ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ

 امن ڈویلپمنٹ آرگنائیزیشن راجن پور ہیڈ آفس کوٹ مٹھن وارڈ نمبر۱ کوٹ مٹھن نزد دربار فریدؒ
Registration No. DDSW(DGK)92/94  Of 1992         Registration Rule.(Registration and Control) Ordinnance,1961 (XLVI Of 1961)  Registration Date. 13th October 1992. Dera Ghazi Khan

ٹیم امن ڈویلپمنٹ آرگنائیزیشن                         Email. aman@kotmithan.com                         cell.No.+923336432111     

نام عہدہ نام عہدے داران امن ڈویلپمنٹ آرگنائیزیشن نمبر شمار
صدر کمال فرید ملک (ایڈووکیٹ) ڈسٹرکٹ بارراجن پوُر 1
نائب صدر اول ڈاکٹر ارشاد احمد گوپانگ 2
نائب صدر دوئم راو شوکت حیات ولد راو غلام نبی سکنہ وارد نمبر8 کوٹ مٹھن 3
جنرل سکریٹری محمد اشرف فریدی ولد محمد اکبر فریدی وارڈ نمبر 4 شہر فریدؒ کوٹ مٹھن 4
جوائینٹ سکریٹری مختیار احمد سیال وارڈ نمبر 1 کوٹ مٹھن 5
فنانس سکریٹری ساجد شبیر پنوار ولد غلام شبیر پنوار وارد نمبر 5 کوٹ مٹھن 6
سکریتری انفارمیشن میاں احمد رضا خوجہ ولد میاں غلام محمد  سکنہ وارڈ نمبر7 7
ممبر میاں محمد قاسم ولد میاں نور محمد خواجہ سکنہ وارڈ نمبر7 8
ممبر قاجی محمد طفیل ولد قاضی دلبر حسن سکنہ وارد نمبر 9 9
ممبر مرید حسین برڑہ سکنہ وارڈ نمبر4 کوٹ مٹھن 10
ممبر فدا حسین مگل ولد حافظ خادم حسین سکنہ وارڈ نمبر 1 11
ممبر حمزہ فرید ملک ولد کمال فرید ملک سکنہ وارڈ نمبر5 12
ممبر شیخ محمد انور ولد امام بخش سکنہ وارڈ نمبر 1 13
ممبر رخسانہ جبیں صاحبہ 14
ممبر شمیم انور صاحبہ زوجہ محمد انور 15
ممبر حسنین احمد خان لغاری 16
ممبر محمد طارق حسین چشتی 17
ممبر مس ارشاد بتول بخاری صاحبہ 18
ممبر عبید اختر درانی ولد ڈاکٹر ارشاد اللہ کلیم درانی 19
ممبر ظفر اللہ درانی ولد عبدالرحمٰن درانی سکنہ وارڈ نمبر4 20


امن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مختصر تعارف ، فلاحی اقدامات  اور قردتی آفات میں اس کا کردار   
امن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کا پہلا نام مٹھن ویلفئیر سوسائیٹی تھا، بعد ازاں اس کا نام تبدیل کر کے امن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن رکھا گیا ۔  اس کی باقاعدہ رجسٹریشن 1992  ہوئی  ۔اس تنظیم نے زیادہ تر کام تعلیمی شعبہ میں کیا اور سب سے پہلے ٹاؤن کمیٹی کوٹ مٹھن کے علاوہ یونین کونسل مرغائی ، یونین کونسل ونگ میں اپنی سرگرمیاں شروع کیں ۔ مختلف طلباء وطلبات کو ایک مقامی انگلش میڈیم سکول میں مفت تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لیئے اقدامات کئے اور اس کے علاوہ سرکاری اور غیر سرکاری(پرایؤیٹ )گرلز اور بوایئز تمام تعلیمی اداروں میں (مڈل کی سطح تک) کے درمیان مقابلہ کی فضاء قائم کی اس سلسلہ میں تنظیم کی جانب سے ہر گرلز اور پرائمری سکول کے طلباء و طلبات کو سال کے آخر میں ایک کنوکیشن میں اکٹھا کیا جاتا اور ہر سکول کے تین طالب علموں کو یعنی اول،دوئم اور سوئم آنے والے طلباء و طلبا ت میں خصوصی سر ٹیفیکیٹ اور میڈلز اور تعریفی اسنا د دی جا تی تھی ۔اس طرح ہر سکو ل کے اچھے نتا ئج کی بنا ء پر اسا تذہ اور پرنسپل ،ہیڈ ما سٹرز صا حبا ن کو بھی میڈلز اور تعریفی اسناد دی جا تی تھیں۔ اس سا لا نہ کا نو کییشن میں مقابلہ تقاریر ،خا کو ں کا انتظا م کیا جا تا تھا ۔اس پروگرا م میں ہزاروں کی تعداد میں طلبا ء وطا لبا ت اور اسا تذہ ومعززین کی شرکت سے پو رے علا قہ میں سرکا ری اور پرا ئیوٹ تعلیمی اداروں کے درمیان بہترین مقابلے کی فضا کو قا ئم کرنے میں مدد ملی اور نہ صرف بچوں اور اساتذہ بلکہ وا لدین میں جو ش و جذبہ پیدا کیا گیا ۔ اس کیسا تھ ساتھ غریب ،مفلس اور نا دار طا لب علموں کے لئے مفت تعلیم کا انتظا م بھی کیا جا تا رہا ۔علا وہ ازیں تعلیم با لغا ں اورخا ص طو ر 8سے 10سال کے بچوں کو تعلیمی سہو لیا ت فرا ھم کرنے کے لئے شا م کے وقت خصوصی کلا سوں کا اہتما م کیا گیا جس کی بدولت اس پورے علا قہ میں تعلیم سرگرمیاں تیز تر ہو گئی ۔

