ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

بلدیہ کوٹ مٹھن


 ۔ 11,اپریل 1887ء  میں انگریزوں نے پنجاب میں بلدیا تی نظا م متعارف کرایا جسکی روشنی میں کو پنجا ب حکو مت نے اپنے ایک نو ٹیفیکیشن میں ڈیرہ غا زی خا ن کے صر ف پانچ قصبوں کو یہ اعزاز دیا تھا جن کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
1 ۔ میونسپل کمیٹی ڈیرہ غا زی خا ن        2 ۔ میونسپل کمیٹی جام پور         3 ۔ میونسپل کمیٹی داجل           4۔ میونسپل کمیٹی راجن پو ر              5 ۔ میونسپل کمیٹی کو ٹ مٹھن
1862ء کے سیلا ب کی تبا ہ کاری کے بعد کو ٹ مٹھن کا تحصیلی ہیڈ کو اٹر راجن پو ر منتقلہو گیا تھا او1881 ؁ء کی مردم شماری کیمطا بق اس وقت قصبے کی آبادی بھی زیا دہ نہیں تھی صرف 2607 بنی نوع انسان اس قصبے میں آباد تھے ۔لیکن اس کے با وجو د کو ٹ مٹھن کو میونسپل کمیٹی کامقام حا صل ہو گیا ۔اس کی واحد وجہ اس میو نسپلٹی کی معقول آمدنی تھی جو میو نسپلٹی کے اخراجا ت پو رے کرنے کے با وجو د حکو مت کے خزانے میں جمع ہو نے کے لئے بچ جا تی تھی ۔
ا س وقت کی ایک رپورٹ کے مطا بق کو ٹ مٹھن میو نسپل کمیٹی کی پا نچ سالہ آمدنی کا گو شوارہ درج ذیل ہے

آمدنی

سال

نمبر شمار

3579 -

93 ۔ 1892

1

3659 -

94 ۔ 1893

2

2946 -

95 ۔ 1894

3

3086 -

96 ۔ 1895

4

3210 -

97 ۔ 1896

5 

۔ 1. ضلعی گزیٹئر ڈیرہ غا زی خا ن 84۔1883 ؁ء صد182
2۔ ضلعی گزیٹئر ڈیرہ غا زی خا ن 84۔1883 ؁ء صد191
3۔ ضلعی گزیٹئر ڈیرہ غا زی خا ن84۔1883 ؁ء گو شوارہ نمبر۔ایکس ایل وی

میو نسپل کمیٹی کے قیام کے بعد با زار میں کمیٹی کا ایک دفتر تعمیر کیا گیا ۔ جس میں 1946ء تک یہ دفتر با قاعدگی کیساتھ کا م کر تا رہا ۔           
نومبر1946ء میں جب نئے بلدیا تی انتخا با ت کا انعقاد ہوا اور کو ٹ مٹھن میں لالہ لو کو رام نے بحیثیت صدرکمیٹی ( چیئر مین بلدیہ )اپنا چارج سنبھالا تو اس نے دفتر میں جگہ کی کمی کو شدت سے محسوس کیا وہ ہر برانچ کے لئے علیحدٰہ علیحدٰہ کمرے کو ترجیح دیتا تھا اور کمیٹی کے دفتر میں ایک لا ئبریری بھی قائم کرنا چا ہتا تھا ۔ اس بنا ء پر اس نے فروری 1947ء میں دفتر کے لئے شہر میں چنبن دین سوداگر کی ما ڑی پا نچ روپے ماہوار کرا ئے پر لی اور تمام ریکا رڈ وہاں منتقل کر دیا ۔ ایک سال تک یہ دفتر اس عمارت میں قائم رہا۔14 اگست 1947ء کو پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو لو کو را م ہندوستا ن کی طرف سدھا ر گیا ۔ اس کے بعد
           رحیم بخش خا ن کو را ئی صدر کمیٹی مقرر ہو ا جس کی زیر نگرانی 11 فروری 1947ء کو بلدیہ کے اجلا س میں دفتر کو دوبارہ اپنی اصل بلڈنگ میں منتقل کرنے کا فیصلہ ہو ا ۔ا ور چند دنو ں میں یہ دفتر واپس با زار میں منتقل ہو گیا جہا ں تقریبا6سال تک یہ دفتر بدستو ر قائم رہا۔مو رخہ15 اور14جو لا ئی1954 ؁ء کی درمیا نی شب بلدیہ کے دفتر میں آگ لگنے کا نا خو شگوار واقعہ پیش آیا جس میں اہم ریکا رڈ کے ساتھ ساتھ بلدیہ کے اکثر ملازمین کی سروس بکیں بھی جل کر راکھ ہو گئیں ۔اس پر انکو ئری شروع ہو گئی اور بچے کھچے ریکارڈ کو سنا تن دھرم مندر کی عمارت میں منتقل کر کے اسے دفتر کی شکل دے دی گئی ۔انکو ئری میں آگ لگنے کے اس واقع کو اتفاقیہ قرا ر دیدیا گیا اور حکو مت کی ہدایت پر ملا زمین کی سروس بکیں از سر نو تیا ر کی گئیں ۔اس حا دثے میں

