھگو جیسے قصبے آباد ہو ئے ۔اور یہ سڑک ان دو نو ں قصبوں سے ہو تی ہو ئی دھیگن پرآکر آسنی اور کو ٹ مٹھن والی سڑک سے ملتی تھی ۔ یہ سڑک آج بھی مو جو د ہے جو زیا دہ تر را جن پو ر سے روجہان اور آگے کشمو ر کے لئے استعما ل ہو تی ہے اس زما نے میں یہ سڑک صرف راجن پو ر کو کو ٹ مٹھن سے ملا تی تھی ۔کے مرتبہ نقشے کی روشنی میں تیار شدہ نقشہ ملاحظہ ہوا، اس سے واضع طور ہرنشاندہی ہوتی ہے ۔ کہ کوٹ مٹھن قدیم کہاں پر واقع تھا۔ اورموجودہ کوٹ مٹھن شہر سے کس سمت میں موجود تھا۔ منشی حکم چند کے مطابق موجودہ شہر سے اس کا فاصلہ 3 میل تھا۔

( بحوالہ تواریخ ڈیرہ غازیخان 1876 صفحہ نمبر 38 )

آبا دی 

  کو ٹ مٹھن قدیم صفحہ ہستی پر ڈیڑھ سو سا ل تک قا ئم رہا اور1862کے سیلا ب میں دریا برد ہو گیا ۔1855 میں انگریزوں نے اپنی زیر نگرا نی ضلع ڈیرہ غا زی خا ن کی پہلی مردم شماری کرائی اس وقت کے ریکا رڈ کے مطا بق کو ٹ مٹھن قدیم کی آبادی 3991 افرا دپر مشتمل تھی ۔ جبکہ پورےضلع ڈیرہ غازی خان کی آبادی238964نفوس پرمشتمل تھی

تحصیل کو ٹ مٹھن

1845 میں جب انگریزوں نے سکھوں کے خلا ف طا قت استعمال کر کے پنجا ب پر اپنا تسلط قائم کیا تو انہوں نے پنجا ب کو مختلف اضلا ع او ر اضلاع کو مختلف تحصیلوں میں تقسیم کر دیا چنانچہ اس پالیسی پر عمل درآمد ہوتے ہوئے 1849 میں ڈیرہ غازیخان کو ضلع بنا دیا گیا اور جنرل کورٹ لینڈ کو ضلع ڈیرہ غازیخان کا پہلا ڈپٹی کمیشنر مقرر کیا گیا۔ اسضلعکے تحت جو تحصیلیں بنائی گئیں اُن میں تحصیل ڈیرہ غازیخان ، تحصیل سنگھڑ ، تحصیل داجل ، اور تحصیل کوٹ مٹھن شامل تھیں۔ کوٹ مٹھن تحصیل نے مارچ 1853 میں باقاعدہ طور پر کام شروع کیا ۔ مسٹر وڈ نے پہلے اسسٹنٹ کمیشنر کی حیثیت سے تحصیل کوٹ مٹھن کا چارج سنبھالا ۔ اُن دنوں شہر کے اندر ایک بہت بڑی سرائے تھی جسے مسافروں کی رہائیش کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ انگریزوں نے اس سرائے کو اپنے قبضے میں لے کر وہاں سرکاری دفاتر قائیم کر دئیے۔ البتہ آفیسران کی رہائیش کے لئے شہر سے دورُ شمال میں ایک ریسٹ ہاوس تعمیر کیا گیا جو اپنی انتہاہی خستہ حال کھنڈر کی صورت میں اب بھی موجود ہے۔ اور موجودہ کوٹ مٹھن کے جنوبی حصہ میں واقع ہے۔ اس ریسٹ

ہاوس کی تعمیر 1856 میں مکمل ہوئی جو کہ زیادہ تر اسسٹنٹ کمیشنر کی رہائیش گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ جولائی 1861 میں اس ریسٹ ہاوس میں ایک واقعہ پیش آیا جو قابل ذکر ہے۔ اُس وقت کے اسسٹنٹ کمیشنر مسٹر جیکسن اپنی نوجوان بیوی لیڈی مارٹینا کے ساتھ اس ریسٹ ہاوس کی چھت پر سویا ہوا تھا۔ (بقول ہتورام) دونوں شراب کے نشے میں مست تھے۔ رات کے کسی پہر اس کی بیوی نشے کی حالت میں بڑ براتی ہو ئی اپنی چارپائی سے اُٹھی اوراسی بے ہوشی کی حالت میں چھت سے گر پڑی اور چھت سے نیچے گرتے ہی اُسے ایسی چوٹ لگی کے وہ سنبھل نہ سکی اور نہ ہی کسی کو اس کی خبر ہوئی اور وہ بچاری تڑپ تڑپ کر وہی مر گئی۔ صبح ہوئی تو سب نے اُسے موت کی حالت میں پایا۔ جیکسن کے کہنے پر اُسے ریسٹ ہاوس کے عقبی احاطے میں مدفن کر دیا گیا۔ 1853 سے لیکر 1862 تک تحصیل کوٹ مٹھن میں جن اسسٹنٹ کمیشنرز نے فرائض سر انجام دئیے اُن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