۔علا وہ اذیں یتیم بچیو ں کی شا دی کروانے اور اور ان کے لو احقین کی اس کا ر خیر میں مدد کرنا اس تنظیم کے اہم مقاصد میں شا مل رہا ۔
۔ خا ص طو ر پر 2010 ؁ء کے سیالا ب میں اس تنظیم نے اپنا اہم ترین رو ل ادا کیا اور شہرفریدؒ کو ٹ مٹھن کے سر پر مو جو د دریا ئے سندھ کی طغیا نی میں ہزاروں لو گو ں کو دریا ئی علا قہ سے نکا ل کر محفو ظ جگہ پر پہچا نے کے علا وہ ان کی خو را ک کا خصوصی طو ر پر انتظا م کرنا اور متو اتر تین ما ہ تک اس سلسلہ کو بغیر کسی بڑے ڈونر کے خو ش اسلو بی سے اس انداز سے جا ری رکھا کے حکو مت پنجاب کے اعلیٰ اربا ب اختیا ر نے اس عمل کو سراہا ۔   اس سلسلہ میں خواجہ محمد اظہر ما لک فیصل موورز (ٹرانسپورٹ کمپنی) اور اُن کے ساتھیوں کا کا م قابل ذکر ہے جنہوں نے ہما رے ہمرا ہ اس مشکل ترین وقت میں نہ صرف خو د کا م کیا بلکہ ما لی امداد میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔اور شدید گرمی کے موسم میں وہ اور اُن کی ٹیم اور ٹیم میں خاص طور پر عثمان بھائی اور اُسوقت کے ایم پی اے جناب شاید حسن خان صاحب کی جسقدر تعریف کی جائے کم ہے۔

دوران سیلا ب  مین حفاظتی بند کے ٹوٹ جانے کے بعد دو نئی حفا ظتی فلڈ بندز  بنا کر شہر کی بہت بڑی آبا دی کو سیلا ب کی تبا ہ کا ری سے محفو ظ رکھنے کے عمل نے اس تنظیم کو اعلیٰ سطح پر پذیرا ئی دی ۔ جس کے نتیجہ میں وزیر اعلیٰ پنجا ب نے متواتر یہا ن چا ر وزٹ کئے اور اس کا رکردگی کو بطور نمو نہ دیکر علا قوں میں پیش کیا اور جنا ب میاں محمد نو اذ شریف نے اس علا قہ میں پہلا ما ڈل ویلج بستی میانی ملا ح کا سنگ بنیا د رکھا ۔جس کی نگرا نی کا کا م اور اس کو پا یہ تکمیل تک پہنچا نے کا اہم  ترین فریضہ اس تنظیم کے صدر کما ل فرید ملک کے سپرد کیا اوراس سلسلہ میں انہو ں نے اس ما ڈل ویلج کے خو د چا ر وزٹ کئے اور بلآخر یہ کام چند ماہ کی تگ ودو کے بعدپا یہ تکمیل تک پہنچا اور اس کا افتتاع جناب میاں نواز شریف صاحب نے کیا۔اس سلسلہ میں تمام تر اخراجات

سکھ چین گا رڈن  لاہورکے مالکان نے کئے جن کی سربراہی جناب کیپٹن ریٹائرڈ شجاعت عظیم صاحب کر رہے تھے ۔

اس ما ڈل ویلج میں 300پختہ مکا نا ت کی تعمیر کے علا وہ ایک عدد سکول ،پلے گرا ؤنڈ ،پا رک اور ایک ووکیشنل سنٹربھی بنا یا گیا اور ایک فلٹریشن پلا نٹ بھی نصب کیا گیا ۔علاوہ ازیں لاکھوں روپے کی لاگت سے صرف مٹی بھرئی کا کام مکمل کیا گیا اور لاکھوں روپے کی لاگت سے درخت لگائے گئے۔جبکہ تقریبا 20 لاکھ روپے سے سکول ، پلے گراونڈ اور ووکیشنل چینٹر کی زمین خریدی گئی۔ اس پراجیکٹ تعمیر اور تکمیل کے لئے متعین سکھُ چین کی ٹیم کی موقعہ پر سربراہی مشرف صاحب کر رہے تھے۔
بعد از تکمیل سکول ادارہ ٹی سی ایف کے حوالے کیا گیا جہا ں آج تک پرائمری کی سطح تک نہ صرف مفت انگلش میڈیم تعلیم کی سہو لت فرا ہم کی جا رہی ہے۔ بلکہ مفت یو نیفا ررم اور کتا بیں بھی فراہم کی جا تی ہیں جبکہ ووکیشنل انسٹیٹوٹ کو پنجا ب ووکیشنل ٹریننگ کو نسل کے سپرد کیا گیا ۔
وی ٹی آئی، کے نا م سے یہ ادارہ چل رہا ہے۔جس میں بچیو ں اور بچوں کو ایک سالہ کمپیوٹر کو رس کی کلا سوں کے علا وہ ایمبرا ئیڈری ا(ڈریس میکنگ )سلا ئی کے کو رس کرا ئے جا تے ہیں جبکہ بچو ں کو ایک سالہ کمپو ٹر کو رس اور ایک سا لہ الیکٹریکل ہوم اپلا ئنسنز (انڈسٹری الیکٹریشن )کا کو رس کرا یا جا رہا ہے۔اس ادارے کے انتظا م وانصرا م کو با خو بی چلا نے کے لئے مقا می بورڈ تیا ر کیا گیا جس کی صدارت بھی تنظیم ہذا کے صدر کما ل فرید ملک کو سو نپ دی گئی۔اور بعد ازاں ایک دوسرے۔ وی ٹی آئی۔سنٹر فا ضل پو ر کی ذمہ داری بھی انہیں سونپ دی گئی۔یہ دو نو ں ادارے عرصہ تین سال سے اپنی بہترین کا رکردگی کی بنا ء پر نما یا ں حیثیت رکھتے ہیں اور ان اداروں میں ریگو لر کلاسوں کے علاوہ شا رٹ کو رس کی سہو لیا ت بھی فرا ہم کی گئی ہیں جبکہ دیگر مقامی اور غیر مقا می تنظیموں کے ذریعے مختلف علاقہ کے لو گو ں کو ٹیکنیکل تربیتی کو رس بھی کرا ئے جا تے ہیں ۔اس ادارے میں بھی طلبا ء و طا لبا ت کو نہ صرف بغیر فیس کے کو رسز کرا ئے جا تے ہیں بلکہ پا نچ سو روپے ما ہا نہ وظیفہ بھی دیا جا تا ہے ۔ نیز یو نیفا رم ،کتا بیں اور پریکٹیکل ورک میٹریل بھی مفت فرا ہم کیا جا تا ہے اور بعد از مکمل ہو نے کو رسزان پا س آؤ ٹ ہو نے والے طلبا ء وطا لبا ت کو روزگا ر فرا ہم کرنے کے لئے انتظامات کئے جا تے ہیں اور جو اپنا کا م کرنے کے خوا ہش مند ہو ں انہیں 
ادارہ اخو ت   سے بلا سود قرض حسنہ دلوا یا جا تا ہے۔ جس کی ادائیگی آسان ترین اقساط میں بغیر کسی سود کے کی جا تی ہے۔