جن ملا زمین کی سروس بکیں متا ثر ہو ئیں ان کے نا م یہ ہیں ۔

عہدہ

نام

نمبر شمار

عہدہ

نام

نمبر شمار

محرر چونگی

رحیم بخش

7

سہپریڈینٹ

محمد نواز خان

1

محرر چونگی

حفیظ اللہ

8

انسپکٹر چونگیات

حاجی خدا بخش

2

محرر چونگی

محمد شریف

9

محرر چونگی

عبدالرحمٰں

3

محرر چونگی

محمد صدیق

10

محرر چونگی

فیض احمد

4

محرر چونگی

منظور احمد

11

محرر چونگی

عبدالکریم

5

محرر چونگی

نیک محمد

12

محرر چونگی

سردار علی شاہ

6

1966

 میں کو اپریٹو بنک کے اجرا ء پر بلدیہکے قدیمی دفتر کو پہلے ہی بنک کی تحویل میں دیا جا چکا تھا اس لئے تقریباً آٹھ دس سال تک بلدیہ کا دفتر سنا تن دھرم کی مذکو رہ عمارت میں قائم رہا ۔
جنوری1967ء میں نئی عمارت کی تعمیر مکمل ہو جا نے پر ہسپتا ل کو پرا نی عمارت میں اور بلدیہ کے دفتر کو نئی عمارت میں لیا جا یا گیا جہا ں یہ اب تک قائم ہے ۔9 فروری 1967ء کو اس وقت کے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غا زی خا ں ملک احمد خا ن نے ہسپتال کی اس پرا نی عمارت میں دفتر بلدیہ کا اختتام کیا ۔
1983 میں پنجا ب لو کل کو نسل اتھا رٹی کیطرف سے ایک حکمنا مہ جا ری ہو ا جس کے تحت کو ٹ مٹھن کی آبا دی دس ہزار سے کم ہو نے کے با عث اسے میو نسپل کمیٹی کی بجا ئے یو نین کو نسل کا درجہ دینے کے احکامات جاری ہوئے . اس کاروائی کو روکوانے کے لئے جو موئقف اختیار کیا گیا اُس کے مطابق میو نسپلٹی کی قدامت کا حوالہ دیتے ہو ئے کہا گیا کہ انگریزوں نے 1887ء میں اس قصبے کی آبا دی کم ہو نے کے با وجو د اسے میو نسپل کمیٹی کا درجہ عطا ء کیا تھا دوسرا یہ کہ اس وقت کمیٹی کی حدود زیادہ پھیلی ہو ئی نہیں ہیں ۔
1981 ؁ء سے اس کی تو سیع کا معاملہ زیر کا ر ہے آج بھی اگر یہ کیس منظو ر کر لیا جا ئے تو کو ٹ مٹھن کی آبادی سترہ ہزار سے بھی تجا وز کر جا ئے گی ۔مذکو رہ جو اب کی روشنی میں میو نسپل کمیٹی کو ٹمٹھن یو نین کو نسل بننے سے بچ گئی البتہٰ اس کا ایک درجہ کم کر کے اس کے لئے ٹا ؤن کمیٹی کے احکامات جا ری کر دئیے گئے اس وقت سے اب تک کو ٹ مٹھن کو ٹاون کمیٹی کا درجہ حا صل ہے ۔بلدیہ نظام کے مو جو دہ دفتر میں آتش زدگی کا ایک اور نا خوشگوار واقعہ پیش آیا جس میں ایک دفعہ پھر قیمتی ریکا رڈ نذر آتش ہو گیا ۔اب یہ پتہ نہیں کہ آگ لگنے کا یہ واقعہ محض اتفا ق تھا ۔ یا اس کے درپردہ کسی اہلکا ر یا مقامی سیا سی لیڈر کی ذا تی دلچپسی کا ر فرما تھی البتہ اتنا ضرور ہے کہ انکو ائری میں کسی پر جرم ثا بت نہیں ہو سکا ۔