2اپریل1848ء کو جب ملتان کے سکھ حکمران مولراج نے انگریزوں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تو وہ اس غلط فہیمی میں مبتلا تھا کہ ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے لوگ جن پر وہ ایک عرصہ سے حکومت کر رہا تھا اس کا مکمل طور پر ساتھ دیں گے حالانکہ سکھوں کے مظالم کی وجہ سے یہاں کے لوگ بہت زیادہ تنگ تھے اوراندرونی طور پر سکھوں کے خلاف لوگوں میں بہت زیادہ نفرت پائی جاتی تھی چنانچہ جب مولراج کے حامیوں نے ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے علاقوں میں عوام کو انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کے لئے اشتہارات اور اعلانات جاری کئے تو عوام نے کوئی دلچسپی نہ لی ۔بلکہ لوگوں کے دلوں میں سکھوں کے خلاف جو نفرت پائی جاتی تھی اس کا براست فائدہ انگریزوں کو پہنچا۔ اس سلسلہ میں جان سٹریچی لکھتا ہے (ترجمہ)
" جب تک ہم صیحح طور یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ وسیع و عریض ہندوستانی مملکت کس طرح ہمارے ہاتھ آئی اور کسطرح مٹھی بھر انگریزوں نے قابو میں رکھا تو ہم حقیقتِ حال کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے ۔ پروفیسر نیسلے کے الفاظ میں یہ ایک اندرونی انقلاب تھا جس کی انگریزوں نے رہنمائی کی اور اسکی تکمیل زیادہ تر باشندگانِ ہندوستان نے کی ۔
"چنانچہ دیگر علاقوں کی طرح کوٹ مٹھن کی عوام میں بھی سکھوں کے خلاف بہت زیادہ نفرت پائی جاتی تھی اور وہ سکھوں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کر نے کیلئے موقع کے انتظار میں تھے ۔ 1848 ؁ء میں جب انگریزوں اور سکھوں کے درمیان جنگ جاری تھی تو اس دوران کشتیوں پر انگریزوں کا کچھ جنگی سامان دریائے سندھ کے راستے فیروز پور جا رہا تھا کوٹ مٹھن کے سکھ کاردار نے ان کو پکڑ کر سارا سامان مولراج کیطرف روانہ کر دیا ۔ تھوڑے سے فاصلے پر کوٹ مٹھن ہی کے ایک زمیندار نے حملہ کر کے سارا سامان سکھوں سے چھین کر انگریز حکمران کی طرف بھجوا دیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے اہلِ کوٹ مٹھن کے دلوں میں جہاں سکھوں کے خلاف نفرت پائی جاتی تھی وہاں ان کے دلوں میں انگریزوں کے لئے نرم گوشا تھا ۔ یہ نرم گوشا صرف اور صرف سکھوں کے خلاف ردِعمل کے طور پر اہلِ کوٹ مٹھن کے دلوں میں پیدا ہو گیا تھا ۔ اس سلسلہ میں میجر ایڈورڈز ایک جگہ لکھتا ہے (ترجمہ)
" کوٹ مٹھن کے کچھ بڑے زمینداروں نے مجھے لکھا کہ وہ سکھوں کے خلاف بغاوت پر تیار ہیں اور کوٹ مٹھن میں مقیم مولراج کے سکھ کاردار کو بھگا دینا چاہتے ہیں ۔ جہاں اس نے تین چار سو آدمی اپنی حمایت میں جمع کر رکھے ہیں ۔وہاں وہ مالیہ بھی وصول کرر ہا ہے میں نے انہیں لکھا کہ وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں مگر اس کار دار کو کسی حالت سے وہاں سے نہ جانے دیں ۔"
کوٹ مٹھن کے علاوہ ملتان اور ڈیڑہ غازیخان کے تمام شہروں اور قصبوں میں جہاں سکھ حکومت قائم رہی وہاں کے لوگوں میں سکھوں کے خلاف جو بغاوت پیدا ہوئی اُس کا نتیجہ اِس صورت میں سامنے آیا کہ دیوان مولراج نے کافی خون ریزی کے بعد ہتھیار ڈال دئے او1849ء میں یہ علاقے انگریزوں کے قبضے میں آگئے جس سے یہاں کے لوگوں کو آسودگی اور امن حاصل ہوا۔
1853ء میں انگریزوں کے عہد میں کوٹ مٹھن کو تحصیل کا درجہ ملا جس میں وقتاً فوقتاً12انگریز اسسٹنٹ کمشنر تعنات رہے۔1862 ؁ء کے سیلاب کے بعد تحصیلی ہیڈ کوارٹر کوٹ مٹھن سے راجن پور منتقل ہو گیا اور سیلاب سے بچی کھچی آبادی کو بسانے کے لئے 1865 میں انگریزوں کی زیرِنگرانی موجودہ شہر کی بنیاد پڑی ۔1875 ؁ء میں تھانہ کوٹ مٹھن کا قیام عمل میں آیا۔ جبکہ1876 ؁ ء میں مردانہ پرائمری سکول کا اجراء ہوا اسی دوران کوٹ مٹھن میں ڈاکخانہ کی بنیاد بھی پڑی۔1887۱ ؁ء میں کوٹ مٹھن کو میونسپل کمیٹی کادرجہ عطاء ہوا جس سے کوٹ مٹھن میں بلدیاتی نظام متعارف ہوا ۔انگریزوں کی زیرِ نگرانی1872 ؁ء ،1897 ؁ء اور1917ء میں تین بندوبست اراضی مکمل ہوئے1926ء میں کوٹ مٹھن میں مردانہ مڈل سکول کا قیام عمل میں آیا ۔ جبکہ1947ء کے عوائل میں زنانہ پرائمری سکول قائم ہوا ۔
المختصر انگریزوں کا سو سالہ دورِ حکومت سِکھا شاہی کی نسبت قدرِ ے بہتر تھا۔لیکن انگریزوں کے خلاف اہلِ کوٹ مٹھن کا ردِ عمل اُتنا ہی تھا جتنا کہ تحریکِ پاکستان کے مرکزی قائدین کا تھا ۔ کوٹ مٹھن میں ہندؤں اور مسلمانوں کی تعداد تقریباً برابر تھی اور بلدیہ کوٹ مٹھن میں بھی ہندؤں اور مسلمانوں کو یکساں نشستیں حاصل تھی اس لئے سیاسی اختلافات ہونے کے باوجود کوٹ مٹھن میں کبھی بھی ہندؤں مسلم فساد برپا نہیں ہوا۔ 14 اگست 1947ء کو قیامِ پاکستان کے
ساتھ ہی انگریز حکومت کے ساتھ ساتھ اہلِ کو ٹ مٹھن کو ہندؤں سے بھی نجات مل گئی۔