سیلا ب 2010 ؁ء سے ہو نے والی تبا ہ کا ری کے بعد پہلے ما ڈل ویلج کی تکمیل کے بعد (ادارہ اخو ت ) اور ان کے تو سط سے آنے والے اہم ترین دوست جو مخلو ق خدا کی محبت اورخدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے اس علا قہ کا وزٹ کیا اور امن ڈویلپمنٹ آرگنا ئزیشن کی ٹیم کی کا رکردگی کو سرا ہا اور اس علا قہ میں 50پختہ گھروں کی بستی بنا نے کا ارادہ کیا ،اس سلسلہ میں انہو ں نے بستی غریب آبا د کا انتخا ب کیا اور اس کی تعمیر کا کا م شروع کرنیکی ذمہ داری امن ڈولپمنٹ آرگنا ئزیشن کے صدر کما ل فرید ملک کو سونپی ۔تقریبا 84لا کھ رو پے کی لا گت سے اس بستی کی تعمیر کا کا م مکمل کیا جا نا تھا ۔چنا نچہ چند ما ہ کے اندر اندر امن ڈویلپمنٹ آرگنا ئزیشن کی ٹیم نے پچا س کی بجا ئے 60پختہ گھروں کی تعمیر کا کا م مکمل کیا اور ان بے آسرا مفلس متا ثرین کو ان گھروں میں آبا د کیا گیا ۔اس پراجیکٹ کے لئے رقم فراہم کرنے والی ٹیم کی سر براہی لاہور کارپٹ کے مالک شاہدحسن شیخ صاحب کر رہے تھے۔علاوہ ازیں اس بستی جس کا نام تبدیل کر کہ بستی غریب آباد کے بجائے فرید آباد رکھا گیا۔اس بستی میں نکاسی آب کی سکیم کا کام بھی مکمل کیا گیا  جس کے لئے ہیلپ فاوندیشن نے خصوصی تعاون کیا اور اس بستی کے ہر گھر والے کو کاروبار شروع کر کے اپنے معاشی معاملات کو استوار کرنے کے لئے ادارہ اخوت کی جانب بلا سود قرض حسنہ بھی دیا گیا اور آج اللہ تبارک تعالیٰ کے کرم اور فضل کی بدولت یہ پوری بستی خوشحال ہے۔

 بموقعہ عید قربا ن      ۔سیلا ب متاثرین کے مختلف علا قہ جا ت میں قربا نی کے گو شت کی فرا ہمی کے لئے خصوصی طو ر پر انتظا ما ت کئے گئے ۔اس سلسلہ میں ادارہ اخوت کے تعاو ن سے تنظیم ہذاکی ٹیم نے انتظا م وانصرام کیا اور اس انداز سے کہ قربا نی کے جا نور ان علا قوں میں پہنچا ئے گئے جن علا قوں میں سیلا ب متا ثرین رہا ئش پذیر تھے۔ ان علا قوں میں مو قعہ پر قربانی کی گئی اور اسی علا قہ کے لو گوں میں انہی کے ذریعے گو شت کی تقسیم کا عمل مکمل کیا گیا ۔
حالیہ فلڈ 2012 ؁ء     میں تحصیل روجہا ن میں رودکو ہی (پہاڑی ندی نا لو ں ) سے آنے وا لے سیلا ب نے تبا ہی مچا ئی ۔ اس موقع پر اس تنظیم نے سب سے پہلے وہاں پہنچ کر اپنا کا م شروع کیا نہ صرف لو گو ں کو محفو ظ مقا ما ت پر پہنچا یا بلکہ ان کے لئے ٹینٹ ویلج قا ئم کئے اور تقریبا 2000گھرا نو ں کو عرصہ دو ما ہ تک سنبھا لہ اور ہر سہولت فرا ہم کی نہ صرف خوراک ان ٹینٹ ویلج میں رکھے گئے متا ثرین کو فرا ہم کی بلکہ روزا نہ سینکڑوں  گھرا نو ں کو خشک راشن کی تقسیم کا فریضہ بھی سرانجا م دیا اور سڑک کے کنا رے رہا ئشی متاثرین کو کھا نے کی صبح شا م فرا ہمی اور میڈیکل سہو لیا ت اور صا ف پینے کا پا نی کی سہو لت فرا ہم کی اس مرتبہ پھر خا ص طور پر اہم حکو متی اربا ب اختیا ر نے ان کیمپو ں کا دورہ کیا اور سرا ہا بلکہ خو د وزیر اعلیٰ پنجا ب نے بطو ر خا ص

