ڈیلی نیوز
جشن آزادی مبارک - یوم آزادی کے اس عظیم اور سعید موقعہ پر تمام پاکستانی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوآزادی کی اس نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی تکیف کا احساس عطا فرمائے۔۔ آمین۔ثم آمین۔۔۔ منجانب ۔ کمال فرید ملک خادم شہر فریدؒ
Home »

.....باتیں پیر فریؒد کی  .....

زیر تھی زبر نہ بن متاں پیش پووی                                                                              درس فریدؒ              

٭  حضرت خواجہ غلام فریدکا تعلق کوریجہ خاندان سے تھا۔
٭ لقب کوریجہ خاندان کے ایک بزرگ حضرت شیخ " کور بن پریا " کی وجہ سے ہے۔
٭ آپکاشجرہ نسب حضرت عمر فاروق تک جا ملتا ہے۔
٭ تصوف میں آپ چشتیہ سلسلے سے تعلق رکھتے ہیں۔
٭ آپ کی ولادت 26 ذیعقد 1261 ھجری بروز منگل ہوئی۔
٭ آپ کا تاریخی نام "خورشید عالم" ہے جس کے عدد "1261
بنتےہیں
٭  خورشید عالم کا مطلب (ساری دنیا کا سورج) ہے۔
٭ آپکی پیدائش ریاست بہاولپور کے قصبے چاچڑاں شریف میں

٭ آپ کے والد کا اسم گرامی خواجہ خدا بخشؒ عرف محبوب الٰہی تھا۔
٭ آپ کے والد نے آپ کے کان میں آذان کہی۔ دادا کا نام خواجہ احمد علی ؒ اور پڑدادا کا نام حضرت قاضی عاقل محمدؒ کوریجہ تھا۔
٭ والدہ کے انتقال کے وقت خواجہ صا حب کی عمر 4 برس اور والد کے انتقال کےوقت 8 برس تھی۔
٭ قرآن مجید آپ نے میانجی صدرالدین ؒاور میانجی محمد بخشؒ سے پڑھا
٭  فارسی کی کتب میانجی حافظ خواجہ اور میانجی برخوردار مستوئی سے پڑھیں۔
٭ عربی زبان کی تعلیم مولوی قائم الدین سے حاصل کی۔
٭ آپ گھر میں ہوتے یا سفر میں آپ کی تعلیم کا سلسلہ ہر حالت میں جاری رہتا تھا۔

٭ جو نواب آپ کے والد محترم کا مُرید تھا اُس کا نام فتح محمد خان عباسی تھا۔
٭ آپ کے والد نے سِکھوں کے مظالم کی وجہ سے کوٹ مٹھن چھوڑا۔
٭  والد کی وفات پر نواب فتح محمد خان آپ کو بہاولپور لے گیا۔
٭ ساڑھے 13 برس کی عمر تک آپ بہاولپور میں رہے۔
٭ ساڑھے 13 برس کی عمر میں آپ اپنے بڑے بھائی کے مُرید ہوئے
٭ جن کا نام حضرت مولانا فخر جہانؒ تھا۔
٭ حضرت مولانا فخر جہاں کا انتقال 1288 ھجری میں ہوا۔
٭ 1288 ہجری میں حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی عمر 27 برس تھی۔
٭ بھائی اور مُرشد کی وفات پر آپ سجادہ نشین ہوئے۔
٭ 16 برس کی عمر میں آپ نے رائج تعلیم مکمل کر لی۔

٭ 19 برس کی عمر میں آپ نے دستار فضیلت حاصل کی۔
٭ دوران تعلیم میں آپ نے روحانی اشغال، اوراد ، وظائف جاری رکھے۔
٭ آپ کے بھائی نے آپکی تعلیم پر مکمل توجہ دی بلکہ سختی کی۔
٭ حضرت خواجہ غلام فرید کے تین لنگر چلتے تھے۔چاچڑاں ، مٹھن کوٹ، سفری لنگر۔
٭ لنگر میں روزانہ 8 من گندم اور 12 من چاول پکتے تھے۔
٭ سیکڑوں لوگ آپ سے ماہانہ وظیفہ لیتے تھے
٭ مہمان سجادگان کو ایک ہزار روپیہ پیش کیا جاتا تھا۔
٭ سفر میں 100 سے 300 تک لوگ آپ کےساتھ ہوتےتھے ۔
٭دوران سفر بھی آپ کی سخاوت اور لنگر جاری رہتا۔