اس طرح مئی1988ء میں بلدیہ کے مالیا تی امور میں خو رد برد اور ضروری ریکا رڈ کی گمشدگی کا انکشاف ہو اجس کی پا داش میں محمد انو ر کلرک پر انٹی کرپشن کا کیس رجسٹر ڈ ہو ا مگر انکو ئری میں یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا ۔ان تمام بحرا نوں کے با وجو دکو ٹ مٹھن میں اس اہم دفتر کا کام اپنی مخصوص رفتا ر کیساتھ جا ری ہے اور اس کی ترقی کی راہ میں مخصوص رفتا ر کیسا تھ جا ری ہے اور اس کی ترقی کی را ہ میں کبھی کو ئی دیو ار حا ئل نہیں ہو ئی
لیجئے اب ملا خطہ ہو بلدیہ کی سا لا نہ آمدنی اور اخرا جا ت سے متعلق بیس بائیس سالہ بجٹ رپورٹ

سالانہ بجٹ کا گو شوارہ

اخراجات

آمدن

نام چئیر مین

سال

نمبر شمار

39,563-

39,570-

حاجی محمد شریف صاحب

1954 – 55

1

39,614-

40,000-

سید محمد علی شاہ صاحب

1955 – 56

2

41,560-

41,580-

سید محمد علی شاہ صاحب

1956 -57

3

42,218-

42,428-

ملک غلام صابر صاحب

1957 – 58

4

45,161-

45,485-

ملک غلام صابر صاحب

1958 – 59

5

49,614-

49,632-

ملک غلام صابر صاحب

1959 – 60

6

69,702-

69, 268-

ملک غلام صابر صاحب

1960 – 61

7

97,500-

1,21,188-

ملک غلام صابر صاحب

1961 – 62

8

1,01,023-

1,01,225-

ملک غلام صابر صاحب

1962 – 63

9

84,890-

84,970-

ملک غلام صابر صاحب

1963 – 64

10

8,20,151-

8,25,595-

ملک غلام صابر صاحب

1980 - 81

11

11,72,539-

14,13,088-

ملک غلام صابر صاحب

1981 -  82

12

17,95,552-

18,99,555-

ملک غلام صابر صاحب

1982 –  83

13

21,07,601-

22,31,787-

ملک غلام صابر صاحب

1983 – 84

14

22,55,624-

23,57,940-

ملک غلام صابر صاحب

1984 –  85

15

23,59,374-

23,57,940-

ملک غلام صابر صاحب

1985 -  86

16

24,76,500-

24,77,265-

ملک غلام صابر صاحب

1986 – 87

17

27,96,983-

25,81,500-

ملک غلام صابر صاحب

1987 –  88

18

42,58,556-

29,35,141-

راو محمد صدیق صاحب

1988 –  89

19

 

 

راو محمد صدیق صاحب

1989 -  90

20