امن ڈویلپمنٹ آرگنا ئزیشن  اور ادارہ اخوت کے کیمپ کا دورہ کیا اور اس کی کا رکردگی کو سرا ہا ۔
اس سلسلہ میں تنظیم ہذا کو سپو رٹ کرنے میں اہم ترین فریضہ جنا ب نا صر عبا س تارڑ صاحب کا ہے جو کہ ضلع منڈی بہا والدین کی تحصیل ملک وال کے علا قہ چو ٹ دھراں کے رہا ئشی ہیں ۔ جنہو ں نے 4ٹرک راشن اس موقعہ پر آکر متا ثرین میں تقسیم کیے۔ ان کے علا وہ فیصل موورز ٹرا نسپو رٹ کمپنی کے ما لک جنا ب خواجہ اظہر صاحب کا نام قا بل ذکر ہے ۔جنہو ں نے سینکڑوں گھروں میں راشن تقسیم کیے اور وسائل دستیاب کئے اور ادارہ اخو ت کی کا رکردگی کا ذکر کرنا تو سورج کو چرا غ دیکھا نے کے مترادف ہے جنہوں نے لمحہ با لمحہ اس تنظیم کے ہمرا ہ اپنے تما م تر وسا ئل استعما ل کئے اور متواتراس عمل کا حصہ رہے۔

اسی سلسلہ کی کڑی کے طو ر پر بستی منچھری موہانہ میں 20سیلا ب متا ثرین کو ایک ایک پختہ کمرہ بنانے کے لئے ما لی معاونت کے طو ر پر 20،20ہزار روپے کی فرا ہمی کا مرحلہ بھی مکمل کیا ۔
متذکرہ بالا کا رکردگی اس تنظیم کو بے شک کسی اہم تنظیم کی حیثیت سے اجا گر کرنے کے لئے کا فی نہ ہو لیکن اس حقیقت سے ہر گز ہر گز انکا ر نہیں کیا جا سکتا کہ اس تنظیم کی یہ خصوصیت رہی کہ ان تما م مرا حل میں اس تنظیم نے نہ تو حکو متی مدد و معا ونت حاصل کی اور نہ ہی کسی دوسری ملکی یا غیر ملکی تنظیم سے فنڈز حا صل کیے اور نہ ہی ہزاروں یا لا کھوں روپے کی رقم اپنے سٹاف کی تنخواہوں اور اخرا جا ت کی مدد میں خرچ کئے۔ بلکہ ان تما م تک معا ملا ت کے حل تک تنظیم ہذا کے تما م سا تھی ،کا رکنا ن اور ورکرز نے بغیر معاوضہ اور بغیر دیگر اخرا جا ت کے کا م کیا اور کسی قسم کے کو ئی اخرا جا ت جو بھی ہو ئے ٹیم ہذا نے اپنی اپنی جیب سے کئے اور حا صل کردہ
      رقواما ت جو بھی تھیں وہ پرا ئیوٹ ،جذبہ خدمت رکھنے والے دوستوں سے حا صل کی گئی اور صرف انہی مقاصد پر خرچ   ہوئیں  جن کے لئے ان کا حصول کیا گیا تھا اور یہی اس تنظیم کی خا صیت ہے جو اس تنظیم کو دیگر تما م سے انفرادیت دلا تی ہے ۔اورجسکی وجہ سے اس تنظیم پر لو گو ں کا اعتما دبھر پو ر رہا اور نتا ئج بھی بھرپور رہے ۔

مستقبل کے لئے نئے خواب اور امن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن
اس تعارف کے بعد امن ڈویلپمنٹ آرگنا ئزیشن ایک اور قدم بڑھا رہی ہے۔اس علا قہ میں تعلیم عا م لو گو ں تک پہنچا نے کے لئے اور اس اندا ز سے کہ اس پرا جیکٹ میں نرسری کلا س سے لیکر کلا س دھم تک اوراس کے بعد کے مرا حل میں صرف قابلیت کی بنا پر اور علا وہ ازیں ووکیشنل ٹریننگ کے سلسلہ میں مکمل طو ر پر طلبا ء وطا لبا ت کی نگرا نی خو د اپنے ادارہ میں کرے اور تعلیم کیساتھ ساتھ تربیت اور اچھے شہری ہو نے کی تما م تر خو بیوں کو اس نئی نسل میں اجا گر کر نے کے تما م تر مرا حل بھی کا میا بی سے ہمکنا ر ہو ں ۔اور دوسری طرف اس علا قہ کے مفلس اور نا دار ایسے خا ندا نو ں کیطرف تو جہ دینا جن میں ایسے مریض جن کا فو ری علا ج ان گھرا نو ں کی مفلسی کی وجہ سے ممکن نہ ہو ۔ اور مریض ایڑیا ں رگڑ رگڑکر مو ت کا منتظر ہو انکا علا ج کرا نا اور ایسی یتیم بچیوں کی شا دی بیا ہ کا انتظا م کرنا جن کا کو ئی پرسا ن حا ل نہ ہو اور ایسی بیوگا ن کو ووکیشنل ٹریننگ دلوانا اورپھر اس کے ذریعے ، ذریعہ معا ش حا صل کر نے کے قا بل بنا نا ۔وہ چھو ٹے چھو ٹے بچے بچیا ں جو تبا ہی کے دہا نے پر ہوں ان کے لئے خو شحا لی کے راستے استوارکرنا ۔ ان مقاصد کی تکمیل کے لئے تنظیم ہذا نے جو پرا جیکٹ تیا ر کیا ہے اس کے لئے آپ سب کا خصوصی تعاون اور تو جہ بے شما رلو گو ں کی زندگی کو ان کیلئے اور ہما رے معاشرے کے لئے نعمت بنا پا ئے گی۔

اس پروجیکٹ کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
۔تعلیم سب کے لئے۔
۔خو شیا ں سب کے لئے ۔
۔محنت میں عظمت ہے ۔
۔1۔تعلیم سب کے لئے۔