٭ مختلف کاموں کے لیے آپ کے عملے کی تعداد تقریباً 300 تھی۔
٭ آپ کے پاس جو کچھ بھی آتا آپ تقسیم فرما دیتے۔
٭ دعوت کے وقت نواب بہاولپور کی طرف سے آپ کو 25 ہزار روپے پیش کیے جاتے تھےاور روانگی کے وقت 30 سے 40 ہزار روپے ۔اکثر اوقات آپ واپسی کا کرایہ قرض لے کر چاچڑاں شریف آتے تھے۔
٭ وقف زرعی زمین سے 35 ہزار روپے سالانہ آتے تھے۔
٭ معصوم بچوں کے ساتھ آپ کا رویہ
نہایت مشفقانہ ہوتا تھا۔ روزانہ عصر کے وقت آپ بچوں کی خوشی کے لیے ان میں نقد پیسے تقسیم فرماتے تھے۔

٭ آپ کی خوراک دن میں گندم کی ایک روٹی اور رات کو دودھ ہوتا تھا۔

٭ آپ کا طرزِزندگی خود اپنے لیے نہایت سادہ اور مہمانوں کے لیے نہایت بہترین تھا۔
٭ زندگی بھر آپ نے کسی کو گالی نہ دی۔ شرفأ ، عُلماء اور سادات کی تعظیم کھڑے ہو کر کرتے تھے۔
٭ 1296 ھجری میں آپ نے پہلا اور آخری حج کیا۔
٭ حج کے موقع پر آپ نے اعلان کیا کہ جو بھی ہمارے ساتھ چلنا چاہے وہ چاچڑاں شریف آ جائے۔ ساتھ چلنے والوں کو آپ نے سات نصیحتیں کیں جو یہ تھیں1۔ گناہوں سے توبہ 2۔ قرض ادا کرے 3۔ امانتیں واپس کرے4۔ اپنے حقوق معاف کر دے 5 ۔ دشمنوں کو راضی کرے 6۔ ماں باپ کی رضا مندی حاصل کرے 7۔ صاحبِ جائیداد وصیت لکھ کر چلے۔

٭ چاچڑاں شریف سے 21 شوال المکرم 1296 ھجری کو روانہ ہوئے۔ 22 شوال کو خان پو ر ریلوے اسٹیشن سے ملتان کے لیے روانہ ہوئے۔
٭ ملتان میں بزرگوں کے مزارات کی زیارات کر کے لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔
٭  لاہور سے دہلی پہنچ کر مزارات پر حاضری دی وہاں سے اجمیر شریف جہاں اجمیر شریف میں آپ کی دستار بندی کی گئی۔ وہاں سے آپ بمبئی کے لیے روانہ ہوئے۔
٭ یہ تمام سفر آپ نے بذریعہ ریل گاڑی کیا اور بمبئی کی بندرگاہ سے بحری جہاز پر سوار ہوئے۔
٭ 4 ذی الحج 1296 کو آپ جدہ کی بندرگاہ پہنچے 5 کو مکۃ المکرمہ روانہ ہوئے