1853 سے لیکر 1862 تک تحصیل کو ٹ مٹھن میں جن اسسٹنٹ کمشنرون نے کام کیا انکی تفصیل کچھ یوں ہے ۔

تا۔۔۔ تاریخ

از۔۔ تاریخ

نام اسسٹنٹ کمیشنر

نمبر شمار

جون 1854

ماچ 1853

مسٹر وڈ

1

ستمبر 1854

جون 1854

کیپٹن ہرکس

2

نومبر 1855

اکتوبر 1854

مسٹر برسنٹو

3

فروری1856

دسمبر1855

مسٹر گریم

4

فروری1857

مارچ 1856

لیفٹینٹ ڈیویسن

5

نومبر 1857

یکم مارچ 1857

لیفٹیننٹ میرو

6

جون 1858

دسمبر 1857

مسٹر ڈیوس

7

اکتوبر 1858

جون 1858

مسٹر ایملی

8

اکتوبر 1859

نومبر 1858

مسٹر منچن

9

جنوری 1860

نومبر 1859

مسٹر اسمی

10

دسمبر 1861

فروری 1860

مسٹر جیکسن

11

اگست 1862

جنوری 1862

مسٹر لین

12

کیپٹن لین تحصیل کو ٹ مٹھن کا آخری اے سی تھا جو1862کے سیلا ب میں شہر کی غرقا بی کا عینی شا ہد تھا ۔ اس وقت اس نے سرکا ری ریکا رڈ کو را جن پو ر منتقل کر دیا بعد ازاں انگریز حکو مت کے ایک حکم کیمطا بق تحصیل کو ٹ مٹھن کو را جن پو ر میں شفٹ کر دیا گیا ۔ چنا نچہ مسڑ لین نے اگست 1862تا جنوری1864تحصیل را جن پو ر میں بطو ر اسسٹنٹ کمشنر کے اپنے فرا ئض سر انجا م دئیے اس منتقلی کے بعد انگریز حکو مت نے چند انتظا می وجو ہا ت کی بنا پر تحصیل سنگھڑ (منگڑوٹھ )کو تو نسہ اور تحصیل دا جل کو جا مپو ر منتقل کر دیا ۔

کو ٹ مٹھن جدید
قیام کی تا ریخ :۔

 کو ٹ مٹھن قدیم کی تباہی کے بعد اس شہر کے متا ثرہ افراد تقریبا دو سال تک کو ٹلہ حسین کے قریب عارضی جھو نپٹروں میں پڑے رہے۔
بالآخر انکی درخو است پر راجن پو ر تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر مسٹرلین نے ۲۰جنوریٗ۱۸۶۵ ؁ء کو نئے شہر کے قیام کا حکم صادر کیا ۔
۔ جس کے تحت سب سے پہلے علاقے کا س