اس عمل کو پا یہ تکمیل تک پہنچا نے کے لئے ادارہ ہذا نے بے شک بہت عرصہ سے کا م جا ری رکھا ہو ا ہے اور اس سلسلہ میں ادارہ ہذا ایک پرا ئیوٹ سکو ل تا جو ر ما ڈل سکو ل کے ذریعے بے شما ر طلبا ء و طا لبا ت کو زیو ر تعلیم سے آراستہ کر چکا ہے لیکن اس کے با وجو د اس سلسلہ میں مکمل طو ر پر تو جہ نہ دے پا نے کی وجہ سے بے شما ر طلبا ء وطا لبا ت استفادہ حا صل نہ کر پا ئے ۔ اس کی بے شک وجہ وسائل کی کمی اور معاونت کے متلا شی بے شما ر ہو نا تھی۔چنا نچہ اس سلسلہ میں ادارہ ہذا نے تاجو ر ما ڈل پبلک ہا ئیر سکینڈری سکو ل سے ایک معا ہدہ طے کر نے کے لئے اس پروجیکٹ پر کا م شروع کیا ہے اس کے مطا بق ادارہ ہذا اس سکو ل کے مڈل سیکشن کا انتظا م وانصرا م  خودسنبھا لے گا ۔
ایک معا ہدے کے تحت اوراس کی بلڈنگ کی تعمیر نو کے علا وہ اس کے فرنیچر کی فرا ہمی بھی خو د کر ے گا ۔ تا ہم اس کا کرا یہ ادارہ سکو ل ما لکا ن کو اداکر ے گا ۔اس سکو ل کے تما م تر سٹا ف کی تنخو اہیں اور یو ٹیلیٹی بلز کی ادا ئیگی بھی ادارہ (امن ڈویلپمنٹ آرگنا ئزیشن )کریگا ۔اور اس میں دا خل ہر طا لب علم پرمبلغ  50روپے بطو ر فیس ما ہو ار تا جو ر ما ڈل سکو ل کے ما لکا ن کو ادا کریگا ۔جبکہ تا جور ما ڈل پبلک سکو ل کے تما م انتظا می قوا عد وضوابط امن ڈویلپمنٹ آرگنا ئزیشن خو د متعین کریگی ۔ ان میں تا جور کے ما لکا ن کسی قسم کی دخل اندازی نہ کرینگے۔
اس سکو ل میں 80فی صدطلبا ء وطا لبا ت ایسے ہو نگے جن کا تعلق انتہا ئی مفلس و نا دا ر گھرا نو ں سے ہو گا جو کسی صورت بھی تعلیمی اخرا جا ت برداشت نہ کر سکتے ہو ں۔ اور زکو ٰۃ کے حقدار ہو ں گے ان 80فی صد داخل طلباء اور طالبا ت کو نہ صرف بغیر کسی فیس کے تعلیم دی جا ئے گی بلکہ انہیں مفت کتابیں اور یو نیفا رم بھی مہیا کی جا ئے گی۔ان طلبا ء وطا لبا ت کا مفت ما ہا نہ میڈیکل چیک اپ ادارہ کی ذمہ دا ری ہو گی اور مفت ادویا ت کی فرا ہمی بھی کی جا ئے گی۔جبکہ20فی صدطلبا ء وطا لبا ت ایسے گھرا نو ں سے لئے جائیں گے ۔جو کہ یو نیفا رم اور کتا بیں فرا ہم کرنے کی اور کم سے کم فیس ادا کر نے کی صلا حیت رکھتے ہو نگے۔

۔1۔        اس سکو ل میں تعلیم کے علا وہ دیگر ادبی سرگرمیوں کیطرف بھر پو ر تو جہ دی جا ئے گی۔
۔2۔طا لب علمو ں کے لئے اچھی لا ئبریری کا قیا م عمل میں یا جا ئے گا ۔
۔3۔اس سکو ل میں طلبا ء وطا لبا ت کو کمپیو ٹر کی تعلیم بھی دی جا ئے گی۔
۔4۔ اس سکو ل میں طلبا ء وطا لبا ت کو دینی تعلیم دینے کے لئے خصوصی انتظا ما ت کئے جا ئیں گے۔
۔5۔اس سکو ل میں اساتذہ کا انتخاب انکی تعلیمی قابلیت کی بنا ء پر کیا جائے گا اور اچھا تعلیمی نصا ب متعارف کرایا جا ئے گا ۔بہترین نظم و نسق قا ئم رکھنے کے لئے مکمل انتظاما ت کو یقینی بنا یا جا ئیگا ۔
۔6۔گرمی اور سردی سے بچا ؤ کئے لئے خصو صی اور بہتر انتظا ما ت کئے جا ئیں گے ۔ اور بہترین ما حو ل کی فرا ہمی کو یقینی بنا جا ئیگا ۔
۔7۔اس سکو ل میں طلبا ء وطا لبا ت کی تعداد 25-30تک رکھی جا ئیگی۔جبکہ کلا س نرسری اور پریپ میں زیا دہ دا خلو ں کی بنا پر دوسیکشن تک جانے کی اجازت ہو گی تاہم کلاس 1 سے کلاس 8تک صرف ایک ایک سیکشن رکھا جائے گا تا کہ اس ادارے کو چلانے کے لئے حاصل کردہ فنڈز سے تجاوز نہ ہو پائے ۔
۔8۔اس سکول میں تمام تر سٹاف فی میل رکھا جائے گا ماسوائے ایڈمنسٹریٹر ، پرنسپل ،چوکیدار اور درجہ چہارم کے ۔
۔9۔اس سکول میں کل تین سو(300) طلباء و طلبات کو پڑھانے کی گنجائش ہو گی جبکہ کلاس 8کے بعد اس سکول سے فارغ التحصیل طلباء وطلبات کو آگے تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لئے دوسرے اداروں میں داخل کرایا جائے گا اور ان کے تعلیمی اخراجات امن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کلاس 10تک ادا کرے گی اور بعدازاں ان کی تعلیمی قابلیت کی بنا پر اُن کی معاونت کی جائے گی۔
۔10۔  اس سکول سے فارغ طلباء و طلبات کو ووکیشنل ٹریننگ کے حصول کی خواہش کی صورت میں ادارا مکمل معاونت دیگا۔
مندجہ بالاطے شدہ فارمو لا کیمطا بق اخرا جا ت کاتخمینہ اور سٹا ف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