٭ مکۃ میں خاص ملاقات حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے ہوئی۔
٭ 23 ذی الحج کو مکہ المکرمہ سے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔
٭ آپکا راستہ یوں تھا وادئ فاطمہ ، اُستوا، بیر صفا، بیر سناسی، بیر علی، مدینہ المنورہ۔
٭ "صادق زیر تھی ، زبر نہ تھی، متاں پیش پوندی ہووی" یہ خط آپ نے صادق محمد خان کو لکھا۔
٭ زیر ،زبر ، پیش سے مراد تھی کہ "صادق نیازمندی اور انکساری اختیار کر ، تکبر نہ کر ممکن ہے کہ تکبر کی وجہ سے تمہیں سختی کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ خط آپنے ایک عالم کو ریاست بدر کرنے پر نواب کو لکھا۔
٭  قیصر خان مگسی نواب آف ریاست جھل مگسی کو آپ نےکافی عرصہ تک مُریدنہ کیا تو تو اس نے خود کو گولی مار لینے کا تہیہ کر لیا۔
٭ یہ سوچ کر قیصر خان آپ کی محفل میں گیا تو آپ نے فرمایا "ہاتھ
لاؤ قیصر خان! تمھاری بندوق سے ڈر لگ رہا ہے۔
٭  قیصر خان نے دعوت قبول کرنے پر آپ کو ایک لاکھ روپے نقد نذرانہ پیش کرنے کی بات کی تو آپ نے خان پور ریلوے اسٹیشن پر خریدی گئی ٹکٹیں واپس کر دیں اور فرمایا "قیصر خان ہم تو یہ سفر صرف اللہ کے لیے کر رہے تھے آپ دولت درمیان میں لے آئے۔
٭ حضور خواجہ صاحب پر لکھی گئی کتابوں کا سب سے بڑا ذخیرہ مٹھن کوٹ خواجہ فریدؒ لائبریری میں ہے۔
٭ خواجہ صاحب کے دیوان کا ترجمہ اردو،انگریزی،فارسی،عربی، پنجابی، بنگالی وغیرہ میں ہو چکا ہے۔
٭  حضرت خواجہ صاحب کے دربار کی موقوفہ زرعی اراضی کی مقدار ایک لاکھ 20 ہزار 828 کنال 16 مرلے ہے۔
٭ یہ زرعی زمین اور دیگر تمام ذرائع 12 اکتوبر 1960 سے محکمہ اوقاف پنجاب کے پاس ہے ۔
٭ محکمہ اوقاف کے ریکارڈ میں سالانہ آمدنی 4 کروڑ 11 لاکھ روپے سالانہ ظاہر کی جاتی ہے۔
٭  خواجہ صاحب کے مُرشد، والد، دادا،پڑدادا، بیٹے اور پوتے کے اعراس کے لیے سالانہ 3 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔
٭  خواجہ صاحب کے عرس کے لیے ایک لاکھ روپے کے قریب سالانہ محکمہ اوقاف خرچ کرتا ہے۔
٭  کوٹ مٹھن  کا شہر مٹھن خان ولد کالن خان جتوئی نے آباد کیا تھا جو 1863 کے سیلاب میں دریابُرد ہو گیا۔
٭  موجودہ کوٹ مٹھن انگریزوں کے دور میں 1863 میں تعمیر ہوا تھا
٭  حضرت خواجہ غلام فریدؒ کاوصال 6 ربیع الثانی 1319 ھجری 1901۔24 جولائی بروز بدھ بوقت مغرب چاچڑاں شریف میں ہوا تھا۔
٭ وصال کے وقت آپ نے 3 حسرتوں کا اظہار فرمایا (1) کاش کوئی مجھ سے راستہ دریافت کرتا (2) کاش کوئی مجھ سے ایک لاکھ روپے یکمشت طلب کرتا (3) کاش کوئی مجھ سے کہتا فرید مجھے پانی پلاؤ۔
٭ آپ کے فرزند کا اسم گرامی حضرت خواجہ محمد بخش عرف نازک کریم، پوتے کا نام حضرت خواجہ معین الدین، پوتے کا نام حضرت خواجہ قطب الدین تھا۔
٭ آپ کے موجودہ سجادہ نشین کانام خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ ہے۔
٭ خواجہ فرید میوزیم میں آپ کے خطوط ، لباس، کتابیں، گھریلواستعمال کی اشیأ ، بستر، قرآن پاک، مُوئے مبارک، آخری غسل کا صابن ، عصا مبارک،کنگھا مبارک وغیرہ کے علاوہ سیکڑوں دیگر اشیاء موجود ہیں۔
٭آپ نے سرائیکی ، فارسی، سندھی، عربی، اردو، پوربی زبان میں شاعری کی۔
٭  خواجہ فرید میوزیم کے شعبہ تبرکات میں حضور نبی کریم ﷺ کا موئے مبارک اور دستار مبارک بھی موجود ہے جسکی زیارت صرف 12 ربیع الاول کے روز کرائی جاتی ہے۔
٭ آپ کے ملفوظات کو مولانا رکن الدین پر ہاروی نے "اشارات فریدی" کے نام سے تحریر کیا۔
٭ اشارات فریدی کا ترجمہ "علامہ کپتان واحد بخش سیال نے " "مقابیس المجالس" کے نام سے کیا۔
٭  فوائد فریدیہ ، مناقب محبوبیہ آپکی نثری تصنیفات ہیں۔
٭ آپ کا ایک دیوان اردو شاعری کا بھی ہے۔
٭  حضرت امیر شریعت سیدعطااللہ بخاریؒ نے آپ کی تعریف میں شاعری کی ۔
٭  حضرت علامہ اقبالؒ آپ کی شاعری سن کر گریہ فرماتے تھے۔
٭ آخری لمحات میں آپ نے فرمایا
؎ آیا وقت فرید چلن دا گزریا ویلھا ہسن کھلن دا
اؤکھا پینڈا یار مِلن دا جان لباں تے آندی ہے

٭ آپکا عرس 5۔6۔7 ربیع الثانی کو کوٹ مٹھن میں منعقد ہوتا ہے۔ جس میں لاکھوں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