سٹا ف کی تفصیل :
.۔ 1۔      ایڈمنسٹریٹر
۔  2۔ پرنسپل 1عدد
۔ 3۔ اساتذہ 10عدد
۔ 4۔ فنانس کلرک 1عدد
۔ 5۔ چپڑاسی (میل) 1عدد
۔ 6۔ خا تون ہیلپر 1عدد
۔ 7۔ چو کیدا ر (میل) 1عدد
۔8۔ عملہ صفائی 1عدد
مندرجہ بالا سٹا ف کی تنخو اہیں اور دیگر اخرا جا ت کی تفصیل درج ذیل ہے۔

ٹوٹل

تنخواہ

تفصیل سٹاف

نمبر شمار

15000

15000

ایڈ منسٹریٹر

1

12000

12000

پرنسپل

2

25000

5000

پانچ اُساتذہ برائے کلاس نرسری تا سوئیم

3

21000

7000

تین اُساتذہ برائے کلاس چہارم تا ششم

4

16000

8000

دو اُساتذہ برائے کلاس ہفتم تا ہشتم

5

6000

6000

کلرک

6

4000

4000

چپڑاسی

7

4000

4000

خاتون ہیلپر

8

3000

3000

عملہ صفائی

9

106000

 

کل میزان

 

یوٹیلیٹی بلز کا تخمینہ

رقم

تخمینہ

نمبر شمار

10000

بل بجلی ماہانہ

1

2000

بل فون ، ماہانہ

2

10000

کرایہ بلڈنگ

3

22000

کل میزان

4

متفرق اخراجات

رقم

اشیاٗ

نمبر شمار

3000

سٹیشنری ماہانی

1

2000

متفرق، چاک ، ڈسٹر، وغیرہ

2

3000

انٹرٹینمنٹ

3

8000

کل میزان

4

ادائیگی ما ہا نہ فی طا لب علم و اخراجات یونیفارمز اینڈ کتابیں اور کاپیاں

فی طالب علم فیس 50 روپے کل طالب علم 300 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔      ۔۔۔  کل رقم  ۔۔  15000ْ روپے                        

خرید کتب و کاپیاں برائے 300 طلباٗ و طالبات فی کس اوسط 300 روپے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل رقم        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 90،000             

خرید یونیفارم برائے 300 طلباٗ فی کس اوسط 300 روپے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  کل رقم   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  90،000              

کل سالانہ اخراجات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔     1،80،000      

کل تفصیل سالانہ و ماہانہ اخراجات برائے پراجیکٹ تعلیم سب کے لئے

کل اخراجات کا تخمینہ ماہانہ  ،  سالانہ

تفصیل اخراجات

نمبر شمار

106000

تنخواہیں

1

22000

یوٹیلیٹی بل

2

8000

متفرق اخراجات

3

15000

ادائیگی فیس

4

151000

کل ماہانہ اخراجات

5

1812000

سالانہ کل اخراجات

6

180000

سالانہ اخراجات برائے یونیفارمز اور کتابیں ، کاپیاں وغیرہ

7

1992000

کل سالانہ اخراجات

8

166000

اوسط کے اعتبار سے ماہوار کل اخراجات

9

مندرجہ با لا تفصیل اخرا جا ت کیمطا بق 300/-طلبا ء وطا لبا ت کو زیو ر تعلیم سے آرا ستہ کر نے کے لئے اور دورا ن سلسلہ درس وتدریس اچھا ما حو ل اور تما م تر سہو لیا ت کی فرا ہمی پر کل سا لا نہ اخرا جا ت 1992000روپے جبکہ ما ہو ار اخرا جا ت مبلغ 1,66,000روپے آتے ہیں ۔اس طرح ایک طا لب علم پر

ما ہا نہ اخرا جا ت پر 533روپے آتے ہیں ۔جس سے نہ صرف مفت تعلیم بلکہ مفت یو نیفارم اور کتا بیں بھی فرا ہم کی جا ئیں گی ۔اس طے شدہ فا رمو لا کے مطابق ایک ٹیچر پر 30طلبا ء کو پڑھا نے کی ذمہ داری عا ئد ہو گی ۔
اسی طر ح جن 20فی صدطلبا ء و طا لبا ت سے ادارہ ہذا فیس وصول کر ے گا اس حا صل شدہ رقم سے اُن طلبا و طا لبا ت کی فیس ادا کی جا ئیگی جو کلا س نہم اور دہم میں دوسرے اداروں میں تعلیم حا صل کر ینگے ۔

۔2۔خو شیا ں سب کے لئے
دوسری سطح پر جو اہم ترین فریضہ سر انجا م دیا جا ئے گا اس کے مطا بق ایسے مفلس ونا دار لو گو ں اور خا ص طو ر بیو گا ن اور یتیم طبقہ کی جا نب تو جہ دی جا ئے گی جو کسی ایسی مہلک بیما ری میں مبتلا ء ہوں یا کسی حا دثہ یا قدرتی آفت کا شکا ر ہو ئے ہو ں جسکی بدو لت علا ج معا لجہ کی بروقت سہو لت یا اخرا جا ت کی کمی کی وجہ سے وہ کسی بھی قسم کی معزوری کا شکا ر ہو سکتے ہو ں یا زندگی سے محروم ہو سکتے ہوں  انہیں فو ری طو ر پر علا ج معا لجہ کی سہو لت سے مستفید کیا جا ئے گا ۔اور اس سلسلہ میں کسی بھی کمی و کو تا ہی کے بغیر انہیں زندگی کی مسکرا ہٹو ں سے ہمکنا ر کر نے کے لئے جدو جہد کی جا ئے گی۔
اس طرح ایسی یتیم اور مفلس بچیا ں جن کا کو ئی پرسان حا ل نہ ہو گا انکی شادی کے لئے مکمل انتظا ما ت کئے جا ئیں گے۔اوراجتما عی شا دیو ں کے ذریعے اور ضروری بنیا دی اشیا ء کی فرا ہمی کر کے انہیں زندگی کے ان اہم خو شی بھرے لمحات میں کسی قسم کے احساس کمتری سے بچا یا جا ئے گا بلکہ ان سہو لیا ت کی عدم مو جو دگی کی بنا ء پر بے شما ر بچیو ں کی شا دی نہ ہو سکنے کے عمل کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا جا ئے گا۔
اس مد میں ایک محتا ج اندازہ کے مطا بق سا لا نہ تقریبا 100بچیو ں کی شا دی کے انتظا مات کئے جا ئیں گے۔یعنی ہر 3ما ہ بعد 25بچیوں کی اجتما عی شادی کے انتظا مات کئے جا ئیں گے۔
اس مد میں ایک محتا ط اندا زہ کے مطا بق تقریبا سالا نہ 12لاکھ روپے درکار ہو نگے۔

۔3۔محنت میں عظمت
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دنیا کو خو بصورت اورسب کے لئے پر کشش بنا نے کے لئے معا شرے میں بنیا دی سہو لیا ت کی فرا ہمی سب کے لئے ہو نی چا ہیئے۔
لیکن معا شی وسائل کی تقسیم غیر منا سب اور غیر مساوی ہو نے کی وجہ سے لو گو ں میں احسا س کمتری ،حسد اور ما یو سی جنم لے رہی ہے ۔جسکی وجہ سے ایک جا نب معا شرہ اچھے شہریو ں کی کمی کا شکا ر ہو تا جا رہا ہے جبکہ دوسری جا نب احسا س کمتری ،حسد اور ما یو سی نو جوان طبقہ کو حصو ل مقاصد کے لئے جرا ئم کی دنیا میں دھکیل رہا ہے۔اسی عمل نے اس معا شرہ کو جہنم بنا نے کا جو عمل شروع کر رکھا ہے اگر اس کی جا نب تو جہ نہ دی گئی تو یقیناًذلت تبا ہی اور بربا دی ہی ہما رے مقدر کا وہ حصہ بنی رہے گی جس کی بدولت ہم کسی صورت بھی ترقی اور خو شحا لی سے ہمکنا ر نہیں ہو سکتے ۔
چنا نچہ اس معاشتی نا ہمواری اور وسا ئل کی غیر منصفا نہ تقسیم اور کمی کو مدنظر رکھتے ہو ئے ادارہ ہذا نے طے کیا ہے۔کہ ایسے مفلس ونادار اور خا ص طو ر پر یتیم بچوں اور بچیوں کو ٹیکنیکل کو رس کرا ئے جا ئیں اور انہیں ما یو سی اور احسا س کمتری سے محفوظ رکھتے ہو ئے اس قا بل بنا یا جا ئے کہ وہ اپنے ہا تھوں کی محنت سے باعزت زندگی بسر کر نے اور اپنے اہل خا نہ کو زندگی کی بنیا دی سہولیا ت کی فرا ہمی کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کر پا ئیں ۔چنا نچہ اس سلسلہ میں خو اتین کے لئے کمپیو ٹر ،سلائی ،اور کڑھا ئی کے کو رسز اور بچو ں کے لئے الیکٹریشن ، مو ٹر سا ئیکل مکینک ،میڈیکل لیب اسسٹنٹ ،کمپیو ٹر شا رٹ کو رس ،ٹیلرنگ ودیگر کو رسز کا اہتما م کیا جائے گا اور بعد از کو رس ان کو با عزت رو زگا ر فرا ہم کرا نے کے لئے اہم کردار ادا کیا جا ئے گا اس سلسلہ میں بعد از ٹریننگ ادارہ اخو ت کے پرو گرا م برا ئے قرض حسنہ سے استفادہ حا صل کر تے ہو ئے ان تربیت یا فتہ بچے ،بچیوں کو کا رو با ر کرا نے کے لئے بھی ادارہ ہذا اپنا مثبت کردار ادا کرے گا ۔اسی طرح سلا ئی ۔کڑھا ئی کے کو رسز کرنے والی بچیو ں کے لئے با قا عدہ ڈسپلے سینٹر قا ئم کیا جا ئے گا جس میں فروخت کی جا نے والی تما م تر اشیا ء انہی سے تیا ر کرا ئی جا ئیں گی اور انہیں گھر بیٹھے روزگا ر کے موا قع فرا ہم کئے جائیں گے ۔ اس سلسلہ میں بچوں اور بچیوں کو ٹیکنیکل کورسز کرا نے کے لئے اخرا جا ت کی مدد میں کمی کرا نے کے لئے ادارہ ہذا ،ووکیشنل سینٹرزسے بعد از را بطہ مہم بہتر اور کم خرچ پر سہو لیا ت حا صل کریگا ۔
تا ہم اس مد میں تقریبا دس لا کھ رو پے سالانہ کے اخرا جا ت متو قع ہیں اور ایک محتا ط اندا زے کے مطا بق اس پرو گرا م کے تحت سا لا نہ تقریبا 300کے قریب بچوں کوٹریننگ اور روزگا ر فرا ہم کرنے میں کا میا ب ہو پا ئیں گے۔جبکہ بچیو ں کی جا نب سے تیا ر کردہ مصنو عا ت سے قا ئم کردہ ڈسپلے سینٹر کو ادارہ ہذا دیگر حا صل وسائل کی بدولت قا ئم کرے گا ۔ادارہ سینکڑوں خو اتین کو اس سے منسلک کر کے مستقل ذریعہ روزگا ر فرا ہم کر پا ئے گا ۔

 

کل تخمینہ پرا جیکٹ
متذکرہ با لا پرا جیکٹ کو پا یہ تکمیل تک پہنچا نے اور متو اتر چلا نے کے لئے جو تخمینہ اخرا جا ت مرتب کیا گیا ہے ۔اس کی تفصیل درج ذیل ہے

۔1۔  سا لا نہ تخمینہ لا گت برا ئے تعلیمی پرا جیکٹ (تعلیم سب کے لئے )  ۔۔۔۔۔۔     : 1992000

۔ 2۔ سا لا نہ تخمینہ لا گت برا ئے پرا جیکٹ (خوشیا ں سب کے لئے )      ۔۔۔۔۔۔۔       : 12,00000

۔ 3۔ سا لا نہ تخمینہ لا گت برا ئے پرا جیکٹ (محنت میں عظمت )      ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔     : 10,00000

کل میزان                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                       : 4192000      

وسائل کا حصول۔
اس سلسلہ میں ہونے والے اخراجات متذکرہ بالا تیار شدہ تخمینہ کے مطابق مبلغ 41,92000/. روپے سالانہ بنتے ہیں ۔اس سلسلہ میں امن ڈویلپمنٹ آرگنائیزیشن کے تمام ممبران نے طے کیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھائیوں کی مدد سے اس پراجیکٹ کو چلایا جائے گا ۔ پہلے مرحلہ میں تعلیمی شعبہ (تعلیم سب کے لئے )پر کام شروع کیا جائے گا ، دوسرے مرحلہ میں دوسروں میں خوشیوں کی تقسیم (خوشیاں سب کے لئے)کے پراجیکٹ پر کام کیا جائے گا۔ جبکہ تیسرے مرحلہ میں (محنت میں عظمت) کے پراجیکٹ پر کام کا آغاز ہو گا۔ اور اس سلسلہ میں چونکہ اخراجات کی مد میں کثیر رقم کی ضرورت ہے اور یہ سلسلہ متواتر کئی سالوں تک جاری رہنا ہے اس لئے طے کیا گیا کہ تنظیم ہذا کی باقاعدہ ممبر شپ کے لئے بیرون ملک مقیم پاکستانی بھائیوں کو مدعو کیا جائے کہ وہ اس اہم اور نیک کام میں اس انداز سے اپنا حصہ ڈالیں کے باقاعدہ ان تمام شعبوں اور تنظیم کے دیگر کاموں میں اُن کی مشاورت شامل حال رہے اور سالانہ آڈٹ رپورٹ اور کارکردگی رپورٹ ماہانہ اُن تک پہنچے اور لمحہ با لمحہ اس سلسلہ میں بذریعہ انٹر نیٹ یہ تمام حضرات رابطہ میں رہیں۔اس مقصد کی تکمیل کے لئے کم از کم چالیس ایسے ساتھیوں کی ضرورت ہے جو اگر صرف اپنی زکوۃ کا مخصوص حصہ اس کار خیر کے کئے وقف کر دیں تو یقینااس مقصد کی تکمیل ہو پائے گی  یعنی اگر ہر ساتھی 100 ڈالر ماہانہ یا 300 ڈالر سہمائی یا 600 ڈالر ششمائی یا 1000 ڈالر سالانہ دے تو یہ تینوں مراحل ایک ہی وقت میں شروع کئے جا سکتے ہیں۔یاد رہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ ہر زکوۃ دینے والے ساتھی کومکمل حساب کتاب سے باقاعدہ آگاہ رکھا جائے گا۔ اور ماہانہ کارکردگی رپورٹ اُن تک پہنچائی جائے گی۔ یہ تمام معلومات کوٹ مٹھن کی وہب  سائیٹ
۔ 

   www.urdu.kotmithan.com       ..................      www.kotmithan.com

پر موجود رہینگی  اور یہ وہب سائیٹ اردو اور انگلش دونوں زبانوں کے ناظرین کو بیک وقت تمام معلومات فراہم کرے گی ۔ علاوہ ازیں اس سلسلہ میں مستفید ہونے والے لوگوں کے مکمل کوائف بمعہ فون نمبرز اس وہب سائیٹ پر رکھے جائیں گے ۔ تاکہ کوئی بھی ساتھی جب چاہے ان معلومات کی تصدیق کر پائے۔

آپ اپنے عطیات درج ذیل اکاوئنٹس میں جمع کرا سکتے ہیں

S. No. Taital Of Account Name Of Bank Account no. Bracch Code Bank Of Punjab
1 Aman Development Organization - 01 Bank Of Punjab. (kot Mithan Branch) Distrect Rajan Pur. Punjab, Pakistan. 0037430007 0217
2 Aman Development Organization Bank Of Punjab (Kot Mithan) Distrect Rajan Pur Punjab, Pakistan. 0037440009 0217

آغاز پراجیکٹ

اس پراجیکٹ کا اللہ تبارک تعالیٰ کے فضل وکرم سے آغاز کر دیا گیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں تاجور ماڈل پبلک سکول کی انتظامیہ سے ایم۔ او۔ یو۔ تحریری طور پر طے پا چکا ہے ۔ جبکہ دسورے مرحلہ میں اس پراجیکٹ کے ڈیزائین کے عین مطابق عمارت کی تعمیر کا کام مکمل ہو چکا ہے، اور کلاس رومز کے لئے فرنیچر بھی دستیسب کر دیا گیا ہے۔ اور اس تمام کام کو مکمل کرنے کے لئے فنڈز تنظیم کے چند دوستوں نے فراہم کر کے اس اہم ترین کام کی ایسی ابتدا کی ہے جو کہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر عزائم اچھے اور نیک اور مقاصد کی تکمیل کا جذبہ جنون کی حد تک ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ شامل حال رہتی ہے۔ اسی بنا پر جو تخمینہ لاگت ہم نے تیار کیا ہے وہ صرف رنینگ اخراجات کی مد کا ہے ۔ جبکہ تعمیراتی اخراجات اور فرنیچر اور دیگر اخراجات کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔

اس سلسلہ کے آغاز میں تاحال جن دوستوں نے تعاون کے لئے رضامندی کا اظہار کیا ہے اُن کے نام درج ذیل ہیں۔
۔1۔ جناب شاہد حسن شیخ صاحب لاہور کارپٹ مینوفیکچرینگ انڈسٹریز لاہور

۔2۔ جناب ناصر عباس تارڑ صاحب آف چوٹ دھیراں حال فرانس

۔3۔ جناب نیاز فرید خان صاحب امریکہ

۔4۔ جناب ڈاکٹر فیض رسول صاحب ہاشمی آف کوٹلہ نصیر حال انگلینڈ